Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مئی » قصہ -والدین کی نافرمانی کے برے نتائج

قصہ -والدین کی نافرمانی کے برے نتائج

پیارے بچو!ایک دفعہ کاواقعہ ہے کسی علاقے میں بہت ہی زیادہ عبادت گزار شخص رہتاتھا وہ ہروقت اور ہر لمحے اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا وہ ایک مرتبہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس دوران اس کی والدہ آئی اور اس کو بلایا اس نے دل میں کہا کہ میں ماں کوجواب دوں یانماز جاری رکھوں، تو اس نے جواب نہیں دیا،ایک مرتبہ پھر اس کی ماں آئی، اتفاق سے پھر بھی یہی ہوا بالآخر اس کی ماں نے کہا: اے اللہ! اس کو اس وقت تک موت نہ دے جب تک یہ فاحشہ عورت کا منہ نہ دیکھ لے ، ایک دن وہ شخص اپنے(صومعہ)معبدخانہ میں جو ایک مخصوص بلند چبوترے پر تھا جس پر حجرہ بناہواتھا ،میں ہی تھا کہ اس کے پاس ایک عورت آئی بدکاری کی خواہش کی لیکن اس نے انکار کردیا، وہ عورت ایک چرواہے کے پاس گئی اس کے ساتھ بدکاری کی اس کے نتیجے میں ایک بچہ پیداہوا اور اس نے بچے کی نسبت اس عبادت گزار شخص کی طرف کی لوگ غصے سے اس کے پاس آئے اور اس کے معبدخانےکو توڑ دیاپھر اسے برابھلاکہا اس شخص نے وضوء کیانمازپڑھی پھر اس مولود بچے سے مخاطب ہو کر کہا تیراباپ کون ہیں؟ بچے نے جواب دیا: چرواہا۔لوگوں کو اپنی غلطی کااحساس ہواانہوں نے کہا ہم تیرا معبدخانہ سونےکابنادیتےہیں اس نے کہا:نہیں بلکہ گارے کا ہی بنادو۔(صحیح بخاری)
پیارے بچو!آپ کو پتہ ہے یہ شخص کون تھا؟ یہ بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا جیسے جریج کہاجاتاہے۔
اس حدیث سے کئی فوائد معلوم ہوتے ہیں ہم اختصار کے ساتھ کچھ ذکر کرتے ہیں۔
1بعض اوقات والدین کی نافرمانی مصائب ومشکلات کا سبب بن جاتی ہیں،ولی اللہ بھی امتحان کاشکار ہوتے ہیں۔
2اللہ تعالیٰ اپنے نیک صالح بندے کو پرہیزگاری کی بنیاد پر مصیبت سےنجات دیتاہے،جس طرح جریج کو تہمت سے بری کردیا ۔
3اس حدیث سے اولیاء اللہ کی کرامات کاثبوت ملتاہے ،لیکن وہ کرامات اللہ تعالیٰ کے حکم سے ظہور پذیر ہوتی ہیں نہ کہ اولیاء اللہ کرام اپنی مرضی سے وہ کرامات ظاہر کرتے ہیں۔
4کسی واضح دلیل کے بغیر تہمت کی تصدیق فوری طور پر نہیں کرنی چاہئے۔
5اس حدیث سے معلوم ہوا اگر کوئی شخص کسی نفلی عبادت جیسےنفلی نماز وغیرہ میں مشغول ہو اس حالت میں والدین ضروری کام کیلئے بلائیں تو نفلی عبادت چھوڑ کر والدین کے حکم کی اجابت کرے۔
6اگر ہم لاعلمی میں کسی بے گناہ کا کوئی نقصان کر بیٹھیں تو درست بات کا علم ہوجانے کے بعد اس کے نقصان کاازالہ کردیں۔
7سابقہ امتوں کے عبرت انگیز ونصیحت آموز واقعات بیان کیے جاسکتے ہیں۔
8بنی اسرائیل کے متعلق وہ احادیث جوصحیحین (بخاری ومسلم) میںموجودہیں ،بے د ھڑک بیان کی جاسکتی ہیں،جبکہ صحیحین کے علاوہ روایات کی تحقیق کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

About حافظ عمران ہارون

Check Also

(قصہ)میراضامن اللہ ہے

پیارے بچو!ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ کسی علاقے میں ایک غریب شخص رہتاتھا وہ …

جواب دیجئے