Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جولائ » فتنۂ غامدیت قسط:24

فتنۂ غامدیت قسط:24

 
جوپیرہن اس کاہے وہ مذہب کاکفن ہے


خلع:

شرع اسلامی نے جس طرح مرد کو یہ حق دیا ہےکہ جس عورت کووہ ناپسند کرتا ہے اور جس کے ساتھ وہ کسی طرح نباہ نہیں کرسکتا اسے طلاق دے دے ، اسی طرح عورت کو بھی یہ حق دیا ہے کہ جس مرد کو وہ ناپسندکرتی ہو اور کسی طرح اس کے ساتھ گذربسرنہ کرسکتی ہو اس سے خلع کرلے۔
اس باب میں احکامِ شریعت کے دو پہلوہیں۔ ایک پہلواخلاقی ہے اور دوسراقانونی۔
اخلاقی پہلو یہ ہے کہ خواہ مرد ہو یا عورت ،ہر ایک کو طلاق یاخلع کااختیار صرف ایک آخری چارۂ کار کے طور پر استعمال کرناچاہئے نہ کہ محض خواہشات کی تسکین کے لئے طلاق اور خلع کو کھیل بنالیاجائے۔ چنانچہ احادیث میں نبیﷺ کے ارشاد منقول ہیں کہ
ان اللہ لایحب الذواقین والذواقات.
اللہ مزے چکھنے والوں اور مزے چکھنے والیوں کو پسند نہیں کرتا۔
لعن اللہ کل زواق مطلاق.
ہر طالب لذت بکثرت طلاق دینے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔
أیما امرأۃ اختلعت من زوجھا بغیر نشوز فعلیھا لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس أجمعین المختلعات ھن المنافقات.
جس کسی عورت نے اپنے شوہر سےاس کی کسی زیادتی کے بغیر خلع لیا اس پر اللہ اور ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ خلع کو کھیل بنالینے والی عورتیں منافق ہیں۔
لیکن قانون جس کاکام اشخاص کےحقوق متعین کرنا ہے،اس پہلو سے بحث نہیں کرتا، وہ جس طرح مرد کو شوہر ہونے کی حیثیت سے طلاق کاحق دیتا ہے اسی طرح عورت کو بھی بیوی ہونےکی حیثیت سےخلع کا حق دیتا ہے تاکہ دونوں کے لئے بوقتِ ضرورت عقدِ نکاح سے آزادی حاصل کرنا ممکن ہو، اور کوئی فریق بھی ایسی حالت میں مبتلا نہ کردیاجائے کہ دل میں نفرت ہے ،مقاصد نکاح پورے نہیں ہوتے، رشتۂ ازدواج ایک مصیبت بن گیا ہے، مگرجبراً ایک دوسرے کےساتھ محض اس لئے بندھے ہوئے ہیں کہ اس گرفت سے آزاد ہونےکی کوئی صورت نہیں، رہا یہ سوال کہ دونوں میں سے کوئی فریق اپنے حقوق کو بے جاطور پر استعمال کرے گا۔ تو اس بارے میں قانون جہاں تک ممکن اور معقول ہے پابندیاں عائدکردیتا ہے۔ مگرحق کے بجایابے جا استعمال کرنے کا انحصار بڑی حد تک خود استعمال کرنے والے کے اختیارِ تمیزی اور اس کی دیانت اور خداترسی پر ہے۔اس کے اور خدا کے سوا کوئی بھی یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ وہ محض طالبِ لذت ہے یا فی الواقع اس حق کی جائز حاجت رکھتا ہے۔ قانون اس کافطری حق اسے دینے کے بعد اس کے بے جا استعمال سےروکنے کے لئے صرف ضروری پابندیاں اس پر عائد کرسکتا ہے۔ چنانچہ طلاق کی بحث میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ مرد کو عورت سے علیحدگی کاحق دینے کے ساتھ اس پر متعدد قیود لگادی گئی ہیں مثلاً:یہ کہ جو مہر اس نے عورت کو دیا تھا، اس کانقصان گوارا کرے، زمانہ ٔ حیض میں طلاق نہ دے۔ تین طہر میں ایک ایک طلاق دے۔ عورت کو زمانۂ عدت میں اپنے ساتھ رکھے۔ اور جب تین طلاقیںدے چکے تو پھر وہ عورت تحلیل کے بغیر دوبارہ اس کے نکاح میں نہ آسکے۔ اس طرح عورت کو بھی خلع کا حق دینےکے ساتھ چندقیود عائد کردی گئی ہیں۔ جن کو قرآن مجید اس مختصر سی آیت میں بتمام وکمال بیان کردیتا ہے:
[وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَآ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللہِ۝۰ۭ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللہِ۝۰ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِہٖ۝۰ۭ] (البقرۃ:۲۲۹)
تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ تم بیویوں کو دے چکے ہو، اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔ الایہ کہ میاں بیوی کو یہ خوف ہو کہ اللہ کی حدودپر قائم نہ رہ سکیں گےتو ایسی صورت میں جب کہ تم کو خوف ہو کہ میاں بیوی اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے ،کچھ مضائقہ نہیں اگر عورت کچھ معاوضہ دے کر عقدنکاح سے آزاد ہوجائے۔
اس آیت سے حسبِ ذیل احکام مستنبط ہوتے ہیں:
(۱)خلع ایسی حالت میں ہوناچاہئے جب کہ حدود اللہ کے ٹوٹ جانے کا خوف ہو[فَلَا جُنَاحَ عَلَيْھِمَا ]کے الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ اگرچہ خلع ایک بری چیز ہے ،جس طرح کہ طلاق بری چیز ہے ،لیکن جب یہ خوف ہو کہ حدود اللہ ٹوٹ جائیں گی تو خلع لینے میں کوئی برائی نہیں۔
(۲)جب عورت عقدِ نکاح سے آزاد ہوناچاہے ،تو وہ بھی اسی طرح مال کی قربانی گواراکرے جس طرح مرد کو اپنی خواہش سے طلاق دینے کی صورت میں گوارا کرنی پڑتی ہے۔ مرد اگر طلاق دے تو وہ اس مال میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتا جو اس نے عورت کو دیا تھا اور اگر عورت جدائی کی خواہش کرے تو وہ اس مال کاایک حصہ یاپورا مال واپس کرکے جداہوسکتی ہے،جو اس نے شوہر سے لیاتھا۔
(۳)افتداء (یعنی معاوضہ دے کر رہائی حاصل کرنے) کے لئے محض فدیہ دینے والی کی خواہش کافی نہیں ہے بلکہ اس معاملہ کا اتمام اس وقت ہوتا ہے جب کہ فدیہ لینے والابھی راضی ہو۔ مقصد یہ ہے کہ عورت محض ایک مقدار مال پیش کرکے آپ سے آپ علیحدہ نہیں ہوسکتی، بلکہ علیحدگی کے لئے ضروری ہے کہ جومال وہ پیش کررہی ہے اس کو شوہر قبول کرکے طلاق دے دے۔
(۴)خلع کے لئے صرف اس قدر کافی ہے کہ عورت اپناپوامہر یا اس کا ایک حصہ پیش کرکے علیحدگی کا مطالبہ کرے اور مرد اس کو قبول کرکے طلاق دے دے۔ [فَلَا جُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِہٖ۝۰ۭ]کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ خلع کا فعل طرفین کی رضامندی سے مکمل ہوجاتا ہے۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہوتی ہے جو خلع کے لئے عدالتی فیصلے کو شرط قرار دیتےہیں۔ جو معاملہ گھر کےاندرطے ہوسکتا ہے۔ اسلام اسے عدالت میں لے جانا ہرگز پسند نہیں کرتا۔
(۵)اگر عورت فدیہ پیش کرے اور مرد قبول نہ کرے تو اس صورت میں عورت کو عدالت سےرجوع کرنے کا حق ہے، جیسا کہ آیت مذکور بالامیں[فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللہِ]کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ اس آیت میں [خِفْتُمْ]کا خطاب ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے اولی الامر ہی کی طرف ہے چونکہ اولی الامر کا اولین فرض توحدود اللہ کی حفاظت ہے، اس لئے ان پر لازم ہوگا کہ جب حدود اللہ کے ٹوٹنے کا خوف متحقق ہوجائے تو عورت کو اس کا وہ حق دلوادیں جو انہی حدود کے تحفظ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے۔
یہ مجمل احکام ہیں جن میں اس امر کی تصریح نہیں ہے کہ حدود اللہ کے ٹوٹ جانے کا خوف کن صورتوںمیں متحقق ہوگا؟ فدیہ کی مقدار متعین کرنےمیں انصاف کیا ہے؟ اور اگر عورت افتداء پر آمادہ ہو،لیکن مرد قبول نہ کرے تو ایسی صورت میں قاضی کو کیاطریقہ اختیار کرنا چاہئے؟ ان مسائل کی تفصیلات ہم کو خلع کے ان مقدمات کی رودادوں میں ملتی ہیں، جونبی ﷺ اور خلفائے راشدین کے سامنے پیش ہوتے تھے۔

صدرِ اول کے نظائر درباب خلع:

خلع کا سب سے مشہور مقدمہ وہ ہے جس میں ثابت بن قیس سے ان کی بیویوں نے خلع حاصل کیا ہے۔ اس مقدمہ کی تفصیلات کےمختلف ٹکڑے احادیث میں وارد ہوئے ہیں جن کو ملاکر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ثابت سے ان کی دو بیویوں نے خلع حاصل کیا تھا۔ایک بیوی جمیلہ بن ابی بن سلول(عبداللہ بن ابی کی بہن[1])کا قصہ یہ ہے کہ انہیں ثابت کی صورت ناپسند تھی۔ انہوں نے نبی ﷺ کےپاس خلع کے لئے مرافعہ کیا اور ان الفاظ میں اپنی شکایت پیش کی:
یا رسول اللہ لایجمع راسی وراسہ شیٔ ابدا انی رفعت جانب الخباء فرایتہ اقبلنی عدۃ فاذا ھو اشدھم سوادا واقصرھم تامۃ واقبحھم وجھا.
(ابن جریر)
یارسول اللہ میرے اور اس کے سر کوکوئی چیز کبھی جمع نہیں کرسکتی، میں نے اپنا گھوگھنٹ جواٹھایا تو وہ سامنے سے چندآدمیوں کیساتھ آرہا تھا، میں نے دیکھا کہ وہ ان سب سے زیادہ کالااور سب سے زیادہ پست قد اور سب سے زیادہ بدشکل تھا۔
واللہ ماکرھت منہ دینا ولاخلقا الاانی کرھت ومامتہ.(ابن جریر)
خدا کی قسم میں دین یا اخلاق کی کسی خرابی کے سبب سے اس کو ناپسند نہیں کرتی بلکہ مجھے اس کی بدصورتی ناپسند ہے۔
واللہ لولامخافۃ اللہ اذا دخل علی بصقت فی وجہہ.
(ابن جریر)
خدا کی قسم اگرخدا کاخوف نہ ہوتاتو جب وہ میرے پاس آیا تھا، اس وقت میں اس کے منہ پر تھوک دیتی۔
یارسول اللہ بی من الجمال ماتری وثابت رجل رمیم . (عبدالرزاق بحوالہ فتح الباری)
یارسول اللہ میں جیسی خوبصورت ہوں آپ دیکھتےہیں اور ثابت ایک بدصورت شخص ہے۔
وما اعتب علیہ فی خلق ولادین ولکن اکرہ الکفر فی الاسلام.(بخاری)
میں اس کے دین اوراخلاق پرکوئی حرف نہیں رکھتی، مگر مجھے اسلام میں کفرکاخوف ہے۔[2]
نبی ﷺنے یہ شکایت سنی اور فرمایا کہ :
اتردین علیہ حدیقتہ التی اعطاک.
جوباغ تجھ کو اس نے دیا تھا وہ تو واپس کردے گی؟
انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ،بلکہ وہ زیادہ چاہے تو زیادہ بھی دوں گی،حضور نے فرمایا:اما الزیادۃ فلاولکن حدیقتہ. زیادہ تو نہیں مگر اس کاباغ واپس کردے۔
پھرثابت کوحکم دیا کہ:
اقبل الحدیقۃ وطلقھا تطلیقۃ .
باغ قبول کرلے اور اس کو ایک طلاق دیدے۔
ثابت کی ایک اور بیوی حبیبہ بنت سہل الانصاریہ تھیں، جن کا واقعہ امام مالک اور ابوداؤد نے اس طرح نقل کیا ہے کہ ایک روز صبح سویرے حضور اپنے مکان سے باہر نکلے توحبیبہ کوکھڑاپایا، دریافت فرمایا کیامعاملہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا:
لااناثابت بن قیس.
میری اور ثابت کی نبھ نہیں سکتی۔
جب ثابت حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا کہ یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے بیان کیا جوکچھ اللہ نے چاہاکہ بیان کرے،حبیبہ نے عرض کیا یارسول اللہ جو کچھ ثابت نے مجھے دیا ہے وہ سب میرے پاس ہے۔ حضور نے ثابت کو حکم دیا کہ وہ لے لے اور اس کو چھوڑ دے، بعض روایتوں میں:(خل سبیلھا)کے الفاظ ہیں اور بعض میں (فارقھا) دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔
ابوداؤد اور ابن جریر نے سیدہ عائشہ سے اس واقعہ کو اس طرح روایت کیا ہے کہ ثابت نے حبیبہ کو اتنامارا تھا کہ ان کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، حبیبہ نے آکر حضور سے شکایت کی آپ نے ثابت کو حکم دیا کہ
خذ بعض مالھا وفارقھا.
اس کے مال کا ایک حصہ لےلے اور جداہوجا۔
مگرابن ماجہ نے حبیبہ کے جوالفاظ نقل کئے ہیں ،ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حبیبہ کو بھی ثابت کے خلاف جو شکایت تھی وہ مارپیٹ کی نہیں بلکہ بدصورتی کی تھی، چنانچہ انہوں نے وہی الفاظ کہے جو دوسری احادیث میں جمیلہ سےمنقول ہیں ،یعنی اگر مجھے خداکاخوف نہ ہوتا تو ثابت کےمنہ پر تھوک دیتی۔
سیدناعمرکے سامنے ایک عورت اور مرد کامقدمہ پیش ہوا۔آپ نے عورت کو نصیحت کی اور شوہر کے ساتھ رہنے کا مشورہ دیا،عورت نے قبول نہ کیا،اس پر آپ نے اسے ایک کوٹھڑی میں بند کردیاجس میں کوڑا کرکٹ بھراہواتھا، تین دن قیدرکھنے کے بعد آپ نے اسے نکالا اور پوچھا کہ تیراکیاحال رہا،اس نے کہاخدا کی قسم مجھ کو انہی راتوں میں راحت نصیب ہوئی ہے، یہ سن کر سیدناعمر نے اس کے شوہر کوحکم دیا کہ:
اخلعھا ویحک ولو من قرطھا.(کشف الغمہ)
اس کو خلع دےدے خواہ وہ اس کے کان کی بالیوں کے عوض ہی میں ہو۔
ربیع بنت معوذ بن عفراء نے اپنے شوہر سے اپنی تمام املاک کے معاوضہ میں خلع حاصل کرناچاہا،شوہر نہ مانا،سیدناعثمان tکے پاس مقدمہ پیش ہوا، سیدناعثمانtنے اس کوحکم دیا کہ اس کی چوٹی کا موباف تک لے لے اور اسکو خلع دےد ے، فاجازہ واصرہ باخذ عقاس رأسھا فمادونہ.(عبدالرزاق بحوالہ فتح الباری)

احکامِ خلع:

ان روایات سے حسب ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے:
(۱)[فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللہِ]کی تفسیر وہ شکایات ہیں جوثابت بن قیس کی بیویوں سےمنقول ہیں، نبی ﷺ نےان عورتوں کی اس شکایت کو خلع کے لئے کافی سمجھا کہ ان کاشوہر بدصورت ہے اور وہ ان کو پسند نہیں ہے۔ آپ نے ان کو خوبصورتی کے فلسفے پر کوئی لیکچر نہیں دیا، کیونکہ آپ کی نظر شریعت کے مقاصد پر تھی، جب یہ امر متحقق ہوگیا کہ ان عورتوں کے دل میں شوہر کی طرف سے نفرت وکراہت بیٹھ چکی ہے تو آپ نے ان کی درخواست کو قبول فرمالیا،کیونکہ نفرت وکراہت کے ساتھ ایک عورت اور مرد کو جبراً ایک دوسرے سے باندھ رکھنے کے نتائج دین اور اخلاق اور تمدن کے لئے طلاق وخلع سے زیادہ خراب ہیں۔ ان سے تومقاصدِ شریعت ہی کے فوت ہوجانےکاخوف ہےپس نبی کے عمل سے یہ قاعدہ نکلتا ہےکہ خلع کا حکم نافذ کرنے کیلئے محض اس بات کا تحقیق ہوجانا کافی ہےکہ عورت اپنے شوہر کو قطعی ناپسند کرتی ہے اور اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔
(۲)سیدناعمر کے فعل سےمعلوم ہوتا ہے کہ نفرت وکراہت کی تحقیق کے لئے قاضی شرع کوئی مناسب تدبیر اختیار کرسکتا ہے تاکہ کسی شبہ کی گنجائش نہ رہے اور بالیقین معلوم ہوجائے کہ اس جوڑے میں اب نباہ ہونا متوقع نہیں ہے۔
(۳)سیدناعمرtکے فعل سے یہ بھی ثابت ہوتا ہےکہ نفرت وکراہت کے اسباب کاکھوج لگانا ضرور ی نہیں ہے اور یہ ایک معقول بات ہے عورت کو اپنے شوہر سے بہت سے ایسے اسباب کی بناء پر نفرت ہوسکتی ہے جن کو کسی کے سامنے بیان نہیں کیاجاسکتا۔ ایسے اسباب بھی نفرت کے ہوسکتے ہیں جن کو اگر بیان کیاجائے تو سننے والانفرت کے لئے کافی نہ سمجھے گا لیکن جس کو ان اسباب سے رات دن سابقہ پیش آتا ہے اس کے دل میں نفرت پیدا کرنے کے لئے وہ کافی ہوتے ہیں۔ لہذا قاضی کا کام صرف اس واقعہ کی تحقیق کرنا ہے کہ عورت کے دل میں شوہر سے نفرت پید ا ہوچکی ہے، یہ فیصلہ کرنا اس کاکام نہیں ہے کہ جو وجوہ عورت بیان کررہی ہے وہ نفرت کے لئے کافی ہیں یانہیں۔
(۴)قاضی عورت کو وعظ وپند کرکے شوہر کےساتھ رہنے کے لئے راضی کرنےکی کوشش ضرورکرسکتا ہے مگر اس کی خواہش کے خلا ف اسے مجبور نہیں کرسکتا، کیونکہ خلع اس کاحق ہے جوخدا نے اس کو دیا ہے، اور اگر وہ اس امر کا اندیشہ ظاہر کرتی ہےکہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے میں وہ حدود اللہ پر قائم نہ رہ سکے گی تو کسی کو اس سے یہ کہنے کاحق نہیں کہ تو چاہے حدود اللہ کوتوڑدے مگر اس خاص مرد کے ساتھ بہرحال تجھ کو رہنا پڑے گا۔
(۵)خلع کے مسئلہ میں دراصل یہ سوال قاضی کے لئے تنقیح طلب ہی نہیں کہ عورت آیاجائز ضرورت کی بناپر طالبِ خلع ہے یامحض نفسانی خواہشات کےلئے علیحدگی چاہتی ہے، اس لئے نبی ﷺ اور خلفائے راشدین نے قاضی ہونے کی حیثیت سے جب مقدماتِ خلع کی سماعت کی تو اس سوال کو بالکل نظرانداز کردیا کیونکہ اول تو اس سوال کی کماحقہ تحقیق کرنا کسی قاضی کے بس کاکام نہیں، دوسرے خلع کاحق عورت کے لئے اس حق کےمقابلہ میں ہے جو مرد کو طلاق کی صورت میں دیاگیا ہے، ذواقیت کا احتمال دونوں صورتوں میں یکساں ہے مگر مرد کے حقِ طلاق کو قانون میں اس قید کے ساتھ مقید نہیں کیاگیا کہ وہ ذواقیت کے لئے استعمال نہ کیاجائے، پس جہاں تک قانون حق کاتعلق ہے ،عورت کے حقِ خلع کو بھی کسی اخلاقی قید سے مقید نہ ہوناچاہئے تیسری بات یہ ہے کہ کوئی طالبِ خلع عورت دوحال سے خالی نہ ہوگی،یا وہ فی الحقیقت خلع کی جائز ضرورت رکھتی ہوگی یامحض ذواقہ ہوگی، اگر پہلی صورت ہے تو اس کے مطالبہ کو ردکرناظلم ہوگااور اگر دوسری صورت ہے تو اس کوخلع نہ دلوانےپر شریعت کے اہم مقاصد فوت ہوجائیں گے ،اس لئے کہ جو عورت طبعاً ذواقہ ہوگی وہ اپنے ذوق کی تسکین کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر کرکے رہےگی اگر آپ اس کو جائز طریقے سے ایسا نہ کرنے دیں گے تو وہ ناجائز طریقوں سے اپنی فطرت کے داعیات کو پورا کرے گی اور یہ زیادہ براہوگا۔ ایک عورت کا پچاس شوہروں کو یکے بعد دیگرے بدلنا اس سےبدرجہا بہتر ہے کہ وہ کسی شخص کے نکاح میں رہتے ہوئے ایک مرتبہ بھی زنا کاارتکاب کرے ۔
(جاری ہے)


حاشیہ:

[1] بعض نے زینب بنت عبداللہ بن ابی کہا ،مگر مشہور یہی ہے کہ ان کانام جمیلہ تھا، اور عبداللہ ابن ابی کی بیٹی نہیں بلکہ بہن تھیں۔

[2] اسلام میں کفر کے خوف سے مراد یہ ہے کہ کراہت ونفرت کے باوجود اگر میں اس کے ساتھ رہتی ہوںتومجھے اندیشہ ہے کہ میں ان احکام کی پابند نہ رہ سکوں گی، جو شوہر کی اطاعت ور اس کی وفاداری اور عصمت وعفت کے تحفظ کے لئے اللہ اور رسول نے دیئے ہیں۔ یہ ایک مومنہ کا تصور ہے کہ حقوق اللہ کے توڑنے کو وہ کفر سمجھتی ہے اور آج کل کے مولویوں کاتصور یہ ہے کہ اگر نماز،روزہ،حج زکوٰۃ کچھ بھی ادا نہ کیاجائے اور کھلم کھلا فسق وفجور کا ارتکاب کیاجائے، تب وہ اس حالت کو ایک ایمانی حالت کہنے پر اصرار کرتے ہیں، اور ایسےلوگوں کو جنت کی بشارتیں دیتےہیں اور جو اسے غیرایمانی حالت کہے اسےخارجی ٹھہراتے ہیں۔

About حافظ صلاح الدین یوسف

Check Also

فتنۂ غامدیت قسط:۲۳

 قسط:۲۳ موجودہ علمائے احناف ومفتیان کرام سے استفسار کرلیا جائے؟ جب مسئلے کی نوعیت یہ …

جواب دیجئے