Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جولائ » عون المعین فی فوائد الفتح المبین

عون المعین فی فوائد الفتح المبین

شہیر عصر محدث دوراں الاستاذ الحافظ زبیر علی زئی a(المتوفی ۲۰۱۵ء) کی تصنیف لطیف ’’فتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین‘‘ کے وہ فوائد ونکات جو علم حدیث کے طلباء وعلماء کے لئے از حد مفید ہیں، جن کے حصول سے علم ان شا ء اللہ علم حدیث کے شائقین وطالبین بڑی مسرت محسوس کریں گے مختصرا پیش خدمت ہیں۔
(الف) ان مدلسین رواۃ اور ان کے غیر مضر عنعنے کا بیان ،یعنی کہ بعض اوقات بعض مدلسین بعض محدثین سے عن وغیرہ کہہ کر روایت نقل کرتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی روایت صحیح ومتصل تصور کی جاتی ہے اور ان کے عنعنے کو غیر مضر جاناجاتا ہے۔
vاسماعیل بن ابی خالد الکوفی ؒ(المتوفی ۱۴۶ھ)کے متعلق علی بن عبداللہ بن جعفر المدینی (المتوفی ۲۳۷ھ)وغیرہ کے اقوال نقل کرنے کے بعد استاذ محترم aلکھتے ہیں:
روایۃ القطان عن اسماعیل بن ابی خالد عن عامر الشعبی صحیحۃ ولو لم نجد تصریح سماعہ.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص:۵۲المکتبہ اسلامیہ)
اسماعیل بن ابی خالد جب عامر( بن شراحیل) الشبعی سے روایت لیں، اور ان( یعنی خود اسماعیل) سے (یحیی بن سعید) القطان روایت لیں اس وقت روایت صحیح ہوتی ہے بھلے ہمیں (اسماعیل بن ابی خالد کی شعبی سے ) تصریح سماء نہ بھی ملے۔
vابومحمدسفیان بن عیینہ ؒ(المتوفی ۱۹۸ھ)کے متعلق شیخa فرماتے ہیں:
فعنعنۃ محمولۃ علی السماع فیما رواہ الشافعی عنہ.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۷۰)
(جب سفیان بن عیینہ سے) امام شافعی روایت بیان کریں تب ان کا عنعنہ سماع پر محمول ہوگا۔)
vیونس بن عبید ؒ(المتوفی ۱۹۳ھ)کے متعلق شیخaفرماتے ہیں:وروایۃ یزید بن زریع عنہ محمولۃ علی السماع.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،۸۳)
اور( ان کی وہ) روایت جو ان سے یزید بن زریع بیان کریں وہ سماع پر محمول کی جائے گی۔(بھلے وہ عن ہی سے بیان کریں)
vحمید بن ابی حمیدالطویل ؒ(المتوفی ۱۴۲ھ)کے متعلق شیخaلکھتے ہیں:
حدیثہ عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ صحیح ولو لم یصرح بالسماع لانہ کان یدلس عن ثابت البنانی عنہ وثابت ثقۃ.(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۹۰)
حمید بن ابی حمید الطویل کی وہ روایت جووہ انس بن مالکt سے بیان کریں وہ صحیح ہوتی ہے،اگرچہ سماع کی تصریح نہ بھی کریں ، اس لئے کہ اس وقت وہ ثابت(بن اسلم) البنانی ؒ سے تدلیس کرتے ہیں اور ثابت (بن اسلم البنانیؒ تو)ثقہ ہیں۔
vابوسفیان طلحہ نافع الواسطی ؒکے متعلق شیخaمرحوم لکھتے ہیں:
حدیث ابی سفیان عن جابر رضی اللہ عنہ صحیح ولو لم یصرح بالسماع لانہ من باب الروایۃ عن کتاب.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۹۴)
جابر(بن عبداللہ الانصاریt)سے ابو سفیان (بھلے) ’’عن‘‘ سے روایت بیان کرے، اور سماع کی تصریح بھی نہ کرے لیکن وہ روایت صحیح(ہوتی) ہے، اس لئے کہ یہ کتاب سے بیان کرنے کے باب سے ہے۔
vعبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج المکیؒ(المتوفی، تقریبا۱۵۰ھ)کے متعلق استاذ محترمaفرماتے ہیں:
عنعنۃ ابن جریج عن عطاء محمولۃ علی السماع.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۱۰۲)
ابن جریج جب عطاء(بن ابی رباح) سے عن کیساتھ بیان کریں تو (اس وقت ان کا)عنعنہ (بھی تصریح) سماع پر محمول ہوگا۔
vعکرمہ بن عمار الیمامی ؒکے متعلق شیخaفرماتے ہیں:
حدیث الثوری عن عکرمۃ محمول علی السماع.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۱۰۷)
( سفیان )ثوری کی عکرمہ (بن عمار الیمامی) سے روایت ’’عن‘‘ کے باوجود بھی سماع پرمحمول ہوتی ہے۔
vابوالخطاب قتادہ بن دعامہ السدوسی ؒ(المتوفی تقریبا۱۱۳ھ) کے متعلق شیخaفرماتے ہیں:
وحدیث شعبۃ عنہ محمول علی السماع.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۱۱۱)
ان سے(یعنی قتادہ سے) شعبہ( بن حجاج العتکی) کی (لی ہوئی) روایت سماع پر محمول ہوتی ہے(بھلے وہ تصریح سماع نہ بھی کریں)
vمبارک بن فضالۃ البصری ؒ(المتوفی ۱۶۶ھ)کے متعلق شیخaلکھتےہیں:
ان روایۃ ابن مھدی عنہ محمولۃ علی السماع.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۱۱۲)
ان سے(یعنی مبارک بن فضالہ سے عبدالرحمٰن) ابن مھدی کی(لی ہوئی) روایت (عنعنے کے باوجود بھی) سماع پر محمول ہوگی۔
vابوالزبیر محمد بن مسلم بن تدرس المکی ؒ(المتوفی ۱۲۶ھ)کے متعلق شیخaلکھتے ہیں:
روایۃ لیث بن سعد عن ابی الزبیر محمولۃ علی السماع.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۱۲۰)
ابوزبیر(مکی) سے لیث بن سعد(المصری) کی روایت (عنعنے کے باوجود بھی) سماع پر محمول کی جائے گی۔
vالمغیرہ بن مقسم الضبی ؒ(المتوفی ۱۳۶ھ)کے متعلق شیخa لکھتے ہیں:
محمول علی السماع.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۱۲۶)
مغیرہ بن مقسم(الضبی) کی وہ روایت جو ان سے(محمد) بن فضیل ( بن غزوان) نے لی ہو(معنعن ہونے کے باوجود بھی) محمول بر سماع ہوتی ہے۔
vعمر بن علی المقدمی ؒ(المتوفی ۱۹۰ھ)کے متعلق شیخaلکھتے ہیں:
ان روایۃ عفان عنہ محمولۃ علی السماع.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۱۴۲)
ان سے عفان( بن مسلم) کی لی ہوئی روایت(باوجود عنعنے کے) سماع پر محمول ہوتی ہے۔
vیحی بن ابی کثیر الیمامی ؒ(المتوفی ۱۳۲ھ)کے متعلق شیخaلکھتے ہیں:
روایتہ عن زید بن سلام صحیحۃ ولو عنعن لانہ یروی عن کتابہ الذی اخذ من اخیہ معاویۃ بن سلام.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۲۱۱)
ان کی وہ روایت جو انہوں نے زید بن سلام سے نقل کی ہو باوجود عنعنے کے وہ صحیح ہوتی ہے ،اس لیے کہ (ایسی روایت وہ) ان کی کتاب سےنقل کرتےہیں، جو کتاب انہوں نے ان کے بھائی معاویہ بن سلام سے لی تھی۔
(ب)
مزید کچھ قیمتی نکات ’’سلسلۃ الذھب‘‘
vامام محمد بن احمد عثمان الذھبی ؒ(المتوفی ۷۴۸ھ)اور ابو سعید خلیل کیکلدی العلائی (المتوفی ۷۶۱ھ)کے متعلق شیخaلکھتے ہیں:
فالتدلیس والارسال شیٔ واحد عند الذھبی وہذا اصطلاح خاص لہ وتبعہ العلائی فی جامع التحصیل.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۳۱)
امام ذھبیؒ کے ہاں تدلیس وارسال ایک ہی چیز ہے، اور یہ ان کی خاص اصطلاح ہے، اور (علامہ) علائیؒ نے جامع التحصیل میں اسی(مذہب) کی پیروی کی ہے۔
اور شیخ لکھتے ہیں:بان الامام ابن حبان یطلق التدلیس علی الارسال.(الفتح المبین ،ص:۱۲۷)
(ذھبی وعلائی کی طرح) ابن حبان (بھی) تدلیس کا اطلاق ارسال پر کرتے(رہتے) ہیں۔
vحافظ احمد بن علی بن حجر المعروف ابن حجر عسقلانیؒ نے ’’۴۶۶ھ‘‘ میں وفات پانے والے کو متاخرین علماء امت میں شمار کیا ہے ،اور محبوب العصرؒ نے اس پر سکوت فرمایا ہے ،گویا دونوں نبیلان زمانہ کے ہاں (۴۶۶ھ)یعنی پانچویں صدی کے علماء متقدمین نہیں بلکہ متاخرین میں شمار ہوتے ہیں۔(الفتح المبین ،ص:۱۰۹)
vشیخaفرماتے ہیںکہ:
صفوان بن صالح (المتوفی ۲۳۹ھ)محمد بن مصفی (المتوفی ۲۴۶) ولیدبن مسلم(المتوفی ۱۹۵ھ) اور سفیان بن سعید الثوری (المتوفی ۱۶۱ھ) صرف تدلیس ہی نہیں بلکہ تدلیس تسویہ کرتے ہیں۔(یعنی صرف اپنے شیخ کو نہیں،بلکہ بعض اوقات شیخ کے شیخ کو بھی حذف کردیتے ہیں ۔(الفتح المبین ،ص:۶۷،۱۲۲،۱۴۶)
ان کی روایات تبھی صحیح مانی جائیںگی جب ان کی تصریح سماع کیساتھ ان کے شیوخ کی تصریح سماع بھی پائی جائے۔
(الفتح المبین ،ص:۱۲۲)
vامام ابوداؤد سلیمان بن اشعث ؒکے وہ سارے اقوال بے حیثیت ہیں جن کے ناقل’’جری ہیں، کیونکہ شیخؒفرماتے ہیں:
جری (خود) مجہول ہے۔(الفتح المبین ،ص:۱۲۶)
vامام شعبہ بن حجاج العتکی ؒ(المتوفی ۱۶۰ھ)کے متعلق شیخaلکھتے ہیں:
ان حدیث شعبۃ عن المدلسین محمول علی السماع.
(الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ،ص۲۲۴)
شعبہ ؒ کی حدیث مدلسین سے سماع پر محمول کی جائےگی (بھلے وہ مدلسین سماع کی تصریح نہ بھی کریں)
vشیخ فرماتے ہیں کہ:تدلیس الشیوخ ،تدلیس الاجازہ اور تدلیس الوجادہ غیر مضرہیں، ان کےفاعلین محدثین کا عنعنہ غیر مضر ہے۔
(الفتح المبین ،ص:۴۲،۴۳،۱۲۴،۲۱۲)
vشیخaفرماتے ہیں کہ:عبدالرحمٰن بن مھدیؒ (المتوفی ۱۹۸ھ) مختلط (یعنی ضعیف) رواۃ سے بھی روایت لیتے ہیں۔
(الفتح المبین ،ص:۶۶)
یعنی کہ ان کے متعلق یہ کہنا کہ وہ ثقہ ہی سے روایت لیتے ہیں یا ان کا کسی سے روایت لینا توثیق تصور کیاجائے یہ سب کچھ ناقابل التفات ہے، حقائق اس کے برعکس بھی ثابت ہیں، کما قال الشیخ رحمہ اللہ
vشیخaکی تحقیق کا ماحصل یہ ہے کہ حافظ دنیا حافظ ابن حجرؒ کی تصنیف لطیف، طبقات المدلسین ایک علمی تبحر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یاد رہے کہ بحیثیت انسان کے اس میں حافظ دنیا سے کہیں کہیں تسامحات بھی واقع ہوئے ہیں تو لہذا اس تصنیف کو قول فیصل نہ سمجھا جائے اور شیخaکی بات حق بجانب ہے،کیونکہ قول فیصل تو قرآن اور فرمان صاحب قرآن ہی ہوسکتا ہے۔
حافظ دنیا سے واقعتاً تسامحات تو ہوئے ہیں ،مثلاً:
وہ فرماتے ہیں کہ طبقہ ثالثہ کے مدلس کی روایت بصیغہ صراحت سماع قبول وصحیح ہوتی ہے۔(طبقات مع الفتح ،ص:۱۲)
بعدازاں حافظ دنیا عبدالعزیز بن عبداللہ القرشی البصریؒ کو طبقہ ثالثہ میں لائے ہیں۔(طبقات مع الفتح ،ص:۱۰۰)
یعنی کہ وہ ثقہ ہیں، ان کی تصریح سماع والی روایت صحیح ہوتی ہے، لیکن تھوڑا ہی آگے حافظ دنیاؒ اسی عبدالعزیز کو طبقہ خامسہ میں لائے ہیں۔(طبقات مع الفتح ،ص:۱۶۲)
جس کامقصد یہ ہے کہ وہ ضعیف ہیں، ان کی تصریح سماع والی روایت بھی صحیح نہیں ہے،یہ حافظ دنیا کا تسامح ہے اور ان شاء اللہ وہ اس کے بدلے میں بھی اجر پائیں گے کیونکہ مجتہد توکسی حال میں بھی اجر سے محروم نہیں ہوتا۔
تمام قارئین سے مؤدبانہ التماس ہے کہ مزید تفصیل کے لئے فتح المبین سمیت شیخaکی تمام کتب اور دیگر علماء ومحققین کی تصانیف سے خوب استفادہ کرنے کی کوشش کریں، یہ تصانیف اور ان کے مصنفین علماء وطلباء کے لئے کسی سنہری سرمائے سے کم نہیں ہیں، انی اسأل اللہ رضاہ ولیس بعد رضاہ شیٔ .آمین

About حافظ شبیر جمالی

Check Also

فضل الخلیل فی فوائد تقدیم الجرح والتعدیل قسط 3

معاصر علماء ،طلباء ومحققین کیلئے اسلاف کے اقوال، افعال اور قابل محبت آثار پیش خدمت …

جواب دیجئے