Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ فروری » قصہ اصحاب الجنۃ

قصہ اصحاب الجنۃ

پیارے بچو!گئے دنوں کی بات ہے کہ یمن کے علاقے ضعاء کی ایک بستی میں فرواں قبیلے سے تعلق رکھنے والاکسان رہتاتھا، اس کسان کا ایک باغ تھا جو بہت خوبصورت تھا، اور مختلف قسم کے عمدہ اور لذید پھلوں سے بھرا ہوا تھا اس کے باغ میں ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا ایک چشمہ بھی بہتاتھا۔
پیارے بچو!کسان جب بھی اپنے باغ کاپھل اُتارتا تو اس کے ۳حصے کرلیتا، ایک حصہ فقراء اور غریبوں میں تقسیم کردیتا تاکہ اس سے اللہ رب العزت کی رضااور خوشنودی حاصل کرسکے۔ دوسرے حصے کو اپنے بیوی بچوں میں خرچ کرتا اور تیسرے حصے کو اس باغ کے لئے رکھ لیتا تھا۔
کسان کی اولاد اپنے باپ کی اس تقسیم سے ناخوش تھی، البتہ ایک بیٹا ایسا تھا جو اپنے باپ کے اس فعل کو اچھا تصور کرتاتھا، ایک دن کسان فوت ہوگیا، اب اس کی اولاد باغ کی مالک بن گئی ،توانہوں نے ارادہ کیا کہ اب ہم اپنے مال سے کسی بھی فقیر کو حصہ نہیں دیں گے، بلکہ اب سارے کا سارا مال ہمارا ہی ہوگا۔
ان میں سے ایک(جو اپنے باپ کے فعل کو اچھا تصور کرتا تھا) نے کہا کہ میرے بھائیو!میں تو یہ کہتاہوں کہ باغ کی تقسیم ویسی ہی کروجس طرح ہمارے اباجان کیا کرتے تھے، تاکہ اللہ رب العزت مال میں اور برکت ڈال دے۔
ان میں سے جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا: کہ یہ مال تو ہمارا ہے ہم اپناحق فقراء اور مساکین کو کیوں دیں، اس طرح بحث بڑھتی ہی گئی ، سب نے طے کرلیا کہ وہ صبح سویرے اٹھ کر سب سے پہلے باغ کاپھل اتار لیں گے تاکہ فقراء اور مساکین کو حصہ نہ دیناپڑے، اور فقراء کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی مال غلہ منڈی میں لے جاکر فروخت کردیں گے۔
پیارے بچو!اگلے دن جب وہ صبح سویرے اٹھ کرباغ میں پہنچے تو دیکھا کہ باغ کی جگہ پر راکھ کا ایک بہت بڑا ڈھیر تھا، اور ان کا سارے کا سارا باغ تباہ وبرباد ہوچکاتھا، ان میں سے ایک نے کہا کہ ہوسکتا ہے شاید ہم باغ کاراستہ بھول گئے ہوں، دوسرے نے کہا: یہ باغ ہمار ا نہیں ہے، پھر اس کے بعد اس بھائی نے ان سے کہا جس نے یہ کہا تھا کہ باغ کے مال کوفقراء اور مساکین پرخرچ کرو، تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ رب العزت نے ہمارے باغ پرعذاب نازل کرکے اس کو تباہ وبرباد کردیا ہے۔
اب سارے بھائیوں کو احساس ہوا کہ ہم نے غلطی کا ارتکاب کیا تھا ،
اب پچھتائے کیا ہوت

جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت
نوٹ: مندرجہ بالا واقعہ سورت القلم کی آیت نمبر۱۷تا ۳۳ میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
توپیارے بچو!ہمیں اس قرآنی واقعے سے یہ سبق ملا کہ اللہ کی راہ میں انفاق کرتے رہنا چاہئے اور اپنے مال میں سے غرباء ومساکین کا ایک حصہ ضرور مقرر کرناچاہئے۔

About حافظ مغیث الرحمٰن

Check Also

گناہ تعریف،اقسام اور اس کے اثرات قسط:2آخری

 قسط: 2 آخری (3)دل پراثرات: دل انسانی جسم کا بڑا ہی عظیم اور حساس حصہ …

جواب دیجئے