Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ فروری » قسط:49 اربعینِ نووی

قسط:49 اربعینِ نووی

حدیث نمبر:21
قسط:49

درسِ حدیث
عَنِ أَبيْ عَمْرٍو، وَقِيْلَ، أَبيْ عمْرَةَ سُفْيَانَ بنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ يَارَسُوْلَ اللهِ قُلْ لِيْ فِي الإِسْلامِ قَوْلاً لاَ أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدَاً غَيْرَكَ؟ قَالَ: "قُلْ آمَنْتُ باللهِ ثُمَّ استَقِمْ”
أخرجه مسلم كتاب: الإيمان، باب: جامع أوصاف الإسلام، (38) ، (62)
ترجمہ:ابوعمرو(یاابوعمرۃ)سفیان بن عبداللہ tسے مروی ہے، فرماتے ہیں:میںنے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:مجھے دینِ اسلام کے حوالے سے ایک جامع بات بتادیجئے(جو اس قدر واضح ہو کہ )آپ کے بعد کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے،آپصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (وہ جامع ومانع بات یہ ہےکہ)تو کہہ دےکہ میں اللہ تعالیٰ پرایمان لایا،پھراس پر استقامت اختیارکرلے۔
حدیث کے راوی سفیان بن عبداللہ ہیں،جن کی کنیت ابوعمرو مشہور ہے،ایک قول کےمطابق ان کی کنیت ابوعمرۃ تھی،ان کا تعلق سرزمینِ طائف سے ہے،جبکہ قبیلہ بنوثقیف ہے،اہل طائف کے وفد کے ہمراہ اسلام قبول کیا،امیرالمؤمنین عمربن خطاب tکے دور میں طائف کے صدقات کی وصولی کیلئے عامل مقررہوئے،ان کے بیٹوں عاصم، عبداللہ، علقمہ، عمرو اور ابوالحکم نے ان سے احادیث روایت کی ہیں۔
شرحِ حدیث
صحابۂ کرامyرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث سننے اور علم لینے کے بڑے حریص تھے،چنانچہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضرہوکر اپنے اپنے انداز سے سوال کیاکرتےتھے،کتبِ حدیث میں ایسے بہت سے سوالات موجود ہیں،صحابۂ کرام کا سوال کا انداز یا طریقہ بطورِ الفاظ مختلف ہوتا،لیکن ان کا مقصد یا نتیجہ ایک ہی ہوتااور وہ فکرِ آخرت یا استعدادِ معادہوتا۔
ان کے سوالات کامحور اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی،حصولِ جنت اور اخروی نجات ہوتا،جہنم کے عذاب سے بچاؤ کی تدبیریں معلوم کرتے، کبھی دنیوی معیشت کی اصلاح کی بابت سوال نہ کیا،یہی حقیقی کامیابی ہے،چنانچہ قرآن حکیم اسی کامیابی کاذکرکرتاہے:
[كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ۝۰ۭ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝۰ۭ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ۝۰ۭ وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۝۱۸۵ ] ترجمہ:ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وه کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے ۔(آل عمران:۱۸۵)
ہم پر بھی لازم ہےکہ ہم صحابۂ کرام yایسے نفوسِ قدسیہ کی پیروی کرتےہوئے ،اسی کامیابی کی جستجوکرتےرہیںاوراس کے حصول کیلئے محنتِ شاقہ کا سلسلہ جاری رکھیں۔
حدیثِ مذکور میںسفیان بن عبداللہ الثقفی tنے نبیصلی اللہ علیہ وسلم سے اسی نوعیت کا سوال کیاہے،جو ان کی شدتِ حرص کی دلیل ہے،جو اس بات کامظہر ہےکہ اپنی آخرت سنوارنے کی ایک دُھن ہمیشہ ان پر سوار رہتی تھی،وہ ہمیشہ آخرت ہی کے اسیررہے اور دنیا میں رہنے کے باوجود دارِآخرت کے مقیم بنے رہے ۔
انہوںنےاپنے سوال کو کئی شرائط کے ساتھ مقید کردیا، چنانچہ عرض کیا:مجھے دینِ اسلام کے تعلق سے ایک ایسی بات ارشاد فرمادیجئے جو میرے لئے کافی وشافی ہونے کے ساتھ ساتھ اس قدر واضح ہو کہ کسی سے سوال کی ضرورت باقی نہ رہے۔
آپ غور کیجئے! یہ سوال کئی شرائط کے ساتھ مقیدہے:
1سوال کاتعلق امورِ دین یا امورِ شریعت کےساتھ ہے، نہ کہ کسی دنیوی معاملے کےساتھ۔
2آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاجواب ایک ہی جملے یا قول پر مشتمل ہو۔
3وہ ایک جملہ مغلق یا مبہم نہ ہو بلکہ اس قدر واضح ہو کہ آپ کی زبانِ مبارک سے سن کر سمجھ لوں اور کسی دوسرے شخص سے استفسار کی حاجت نہ رہے۔
رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:(اعطیت جوامع الکلم.) یعنی:مجھے جوامع الکلم کی خوبی سے نوازاگیاہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی جملے کے ساتھ دنیوی واخروی کامیابی کے مکمل پروگرام کے بیان کی صلاحیت عطافرمارکھی تھی۔
آپصلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب ارشاد فرمایاوہ سائل کی تمام شرائط اور تمام خواہشات کے عین مطابق تھا،آپ نے فرمایا:
"قُلْ آمَنْتُ باللهِ ثُمَّ استَقِمْ”
یعنی:تو کہہ دےکہ میں اللہ تعالیٰ پرایمان لایا،پھراس پر استقامت اختیارکرلے۔
آپصلی اللہ علیہ وسلم کاجواب لفظوں میں انتہائی مختصر تھالیکن معنوی اعتبار سے ایک بحرِزخارکو سمیٹے ہوئے تھا،یہی وجہ ہے کہ شیخ صالح بن عثیمین aنے اس حدیث کو (من أجمع الأحادیث) قراردیاہے،یعنی یہ حدیث سب سے جامع احادیث کی فہرست میں داخل ہے۔
چنانچہ یہ ایک جملہ تمام امورِ شریعت کا احاطہ کررہاہے،امورِ شریعت تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں:کچھ کاتعلق زبان سے ہے، کچھ کا دل سے جبکہ کچھ امور کا تعلق بقیہ اعضاء کےسا تھ ہے۔
(قُلْ آمَنْتُ باللهِ )زبان کے اقرار اور دل کی تصدیق دونوں کوشامل ہے،جبکہ( ثُمَّ استَقِمْ)کاتعلق بقیہ اعضاء کے ساتھ ہے۔
استقامت کا اصل معنی سیدھاہوناہےاور سیدھا ہونے کی عملی شکل یہ ہے کہ مکمل شریعت کو اپنالیاجائے،جس قدر دینی احکام وفرائض کو اپنانے میں کمی ہوگی اسی قدر استقامت یعنی سیدھاہونے میں کمی ہوگی اور انسان اسی قدر کجی کا شکاررہےگا،لہذا لفظِ استقامت اپنے دامن میں ایک وسیع مفہوم لیے ہوئے ہے،جس کی ترجمانی قرآن پاک کی یہ آیاتِ مبارکہ کررہی ہیں:
[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً۝۰۠ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۝۰ۭ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۝۲۰۸ فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْكُمُ الْبَيِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝۲۰۹ ](البقرۃ:۲۰۸،۲۰۹)
ترجمہ:ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وه تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم باوجود تمہارے پاس دلیلیں آجانے کے بھی پھسل جاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ غلبہ والااور حکمت والاہے ۔
ان آیات سے واضح ہوا کہ حقیقی استقامت،مکمل طور پہ دین میں داخل ہونےاوراللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی مکمل پیروی کا نام ہے،جبکہ پیروی کے اس راستےسے کلی یا جزوی طور پہ پھسل جانا استقامت کے منافی ہے۔
واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاناتوحید کی تمام حقیقتوں کے ساتھ ہے،جو توحید کی تینوں اقسام :توحیدربوبیت، توحیدالوہیت اور توحید اسماء وصفات کو شامل ہے،نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان ان تمام امور وشرائع کو تسلیم کرنے کو مستلزم ہے جو اس کی وحی خواہ وہ متلوہو (قرآن مجید) یا غیرمتلو (حدیث رسولصلی اللہ علیہ وسلم )سے حاصل ہوئے ،ان امور کو تسلیم کیے بغیرایمان باللہ حاصل نہیں ہوسکتا،مثلاً:ایک شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کا دعویدار ہواور اس کی فرض کی ہوئی نماز کونہ مانتاہویا مانتاتوہو لیکن ادا نہ کرتاہو تو اس کا ایمان باللہ کیسے صحیح ہوسکتاہے؟اسی طرح ایک شخص ایمان باللہ کا دعویدارہواور فریضۂ زکاۃ کی ادائیگی سے گریزاںہو تو اس کا ایمان باللہ کیونکر قابل قبول ہوسکتاہے؟
(آمَنْتُ باللهِ ) تمام امورِ باطنہ کا مظہر ہے،جبکہ ( ثُمَّ استَقِمْ) جملہ امورِظاہرہ کا۔
انہی دو امورکے ساتھ شریعت کی تکمیل ہوتی ہے۔
جس شخص نے اس انتہائی مختصر مگر جامع حدیث کو سمجھ لیا اور اسے اپنے عقیدہ وعمل کا حصہ بنالیاوہ کامیاب اور فائزالمرام قرارپاگیا۔
قرآن مجید میں رسول اللہﷺ کے مذکورہ جواب کی تائید وارد ہے،بلکہ اس جواب کو عملی جامہ پہنانے والے کیلئے اجرعظیم کے وعدے واردہیں:
[اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْہِمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۝۳۰ نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ۝۰ۚ وَلَكُمْ فِيْہَا مَا تَشْتَہِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْہَا مَا تَدَّعُوْنَ۝۳۱ۭ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ۝۳۲ۧ ] ترجمہ:(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیئے گئے ہو تمہاری دنیوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے، جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب تمہارے لیے (جنت میں موجود ہے غفور و رحیم (معبود) کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے ۔(فصلت:۳۰تا۳۲)
سورۂ احقاف میں فرمایا:
[اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۱۳ۚ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا۝۰ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۱۴ ] ترجمہ:بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وه کیا کرتے تھے ۔
واضح ہو کہ مذکورہ آیاتِ کریمہ سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس پر استقامت اختیار کیے رکھنے کے بیشمار دنیوی واخروی فوائد ہیں، یہ فوائد اس بات کی دلیل ہیں کہ پورادین انہی دونکات میں مضمر ومرکوزہے،ایک نکتہ ایمان باللہ اور دوسرا عملی استقامت۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطورِ خاص انہی دو چیزوں کاحکم ارشاد فرمایا:
[فَاسْتَقِمْ كَـمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۝۰ۭ اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۝۱۱۲ ](ھود:۱۱۲)
ترجمہ:پس آپ جمے رہیئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وه لوگ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں، خبردار تم حد سے نہ بڑھنا، اللہ تمہارے تمام اعمال کا دیکھنے والاہے ۔
آیتِ کریمہ سے واضح ہورہاہے کہ یہ حکم ان تمام مؤمنین کیلئے بھی ہے جو کفر سے اور جملہ معاصی سے توبہ کرچکے ہیں،جس سے یہ بات ثابت ہورہی ہےکہ استقامت کی زندگی اختیارکرنے سےقبل سابقہ بداعمالیوں سے توبہ کرناضروری ہے،تاکہ پوری طرح پاک صاف ہوکر منہجِ استقامت کو اپنالیاجائے،پھر تادمِ حیات ایمان باللہ اور عملی استقامت اختیار کرلی جائےتاکہ ان تمام بشارتوں کے مستحق ہوسکیں جن کا سورۂ فصلت اور سورۂ احقاف کی آیات میں ذکرہوا ہے۔
سورۂ طہ کی ایک آیتِ کریمہ میں یہی موضوع بڑی صراحت سے بیان ہوا ہے:[وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہْتَدٰى۝۸۲ ](طہ:۸۲)
ترجمہ:ہاں بیشک میں انہیں بخش دینے والاہوں جو توبہ کریں ایمان ﻻئیں نیک عمل کریں اور راه راست پر(ہمیشہ ہمیشہ) قائم رہیں۔واللہ تعالیٰ ولی التوفیق. (جاری ہے)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

زمین کھاگئی آسماں کیسے کیسے

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول  ﷲ (ﷺ) وبعد! میراروحانی فرزند ذوالفقار علی طاہرaمجھے،اپنے دیگراساتذہ،تمام …

جواب دیجئے