Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ ستمبر » اربعینِ نووی قسط:45

اربعینِ نووی قسط:45

درسِ حدیث
فضیلۃالشیخ عبدﷲناصررحمانی

حدیث نمبر:18
قسط:45

عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بنِ جُنَادَةَ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذِ بِنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: (اتَّقِ اللهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ)رواه الترمذي وقال: حديث حسن. وفي بعض النسخ: حسنٌ صحيح.
أخرجه الترمذي كتاب: البر والصلة، باب: ما جاء في معاشرة الناس، (1987) . والإمام أحمد- في مسند الانصار عن أبي ذر الغفاري، ج5/ص153 (21681)
ترجمہ:ابوذرجندب بن جنادہ الغفاری اور ابوعبدالرحمٰن معاذ بن جبلwسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:توجہاں بھی ہواللہ تعالیٰ سے ڈر،اور گناہ کے بعد فوراً نیکی کر،وہ نیکی اس گناہ کو مٹاڈالے گی، اور لوگوںکے ساتھ اچھے اخلاق کا برتاؤکر۔
یہ حدیث مبارک دوصحابہ سے مروی ہے،ایک ابوذرغفاری اور دوسرے معاذبن جبلw۔
ابوذرغفاریtکا کبارصحابہ میں شمارہوتاتھا،ان کے والد اور والدہ دونوں کانسب،جدِامجدکنانہ پر نبیﷺ کے نسب سے جاملتا ہے، قدیم الاسلام تھے،بعض روایتوںکے مطابق ان کا اسلام قبول کرنے میں پانچواں نمبرتھا،قبولِ اسلام کے بعد واپس اپنے قبیلے میں لوٹ گئے تھے،پھر ہجرت کے فوراً بعد مدینہ منورہ میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضرہوگئے،حافظ ابن حجرaنے ’’الإصابۃ ‘‘میںاور قرطبی نے’’الإستیعاب‘‘میں،ان کے اسلام قبول کرنے کا طویل قصہ ذکر فرمایاہے،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اسلام قبول کرنے میں بڑی تکلیفوں کا سامنا کرناپڑا۔
انہیں نبیﷺ کی طرف سے صادق اللھجۃکا لقب حاصل تھا، انہیں علمی غزارت میں عبداللہ بن مسعودtکےبرابر قرار دیاگیاہے۔
جب نبی ﷺنےجنگِ تبوک کیلئے روانگی کاسفر اختیارکیا،ابوذر غفاریtکو اپنی سواری کے انتظار میں تاخیر کا سامنا کرناپڑا،اپنا سامان پشت پرلاد کر پیدل ہی روانہ ہوگئے،ایک شخص نے انہیں دور سے پیدل آتاہوادیکھ لیا،نبیuسے عرض کیا:کوئی شخص پیدل آرہا ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:(کن أباذر)یہ آنے والاابوذرغفاری ہوناچاہئے،جب قریب پہنچےتوصحابہ نے کہا:وہی ہیں۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:(یرحم اللہ أباذریعیش وحدہ ویموت وحدہ ویحشر وحدہ)اللہ تعالیٰ ابوذرپہ رحم فرمائے،یہ اکیلا جیئے گا،اکیلا فوت ہوگا، اور اکیلا قیامت کے دن اٹھایاجائے گا۔
آخری عمر میں شہر سے دور ربذہ مقام پر قیام پذیرہوئے،وہیں فوت ہوئے،عبداللہ بن مسعود tجو ایک قافلے کے ہمراہ وہاں سے گزر رہے تھے نے ان کا جنازہ پڑھایا، ا نتقال۳۱ھ میں ہوا۔
فرضی اللہ عنہ وأرضاہ.(الإصابۃ:65-63/4)
دوسرے راوی سیدنا معاذ بن جبلtہیں،ان کی کنیت ابو عبدالرحمٰن اور تعلق انصارکے معروف قبیلے بنوخزرج سے تھا،انتہائی قوی جسم اورخوبصورت چہرہ پایاتھا،رسول اللہ ﷺ نے انہیں( اعلم الناس بالحلال والحرام )قراردیاتھا،یعنی:حلال وحرام کے سب سے بڑے عالم ۔
علمی غزارت اور دعوتی،عملی واعتقادی قوت وصلابت کا عالَم یہ تھاکہ انہیں رسول اللہ ﷺنے یمن والوں کی دعوت واصلاح اور تعلیم وتزکیہ کے لئے منتخب فرمایاتھا۔
ان چارصحابہ میں سے ایک ہیں،جن سے رسول اللہ ﷺ نے قرآن پڑھنے اور سیکھنے کی تلقین فرمائی تھی،مستجاب الدعوات تھے۔
ان کا ایک امتیاز یہ بھی تھا کہ رسول اللہ ﷺنے ان سے فرمایا تھا:(یا معاذ واللہ إنی لأحبک)اے معاذ!اللہ کی قسم،میں تجھ سے محبت کرتاہوں۔
عبداللہ بن مسعودtانہیں ابراھیم خلیل اللہuسے تشبیہ دیا کرتے تھےاور فرمایاکرتے تھے:معاذ بن جبل اکیلے ہی ایک امت ہیں،رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے:معاذ قیامت کے د ن میری امت کے علماء کی قیادت کرتے ہوئے آئیں گے۔
شام کے علاقوں میں مصروفِ جہاد تھے کہ اچانک طاعون کی وبا پھیل گئی،سن ۱۷ھ میں اسی مرض میں انتقال فرمایا،اس وقت ان کی عمر صرف ۳۴برس تھی،رسول اللہ ﷺنے طاعون کی موت کو شہادت کی موت قراردیاہے۔فرضی اللہ عنہ وأرضاہ.
اس حدیث کی اہمیت
یہ حدیث دو وجوہ سے نبیﷺ کے جوامع الکلم میں شمار ہوسکتی ہے،ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس میں تعلق باللہ اور تعلق بالعباد دونوں کے ضوابط مذکور ہیں،چنانچہ آپﷺ کا فرمان:(اتَّقِ اللهَ حَيْثُمَا كُنْتَ) (توجہاں بھی رہےاللہ تعالیٰ سے ڈرکر رہ)تعلق باللہ کا مظہر ہے، جبکہ اگلا جملہ :(وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا)(اور گناہ کے بعد فوراً نیکی کر،وہ نیکی اس گناہ کو مٹاڈالے گی۔)تعلق باللہ کو چار چاند لگارہا ہے، ان دونوں جملوں کا ماحصل یہ ہے کہ تقویٰ ،تعلق باللہ کی سب سے قوی بنیاد ہے، جبکہ اعمالِ صالحہ اختیار کئے رہنا نیز توبہ کے منہج کو اپنائے رکھنا اس تعلق میں مزید حسن اور نکھار پیداکرتےہیں،اور آخری جملہ( وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ)(اور لوگوںکے ساتھ اچھے اخلاق کا برتاؤکر۔)تعلق بالعباد کی سب سے عمدہ او رانتہائی قوی صورت کو اجاگرکررہاہے،یعنی : تمام لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق پر مبنی برتاؤ۔
آئندہ سطور میں یہ حقیقت واضح ہو جائےگی۔(ان شاءاللہ تعالیٰ)
اس حدیث کے جوامع الکلم میں سے ہونے کی دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس میں اسلام کی مکمل تصویر موجود ہے، بالفاظِ دیگر یہ حدیث قولہ تعالیٰ:[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً۝۰۠ ] (اے ایمان والو!اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ)کی انتہائی جامع تصویر ہوسکتی ہے؛کیونکہ پورے اسلام کا مفہوم تین الفاظ میں پنہاں ہے،1عقیدہ2عمل3اخلاق۔
حدیث کاپہلا جملہ عقیدہ وعمل دونوںکی ترجمانی کررہا ہے ،جبکہ دوسرا جملہ ان دونوں کی بہتری کا باعث بن رہا ہے،اور آخری جملہ خلقِ حسنہ کے بہترین قواعد میںشمارہوسکتا ہے،جیسا کہ حدیث کی شرح میں واضح ہوگا۔والتوفیق باللہ تعالیٰ.
حدیث کی شرح
(۱)پہلا جملہ:(اتَّقِ اللهَ حَيْثُمَا كُنْتَ)(توجہاں بھی رہےاللہ تعالیٰ سے ڈرکر رہ)تقویٰ کا لغوی معنی:بچاؤاختیارکرنا، یعنی جس چیز کا آپ کو خوف لاحق ہےاس سے بچاؤ کیلئے ایسی تدبیر اختیارکرنا جواس پُر خوف وخطر چیز کو رفع کرکےآپ کوبچالے۔
مثال کے طور پہ کڑی دھوپ میں انتہائی گرم زمین پر ننگے پاؤں چلنے کی صورت میں پاؤں کے جلنے کا خوف لاحق ہوتا ہے،جوتا استعمال کرلینے سے وہ خوف رفع ہوجائے گا،گویا جوتااستعمال کرنا دھوپ کی تپش سے بچاؤ کی تدبیر ہے۔
شریعتِ مطہرہ میں تقویٰ سے یہی مراد ہے،ہرشخص کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے عذابِ الیم سے خوف لاحق ہے،جس سے بچاؤ کی شرعی تدبیر اختیارکرلینا تقویٰ کہلاتاہے،وہ شرعی تدبیر یہ ہے کہ اس کے تمام احکام واوامر بجالائے جائیںاور تمام منہیات وممنوعات سے یکسر گریزکرلیاجائے،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جوامورفرض کئے ہیں،مثلاً: عقیدۂ توحید،نماز،زکاۃ اور روزہ وغیرہ انہیں اپنائے رکھناتقویٰ ہے،اور جن چیزوں سے منع فرمادیاہے،مثلاً:شرک،بدعت اورصغیرہ وکبیرہ گناہ وغیرہ ان سے بچاؤاختیارکئے رکھناتقویٰ ہے۔
الغرض تقویٰ کی حقیقت یہ ہےکہ انسان آیتِ کریمہ [وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ]کی سچی تصویربن جائے؛ اسی لئے اس سے آگے [وَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ]ہے،جس کا معنی یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے آنے والی ہربات کوقبول کرکے اور آپ ﷺ کی منع کردہ ہر چیزکوچھوڑکےہی تقویٰ کاحصول ممکن ہے۔
یہ شریعت کی بتائی ہوئی وہ تدبیر ہے جسے اختیارکرلینے سے اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچاؤممکن ہے،اور یہی تقویٰ ہے، رسول اللہﷺ کے فرمان:(اتَّقِ اللهَ ) جوکہ امرکاصیغہ ہے،سے ثابت ہوتا ہے کہ تقویٰ اختیارکرنا واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تمام اولین وآخرین کو تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت فرمائی ہے:[وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ](النساء:۱۳۱)
ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو ۔
اس آیتِ کریمہ میں (اِتَّقُوا)جمع امرکاصیغہ ہے،جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تمام لوگوں پر تقویٰ اختیارکرنے کی فرضیت قائم ہے۔
(حَيْثُمَا كُنْتَ)میں (حَيْثُ) ظرفِ مکان ہے،جس کامعنی یہ ہے کہ انسان جس مقام پر ہو،خواہ تنہاہویالوگوںکے درمیان،سفر میں ہو یا حضرمیں،گھرمیں ہو یابازارمیں،اس کے لئےتقویٰ اختیارکئے رہنا واجب ہے۔
(۲)دوسرا جملہ:(وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا)(اور گناہ کے بعد فوراً نیکی کر،وہ نیکی اس گناہ کو مٹاڈالے گی۔)
اس سلسلہ میں سب سے بہترین نیکی توبہ ہے،دیگرنیکیاں صغیرہ گناہوں کے مٹانے کا سبب بنتی ہیں،جبکہ کبیرہ گناہوں سے بخشش کیلئے توبہ شرط ہے،بلکہ بعض علماء نے یہاں نیکی کی تفسیر ہی توبہ کے ساتھ کی ہے،جبکہ راجح یہ ہے کہ نیکیوں سے بھی گناہ مٹ جاتے ہیں،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَيِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ۝۰ۭ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْہِبْنَ السَّـيِّاٰتِ۝۰ۭ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْنَ۝۱۱۴ۚ ](ھود:۱۱۴)
ترجمہ:دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے ۔
اس آیت کریمہ کے شانِ نزول سے مذکورہ مؤقف کی مزید وضاحت اورتقویت حاصل ہوگی:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مسعود، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ، وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا، فَأَنَا هَذَا، فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ سَتَرَكَ اللهُ، لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَكَ، قَالَ: فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ، فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا دَعَاهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [هود: 114] فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللهِ هَذَا لَهُ خَاصَّةً؟ قَالَ: «بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً»(صحیح مسلم،الرقم:2763 )
عبداللہ بن مسعودtسے مروی ہے،ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوااور کہا:یارسول اللہ ﷺ !میں مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر ایک عورت (لونڈی) سے کچھ نازیباحرکت کربیٹھاہوں، اب میں آپ کے سامنے موجودہوں، میرے بارے میں جوچاہیں فیصلہ فرمادیں،عمرtنے فرمایا:تجھ پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال دیا تھا، کاش تو اپنے اوپر یہ پردہ ڈالے رکھتا۔
رسول اللہ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا،وہ شخص(مایوس ہوکر)چل دیا، تب رسول اللہ ﷺنے اس کے پیچھے ایک شخص کو بھیج کر اسے بلالیا، اور اس پر قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
[وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَيِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ۝۰ۭ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْہِبْنَ السَّـيِّاٰتِ۝۰ۭ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْنَ۝۱۱۴ۚ ](ھود:۱۱۴)
ترجمہ:دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے ۔
ایک شخص نے پوچھا:اے اللہ کے نبیﷺ!کیا یہ معاملہ اس کیلئے خاص ہے ؟فرمایا:نہیں یہ سب کیلئے ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہےکہ آپﷺنے اس سے پوچھا:کیا تم نے ہمارے ساتھ فجرکی نماز نہیں پڑھی؟اس نے کہا:جی ہاں پڑھی ہے،رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمادی۔
اس سے ثابت ہوا کہ نیکیاں بھی گناہوں کو مٹادیتی ہیں،اگرچہ توبہ نہ بھی کی گئی ہو۔
ابوذرغفاریtسے مروی ہے،انہوں نےرسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:مجھے نصیحت فرمادیجئے،آپ نے فرمایا:(اذا عملت سیئۃ فاتبعھا حسنۃ تمحھا.)جب تم سے کوئی گناہ سرزدہوجائے توفوراًکوئی نیکی کرڈالو،وہ نیکی اس گناہ کو مٹادے گی۔
ابوذرغفاری فرماتے ہیں:میں نے عرض کیا:یارسول اللہ !کیا (لاالٰہ الااللہ )بھی نیکی ہے؟فرمایا:یہ تو سب سے افضل نیکی ہے۔
(الترغیب والترھیب للمنذری226/3)
(۳)تیسرا جملہ:(وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ)(اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کا برتاؤکر۔)
(خَالِق)امرکاصیغہ ہے،جو اصل معنی کے اعتبار سے وجوب پر دلالت کرتاہے،گویالوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا واجب ہے، اس کاضابطہ یہ ہے کہ ہرشخص جس طرح کاسلوک اپنے بارے میں چاہتا ہے بالکل ویسا ہی سلوک دوسروں کے بارے میں اختیارکرلے۔
رسول اللہ ﷺکے فرامین،جوامع الکلم کادرجہ رکھتےہیں،درج ذیل حدیث اسی ضابطہ کی ترجمانی کررہی ہے۔
عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: لایؤمن احدکم حتی یحب لأخیہ مایحب لنفسہ)(متفق علیہ)
یعنی:انس بن مالک tسے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کیلئے وہ سب کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے۔
لہذا حسن اخلاق کاتقاضا یہی ہے کہ انسان لوگوںکی جانب سے، اپنے بارے میںجیسا برتاؤچاہتاہوویسا ہی لوگوںکے ساتھ اختیار کر لے ۔
واضح ہو کہ فتنوں کے دور میں اخلاقی اعتبار سے یہ ضابطہ انتہائی کارآمدہے،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث مبارک میں اپنی امت پرمسلط ہونے والے فتنوںکا ذکرفرمایا،پھر حفاظت کے ضوابط بیان فرمائے،چنانچہ صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث،جو عبداللہ بن عمرو بن العاص yکی روایت سے ہےکے آخر میںفتنوںکی نشاندہی کے بعد نبی ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے:
(فمن أحب أن یزحزح عن النار ویدخل الجنۃ، فلتأتہ منیتہ وھو یؤمن باللہ والیوم الآخر ،ولیأت إلی الناس الذی یحب أن یؤتی إلیہ )
یعنی:جس شخص کی چاہت وخواہش ہو کہ اسے جہنم سے دور کردیا جائے اور جنت میں داخلہ دے دیاجائے،توو ہ (کوشش کرتا رہے کہ)جب اس کی موت آئے تو وہ اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان کے ساتھ آئے اور (مرتے دم تک اس روش پر قائم رہے کہ)لوگوںکے ساتھ صرف وہی رویہ روارکھے جو لوگوں کی طرف سے اپنے لئے چاہتا ہے۔
قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺکے بارے میں [وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۝۴ ]وارد ہے،جوآپﷺ کا انتہائی جامع اورعظیم وصف ہے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ rفرمایاکرتی تھیں:
(کان خلقہ القرآن)(صحیح مسلم:746)
یعنی:پوراقرآن آپﷺ کا اخلاق تھا۔
اخلاقِ حسنہ کی اہمیت،ضرورت اور تعریف وتوصیف میں بے شمار احادیث واردہیں،رسول اللہﷺ مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوئے،روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے میزان میں سب سے بھاری عمل اخلاق ہی ہوگا،جبکہ بہت سے نصوص سے یہ بات ثابت ہے کہ برے اخلاق،نیکیوں کو تباہ وبرباد کرڈالتے ہیں۔
اسی لئے رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے:(ان اللہ رفیق یحب الرفق فی الأمر کلہ )(صحیح بخاری:6024)
یعنی:بے شک اللہ تعالیٰ رفیق ہے،اورہر معاملے میں رفق یعنی نرم خوئی پسندفرماتاہے۔
واضح ہو کہ بعض مواقع پر دین کی خاطر سختی اور درشتگی اختیارکرنی پڑتی ہے،بہرحال ہر موقع ومحل کے الگ الگ تقاضے ہوتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر سختی اختیار کرنی پڑے توضرور کرلی جائے،لیکن جہاں سختی اور نرمی دونوں کا امکان موجود ہو وہاں نرمی ہی اختیار کرناافضل ہے۔
یہ مکمل حدیث دین اسلام کے محاسن اجاگرکررہی ہے،اور بتلارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ انتہائی مشفقانہ اور کریمانہ برتاؤ ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ گناہوں کے بعد نیکیاں اختیارکرلینے سے تمام گناہ مٹ جاتے ہیں ،ایک حدیث قدسی میں ہے ،رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(رحمتی سبقت غضبی) یعنی: میری رحمت میرے غصے سے پہلے ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت کاسوال کرتے ہیں اور اس کے غضب سے اس کی پناہ طلب کرتے ہیں۔واللہ تعالیٰ سمیع مجیب للدعوات، وبتوفیقہ تتم الصالحات.
(جاری ہے)

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے