Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ جولائ » عورتوں اور محرم مَردوں کے سامنے عورت کا لباس — قسط نمبر 12

عورتوں اور محرم مَردوں کے سامنے عورت کا لباس — قسط نمبر 12

فضیلۃالشیخ عبداللہ ناصررحمانی
قسط:۱۲

قارئین! عزت مآب عرب عالم دین علی بن عبداللہ النمیdنے مسلمان عورت کے حوالے سے ایک اہم ترین عنوان پر کتاب بنام’’الادلۃ الصوارم علی مایجب سترہ من المرأۃ عند النساء والمحارم‘‘یعنی عورتوں اور محرم مَردوں کے سامنے عورت کالباس (ٹھوس دلائل کی روشنی میں) تالیف فرمائی جسے فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdنےاردو قالب میں ڈھالا۔افادیت کے پیش نظر کتاب ماہنامہ دعوتِ اہل حدیث میں قسط وار شایع کی جارہی ہے۔کتاب سے جہاں محولہ بالاعنوان پر ٹھوس دلائل معلوم ہوں گے وہاں کتاب کے مطالعہ سے قارئین اردو ادب کی چاشنی بھی محسوس کریں گے۔(ادارہ)

سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن بازaسے ایک سوال
رشتہ داروں کی موجودگی میں عورت کے ستر کی کیاحد ہے؟کیا اس کا تمام جسم ستر ہے؟ یا پھر ناف سے لیکر گھٹنے تک ؟نیز عورت کا اپنے رشتہ داروں کی موجودگی میں آدھی آستین والی قمیض پہننے کاکیاحکم ہے؟نیز باریک لباس پہننے کا حکم بھی واضح فرمایئے؟ان تمام سوالات کے تعلق سے ہماری رہنمائی کیجئے۔
جواب:اس بارہ میں اہل علم کے ہاں بڑی تفصیل اور بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، کچھ فقہاء کاخیال ہے کہ محارم کی موجودگی میں عورت کاسترناف سے گھٹنے تک ہے، مگر یہ مؤقف محلِ نظر ہے،(یعنی کمزور ہے) زیادہ صحیح مؤقف یہ ہے کہ عورت اپنے محارم کی موجودگی میں صرف ان اعضاء کو کھلا رکھ سکتی ہے جوعام طورپہ گھروں کے اندر (کام کاج کے دوران)کھلے رہتے ہیں، مثلاً: سر، گردن،کان اور کان کی بالیاں،دونوں ہاتھ، دونوں کلائیاں،دونوں قدم اور کچھ پنڈلی کاحصہ۔
یہی مؤقف اقرب الی الصواب ہے،اورخاتون کیلئے یہی افضل ہے کہ وہ مذکورہ اعضاء کے علاوہ اپنے تمام اعضاء ڈھانپ کر رکھے، البتہ اگر ضرورت کے تحت کسی عضو کو کھولنا پڑتا ہے،مثلاً:بچے کو دودھ پلانے کیلئےچھاتی کاکچھ حصہ باہر نکالنا،تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
(یہ جواب شیخ aکے پروگرام نورعلی الدرب جو کہ شیخ کی ویب سائیٹ پر موجود ہے، سے لیاگیاہے۔)
شیخ صالح الفوزان dسے ایک سوال
کیاعورت کا،دیگر عورتوں کی موجودگی میں تنگ لباس پہننا، حدیث (کاسیات عاریات) کے زمرے میں آئے گا؟(کاسیات عاریات ) سے مراد وہ عورتیں جو لباس پہنے ہوئے بھی برہنہ دکھائی دیتی ہیں)
جواب:اس میںکوئی شک نہیں کہ عورت کا ایسا تنگ لباس پہننا جو اس کے جسم کے پرفتن حصوں کو نمایاں کرے،ناجائزہے،صرف شوہر کی موجودگی میں جائز ہے۔شوہر کے علاوہ کسی کی موجودگی میں جائز نہیں خواہ عورتیں ہی کیوں نہ ہوں…(مزید فرمایا)عورت، دیگر عورتوں سے اپنے ستر کو ڈھانپ کر رکھے، جیسا کہ مَردوں سے ڈھانپتی ہے،البتہ عورتوں کی موجودگی میں ان اعضاء کو کھلا رکھ سکتی ہے، جنہیںکھلارکھنا عرف وعادت میں مسلم ہے،جنہیں ڈھانپنا باعث مشقت ہے، جیسے: چہرہ،ہاتھ،اورپاؤں۔(ماخوذاز فتاویٰ الشیخ صالح الفوزان ۳؍۳۰۷-۳۰۸)
شیخ صالح الفوزان سے ایک اورسوال
ایک خاتون نے شیخ سے پوچھا:میرے چاربیٹے ہیں،اور میں ان کی موجودگی میں چھوٹالباس پہن لیتی ہوں،اس کاکیاحکم ہے؟
جواب:عورت کیلئےاپنی اولاد یادیگر محارم کی موجودگی میں چھوٹا لباس پہننا ناجائز ہے،ان کی موجودگی میں جسم کے صرف ان اعضاء کو کھلارکھ سکتی ہے جوعادۃً گھروں میں کھلے رہتے ہیں،جوکہ موجب فتنہ نہیں ہوتے،چھوٹا لباس ایک خاتون صرف اپنے شوہر کے سامنے پہن سکتی ہے۔(ماخوذاز فتاویٰ الشیخ صالح الفوزان ۳؍۳۰۸)
الشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین aسے ایک سوال
ہمارے اس دور میں خواتین مختلف ڈیزائینوں کی پتلونیں پہنتی ہیں،جب انہیں منع کیاجائے توجواب دیتی ہیں:ہم صرف عورتوں کے بیچ پتلون پہنتی ہیں؟
جواب:عورت کیلئے یہ لباس (پتلون) پہننا ناجائزہے،خواہ وہ عورتوں اور رشتہ داروں کے درمیان ہی کیوں نہ ہو… مزید فرمایا: عورت تو اپنا جسم ڈھانپنےکا نیز کشادہ قسم کا لباس زیب تن کرنے کاحکم دی گئی ہے،لہذا عورتوں کے سرپرستوں اور نگرانوں پر فرض ہے کہ وہ انہیں پتلون پہننے سے روکیںاورصرف وہ لباس پہننے دیں جو مسلم معاشرہ میں مروج ہے،ایسا لباس ہر گز نہ پہننے دیں جو کافروں، یہودیوںاور عیسائیوں کے ممالک سے امپورٹ ہواہے۔واللہ اعلم وصلی علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم.
(ماخوذ از الفتاویٰ النسائیۃ،ص:۲۴)
الشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین aسے ایک اورسوال
شیخ aسے عورت کے،دیگر عورتوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں تنگ، باریک، چھوٹا ، کسی جانب سے پھٹاہوایاچھوٹی آستینوں والا لباس پہننے کے بارہ میں سوال کیاگیا؟
جواب میں فرمایا:جہاں تک تنگ لباس کامسئلہ ہے توایسا لباس جوجسم کے نشیب وفراز کو ابھارنے والاہو،پہننا ناجائز ہے؛کیونکہ اس قسم کا لباس دیکھنے والوں کی آنکھوںمیں کشش پیداکرنے کاسبب بنتا ہے…مزیدفرمایا:یہی حکم اس لباس کا ہے جو چھوٹا ہو یا کسی طرف سے پھٹاہواور جسم کے کسی حصے کو کھولنے کا سبب بنتاہو،نیز یہی حکم اس قمیض کا ہے جس کی آستینیں چھوٹی ہوں۔عورت کا،رشتہ داروں یا دیگر عورتوں کے درمیان ہونا،اس قسم کے لباس کے جواز کا بہانہ نہیں بن سکتا۔
(ماخوذ از الفتاویٰ النسائیۃ،ص:۲۵-۳۱)
ایک شبہ اور اس کاازالہ
بہت سے لوگوں پر بعض فقہاء کی یہ بات اشکال کا باعث بنتی ہے کہ عورت کاستر،دیگر عورتوں کی موجودگی میں یا اس کے محرم کی موجودگی میںناف سے گھٹنے تک ہے۔
اس شبہ کا جواب درج ذیل ہے:
1امام شافعی aفرماتے ہیں:(الحجۃ فی کتاب اللہ وسنۃ رسولہ وإتفاق الأئمۃ ) یعنی:حجت صرف کتاب اللہ،سنت رسول اللہ اور ائمہ کااجماع ہے۔
جبکہ یہ بات واضح اورمتحقق ہے توپھر بعض فقہاء کےمذکورہ قول کہ عورت کاستر ،عورتوں یا محارم کی موجودگی میں ناف سے گھٹنے تک ہے، میں بے پردہ عورتوں کیلئے کوئی سہارا نہیں؛ کیونکہ یہ قول نہ توکلام اللہ ہے،نہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے اور نہ ہی کتاب وسنت سے اس قسم کا کوئی اشارہ ملتا ہے۔
حافظ ابن رجبaنے اس مسئلہ میں کہ محرم اپنی رشتہ دار عورتوں کے جسم کے کس کس حصہ کو دیکھ سکتا ہے ،میں علماء کااختلاف ذکرکیا ہے،چنانچہ ایک قول یہ بھی بیان کیا ہے کہ محرم اپنی رشتہ دار خاتون کو ناف سے گھٹنے تک کےعلاوہ دیکھ سکتاہے،پھر علامہ ابن رجب aنےاس قول کو ضعیف اورشاذ قراردیا۔(فتح الباری لابن رجب:۱؍۲۴۹-۲۵۱)
2ائمہ کرام کا اجماع بھی حجت ہے،لیکن اس مسئلہ پر کوئی اجماع ثابت نہیں،بلکہ یہ ایک ایسی رائے ہے جو دلیل سے عاری ہے،اور نقلاً وعقلاًانتہائی قوی دلائل جن کا ہم نے کافی وشافی ذکرکردیا ہے،کے مخالف بھی ہے۔
امام ابوبکر بن عبدالرحمن ،امام مالک اور امام احمد بن حنبل S اور دیگر بہت سے ائمہ فرماتے ہیں:عورت تمام کی تمام ستر اور پردہ ہے،حتی کہ ناخن بھی۔
ان ائمہ کرام نے عورت کیلئے،دیگر عورتوں اورمحارم کی موجودگی میں صرف ان اعضاء کوکھولنا جائز قرار دیاہےجوعام طور پر کام کاج کرتے ہوئے کھلے رکھنا پڑتےہیں۔
ابن قدامہ المقدسیaفرماتےہیں:گھرمیں کام کاج کرتے ہوئے عورت کا اپنے چہرہ کے علاوہ بعض دیگر اعضاء کو مثلاً:دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں،کھلارکھنے کے حوالے سے دوروایتیں ہیں:ایک یہ کہ چہرے کے علاوہ دوسرے کسی حصے کو دیکھنا جائز نہیں(یہ حکم نکاح کاپیغام دینے والے کیلئے ہے) دوسری روایت یہ ہے کہ صرف چہرے اور ہاتھوں کو دیکھا جاسکتا ہے،اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
(المغنی لابن قدامہ:۹؍۴۹۱)
امام احمد بن حنبلa فرماتے ہیںکوئی شخص اپنی کسی محرم خاتون کے چہرے کے سوا اور کچھ نہ دیکھے۔
3جن علماء نے ناف سے گھٹنے تک کے ستر ہونے کاقول اختیار کیاہے،ان کے پیش نظریہ جواز عورت کی گھر کی چاردیواری کے اندر کسی ضرورت کے تحت ہے،چنانچہ عورت اپنے گھر کے بعض ضروری کام کاج کیلئے ،گھر کی دیگر عورتوں کی موجودگی میںجسم کے کچھ حصے کھولنے پر مجبور ہوتی ہے،کیا اس سے یہ ثبوت کشیدکرنا جائز ہوگا کہ عورت ان فقہاء کے اس مؤقف کوقبول کرتے ہوئے نیم برہنہ ہوکر رات بھرکیلئے محفلوں میں شریک ہوتی پھرے؟بعض فقہاء کا مذکورہ مؤقف بعض مخصوص حالات کیلئے ہے،لیکن اس سے استدلال ایک عمومی پیرائے میں ڈھال لیاگیا۔(جوقطعاً شرعی مقاصد کے خلاف اور معاشرہ میں بے حیائی پھیلانے کا موجب ہے۔)
4جن فقہاء نے یہ مؤقف اختیارکیا،ان کے پیش نظر گھریلوکام کاج کی ضرورت تھی، لیکن گھریلوکام کاج کی ضرورت ایسی تو نہیں ہوتی کہ اس کیلئے ناف سے گھٹنے تک کے علاوہ سارا جسم ہی کھول دیاجائے، عورتیں اپنے گھروں میں کام کرتی ہیں اور ان کے صرف وہ اعضاء کھلے ہوتے ہیں جو عام طور پہ کھلے رہ جاتے ہیں،شیخ الاسلام ابن تیمیہ aفرماتے ہیں:رسول اللہ ﷺکے دور میں خواتین قمیضیں پہناکرتی تھیں،اور قمیضوں کے اندر ہی تمام کام کاج نمٹالیاکرتی تھیں،چنانچہ آٹاگوندنے یاپیسنےیا روٹیاں پکانے کیلئے قمیضوں کے اندرہی سے ہاتھ باہر نکال کر یہ سارے کام انجام دے دیاکرتی تھیں۔( فتاویٰ ابن تیمیہ۲۲؍۱۱۸)
بعض علماء نے عورت کیلئے شوہریامالک کے علاوہ ہرمحرم کے سامنے زیب وزینت اختیار کرنےکو حرام قراردیاہے۔
( معونۃ أولی النھی شرح المنتھی:۹؍۳۱)
توپھر یہ چھوٹے اور باریک قسم کےکپڑے پہننا تو فیشن کی آخری حد شمار ہوتے ہیں ۔
5فقہاء کا عورت کے سترکی حد متعین کرنے میں جوضابطہ ہے وہ مختلف حالات اور ظروف کے اعتبار سے ہے،چنانچہ اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ چہرہ ستر نہیں ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ نماز کی حالت میں عورت کیلئے چہرہ کھلارکھنا ضروری ہے،الایہ کہ اس کے نزدیک اجنبی مرد ہوں۔ (اجنبی مردوں کی موجودگی میں چہرہ ڈھانپا جائے گا۔)
فقہاء کا یہ کہنا کہ دونوں ہاتھ ستر نہیں ہیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ حج کے دوران بحالتِ احرام ہاتھوں پر دستانےپہننا ناجائز ہے۔
فقہاء کایہ کہنا کہ چہرہ،دونوں ہاتھ،دونوں پاؤں اور پنڈلیوں کا کچھ حصہ ستر نہیں ہے تو اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ نکاح کا پیغام دینے والا ان اعضاء کی حد تک اپنی مخطوبہ کو دیکھ سکتاہے؛کیونکہ وہ اسے اس کے گھر دیکھنے آئے گا اور گھر کے اندر یہ اعضاء عام طور پہ کھلے رہتے ہیں۔
فقہاء کا یہ کہنا عورت کے ستر کی حد ناف سے گھٹنے تک ہے،تو اس سے مراد گھر کے کام کاج کی ضرورت کے تحت ہے۔
فقہاء کرام نے عورتوں کی ستر کی یہ حدود اپنے اپنے باب کے تحت ذکر کی ہیں،کیا ان حدود کاذکر دعوتوں اور ولیموں کے باب میں کیا ہے؟ ہر گزنہیں۔
فقہاء نے لباس اورزینت کے ابواب میں عورت کے ممنوعہ اورحرام شدہ لباسوں کا ذکر کیا ہے،اور یہ بتایا ہے کہ ایسے لباس جو باریکی یا تنگی کی بناء پر برہنگی اور عریانیت کا باعث ہوںانہیں زیب تن کرناحرام ہے۔
فقہاء کرام کے ذہنوں میں دوردورتک یہ بات نہ تھی کہ ایک زمانہ آنے والاہے، مسلمان عورتیں ان کے اس قول اور ضابطہ کوآڑبناکر اپنے جسم کے محاسن ظاہر کرتی پھریں گی،بے حیاء اور بدکردار عورتوں کی نقالی کریں گی اور مغرب کی فیشن زدہ عورتوں کے ایسے لباسوں اورڈیزائینوں کو اپنائیں گی،جن میں حیاء اور وقار نامی کوئی چیز نہیں۔
6فقہاء کا مذکورہ ضابطہ (کہ عورت کاستر ناف سے گھٹنے تک ہے) کام کاج کی ضرورت پر محمول ہوگا،اس سے یہ بات کہاںثابت ہوتی ہے کہ عورت قصداً وعمداً اس قسم کے لباس پہنے،چنانچہ اگر فقہاء نے عورت کے ستر کے تعلق سے مذکورہ قول اختیار کیا ہے،تو اس کامعنی یہ نہیںکہ ایک نوجوان لڑکی زینت وجمال کی خاطر، قصداً وارادۃً اپنی عورتوں یا محرم مردوں کی موجودگی میں اپنی ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے کے حصوں کواس بناء پر کہ یہ(فقہاء کے قول کے مطابق) ستر شمار نہیں ہوتے، ظاہرکرتی پھرے۔
پھر اس سے یہ کہاںلازم آتاہے کہ ایسا لباس پہننے والی خاتون کو عمداً دیکھا جائے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی قول سے لازم آنے والی چیز قول نہیں ہوتی،اور یہ تو لازم بھی نہیں آرہا۔
فقہاء کاکہنا ہے کہ عورت تمام کی تمام سترہے،سوائے نماز کے اندر اس کے چہرے کے،اس سے فقہاء کی مراد یہ ہے کہ جب اجنبی مرد نہ ہوں،(اجنبی مردوں کی موجودگی میں نماز کے اندر بھی چہرہ ڈھانپ کررکھے گی)
فقہاء نے مردوں کے ستر کی حد بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: مرد کاستر ناف سے گھٹنے تک ہے ۔(توکیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خواتین، مردوں کو ناف سے اوپر اور گھٹنوں سے نیچے دیکھ سکتی ہیں)
بعض فقہاء جن میںامام احمد بن حنبلaبھی شامل ہیں یہ صراحت فرماتے ہیں کہ عورت کسی مرد کے جسم کوصرف اتنا ہی دیکھ سکتی ہے جو عام طور پہ شریفانہ لباس پہننے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔بعض فقہاء نے اسے کام کاج وغیرہ کے ساتھ مقید کیا ہے،جبکہ بہت سے فقہاء جن میں امام احمد بن حنبلaبھی شامل ہیں،نےدیکھنے کے حوالے سے عدمِ اباحت کاقول اختیارکیا ہے۔
بہرحال عورت کے ستر کے تعلق سے فقہاء کی مذکورہ اصطلاح تمام احوال پر محمول نہیں، بلکہ گھر کی چاردیواری کےاندر اور وہ بھی گھریلوکام کاج کرتے ہوئے۔
کام کاج کرتے ہوئے جسم کے بعض حصوں سے کپڑے کا سرک جانا بامرمجبوری یا بصورت غفلت ہوتاہے،نہ کہ قصداً واختیاراً۔
جوشخص فقہاء کے اس قول کو سامنے رکھے اور پھر فقہاء کے دیگرکلام کا تتبع کرے اور اس بارہ میں ان کے اقوال جمع کرے تو وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ عورت کے ستر کے حوالے سے ان کے قول سے وہی کچھ مراد ہے جو ہم نے بیان کردیا۔
شیخ محمد بن صالح العثیمینaفرماتے ہیں: عورت کا،دیگر عورتوں کی موجودگی میں ستر وہی ہے جو مرد کا دیگر مردوں کی موجودگی میں ہے،یعنی :ناف سے گھٹنے تک، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ عورتیں،دیگر عورتوں کی موجودگی میں چھوٹے کپڑے پہننا شروع کردیں جو صرف ناف سے گھٹنے تک کوڈھانپنے والے ہوں،یہ بات کسی اہل علم نے نہیں کہی،بلکہ اس کامعنی یہ ہے ایک عورت اگر اپنا کشادہ،لمبا اورڈھیلاڈھالا لباس زیب تن کیے ہواور عورتوں کے بیچ موجود ہو اور کسی وجہ سے اس کے جسم کے کسی حصے مثلاً:پنڈلی،یاسینے وغیرہ سے کپڑا سرک جائے تو وہ گنہگار نہیں ہوگی۔
شیخ ابن عثیمینaمزیدفرماتے ہیں: کیا اس بات میں کسی قسم کی کوئی معقولیت نظر آتی ہے کہ عورت،دیگرعورتوں سے ملنے جائے اور اس کےجسم پر صرف اتنا لباس ہوجو اس کے ناف سے گھٹنے تک کے حصے کوڈھانپنے والاہو؟
یہ بات کفار کے معاشرہ میں تو ہوسکتی ہے لیکن کسی مسلمان اہل علم نے ہرگز نہیں کہی۔
( مجموع فتاویٰ ورسائل الشیخ ابن عثیمین۱۲؍۲۶۷-۲۶۸)
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ لباس اور چیز ہے اور ستر کودیکھنا دوسری چیز۔
لباس میں امرمشروع یہ ہے کہ عورت،عورتوں کی موجودگی میں ایسا لباس پہنے ہو جو ہاتھ کی ہتھیلی سے لیکر پاؤں کے ٹخنے تک کے حصے کو ڈھانپے ہوئے ہو، یہی لباسِ مشروع ہے۔
لیکن اگر عورت کوکسی ضرورت یاکام کاج کی وجہ سے اپنے لباس کو گھٹنے تک اٹھانا پڑتا ہے ،تو یہ محض اس ضرورت کی بناء پر جائز ہوگا،اسی طرح اگر اپنی آستین کے لبا س کو کندھےتک کسی ضرورت یاشغل کی بناء پر اٹھاناپڑتا ہے تو یہ محض اس ضرورت کی بناء پر جائز ہوگا۔لیکن اگر عورت ایسے لباس کو قصداً وارادۃً اپنی عادت بنالے جس سے گھٹنوں سے نیچے کاحصہ یا کندھوں تک کاحصہ برہنہ ہوتاہوتو یہ ہرگز جائز نہ ہوگا۔
(یہ فتویٰ بتاریخ ۲۰؍۱۱؍۱۴۱۴کو شیخ ابن عثیمین aکے دستخط کے ساتھ صادر ہوا، ملاحظہ کیجئے:فتاویٰ علماء البلد الحرام، ص: ۱۸۵۸-۱۸۵۹)
چھوٹی بچیوں کا چھوٹا لباس پہننا
چھوٹی بچیوں کےتعلق سے ان کے والدین پر فرض ہے کہ وہ صغر سنی ہی سے حیاء اور وقار کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی تربیت کریں،اورانہیں شروع ہی سے ایسے لباس کا عادی بنائیں جو پورے جسم کیلئے ساترہو(یعنی لمبا،دبیزاور کشادہ)
عن معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ عنھما عن رسول اللہ ﷺ أنہ قال: الخیر عادۃ والشر لجاجۃ.
یعنی: امیرمعاویہtسے مروی ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خیروہ ہے جو بندے کی عادت بن جائے،اور شرتو محض ہنگامہ وفساد ہے ۔
( ابن ماجہ (۲۲۱) بوصیری ،مصباح الزجاجہ (۸۲) میں کہتے ہیں اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور صاحب مسند الشھاب القضاعی نے بھی اسے روایت کیا ہے۔)
ایک شاعر نے کیاخوب کہا:
وینشأ ناشیٔ الفتیان فینا
علی ما کان عودہ أبوہ
ہمارا چھوٹا بچہ انہی اخلاق وخصائل پر پروان چڑھتاہے،جن کا اس کاوالد اسے عادی بنادے۔
ہمارے شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرینaفرماتے ہیں: ضروری ہے کہ لباس کے معاملے میں اولاد کی بچپن ہی سے تربیت کی جائے،چھوٹی بچی کو بچپن ہی سے جس لباس وغیرہ کا عادی بنادیاجائے،بڑھاپے تک اسے اختیار کیے رہتی ہے،اور اسے چھوڑنا اس کیلئے ناممکن ہوتاہے۔(فتاویٰ المرأۃ ،ص:۱۷۹)
شیخ صالح بن العثیمینaسے ایک سوال
کچھ عورتیں اپنی چھوٹی بچیوں کو چھوٹالباس پہناتی ہیں،جس سے ان کی پنڈلیاں ظاہر ہوتی ہیں،کیانصیحت فرمائیں گے؟
فرمایا:میری رائے یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی چھوٹی بیٹی کو ایسا لباس ہرگز نہ پہنائےـ:ـ کیونکہ جب وہ ایسے لباس کی عادی ہوجائے گی تو پھر اسی پر قائم رہے گی اور اسے انتہائی ہلکا لیتی رہے گی،لڑکی اپنے بچپن ہی سے اگر حشمت وحیاء جیسے خلق کی عادی ہوگی تو بڑھاپے تک اسی اخلاق پر قائم رہے گی۔
میں اپنی تمام مسلمان بہنوں اوربیٹیوں کو نصیحت کرتاہوں کہ وہ غیرملکیوں کالباس یکسر ترک کردیں، وہ تو ہمارے اور ہمارے دین کے دشمن ہیں،اوراپنی بچیوں کولباسِ ساتر کا عادی بنائیں،نیز انہیں زیورِ حیاء سے آراستہ کریں؛کیونکہ حیاء ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے۔
(فتاویٰ المرأۃ،ص:۱۸۲)
(جاری ہے)

About ادارہ

Check Also

ہمارے استاذ محترم شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے متعلق درجہ ثامنہ کے طلبہ کے مشاہدات،جذبات اور احساسات

  ہمارے استاذ محترم اور والد کا مقام رکھنے والے انسان فضیلۃ الشیخ ذوالفقار علی …

جواب دیجئے