اربعینِ نووی

عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه أنّ رجلاً قال للنبيﷺ: أوصني, قال: "لا تغضب”, فردد مراراً قال: "لا تغضب”. (رواه البخاري،الرقم:(6116)
ترجمہ:سیدناابوھریرہtسے مروی ہے،ایک شخص نے نبی ﷺ سے کہا:مجھے وصیت کیجئے،آپﷺ نے فرمایا:غصہ نہ کیاکرو، اس شخص نے کئی بار مزید وصیت کا تقاضاکیا،آپﷺ نے ہربار فرمایا: غصہ نہ کیاکرو۔
غصہ آنا ایک جبلی اورفطری امرہے،جس سے انسان کا باز آجانا ناممکنات میں سے ہے،اس لئے امام خطابی aنے اس حدیث سے یہ مراد لیا ہے کہ ایسے اسباب سے بچوجوتمہیں غصہ میں مبتلاکردیں۔
وصیت طلب کرنے والے اس شخص کا نام بیان نہیں ہوا،لیکن نام کے ابہام سے حدیث کے حکم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی،نہ ہی نام کا ذکرہونا ضروری ہے، البتہ اگر نام مذکورہوتو یہ علم میں اضافہ شمار ہوگا، اس طرح کے مبہمات دیگرکئی احادیث میں بھی وارد ہیں۔
شخصِ مذکور کا نبیﷺ سے وصیت کا تقاضاکرنا، صحابہ کرام کے شوقِ طلب کی عمدہ مثال ہے،جبکہ وصیت کے اس تقاضے کو باربار دہرانا مزید واضح کرتا ہے کہ وہ علم نافع کی تحصیل میں کس قدر راغب وحریص تھے،اور یہ بات معلوم ہے کہ صحابہ کرام کا سوال کرنا،محض علمی اضافہ کے لئے نہیں ہوتاتھا،بلکہ عمل کے لئے ہوتاتھا؛کیونکہ حصولِ علم منزل نہیں ہے بلکہ اس علم پر عمل اصل منزل ہے۔
آج کی روش اس سے بالکل برعکس ہے،آج لوگ سوال تو کرتے ہیں،مگر عمل کے لئے نہیں بلکہ معلومات میں اضافے کا چسکا پورا کرنے کیلئے۔(واللہ المستعان)
واضح ہو کہ وصیت سے مراد کسی شخص کے لئے کسی اہم کام کی بابت عہدوپیمان دیناہے،فوت ہونے والے شخص کی اپنے مالی امور میں ہدایات جاری کرنا بھی وصیت کہلاتاہے،جسے شریعت نے ایک تہائی مال کی حد بندی کے ساتھ مقید فرمایاہے۔
رسول اللہ ﷺ نے وصیت کاتقاضا کرنےو الے کو غصہ نہ کرنے کی تلقین فرمائی،غضب ایک کیفیت کانام ہے،جودل کے خون کے جوش مارنے کے بسبب پیداہوتی ہے،اکثر اس کامقصد طلبِ انتقام ہوتا ہے،یہ کیفیت انتہائی مذموم ہے،لیکن اگر دین یاحق کے معاملے میں غضب ابھرے تو یہ انتہائی محمودومستحسن ہوگا۔
اللہ تعالیٰ بھی صفتِ غضب سے متصف ہے،اور اس کاغضب اسی قبیل سے ہے،یعنی دین اورحق کے معاملے میں،بلکہ مخلوقات کاغضب اللہ تعالیٰ کے غضب کا مقابلہ نہیں کرسکتا،اس کی تمام صفات،صفاتِ کمال ہیں،جن میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں۔
حق کے علاوہ آنے والاغضب قابلِ مذمت ہے،جس سے رسول اللہ ﷺنے باز رہنے کی وصیت فرمائی،جس صحابی کو یہ نصیحت فرمائی اس کا کہنا ہے (ففکرت حین قال النبی ﷺ ماقال فاذا الغضب یجمع الشرکلہ)یعنی:میں نے رسول اللہ ﷺ کی بار بار غضب نہ کرنے کی وصیت پرغورکیا تومجھ پر یہ عیاں ہوا کہ غضب میں تو ہر شر مجتمع ہے۔(مسنداحمد۵؍۳۳۷)
لہذا غصہ نہ کرنا انتہائی مستحسن اقدام شمارہوتاہے،جبکہ غصہ آنے پر اسے پی جانا تقویٰ کی علامت ہے:
[وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۝۰ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ۝۱۳۳ۙالَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ۝۰ۭ وَاللہُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ۝۱۳۴ۚ وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ۝۰۠ وَمَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللہُ۝۰ۣ۠ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ۝۱۳۵ ](آل عمران:۱۴۳تا۱۴۵)
ترجمہ:اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں، اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں۔
رسول اللہﷺنے بھی غصہ کنڑول کرنے والوں کی بڑی تعریف وتوصیف فرمائی ہے:
عن أبي هريرة- رضي الله عنه- أنّه قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم:«ليس الشّديد بالصّرعة، إنّما الشّديد الّذي يملك نفسه عند الغضب»
( البخاري،الرقم(6114) ومسلم،الرقم:2609 .)
یعنی:ابوھریرہtسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کوبچھاڑدے،بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر کنڑول کرلے۔
ہمارا یہ مضمون ماہِ صیام میں پڑھاجائے گا،روزہ داروں کیلئے غصہ کو کنڑول کرنے کی خاص تاکید وفضیلت وارد ہے:
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ :إذا کان یوم صوم أحدکم فلایرفث ولایصخب، فإن سابہ أحد أو قاتلہ فلیقل إنی صائم.
(بخاری ومسلم)
یعنی:ابوھریرہtسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:جس دن آپ کاروزہ ہواس دن فسق وفجور کے ارتکاب اور چیخنے چلانے سے گریزکرو،اگرکوئی شخٓص آپ کو گالی دے یا آپ سے لڑنے پر آمادہ ہوتو کہہ دو:میںتوروزےسے ہوں۔
رسول اللہ ﷺنے انسان کے غضبناک ہونے کی صورت میں کچھ ہدایات جاری فرمائی ہیں ،جنہیں بروئے کارلاکر غصہ کو بآسانی ٹھنڈا کیاجاسکتاہے،تاکہ مندرجہ بالافضائل سمیٹ سکے:
عن أبي ذرّ- رضي الله عنه- أنّه قال:قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: «إذا غضب أحدكم وهو قائم فليجلس، فإن ذهب عنه الغضب وإلّا فليضطجع» (أبو داود،الرقم:4782)
یعنی:ابوذرtسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آجائے اور وہ کھڑاہوتوفوراً بیٹھ جائے،اگربیٹھ جانے سے غصہ ختم ہوجائے توٹھیک ہے ،ورنہ فوراً لیٹ جائے۔
عن عطيّة (وهو ابن سعد القرظيّ) رضي الله عنه- أنّه قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: «إنّ الغضب من الشّيطان، وإنّ الشّيطان خلق من النّار، وإنّما تطفأ النّار بالماء، فإذا غضب أحدكم فليتوضّأ»
(أبو داود ،الرقم:4784)
یعنی:عطیہ بن سعد القرظیtسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:غصہ شیطان سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیاگیاہے، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے،لہذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آجائے تو فوراً وضوکرلے۔
(عن ابن عبّاس- رضي الله عنهما- أنّه قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: «علّموا ويسّروا ولا تعسّروا، وإذا غضب أحدكم فليسكت» )
(أحمد (1/ 239)
یعنی:عبداللہ بن عباسwسے مروی ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: علم سکھاؤاورآسانیاں فراہم کرواورتنگی پیدا نہ کرو،اور جب تم غضبناک ہوجاؤتوخاموشی اختیار کرلیاکرو۔
ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ غضبناک ہونے کی صورت میں جگہ تبدیل کرنا،کھڑے ہوں توبیٹھ جانا،بیٹھے ہوں تولیٹ جانا،غصہ کو ختم کرنے میں انتہائی نافع ہے،اس کے علاوہ وضوکرنا اور خاموشی اختیار کرلینا بھی انتہائی مفید ہے۔
علاوہ ازیں تعوذ (یعنی :أعوذ باللہ من الشیطان الرجیمپڑھنا) بھی غضب کی کیفیت کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے؛کیونکہ غضب کا محرک شیطانِ لعین ہی ہے،رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو شدید غصہ میں دیکھا ،ارشادفرمایا:(إنی أعلم کلمۃ لوقالھا لذھب عنہ مایجد، لوقال:أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) یعنی: میں ایک ایساکلمہ جانتا ہوں،اگر یہ وہ کلمہ پڑھ لے تو اس کاغضب یکسرختم ہوجائے،کاش یہ شخص (أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)پڑھ لے۔(صحیح بخاری،الرقم:۳۲۸۲صحیح مسلم:۲۶۱۰)
واضح ہو کہ غصہ کرنا اس لئے بھی معیوب ومذموم ہے کہ یہ ضعفِ عقیدہ کاسبب بنتاہے،چنانچہ کسی کی زیادتی یا کسی نقصان وغیرہ پر غصہ کرنا ایمان بالقدر کے منافی ہے ؛کیونکہ آپ کو پہنچنے والاہرنقصان تقدیر میں لکھاہواہے،اگر اس نقصان کو نوشتۂ تقدیر قراردیکر صبرکرلیاجائے اور غصہ کو پی لیاجائے تو یہ قوی ایمان کی علامت ہوگا،نیز اللہ تعالیٰ کی رضاکا موجب ہوگا۔
رسول اللہ ﷺکی سیرتِ طیبہ سے اس قسم کے مواقع پر صبرو عزیمت اختیار کیے رکھنے کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں،وہ مشہور واقعہ اس پر شاہدِ عدل ہے جس میں ایک اعرابی نے آپﷺ کی گردن میں چادر ڈال دی اور بل دینا شروع کردیا ،رسول اللہ ﷺکی آنکھیں باہر کو آگئیں اور اس کھردری چادر نے آپ کی گردن پہ نشان ڈال دیئے، اس اعرابی نے رسول اللہ ﷺسے مالی مدد کا تقاضا کیا ۔
رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف یہ کہ اپناغصہ کنڑول کرلیا بلکہ اسے معاف بھی کردیا،بلکہ اس کے دونوں اونٹوں پر جواورکھجوروں کے بڑے بڑے بورے لدوادیئے۔(سنن ابی داؤد،الرقم:۴۷۷۵)
ہم اپنی گفتگوکااختتام حافظ ابن قیم کے ایک قول سے کرتے ہیں:
فرماتے ہیں:
قال ابن القيّم- رحمه الله تعالى-:«دخل النّاس النّار من ثلاثة أبواب: «باب شبهة أورثت شكّا في دين الله، وباب شهوة أورثت تقديم الهوى على طاعته ومرضاته وباب غضب أورث العدوان على خلقه»
(الفوائد (59) .
یعنی:لوگ جہنم میں تین دروازوں سے داخل ہوں گے:
ایک شبہات کادروازہ،شبہات دین میں شک پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
دوسرا:شہوتوں کادروازہ ،جن کی وجہ سے لوگ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خوشنودی پر اپنی رائے مقدم کربیٹھتے ہیں۔
تیسرا:غضب کادروازہ،جو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کے ساتھ عداوتوں کو جنم دیتاہے۔(واللہ المستعان)
(جاری ہے)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

روزہ کے چند ضروری احکام

(۱)  روزہ کی فرضیت کی ابتداء  ماہِ رمضان کے روزے ، رمضان کا مہینہ شروع …

جواب دیجئے