Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ ستمبر » غیر اللہ سے دُعا اور چندقرآنی سوالات قسط:3

غیر اللہ سے دُعا اور چندقرآنی سوالات قسط:3

ابوالاسجد محمد صدیق رضا

اب سعیدی صاحب کی تفسیر بھی ملاحظہ کرلیجئے، لکھتے ہیں:
’’اور اب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں معبودوں سےمراد ان کے وہ معبود ہوں جوذوی العقول ہیں جیسے حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر اور ملائکہ اور وہ قیامت کے دن مشرکین کی عبادت سے برأت کااظہار کریں گے ،قرآن مجید میں ہے:
[وَاِذْ قَالَ اللہُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــہَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ۝۰ۤ بِحَقٍّ۝۰ۭ۬ ] اور اس وقت کو یاد کیجئے جب اللہ فرمائے گا:اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے یہ کہاتھا کہ تم اللہ کوچھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو، عیسیٰ کہیں گے تو پاک ہے میرے لئے یہ جائز نہ تھا کہ میں وہ بات کہتا جوحق نہیں ہے۔‘‘(تبیان القرآن667/9)
جب دونوں بریلوی مفسرین کو یہ تسلیم ہے کہ سورۂ فاطر کی یہ آیات اللہ کے نیک بندوں،مقربین وصالحین کی بندگی کرنے والوں کے متعلق بھی ہیں توخود ہی غور کیجئے اللہ نے ان آیات میں کیافرمایا ہے:
[وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ۝۱۳ۭ اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ۝۰ۚ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ۝۰ۭ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ۝۰ۭ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ۝۱۴ۧ ](فاطر:۱۳،۱۴)
’’تم اللہ کے سوا جن کو(اپنی مدد کے لئے) پکارتے ہو،وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے(بھی) مالک نہیں۔اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری التجا کو نہیں سن سکیں گے اور اگر(بالفرض) سن بھی لیں تو وہ تمہاری حاجت روائی نہ کرسکیں گے(بلکہ) قیامت کےدن تمہارےشرک کا انکار کردیں گے….‘‘
کیا ان آیات سے واضح نہیں ہوتا کہ اللہ کےمحبوب اور پیارے بندے بھی کسی کی دعا نہیں سن سکتے۔ اگربالفرض سن بھی لیں تو نفع نہیں پہنچاسکتے اور قیامت کے دن لوگوں کے اس شرک کاانکار کردیں گے، اپنی برأت کا اعلان فرمادیں گے۔
غیراللہ سے دعاکا شرک ہونا، اس آیت سے ثابت ہے۔ اسی طرح ان آیات سے یہ بات بھی غلط ثابت ہوجاتی جس کی تعلیم دیتے ہوئے سعیدی صاحب نےلکھا:
’’زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اولیاء اللہ سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ ہماری حاجت روائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکردیں‘‘
(تبیان القرآن187/1)
زندہ اولیاء اللہ بلکہ ہر مسلم سے دعا کی درخواست میں کسی کو اختلاف نہیں، لیکن سعیدی صاحب نے جس تسلسل میں یہ بات لکھی ہے اس سے ان کی تفسیر کے دیگربعض مقامات سے واضح ہوتا ہے کہ موصوف’’فوت شدہ ‘‘اولیائے کرام سے بھی دعا کی درخواست کے قائل ہیں۔ اسی طرح سرفراز خان صفدر صاحب نے لکھا:
’’حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب سابق مفتی دارالعلوم دیوبند وحال مفتی اعظم پاکستان لکھتے ہیں: اسی طرح غیر مادی اسباب کے ذریعہ کسی نبی یاولی سے دعاکرنے کی مددمانگنا یاان کا وسیلہ دے کر براہِ راست اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا روایاتِ حدیث اور اشاراتِ قرآن سے اس کا بھی جواز ثابت ہے……(معارف القرآن42/1)(تسکین الصدور،ص:415)
اسی کتاب(ص:380,381)میں سرفراز صاحب نے ایسی درخواست کو جائز نقل کیا اور تردید نہیں کی، جبکہ اللہ تعالیٰ توفرماتاہے:
[ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ۝۰ۭ ]’’اگر وہ سن لیں توتمہاری التجا قبول نہیں کرسکتے۔‘‘
لہذا دیوبندیوں اور بریلویوں کا کسی فوت شدہ بزرگ سے یہ کہنا کہ حضرت! آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکیجئے اورپھر یہ سمجھنا کہ وہ سن سکتے ہیں اور اللہ سے دعا بھی کرسکتے ہیں،اس آیت کے خلاف ہے، کیونکہ یہ عقیدہ رکھنا کہ اگر ان فوت شدہ بزرگوں نے سن لیا تو وہ دعا کردیں گے یا کرسکتے ہیں تو اس کامطلب یہ ہوا کہ ان فوت شدہ بزرگوں نے التجا ودرخواست قبول کرلی یا کرسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس کی نفی فرماتاہے۔ ایک طرف سرفراز اور سعیدی صاحبان کا یہ نظریہ ہے تو دوسری طرف سرفراز صاحب ہی لکھتے ہیں :’’قاضی صاحبؒ نے دوسرا مطلب اس آیت کریمہ کا یہ بیان فرمایا ہے کہ نفی اس سماع کی ہے جس پر کوئی نتیجہ ثمرہ اور فائدہ مرتب ہو اور وہی سماع ہوسکتا ہے جو نافع اور مفید ہو اور مرنے کے بعد سماع کاکیافائدہ‘‘(تسکین الصدور،ص:393)
اپنی ایک دوسری کتاب میں اسی آیت :[اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى]کا جواب دیتے ہوئے لکھا:’’الجواب: اس آیت کریمہ کی دوتفسیریں مشہور ہیں پہلی تفسیر یہ ہے کہ اس میں سماعِ نافع کی نفی ہے‘‘(سماع موتی ،ص:279)
اور سعیدی صاحب نے لکھا:
’’عام طور پر مردوں کا یہی قاعدہ ہے کہ وہ کسی بات کو سن کرغور وفکر نہیں کرتے اور نہ کسی پیغام کو قبول کرتے ہیں‘‘
(تبیان القرآن670/9)
مزید لکھتے ہیں:’’بہرحال اس آیت سے مردوں کے مطلقاً سننے کی نفی نہیں ہوتی بلکہ کسی بات کو سن کر اس پرغور وفکر کرنے اور کسی پیغام کو قبول کرنے کی نفی ہوتی ہے‘‘(حوالہ بالہ)
سردست اس پربحث نہیں کہ آیت:[اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى]اور آیت:[وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ۝۲۲] سےکیا بات ثابت ہوتی ہے اور کیا نہیں؟ عرض کرنے کامقصد صرف یہ ہے کہ جب سعیدی صاحب کو بھی یہ تسلیم ہے کہ’’پیغام قبول کرنے کی نفی ہوتی ہے‘‘ تو پھر قبر والوں سے،فوت شدہ سے یہ درخواست کہ آپ دعا کردیجئے عین وہی چیز ہے جس کی یہ نفی کرتی ہے!!
غیراللہ سے دعامانگنے کے شرک ہونے کاثبوت حدیث سے بھی ملتا ہے،جیسا کہ ہم سیدنانعمان بن بشیرtسے مروی حدیث نقل کر آئے ہیں کہ ’’دعا عبادت ہے‘‘(سنن ابی داؤد:1479وسندہ صحیح)
جب دعا عبادت ہے تو اللہ کے علاوہ ہر ایک کی عبادت شرک ہے۔ اس حدیث سے چھٹکارا پانے کے لئے یہ لوگ کس طرح کے چٹکلے چھوڑتے ہیں کچھ تذکرہ تو آپ پڑھ چکے ہیں اور مزید کاذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں،ان کے’’علامہ‘‘ غلام نصیر الدین سیالوی صاحب نے لکھا: ’’وہابی حضرات کایہ شبہ ہے کہ حدیث پاک کےاندر آتا ہے[الدعاءھو العبادۃ]اور [الدعاء مخ العبادۃ]دعا عین عبادت ہے اور دعا عبادت کا مغز ہے۔
اس کے جواب میں ہم گزارش کرتے ہیں اگر اس حدیث پاک کا یہ مطلب لیاجائے کہ کسی کوپکارنا اس کی عبادت بن جاتا ہے تو ان آیات کریمہ کا کیامطلب ہوگا جن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یایھاالنبی، یایھاالرسول، یایھاالمزمل، یایھا المدثر، یسین، یایھاالناس، یایھاالذین آمنوا، یااھل الکتاب قد جاءکم رسولنا‘‘
(ندائے یارسول اللہﷺ،ص:172)
جواب: آخر کون اس حدیث کا یہ مطلب لیتا ہے کہ’’کسی کوپکارنااس کی عبادت بن جاتاہے‘‘ہم تو کہتےہیں کہ کسی سے دعامانگنا، عزت، حشمت، اولاد مانگنا اور ان کے لئے فریادیں کرنا عبادت ہے۔ اور حدیث میں یہی بات ہے کہ’’دعا عین عبادت ہے‘‘اگر حدیث پر ایمان کامل ہے تو کہنے کی گنجائش نہیں پائیں گے کہ ’’دعا عبادت نہیں ہے‘‘
باقی جناب نے خلط مبحث فرماکر قرآن مجید سےمختلف آیات کریمہ کے کچھ حصے نقل فرمائے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ یا اہل کتاب کو پکارا ہے۔ ہرپکار توشرک ہے ہی نہیں، اگر کوئی کہتا تب بھی یہ تمام مثالیں اس کے رد میں پیش کرنا غلط ٹھہرتا ،چونکہ ان میں اللہ تعالیٰ کے پکارنے کاذکر ہے۔ احکام بندوں کےلئے ہیں اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں۔
اس کے بعد سیالوی صاحب نے قرآن مجید کی مختلف آیات کہ جن میں کسی کوپکارنے کا ذکر ہے نقل کی ہیں اور باربارپوچھا:
’’اگر ہرپکارعبادت ہے تو کیا اللہ نے نبی پاک ﷺ کو کافروں کی عبادت کرنے کاحکم…. ‘‘لوگوں کی عبادت کاحکم دیا…. ‘‘ جب نبی پاک ﷺ تمہاری عبادت کریں‘‘(ص:72تا75)
جواب: نعوذباللہ ثم نعوذباللہ ،یہ تو کسی نے بھی نہیں کہا کہ’’ہرپکار عبادت ہے‘‘ بحث کا یہ انداز عجیب ہے کہ اپنے ذہن سے ایک اعتراض یااشکال گھڑ کرمخالفین کی طرف منسوب کرکے اس کے جوابات دیے جائیں۔ بہرحال سیالوی صاحب نے جتنی بھی مثالیں دی ہیں باستثنائے واحد ہر ایک میںاپنے قریب کےلوگوں کوپکارنے کا ذکر وثبوت ہے جس کے ہم انکاری نہیں۔ ایک مثال بقرہ:(260)سے دی ہےتو وہ سیدنا ابراہیمuکے لئے اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے، یہ ایک خاص معاملہ ہے اس کایہ مطلب قطعاً نہیں کہ مردہ جانوروں اور پرندوں کوپکاراجائے۔
سیالوی صاحب نے ان مثالوں کے بعد لکھا:
’’ان آیات کے رو سے نتیجہ یہ نکلا کہ حدیث پاک[الدعاءھو العبادۃ]کامطلب یہ ہے کہ کسی کو معبود سمجھ کر پکارنا اس کی عبادت ہے‘‘
(ص:175)
جواب: سیالوی صاحب نے جتنی بھی آیات پیش کی ہیں ان میں پکارنے کاذکروثبوت توضرور ہے مگر ان سے یہ نتیجہ قطعاً برآمد نہیں ہوتا کہ حدیث پاک[الدعاء ھوالعبادۃ]کا یہ مطلب ہےکہ کسی کو معبود سمجھ کر پکارنا عبادت ہے۔ حدیث توواضح ہے اور اگرغیراللہ سے دعامانگی گئی خواہ اسے معبود سمجھے یہ نہ سمجھے تو یہ اس کی بھی عین عبادت ہے، لیکن دین اسلام میں یہ عبادت مبغوض ومذموم ہے۔ اس حدیث کاتقاضا ہے کہ دعا جیسی عبادت کو اللہ ہی کے لئے مختص رکھاجائے۔
سعیدی صاحب نے مراغی پر کچھ رد کے بعد مزیدلکھا:’’ہم نے ان پڑھ عوام اور جہلاء کو اولیاء کے مزارات پربارہاسجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے،جو منع کرنے کے باوجود بازنہیں آتے ،اسی طرح ان کومزارات پرصاحب مزار کی نذر اور منت مانتے ہوئے دیکھا ہے حالانکہ سجدہ عبادت ہو یاسجدہ تعظیمی اللہ کے غیر کے لئے جائز نہیں‘‘
(تبیان186.1)
اس کےبعد سعیدی صاحب نے جولکھا وہ اپنی شرح صحیح مسلم میں زیادہ وضاحت سے لکھا ہے تو شرح صحیح مسلم سے بھی اقتباس ملاحظہ کیجئے، لکھتے ہیں:
’’مصیبت کے وقت کٹرمشرکین کا اللہ تعالیٰ کی نذرماننا:جو لوگ اپنی حاجات میں اللہ سے دعاکرنے کےبجائے اولیاء اللہ کو پکارتے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اولیاءسے حاجت روائی کی درخواست کرتے ہیں انہیں ان آیات پر غور کرناچاہئے:
[ھُوَالَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ۝۰ۚ وَجَرَيْنَ بِہِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَۃٍ وَّفَرِحُوْا بِہَا جَاۗءَتْہَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَاۗءَھُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اُحِيْطَ بِہِمْ۝۰ۙ دَعَوُا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝۰ۥۚ لَىِٕنْ اَنْجَيْـتَنَا مِنْ ہٰذِہٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۝۲۲ فَلَمَّآ اَنْجٰىھُمْ اِذَا ھُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ۝۰ۭ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ۝۰ۙ ] (یونس:۲۲،۲۳)
وہی ہےجو تم کوخشک زمین اور سمندر میں چلاتا ہے،یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوئے اور موافق ہوا کے ساتھ وہ کشتیاں چلیں اور وہ(اس سفر میں)شادمان تھےکہ اچانک ان کشتیوں کو ایک تیز آندھی نے آلیااور سمندر کی موجوں نے ان کو ہرطرف سے گھیرلیا اور وہ سمجھے کہ ہم طوفان میں گھرگئے ہیں، اس وقت انہوںنے اللہ کوپکارااور آں حالیکہ وہ خالص اسی کے عبادت گزار تھے(اور کہا) اگر تو نے ہمیں اس(مصیبت) سےنجات دیدی توہم ضرور تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیں گے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اس (طوفان) سےبچالیا تو وہ زمین میں ناحق بغاوت کرنے لگے، اے لوگو! تمہاری بغاوت تمہاری جانوں پر ضرور ہے…..
ان آیات سے معلوم ہوا کہ کٹرسےکٹر مشرک اورپکا بت پرست بھی سخت مصیبت میں اللہ کوپکارتاتھا، اللہ سے دعا کرتا تھا اور اس کی نذر مانتا تھا۔ اگر ہم مسلمان کہلاکر اپنی حاجات میں اللہ کوچھوڑ کر اولیاءاللہ کی نذر مانیں تو کس قدر افسوسناک اورلائقِ مذمت ہے‘‘
(شرح صحیح مسلم543/40،تبیان القرآن186/1)
سعیدی صاحب نے مزید لکھا:
’’امام رازی سورۃ یونس آیت:۱۵کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
ان کافروں نے انبیاء oاور اولیاء کرام کی صورتوں کے بت بنالئے تھے اور ان کا یہ زعم تھا کہ جب وہ ان بتوں کی عبادت کریں گے تو وہ بت اللہ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے، اور اسی زمانہ میں اس کی نظیر یہ ہے کہ بہت لوگ اولیاء اللہ کی قبروں کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ جب وہ ان قبروں کی تعظیم کریں گے تو وہ اللہ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے۔(تفسیر کبیر۴؍۵۵۶مطبوعہ دار الفکربیروت ۱۳۹۸ھ)(تبیان 187/1)
سعیدی صاحب کا کہنا ہے کہ’’کٹر سے کٹر مشرک بھی سخت مصیبت میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کوپکارتے تھے ہم مسلمان کہلاکر بھی اپنی حاجات میں اللہ کو چھوڑ کر اولیاءاللہ کو پکاریں۔‘‘توعرض ہے کہ ان کےہم مسلک لوگ ہیں جو اس قسم کی آیات سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے غیراللہ سے دعائیں مانگتے ہیں،رسول اللہ ﷺ اور اولیائےکرام سے دعائیں مانگتے ہیں، کوئی کہتا ہے:
’’یارسول اللہ انظر حالنایاحبیب اللہ اسمع قالنا‘‘ یعنی اے اللہ کے رسول! ہمارے حال پر نظر کیجئے۔ اے اللہ کے حبیب!ہماری فریاد سنیئے۔
پہلاسوال:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ۝۰ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝۰ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۝۶۲ۭ ] ۱:احمد سعید کاظمی بریلوی صاحب نے اس کاترجمہ لکھا:
’’بلکہ(بتاؤ)کون قبول کرتاہے،بیقرار کی فریاد جب وہ اس کوپکارتا ہے اور (کون) تکلیف دور کرتا ہے اور تمہیں (پہلے لوگوں کا) زمین پرنائب بناتاہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟تم لوگ بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو‘‘(البیان)
۲:پیرکرم شاہ الازہری صاحب نے اس آیت کاترجمہ اس طرح کیا:
’’بھلاکون قبول کرتا ہے ایک بیقرار کی فریادجب وہ اسے پکارتا ہے اور (کون) دور کرتا ہے تکلیف کواور(کس نے) بنایا ہے تمہیں زمین میں(اگلوںکا)خلیفہ؟ کیا کوئی اورخدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ؟ تم بہت کم غور وفکر کرتے ہو۔‘‘(ضیاء القرآن 454/3)
پھر اس آیت کی تفسیر میں لکھا:’’ہر شخص خواہ وہ کتنا ہی ذی جاہ وذی مال ہو اس پر زندگی میں کوئی نہ کوئی افتاد ایسی پڑتی ہے جب اس کی ذاتی قابلیتیں،ذاتی وسائل، اس کے دوست احباب سب بے بس ہوکر رہ جاتے ہیں۔اس کا وہ خود اعتراف بھی کرتا ہے کہ اس گردابِ ہلاکت سے اسے اس کی کوئی تدبیر کوئی حیلہ بچانہیں سکتا۔اس وقت اس کی نگاہ اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھتی ہے اور وہ یقین کرتا ہے کہ اب اس کی چارہ سازی کے بغیر نجات نا ممکن ہے۔کیونکہ اس قسم کے حالات سے ہر شاہ وگدا، ہرامیروفقیر،ہرعالم وجاہل کوواسطہ پڑتاہے۔
اس لئے ان سے سوال کیاجارہا ہے کہ اس وقت تو تم بھی اعتراف کرتے ہو کہ تمہارے بت،یہ معبودانِ باطل تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتے۔اللہ تعالیٰ ہے جو طوفان میں گھری ہوئی تمہاری کشتی کو سلامتی سے کنارے لگادے تو پھر تم کیوں نصیحت قبول نہیں کرتے ا ور کیوں اس کی توحید پرپختہ ایمان نہیں لاتے حضور اکرم ﷺ نے اپنے غلاموں کوحالتِ اضطرار میں جس طرح اپنے مولاکریم کے سامنے دعا کرنے کا سبق دیا وہ تحریر ہے تاکہ سب غلامانِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا اس سے استفادہ کرسکیں، عن ابی بکرۃ قال رسول اللہ ﷺ فی دعاء المضطر:اللھم رحمتک ارجوا فلا تکلنی الی نفسی طرفہ عین واصلح لی شأنی کلہ لاالٰہ إلاأنت(قرطبی عن ابی داؤد الطیالسی) اے اللہ میں صرف تیری رحمت کاامیدوار ہوں۔ مجھے آنکھ جھپکنے کی دیر بھی میرے نفس کے حوالہ نہ کر میرے کام درست فرمادے۔تیرے بغیر کوئی معبود نہیں۔‘‘(ضیاء القرآن 455/3)
ازہری صاحب کی اس تفسیر سے معلوم ہوتا کہ قرآن مجید کی اس آیت میں ایک سوال ہےکہ مصیبتوں سے نجات دینے والاکون ہے اور اس کا جواب بھی کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور ان کے مطابق بھی رسول اللہ ﷺ نے پریشانی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی رجوع اور اللہ سے دعا کی تعلیم دی۔
۳: جناب غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب نے لکھا:
’’(بتاؤ) جب بے قرار اس کوپکارتا ہے تو اس کی دعا کون قبول کرتا ہے اور کون تکلیف کو دور کرتا ہے اور تم کو زمین پرپہلوں کاقائم مقام بناتاہے!کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے!تم لوگ بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو‘‘(تبیان القرآن706/8)
ہم نے سب ترجمے اس طبقہ کے علماء سےنقل کیے جو غیراللہ سے دعا کے قائل وفاعل ہیں، ان ترجموں سے بھی یہ بات بالکل واضح ہے کہ مندرجہ بالاآیات درحقیقت ایک سوال ہے کہ’’(بتاؤ)کون ہے جو بے قرار کی دعاقبول کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے….کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے؟‘‘
اس سوال کا صحیح اور درست جواب کیا ہے؟یقیناً اس کا درست جواب ہے:’لاالٰہ الااللہ‘‘ دین اسلام کو ماننے والانبیﷺ کا ہر ہر امتی یہ کلمہ پڑھتا ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس بات کی گواہی دینا اسلام کے بنیادی ارکان میں سے اولین واہم ترین رکن ہے۔خود ہی سوچیے لاالٰہ الااللہ کے اقرار کےبعد یہ کیسے کہاجاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ اللہ کےپیارے ومقرب بندے بھی مشکل کشا،حاجت روا اور فریاد رساہیں سب کی مشکل کشائی کرسکتے ہیں؟ ایسا کہنے کا مطلب یہی ہوگا کہ زبان سے تو کہہ دیا:’’لاالٰہ الااللہ‘‘ مگر اس کے مفہوم سے واقف نہ ہوسکا۔
(جاری ہے)

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے