Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ ستمبر » فتنۂ غامدیت قسط:۱۵

فتنۂ غامدیت قسط:۱۵

حافظ صلاح الدین یوسف
مشیر:وفاقی شرعی عدالت پاکستان

ایک اور ستم ظریفی
مذکورہ اقتباس میںعمارصاحب نے ایک اور ستم ظریفی یہ کی ہے کہ سورۃ النور کی آیت [وَلَا تُكْرِہُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ…الآیۃ] کا مصداق بھی (نعوذباللہ) عہدرسالت کے ان مسلمانوں (صحابہ) کو قرار دے دیا ہے جنہوں نے ان کے زعم فاسد میں زناکاری کے اڈے کھول رکھے تھے، اور جن کو وہ غنڈہ،بدمعاش اور قحبہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اس آیت سے وہ مزید یہ باور کرارہےہیں کہ یہ مسلمان اپنی مملوکہ لونڈیوں سے بھی زناکاری کرواکر پیسے کماتے تھے۔ یہ گھناؤنا الزام تو آج تک دشمنان صحابہ میں سے بھی کسی نے صحابہ پر نہیں لگایا ہوگا۔ کاش
ع کرتا کوئی اس گستاخ کامنہ بند
حالانکہ اس آیت کا تعلق اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت کے اہل عرب سے ،یا اسلام کے بعد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سے ہے جو اپنی لونڈیوں سےپیسوں کی خاطر ان کو مجبور کرکے زنا کاپیشہ کروایا کرتا تھا، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت کے حوالے سے یہ بات گزرچکی ہے۔ اسلام نے ان کو اس سے منع کیا۔ تفسیر’’احسن البیان ‘‘ میں ہے:
’’زمانۂ جاہلیت میں لوگ محض دنیوی مال کے لئے اپنی لونڈیوں کو بدکاری پرمجبور کرتے تھے، چنانچہ خواہی نخواہی انہیں یہ داغ ذلت برداشت کرناپڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسا کرنے سے منع فرمادیا۔ ’’اِنْ اَرَدْنَ‘‘ غالب احوال کے اعتبار سے ہے، ورنہ مقصد یہ نہیں ہے کہ اگر وہ بدکاری کو پسند کریں تو پھر تم ان سے یہ کام کروالیاکرو۔ بلکہ حکم دینے کایہ مقصد ہے کہ لونڈیوں سے،دنیا کے تھوڑے سے مال کے لئے یہ کام مت کرواؤ۔اس لئے کہ اس طرح کی کمائی ہی حرام ہے۔‘‘
لعان اور تحقیق نسب کے جدید ذرائع
اس عنوان کے تحت عمار صاحب نے تحقیق نسب کے جدیدذرائع (ڈی، این ،اے ٹیسٹ وغیرہ) کو چارگواہوں کے قائم مقام قرار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ بھی دراصل غامدی صاحب ہی کے موقف کی ہم نوائی ہے۔ غامدی صاحب حدزنا کے ثبوت کے لئے چار مسلمان گواہوں کی عینی شہادت کوضروری نہیں سمجھتے،بلکہ ان کے نزدیک بغیرگواہوں کے قرائن سےبھی زنا کااثبات ہوسکتا ہے۔ قرآن نے ان کے بقول اس کے لئے چار گواہ ضروری قرار نہیں دیے،حالانکہ قرآن کریم میں تین مقامات پر چار گواہوں کوضروری قرار دیاگیاہے، ایک سورۂ نساء کی آیت ۱۵ میں۔د وسرے، سورۃ النور،آیت ۴میں۔تیسرے ،سورۃ النور، آیت ۱۳میں ان تینوں آیتوں میں ثبوت زنا کے لئےچار عینی گواہوں کے مطالبے کی صراحت ہے۔
چارمسلمان مردوں کی گواہی کے ضروری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بغیر نہ حدزنا کااثبات ہوسکتا ہے۔اور نہ نسب کا۔
لیکن غامدی صاحب کی تقلیداور ان کی وکالت صفائی میں عمار صاحب نے غامدی ہی کے تال سُر میں راگ الاپاہے:
’’اگرشوہر اپنی بیوی پربدکاری کاالزام لگائے توشریعت نے اسے چار گواہ پیش کرنے کا پابند نہیں کیا ہے۔(الشریعۃ،ص:۱۸۳)
یہ کون سی شریعت ہے جس کے حوالے سے عمار صاحب یہ دعویٰ کررہے ہیں ؟شریعتِ اسلامیہ توالزام زنا کے اثبات کے لئے چار گواہوں کوضروری قرار دیتی ہے۔ اور شریعتِ اسلامیہ نام ہے قرآن واحادیث صحیحہ کا۔قرآن میں تین مقامات پر اس کاذکر ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ قرآن میں توعام الزام لگانے والوں کے لئے یہ حکم ہے، خاوند اگر الزام لگائے تو اس کے لئے اس شرط کی پابندی نہیں ہے تو یہ قرآن فہمی بھی قابل ماتم ہے۔قرآن کے الفاظ پرغورفرمائیں:
[وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَيْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْكُمْ۝۰ۚ ](النساء:۱۴)
’’تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کاارتکاب کرے تو تم اپنے(مسلمان مردوں میں سے) چار گواہ پیش کرو‘‘
کیا’’اپنی عورتوں ‘‘میں ایک مسلمان کی اپنی وہ بیوی شامل نہیں ہوگی جو بے حیائی (فتنہ) کی مرتکب ہوگی؟پھر شوہر کے لئے بھی چار گواہ کی پابندی کیوں نہیں ہوگی؟
دوسری آیت کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
[وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَاۗءَ فَاجْلِدُوْہُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَۃً ](النور:۴)
’’وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر (زناکا)بہتان لگائیں، پھر چارگواہ پیش نہ کریں انہیں اسی کوڑے مارو(قذف کی سزادو)‘‘
کیا،محصنات،(پاک دامن عورتوں) میں ایک مسلمان کی اپنی بیوی شامل نہیں ہے، پھر اس کے لئے چارگواہوں کی پابندی کیوں ضروری نہیں؟
قرآن کریم کی ان واضح آیات کے بعد حدیث ملاحظہ ہو:
حضرت سعد بن عبادہtبیان فرماتے ہیں ،میںنے سوال کیا:
یارسول اللہ! ان وجدت مع امرأتی رجلا (أ) امھلہ حتی آتی باربعۃ شھداء.
’’اے اللہ کے رسول!اگر میں (اپنی آنکھوں سے) اپنی بیوی کے پاس کسی آدمی کوپالوں تو کیا میں اس شخص کو اس وقت تک مہلت دوں(چھوڑے رکھوں)جب تک میں چار گواہ نہ لے آؤں؟‘‘
رسول اللہ ﷺ نے جواب میں فرمایا:
نعم۔ہاں۔(صحیح مسلم،الحدود،اللعان،حدیث:۱۴۹۸بہ ترقیم فؤاد عبدالباقی)
اس سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر بھی اپنی بیوی پر زنا کا الزام عائد کرے گا،یا بہ چشم خود بھی ملاحظہ کرے گا، تب بھی اس کو اس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر وہ چاہتاہے کہ وہ اپنی بدچلن بیوی کوسزا دلواکر کیفرکردار تک پہنچائے تو عدالت میں چار گواہ پیش کیے بغیر وہ ایسا نہیں کرسکتا۔
لعان کی صورت
البتہ شوہر کےلئے، چونکہ بیوی کی یہ نازیباحرکت دیکھ لینے کے بعد،برداشت کرنا نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔لیکن چارگواہ بھی پیش کرنا کارے داردہے،جب کہ چار گواہ پیش نہ کرنے کی صورت میں زنا کا الزام لگانے والے کے لئے قذف کی حد(اسی کوڑے) ہے۔ تاہم شریعت نے اس کاحل یہ پیش کیا ہےکہ وہ اپنی بیوی سے لعان کرلے۔ اس صورت میں دونوں کےد رمیان ہمیشہ کے لئے جدائی ہوجائے گی اور دونوں دنیوی سزا سے بچ جائیں گے، خاوند کوقذف وتہمت، کی اورعورت کو زنا کی حد نہیں لگے گی۔
البتہ عام لوگوں کے لئے شریعت کاقانون یہ ہے کہ جو اپنی بیوی کے علاوہ کسی مرد یا عورت پرزنا کا الزام عائد کرتا ہے اور وہ چار گواہ پیش کرنے سےقاصر رہتا ہےتوالزام لگانے والاایک ہو یا ایک سے زیادہ دو یاتین ہوں(چار پورے نہ ہوں) تو سب قذف کی سزا(اسی، اسی کوڑے)کےمستحق ہوں گے۔ چنانچہ حضرت عمرtکےد ورِ خلافت میں حضرت مغیرہ بن شعبہ،پر زنا کا الزام لگایا گیا اور الزام لگانے والوں نےچار گواہ بھی پیش کردیےلیکن تین گواہوں نے گواہی دے دی، چوتھے نے صراحۃً زناکاری کی گواہی دینے سے انکار کردیا، صرف یہ کہا: میں نے امرقبیح تو ضرور دیکھالیکن اصل کام ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ حضرت عمرنے اللہ اکبر کہا اور اللہ کی حمدبیان کی(کہ اللہ نے حضرت مغیرہ کو زنا کی سزا سے بچالیا)اور باقی تینوں گواہوں پر قذف کی حد جاری کی۔(ارواء الغلیل،۸؍۲۰۹۲۸شیخ البانی نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے)
لعان کے بعد بچہ صحیح النسب نہیں ماناجائے گا
لعان کے نتیجے میں صرف میاں بیوی کے درمیان ہی جدائی نہیں ہوگی بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والابچہ بھی صحیح النسب نہیں مانا جائے گا اور وہ ماں کی طرف منسوب ہوگا۔ اس سلسلے میں عمارصاحب لکھتے ہیں:
’’لعان کادوسرا قانونی اثریہ مرتب ہوگا کہ عورت جس بچے کو جنم دے گی ،اس کانسب اس کے شوہر سے ثابت نہیں ماناجائے گا ۔اس آخری نکتے کے حوالے سے دور جدید میں یہ اجتہادی بحث شروع ہوگئی ہے کہ اگر جدید طبی ذرائع کی مدد سے بچے کی نسب کی تحقیق ممکن ہو اور عورت یہ مطالبہ کرے کہ اس پر زنا کاالزام جھوٹا ہے، اس لئے سائنسی ذرائع سے تحقیق کرنے کے بعد اگر ثابت ہوجائے کہ بچہ اس کے شوہر ہی کا ہے تو بچے کے نسب کو اس سے ثابت قرار دینادرست ہوگا؟
میرا طالب علمانہ نقطۂ نظریہ ہے کہ عورت کا یہ مطالبہ درست اور اس کو وزن دینا مقاصد شریعت کے عین مطابق ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت نے لعان کے بعد بچے کےنسب کو شوہر سے منقطع کرنے کا جوطریقہ بتایا ہے ،اس کامقصد بدیہی طور پر یہ نہیں ہوسکتا کہ اگر بچے کے نسب کی تحقیق ممکن ہو تو وہ بھی عورت کو اپنے اوپر عائد کیے جانے والے الزام کی صفائی کا موقع نہ دیاجائے اور بچے کو اپنے نسب کے ثبوت کے حق سے محروم رکھاجائے ۔دورقدیم میں چونکہ تحقیق نسب کاکوئی قابل اعتماد ذریعہ میسر نہیں تھا،اس لئے شریعت نے اتنا ہی حکم دینے پر اکتفاکی جونصوص میں بیان ہوا ہے۔تاہم اگر آج ایسا قابل اعتماد ذریعہ موجود ہوتوعورت اور بچے،دونوں کے حق کے تحفظ کے لئے اس سے مدد لینا شریعت کے مقصد اور منشا کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے عین مطابق ہوگا……(لہذا) اگر بیوی الزام کا انکار کرتے ہوئے سائنسی ذرائع کی مدد سے نسب کی تحقیق کامطالبہ کرے اور طبی تحقیق سے اس کا دعویٰ درست ثابت ہوجائےتوبچے کےنسب کو اس کے باپ سے تسلیم کیا جائے‘‘(الشریعۃ،ص:۱۸۴)
ہم عرض کریں گے کہ عزیز موصوف کا یہ’’اجتہاد‘‘ان منحرفین اور سیکولرلابی کی ہم نوائی کے علاوہ تین مفروضوں پر قائم ہے۔
اول یہ کہ شریعت اسلامیہ ابدیت اور کاملیت کے وصف سے محروم ہےاور اس میں بعد میں پیش آنے والے حالات وواقعات کا کوئی حل نصوص کےد ائرے میں رہتے ہوئے ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے یہ گروہ آزادانہ اجتہاد کا قائل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نصوص سے بالا ہوکر احکام اسلام کوحالات کےمطابق ڈھالنا اور ان میں اصلاح وترمیم کرنا۔
جب کہ علمائے اسلام کے نزدیک شریعت اسلامیہ اس ذات باری تعالیٰ کی نازل کردہ ہے جو ماکان ومایکون کے علم سے متصف ہے۔ اس لئے اللہ کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جس پر عمل کسی زمانے میںناممکن ہوجائے، یا پیش آنے والے کسی نئے مسئلے کاحل اس میں نہ ہو۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اجتہاد کی ضرورت نہیں ہے۔ بلاشبہ اجتہاد ناگزیر ہے اور اس کی اہمیت وضرورت ہردور میں مسلم رہی ہے، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ آج کل متعدد اسلامی ملکوں میں ایسی فقہی اکیڈمیاں کام کررہی ہیں جن کے پیش نظر عصرحاضر کےجدید مسائل کا حل اور ان کے انطباق کا طریقہ ہی زیرغور ہے اور اس کے لئے وہ اپنی اجتہادی کاوشیں بروئے کار لارہےہیں۔ لیکن ان علمائے اسلام کے نزدیک اجتہاد کا مطلب، حمل النظیر علی النظیرہے جس میںنصوص صریحہ سے انحراف نہیں ہوتا بلکہ انہی سے مستنبط اور انہی کے دائرے میں ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک نصوصِ شریعت کو نظرانداز کرکے مسئلے کے حل کے لئے آزادانہ سعی وکوشش ’’اجتہاد‘‘ نہیں انحراف ہے۔ راہ مستقیم نہیں، زیغ وضلال ہے اور اسلام کی ابدیت وکاملیت کی نفی ہے۔
علاوہ ازیں وہ ’’انفرادی‘‘ اجتہاد کےبجائے’’اجتماعی اجتہاد‘‘ کے قائل ہیں اور یہی وقت کی شدید ضرورت بھی ہے جس سے وقت کے چیلنجوں کا مقابلہ ممکن ہے۔
انفرادی اجتہاد سےکسی بھی نئے مسئلے کاحل بالعموم نہیں نکل رہا ہے بلکہ بعض دفعہ مزیدانتشار فکرکاباعث بن رہا ہے۔
دوسرا مفروضہ یہ ہےکہ خاوند اپنی بیوی پر زناکاجھوٹاالزام لگاسکتا ہے ۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ عورت انکارزنا میں سچی ہو اوربچہ صحیح النسب ہو۔ لیکن ہمارے خیال میں ایسا عام طور پر ممکن نہیں ہے۔ کوئی خاوند اپنی بیوی پر ایسا الزام عائد کرکے لعان کے لئے تیار ہوجائے،ایسا نہایت مشکل ہے کہ وہ الزام لگانے میں جھوٹا بھی ہو اور لعان بھی کرلے۔ لعان کرنے والاخاوند کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ہاں عورت انکار زنا میں جھوٹی ہوسکتی ہے اور بالعموم وہ جھوٹی ہی ہوتی ہے لیکن اقرار کی صورت میں ذلت ورسوائی کے علاوہ حدرجم کا بھی اس کو خطرہ ہوتا ہے۔ اس لئے اسلام نے لعان کی صورت میں پیداہونے والےبچے کا الحاق ماں کے ساتھ ہی کیا ہے، باپ کے ساتھ اس کے نسب کے امکان کو تسلیم ہی نہیں کیا۔
صحیح مسلم میں دوواقعے مذکور ہیں۔ایک واقعہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ اس کے خاوند نے لعان کیا، وہ حاملہ تھی، اس کا وہ بیٹا(پیدا ہونے کے بعد) اپنی ماں کی نسبت ہی سے بلایاجاتاتھا۔پھر یہی سنت جاری ہوگئی کہ وہ بیٹا ہی ماں کاوارث اور وہ ماں کی وارث ہوگی۔ وکانت حاملا،فکان ابنھا یدعی الی امہ، ثم جرت السنۃ انہ یرثھا وترث منہ ما فرض اللہ لھا.(صحیح مسلم،اللعان،حدیث:۱۴۹۲)
دوسرے واقعے میں ہے، ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی سےلعان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کروادی،والحق الولد بامہ.اور بچے کاالحاق ماں کے ساتھ کردیا۔(صحیح مسلم،حدیث:۱۴۹۴)
گویاشریعت اسلامیہ میں اس عورت کےانکارزنا میں سچے ہونے کے امکان کو تسلیم ہی نہیں کیا جس سے اس کے خاوند نے لعان کیا ہو۔ جب واقعہ یہ ہے تو ڈی، این ،اےکے ذریعے سے تحقیقی نسب کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اس مسئلے میں شریعت نے اجتہاد کی گنجائش ہی نہیں رکھی ہے بلکہ قطعی فیصلہ کردیا ہے کہ لعان والی عورت سےپیدا ہونے والابچہ کاانتساب باپ کی طرف نہیں بلکہ ماں ہی کی طرف ہوگا، باپ کےساتھ نسب ملنے ملانے کے امکان ہی کو تسلیم نہیں کیا۔
تیسرا مفروضہ عمارصاحب کے’’اجتہاد‘‘ میں یہ کارفرما ہے کہ ڈی، این ،اے ٹیسٹ تحقیق نسب کا قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں کرپشن کی جوگھمبیر صورت حال ہے ،اس کی موجودگی میں کسی طبی رپورٹ کو قابل اعتماد قرار دیاجاسکتا ہے؟ نہیں ،ہرگزنہیں۔
جوشخص بھی ڈی، این، اے ٹیسٹ کی رپورٹ حاصل کرنا چاہے گا، تو چارمراحل سے گزر کر ہی وہ رپورٹ اس کوحاصل ہوگی۔
1ایک وہ شخص جو نمونہ حاصل کرے گا۔
2دوسرا وہ فنی ماہر جو اس کو تحلیل کرے گا۔
3تیسرا وہ ڈاکٹر جو اس کی کیفیت ونوعیت کاتجزیہ کرکے نتیجہ تحریر کرے گا۔
4چوتھا وہ جو اسے کمپوز کرے گا۔
وصول کرنے والاپانچواں شخص ہوگا۔
کیا مذکورہ چاروں مراحل،قابل اعتماد اور یقینی ہیں؟ کیا ان میں سے کسی بھی مرحلے پرگڑبڑکا کوئی امکان نہیں ہے؟ پھر ایسی مشکوک رپورٹ پر کس طرح ایک مسلمان یا اس کے پورے کنبے اور خاندان کی عزت کو داؤ پر لگایاجاسکتا ہے؟ اور کس طرح ایک نامعلوم نسب کو کسی کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے؟
قابل اعتماد ماننے کی صورت میں لعان کی حیثیت ہی ختم ہوجائے گی
پھر اس کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے، فرض کرلوڈی،این ،اے ٹیسٹ کی رپورٹ سوفی صد درست ہےتو اس سے جہاں یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ نطفہ باپ ہی کا ہے،لہذا بچہ صحیح النسب ہے، اس کانسب باپ کے ساتھ ملایاجائے،لیکن اس رپورٹ سے اس کے برعکس یہ بھی تو ثابت ہوسکتا ہے کہ یہ نطفہ واقعی کسی زانی کا ہے نہ کہ شوہر کا پھر کیاہوگا؟
اگر اس ٹیسٹ کو یقین کی حد تک قابلِ اعتماد سمجھاجائے تو مسئلہ لعان کی ساری نوعیت ہی تبدیل ہوجائے گی۔شریعت میں تو لعان کے بعد دونوں میاں بیوی، قذف اور زنا کی،سزا سے بچ جاتےہیں لیکن اگر ٹیسٹ فیصلہ کن ہوگا توپھر تو دودھ کادودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔ اس صورت میں خاوند الزام زنا میں جھوٹا ثابت ہوا تو وہ سزائے قذف کا مستحق قرار نہیں پائےگا؟ اوراگر عورت انکارِ زنا میں جھوٹی ہوئی تو کیا وہ سنگساری کی مستحق نہیں ہوگی؟
الغرض: بات صرف الحاق نسب ہی تک محدود نہیں رہے گی۔ اسلام کانظامِ لعان ہی اتھل پتھل کاشکار ہوجائےگا، بلکہ سزائے زنا میں بھی اختلال آجائے گا کیوں کہ ٹیسٹ سے، بشرطیکہ رپورٹ صحیح ہو، یہ تو معلوم ہوجائے گا کہ نومولود کس کے نطفے سے ہوا ہے؟اگر نطفہ زانی کاہے تو کیارپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے یاسکے گا کہ یہ زنا بالرضا تھا، یا بالاکراہ؟ زنا بالرضا میں تو زانی زانیہ دونوں ہی سزائے رجم کے مستحق ہوتے ہیں۔ جب کہ اکراہ میں عورت کے لئے معافی کی گنجائش ہے۔
(جاری ہے)

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے