Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اکتوبر » قسط:4آخری-غیر اللہ سے دُعا اور چندقرآنی سوالات

قسط:4آخری-غیر اللہ سے دُعا اور چندقرآنی سوالات

ابوالاسجد محمد صدیق رضا
قسط:4آخری

تیسراسوال:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــہُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ۝۰ۭ اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝۴ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَہٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕہِمْ غٰفِلُوْنَ۝۵ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَہُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِہِمْ كٰفِرِيْنَ۝۶ ](الاحقاف:۴تا۶)
احمد سعیدکاظمی صاحب نے ان آیات کا ترجمہ لکھا:
’’آپ فرمائیں ذرا بتاؤ تم اللہ کو چھوڑ کر جن کو پوجا کرتے ہو مجھے دکھاؤ انہوںنے زمین کاکون سا جز بنایا یاآسمان(کے بنانے) میں ان کاکچھ حصہ ہے؟ لاؤ میرے پاس اس سےپہلے کوئی کتاب یا(پہلے) علم کو کچھ بچاہوا(حصہ) اگر تم سچے ہو اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کوچھوڑ کر ان کوپکارے جو قیامت تک ان کی فریاد رسی نہ کرسکیں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبرہیں اور جب(قیامت کے دن) لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ (جھوٹے معبود) ان کے دشمن ہوں گےاور ان کی عبادت کے منکرہوجائیں گے‘‘(البیان)
غلام رسول سعیدی صاحب نے کچھ اس طرح ترجمہ کیا:
’’آپ کہئے تم اللہ کوچھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو کیا تم نے دیکھا انہوں نے کیا پیدا کیا ہے۔ذرا مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین کا کون ساحصہ پیدا کیا ہے یاآسمانوں کےبنانے میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لاؤیا(پہلے) علم کا کچھ بقیہ حصہ اگر تم سچے ہو۔ اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو ان کو پکارے جو قیامت تک ان فریاد نہ سن سکیں اور وہ ان(کافروں) کی پکار سے بے خبر ہیں۔اور جب لوگوں کو (میدانِ حشر) میں جمع کیا جائے گا تو( ان کے خود ساختہ معبود) ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کے منکرہوںگے‘‘(تبیان القرآن 38/11)
پیرکرم شاہ بھیروی صاحب نے ترجمہ اس طرح کیا:
’’فرمائیے(اےکفار) کبھی تم نے غور سے دیکھا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا(خداسمجھ کر)پکارتے ہو(بھلا) مجھے بھی دکھاؤجو پیدا کیا ہے انہوں نے زمین سے یا ان کاآسمانوں کی تخلیق میں کچھ حصہ ہے لاؤ میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے اتری ہو یا کوئی (دوسرا) علمی ثبوت اگر تم سچے ہو۔ اور کون زیادہ گمراہ ہے اس (بدبخت) سے جوپکارتا ہے اللہ کوچھوڑ کر ایسے معبود کو جوقیامت تک اس کی فریاد قبول نہیں کرسکتا اور وہ ان کے پکارنے سےہی غافل ہیں اور جب جمع کیے جائیں گے لوگ(روزِ محشر) تو وہ معبود ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کاصاف انکارکردیں گے۔‘‘ (ضیاء القرآن 272/4)
کاظمی صاحب نے [ تَدْعُوْنَ ] کاترجمہ’’پوجا‘‘ اور سعید صاحب نے ’’عبادت‘‘ کردیا، جبکہ کئی مقامات پر اس کاترجمہ’’تم پکارتے ہو‘‘ کیا ہے، جیسا کہ سورۂ انعام کی آیت (63)میں کیا ہے، حالانکہ آیت کے سیاق سے واضح ہے کہ[ تَدْعُوْنَ ]سے مراد یہاں بھی’’دعا‘‘ اور پکارنا ہے، چونکہ اسی بیان کے تسلسل میں آگے بھی’’دعا‘‘ ہی کاذکر ہے۔ اس میں تینوں مترجمین نے’’یدعو‘‘ اور’’دعائھم‘‘ کا ترجمہ پکارنا ہی کیا ہے۔
پیرآف بھیرہ نے ترجمہ تو’’پکارنا‘‘ ہی کیا لیکن بریکٹ میں ’’خدا سمجھ کر‘‘ پکارتے ہو لکھ دیا، جبکہ قرآن وسنت اور خود ان لوگوں کی تصریحات سے ثابت ہے کہ مشرکین مکہ اپنے ان معبودوں کو اللہ کی مخلوق سمجھتے تھے، جیسا کہ کاظمی صاحب کو بھی اعتراف ہے:
’’مشرکین بتوں کوپوجا کرتے تھے ان سے پوچھاگیا کہ تم جو بتوں کی پوجاکرتے ہو ان کو کس نے پیدا کیا؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’کہیں گے اللہ نے پیدا کیا ہے۔‘‘(توحید اورشرک ،ص:8مطبوع جماعت اشاعت اہلسنت کراچی)
پھر یہ کہ جب دعا عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی بھی عبادت شرک ہے تو یہ عبادت خواہ’’ خداسمجھ کر‘‘ کی جائے یا’’خدا کانیک بندہ‘ سمجھ کر تو وہ شرک ہی ہوگا، لہذا یہ اضافہ بھی غیرضروری ہے۔ اس ضروری وضاحت کےبعد دیکھیے اس آیت میں بھی ایک سوال ہے وہ یہ کہ ’’جنہیں تم اللہ کے علاوہ (مشکل کشائی کے لئے پکارتے ہو) بھلا بتاؤ تو زمین وآسمان کا کون ساحصہ ہے جو انہوں نے پیدا کیا؟‘‘
آج جو لوگ اللہ کے نیک بندوں سے دعائیں مانگتے ہیں اور ان سے دعا مانگنا جائز سمجھتے ہیں، وہ سوچیں اور جواب دیں کہ ان نیک بندوں میں کون ہے جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہو کہ زمین وآسمان میں سے فلاں فلاں حصے کے خالق ہے۔ قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ کی پیروی میں آج ہم بھی یہی سوال پوچھتے ہیں کہ بتاؤ!زمین وآسمان کی تخلیق میں ان کاکیاحصہ ہے؟ اوروں کاذکر تو رہنے دیجئے افضل الخلائق امام الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں بھی کوئی مومن یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ آپﷺ نے زمین یاآسمان کاکوئی حصہ پیدا کیا اور آپ بعض چیزوں کےخالق ہیں۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے اعلیٰ واولیٰ مقام ومرتبہ آپﷺ کا ہے اور اللہ کے بعد سب سے زیادہ محبت بھی آپ ہی سے واجب ہے، لیکن کسی ایک چیز کے بھی خالق نہیں، مخلوق ہیں اور مخلوق میں سب سے اعلیٰ وافضل ہے۔ جب آپ خالق نہیں تودوسرے مقرب بندے خالق کیسے ہوسکتے ہیں؟ جب وہ خالق نہیں اور یہی ان سے دعائیں مانگنے والے کاعقیدہ بھی ہے تو پھر ان سے دعائیں مانگنا اور دعا مانگنے کو جائز سمجھنے کے لئے درست ہوسکتا ہے؟ پیرکرم صاحب بھیروی نے ان آیات کی تفسیر میں لکھا:
’’اگر تمہارے بتوں نے زمین وآسمان کی تخلیق میں کچھ حصہ لیا ہے تو اسے دلیل سے ثابت کرو….ان میں سے کسی میں یہ لکھا ہوا دکھادو کہ تمہارے فلاں بت یافلاں معبود نے زمین وآسمان کی فلاں چیز بنائی ہے اگر تم اس قسم کا کوئی حوالہ کسی آسمانی کتاب سے نہیں دکھاسکتےتو چلو کوئی عقلی ثبوت ہی پیش کردو….یعنی وہ علم جوصرف تمہیں حاصل ہوا تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں ان کی رسائی اس تک نہیں ہوئی۔اگر تمہارے پاس نہ کوئی نقلی دلیل ہے اور نہ عقلی دلیل تو پھر بلاوجہ جان بوجھ کر ایسی غلطی نہ کروجس سے توبہ ورجوع نہ کیاگیا تو اس کی سزاابدی جہنم ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــًٔـا وَّہُمْ يُخْلَقُوْنَ۝۲۰ۭ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ۝۰ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝۰ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۝۲۱ۧ ](النحل:۲۰،۲۱)
’’اللہ کے سوا جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں اور وہ خود مخلوق ہیں۔ وہ مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں اور وہ یہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔‘‘
ان آیات سےبھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ دعا مخلوق سے نہیں ان کے خالق سےمانگنی چاہئے۔ مخلوق تو فوت ہوچکے ہیں اور جوزندہ ہیں وہ بھی بالآخر فوت ہوجائیں گے۔ انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ کب قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ ان آیات کے برخلاف موقف کے حامل بعض لوگوں نے اپنے دفاع کی جوناکام کوشش کی ہے۔ اس کا جواب ان شاء اللہ کسی دوسری فرصت میں عرض کیاجائے گا۔
چوتھاسوال: اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
[قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللہِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَۃُ اَغَيْرَ اللہِ تَدْعُوْنَ۝۰ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝۴۰ بَلْ اِيَّاہُ تَدْعُوْنَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَيْہِ اِنْ شَاۗءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۝۴۱ۧ ]الانعام:۴۰،۴۱)
پیر کرم شاہ بھیروی صاحب نے ان آیات کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:’’اگر آئے تم پر اللہ کاعذاب یاآجائے تم پر قیامت کیا اس وقت اللہ کے سوا کسی اور کو پکاروگے؟ بتاؤ اگر سچے ہو بلکہ اسی کوپکاروگے تو دور کردے گا وہ تکلیف پکارا تھا تم نے جس کے لئے اگر وہ چاہے گا اور تم بھلا دوگے انہیں جنہیں تم نے شریک بنارکھاتھا۔‘‘
(ضیاء القرآن 552-553/1)
غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب نے ان آیات کا ترجمہ یوں لکھا ہے:’’آپ کہیے یہ بتاؤ!اگر تمہارے پاس اللہ کاعذاب آئے یا تم پر قیامت آجائے ۔کیا(اس وقت) اللہ کے سوا کسی اور کو(مدد کے لیے) پکاروگے؟ (بتاؤ!) اگر تم سچے ہو؟ بلکہ تم اسی کو پکاروگے،پس اگر وہ چاہے گا تو وہ اس تنگی کوکھول دے گا جس کے لیے تم اس کو پکاروگے اور تم انہیں بھول جاؤگے جن کو (اللہ کا) شریک بناتے تھے۔‘‘
(تبیان القرآن 450/3)
ان آیات کی تفسیر میں سعیدی صاحب نے لکھا:
’’مصیبتوں میں صرف اللہ کو پکارنا انسان کا فطری تقاضا ہے:
پہلے اللہ تعالیٰ نے کفارکی جاہلیت کو واضح کیا اور یہ بتایا کہ تمام کائنات میں اللہ تعالیٰ کا علم محیط ہے اور اسی کائنات میں وہی حقیقی متصرف ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمادیا کہ جب ان کافروں پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ میں آتے ہیں اوراس کی اطاعت کرنے سے سرکشی نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کی فطرت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا اورحاجت روانہیں ہے اور مصیبتوں اور تکلیفوں میں وہی واحد نجات دینے والا اور کارساز ہے۔
اے رسول مکرم!آپ ان مشرکین سے کہیے کہ جس طرح سابقہ امتوں پر عذاب آئے تھے، ان کوزمین میں دھنسا دیاجاتاتھا، یا ان پر سخت آندھیاں آتیں یا بجلی کی کڑک آلیتی یا طوفان آتا، اگر تم پر ایسا ہی عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے تو کیا تم اس وقت اللہ کے سوا کسی اور کوپکاروگے جو تم سے ان مصائب کودور کرے گا یا تم اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں کوپکاروگے جو تم کو ان تکلیفوں سے نجات دیں گے ۔ بتاؤ اگر تم ان بتوں کی عبادت میں سچے ہو۔‘‘(تبیان القرآن 465/3)
گو اس مقام پر بھی سعیدی صاحب مسلکِ بریلویہ کا دفاع کرنا نہ بھولے،لیکن اس حقیقت کا اعتراف کرلیاکہ ’’مصیبتوں میں صرف اللہ کو پکارنا انسان کافطری تقاضا ہے‘‘ اور یہ بھی کہ’’فطرت کا یہی تقاضا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا اورحاجت روا نہیں اور مصیبتوں ،تکلیفوں میں وہی اللہ واحدنجات دینے والااور کارساز ہے۔ اب جو اللہ تعالیٰ کےعلاوہ دوسروں کو سب کا مشکل کشا، حاجت روا، فریادرس ،نجات دینے والااور کارساز سمجھتے ہیں وہ اپنے ہی اس بیان کے مطابق فطرت سے ہٹے ہوئے ہیں۔
المختصر کہ ان آیات کے بریلوی ترجموں سے بھی ظاہر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں سمجھانے کے لئے ایک سوال کیا اور اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ یہ سوال کیجئے کہ بتاؤ اگر تمہارے پاس اللہ کاعذاب آئے یا تم پر قیامت آجائے تو کیا( اس وقت) تم اللہ کے سوا کسی اورکو(اس مصیبت سے نجات پانے کے لئے) پکاروگے،دعاکروگے؟
یہی سوال اگرآج بہت سے مشکل کشاؤں ،حاجت رواؤں کا عقیدہ رکھنے والوں سے پوچھاجائے اور اللہ کاحکم اور نبی کریم ﷺ کے اتباع میں ہمیں پوچھنابھی چاہئے ہم پوچھتے بھی ہیں ،توسوچیے ان کاجواب کیا ہوگا؟
اگرکہیں کہ ہاں ہم تو سیدنا علیtکو،شیخ جیلانی وعلی ہجویری وغیرھم کو بھی مشکل کشا ،حاجت روا ،فریاد رس اور کارساز سمجھتے ہیں، مانتے ہیں تو ہم مصیبتوں ،پریشانیوں اور تکلیفوں سےنجات پانے کے لئے ان کو بھی پکاریں گے۔ اگر یہ جواب دیں گے تو سعیدی صاحب نے لکھا:’’اللہ تعالیٰ از خود اس سوال کا جواب دیتا ہے :اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: بلکہ تم اسی کو پکاروگے۔‘‘‘‘(تبیان القرآن 465/3)
واقعتاًاللہ تعالیٰ کا تعلیم فرمودہ وبیان کردہ جواب یہی ہے کہ [بَلْ اِيَّاہُ تَدْعُوْنَ ]’’بلکہ تم صرف اسی (اللہ) کوپکاروگے۔‘‘ توغیراللہ سے دعائیں مانگنے والوں کا یہ جواب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے سکھلائے ہوئے جواب سے مختلف ہوگا کہ اس میں صرف اللہ سے دعا کاذکر ہے، جبکہ مذکورہ بالا جواب میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور لوگوں کے بھی مشکل کشا وحاجت روا ہونے کانظریہ ہے۔ قرآن مجید کے خلاف ہونے کی وجہ سے یہ جواب اور عقیدہ یقیناً باطل ہے اور اگر وہ اپنے عقیدے ونظریے اور معمول کے برخلاف یہ جواب دیں گے کہ ہم تومصیبتوں اورتکلیفوں سے نجات کے لئے صرف اللہ ہی کوپکاریں گے اسی سے دعائیں مانگیں گے تو ان کاعقیدہ ونظریہ اور عمل باطل ثابت ہوجائے گا۔
قارئین کرام! یہ قرآن مجید کی چندآیات تھیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے کچھ سوالات قائم فرمائےہیں اور بعض مقامات پر ان کے جوابات بھی بیان فرمادیے ہیں۔ اگر ان سوالات وجوابات کواچھی طرح سمجھ لیاجائے تو اللہ کے علاوہ کسی سے دعامانگنے کے جواز وفعل کی گنجائش وتصور تک پیدا نہ ہو۔ اس قسم کی جتنی آیات پیش کی جاتی ہیں ان میں [مِنْ دُوْنِ اللہِ ]یعنی اللہ کے سوا یا اللہ کے علاوہ کے الفاظ آتے ہیں تو بہت سے لوگ اس پراصرار کرتے ہیں کہ [مِنْ دُوْنِ اللہِ ]کے مصداق اور اس سےمراد’’بت‘‘ ہیں۔ ان شاء اللہ ہم آئندہ’’ [مِنْ دُوْنِ اللہِ ]کے مصداق کون‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں اس کی وضاحت کریں گے۔
اللہ تعالیٰ توفیق مرحمت فرمائے۔آمین

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے