Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اکتوبر » فتنۂ غامدیت قسط:۱6

فتنۂ غامدیت قسط:۱6

حافظ صلاح الدین یوسفd
مشیر:وفاقی شرعی عدالت پاکستان

علمائے اسلام کاصحیح فیصلہ
اس لئے علمائے اسلام کا یہ فیصلہ بالکل درست ہے کہ ڈی،این، اے ٹیسٹ کوثبوت جرم میں ایک قرینہ یاضمنی شہادت کے طور پر تو استعمال کیاجاسکتا ہے لیکن اس کی بنیاد پر کسی مجرم کو زنا کی سزا نہیں دی جاسکتی جوسوکوڑے اورشادی شدہ زانی کے لئے رجم ہے۔ یہ سزا چار گواہوں کے بغیرمتحقق نہیں ہوسکتی۔ قرائن وشواہد کی بنیاد پر وہ کوئی سی بھی تعزیری سزا کامستحق توہوسکتا ہے لیکن رجم یاکوڑوں کی سزا کامستحق نہیں ہوگا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی، جس میں جدید وقدیم دونوں قسم کے علوم کے ماہرین شامل ہیں، اپنے ۱۹۱ویں اجلاس (منعقدہ ۲۸،۲۹مئی ۲۰۱۳ء) میں دیگر اہم معاملات میں سفارشات پیش کیں، وہاں زیربحث ٹیسٹ کی بارے میں بھی اپنی رائے کااظہار کیا ہے۔ روز نامہ ’’جنگ‘‘ لاہور کی خبرملاحظہ ہو۔
’’اسلام آباد،اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ زنابالجبر کے معاملے میں ڈی،این،اے ٹیسٹ بطور شہادت قابل قبول نہیں، البتہ اسے ضمنی شہادت کے طور پر لیاجاسکتا ہے۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا محمدخان شیرانی کا کہنا ہے کہ زنابالجبر میں ڈی،این،اے ٹیسٹ کارآمدثابت نہیں ہوتا ہے کیونکہ زنا ایک ایسا جرم ہے کہ جس کے ثبوت کےلئے بہت احتیاط ضروری ہوتی ہے ،ڈی،این،اے ٹیسٹ وہاں کافی نہیں ہے‘‘
اس فیصلے کی ایک واضح دلیل ہمیں ایک حدیث میں ملتی ہے اور اس کاتعلق بھی عہدرسالت کے ایک واقعۂ لعان ہی سے ہے، ہلال بن امیہtنے اپنی بیوی پرتہمت لگائی اور شخص کانام بھی بتلایا جس کے ساتھ ان کی بیوی نے یہ کام کیا تھا ان کانام شریک بن سحماء تھا ۔رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان لعان کروادیا اور یوںان کے درمیان جدائی ہوگئی۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ نے صحابہ سے فرمایا:
’’اگرہونے والابچہ اس اس طرح کاہوا(اورہلال بن امیہ کے کچھ جسمانی خدوخال بیان فرمائے) تو یہ واقعی (اپنے باپ) ہلال بن امیہ کا ہوگا۔ اور اگر اس اس طرح کا ہوا(اور شریک بن سحماء کے کچھ جسمانی خدوخال بیان فرمائے) تو یہ شریک بن سحماء کا ہوگا۔‘‘
جب بچہ پیدا ہوا تو وہ شریک بن سحماء ،کے جسمانی خدوخال کا حامل تھا۔گویابچے کی پیدائش ،اس امر کاواضح قرینہ اورضمنی شہادت بن گئی کہ عورت انکار جرم میں جھوٹی اورہلال بن امیہ الزام لگانے میں سچے ہیں۔لیکن اس نہایت واضح دلیل اورضمنی شہادت کوچارگواہوں کامتبادل قرار نہیں دیاگیا ۔اوررسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لوکنت راجما احدا لغیر بینۃ لرجمتھا.
’’اگرمیں کسی کو بغیر دلیل کے رجم کرنے والاہوتا تو میں اس عورت کوضرور رجم کردیتا۔‘‘
(صحیح مسلم ،اللعان ،حدیث:۱۴۹۷-۱۴۹۶)
حالانکہ بچے کی ولادت نے سارے معاملے کو کھول دیا تھا اور جھوٹ سچ واضح ہوگیاتھا ۔اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے زنا کی سزا کے لئے جونصاب شہادت اللہ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے، اس کو اس کامتبادل قرار نہیں دیا۔جب ایساہے اور نصوص کی اتنی اہمیت ہے تو اس کے مقابلے میں مشکوک ٹیسٹ کی مشکوک رپورٹ کوحتمی، قطعی اور نصاب شہادت (چار گواہوں) کے قائم مقام کس طرح قرار دیاجاسکتا ہے ؟ یالعان کےمنطقی اورلازمی نتیجے کوردوبدل کی سان پر کس طرح چڑھایا جاسکتا ہے؟
حضرت مسیحuکی آمدثانی
اس عنوان کے تحت عمارصاحب نے امت مسلمہ کے اس متفقہ عقیدے کے بارے میں اپنے موقف کی وضاحت فرمائی ہے جوصحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰu کادوبارہ آسمان سے نزول ہوگا۔غامدی گروہ ان متواتر احادیث کا اور نزول مسیح کابھی منکر ہے۔
عمارصاحب اس مسئلے میں بھی سخت ذہنی خلجان کاشکارہیں۔ اس کومان کر وہ اہل سنت کے موقف کی صحت اعتراف بھی کرتےہیں اور پھر ساتھ ہی اس کی ایسی باطل توجیہات بھی پیش کرتے ہیں جن سے ان کے اس گروہ کے انکار کا بھی کچھ جواز نکل آئے جس کی زلف گرہ گیر کے وہ اسیر ہوچکے ہیں۔ملاحظہ فرمایئے!پہلے ان کاصحیح موقف ۔کاش وہ اپنی گفتگو اس حد تک ہی محدود رکھتے، کیونکہ اس عقیدے کی صحت مان لینے کے بعد پھر ’’اگرمگر‘‘ کی کیاتک ہے؟ لیکن بات تو اشربوا فی قلوبھم العجل والی ہے جوچھپائے نہیں چھپتی ،اور سات پردوں کے پیچھے سے بھی وہ اپنی’’جھلک‘‘ دکھارہی ہے۔ لیجئے پہلے صحیح موقف سنیئے!
’’سیدنامسیحuکی آمدثانی سے متعلق میرانقطۂ نظر، سابقہ تحریر (براہین،ص:۷۹،۷۱) میں بعض توضیحی اضافوں کے ساتھ حسب ذیل ہے:
۱۔کتب حدیث میںمتعدد روایات میں قیامت کے قریبی زمانے میں سیدنا مسیحuکے دنیا میں دوبارہ تشریف لانے اور دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہوا ہے محدثین کے معیار کے مطابق یہ روایات مستند اور قابل اعتماد ہیں۔ اس لئےنبی ﷺ کی دوسری بہت سی پیش گوئیوں کی طرح، اس پیش گوئی کے سچاہونے پربھی یقین رکھنا آپ پر ایمان کاتقاضا ہے‘‘(’’الشریعۃ ‘‘خصوصی اشاعت جون ۲۰۱۴ء،ص:۱۸۴)
دیکھ لیجئے! کتنی صاف اورواضح بات ہے، روایات کے مستند اور قابل اعتمادہونے کا اعتراف ہے اور اس کو ماننا رسالت محمدیہ پر ایمان رکھنے کاتقاضا بھی۔
لیکن اس کے بعد گریزپائی،یاانحراف یارجعت قہقریٰ کامنظر بھی ملاحظہ ہو!
۲۔اس پیش گوئی سے متعلق علمی طور پر بعض اشکالات یقینا پیش آتے ہیں ،مثلاً قرآن مجید کا اس اہم واقعے کی صراحت سے صرف نظر کرنا اور متعلقہ احادیث میں بیان ہونے والےبعض امور کا بظاہر تاریخی واقعات کے مطابق نہ ہونا۔ تاہم چونکہ بہ اعتبار سند یہ روایات قابل اعتماد ہیں اور ان میں وضع کے آثار نہیں پائے جاتے ۔اس لئے اشکالات کو اشکالات ہی کے درجے میں رکھنا زیادہ قرین احتیاط ہے۔ ان کی بنیاد پر پیش گوئی کا مطلقاً انکار کردینا درست نہیں۔ خاص طور پر جب کہ روایات سے متعلق یہ معلوم ہے کہ وہ بالمعنی نقل ہوئی ہیں اور کسی بھی واقعے سے متعلق تفصیلات کے نقل کرنے میں راویوں کا سوءِ فہم کاشکار ہوجانا ذخیرۂ حدیث میں ایک جانی پہچانی چیز ہے ‘‘
یہ پورااقتباس مرج البحرین یلتقیان کامظہر ہے، یعنی اقرار اورانکار کے آب شیریں اور آب تلخ ،یاقرآن کے الفاظ میں’’عذب فرات‘‘اور ’’ملح اجاج‘‘ کی نہریں ساتھ ساتھ رواں ہیں۔ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے ان دونوں متضاد نہروں کوباہم ملنے سے روکا ہوا ہے اور وہ بینھما برزخ لایبغیان کامصداق ہیں۔ لیکن انسان فن کارانہ مہارت اور چابک دستی کے باوجود اس طرح کرنے پر قادر نہیں ہے۔ عمار صاحب بھی ان دونوں نہروں کو ساتھ ساتھ چلانے کے لئے تویقینا ہاتھ پیر مار رہے ہیں لیکن وہ ان کے درمیان ’’برزخ ‘‘(پردہ) قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اقرار اور انکار کا یہ ملاجلا منظر بھی ملاحظہ ہو۔
پہلے ان کے اقتباس سے انکار کاپہلو:
vاس پیش گوئی سےمتعلق علمی طور پر بعض اشکالات پیش آتے ہیں۔(وہ کیاہیں؟)
vمثلاً:قرآن مجید کا اس اہم واقعے کی صراحت سےصرف نظر کرنا(کیا احادیث کی صراحت اور احادیث کاقابل اعتماد (مستند) ہونا کافی نہیں ہے؟کیا ہر عقیدے یاحکم کی صراحت قرآن مجید میں ہے؟)
vمتعلقہ احادیث میں بیان ہونے والے بعض امور کابظاہر تاریخی واقعات کےمطابق نہ ہونا۔(کیاایسے بعض امور کے ظاہری تعارض کو(اگرواقعی ہوں) معقول توجیہہ کرکے دورکرنا ضروری ہے یا ان کو اہمیت دےکر مستند احادیث میں بیان کردہ پیش گوئی کو مشکوک ٹھہرانا،صحیح روش ہے؟)
عمارصاحب کے اقتباس کے یہ تین ٹکڑے انکار کے مظہر ہیں، یا اقرار کے غماز؟ ہرشخص اس کافیصلہ کرسکتا ہے(بالخصوص بریکٹ میں دی گئی توضیح کے ساتھ)
اب کچھ کچھ اقرار-لیکن انکار کی پرچھائیں کےساتھ،ملاحظہ ہو!
’’تاہم چونکہ بہ اعتبارسند یہ روایات قابل اعتماد ہیں اور ان میں وضع کے آثار نہیں پائے جاتے، اس لئے اشکالات ہی کے درجے میں رکھنا زیادہ قرین احتیاط ہیں‘‘
اس عبارت میں اقرار بھی ہے انکار بھی۔ جب ایک بات قابل اعتماد روایات سے ثابت ہو تو ایک مسلمان کافرض اس کوماننا ہے اور منحرفین کی طرف سے اگر کچھ اشکالات پیدا کیے جاتے ہیں تو ان کو دور کرنا ہے یااشکالات کی اہمیت کواجاگر کرنا؟ مان کر اشکالات کو اہمیت دینا، یہ ماننے کاکون ساطریقہ ہے؟
پھر کون سی بات ہے جس میں اشکالات پیدانہیں کیے جاسکتے، یا نہیں کیے گئے؟ کیا عقیدۂ آخرت کے بارے میں منکرین کی طرف سے اشکالات پیش نہیں کیے جاتے؟ وجود باری تعالیٰ کے بارے میں اشکالات پیدا کرنے والوںکی کمی ہے؟ کیا واقعۂ معراج کی بابت اشکالات پیدا نہیں کیے جاتے۔ وعلی ھذا القیاس ،بے شمار مسائل میں اشکالات پیدا کیے جاتے ہیں ،کیا اشکالات پیدا کرنے والوں نے قرآن کریم کی بیان کردہ بہت سی حقیقتوں پراعتراضات نہیں کیے اور آج بھی نہیں کررہے ہیںـ؟
ماننے والوں کے ذمےداری کیا ہے؟ اشکالات کی وضاحت اور ان کا بے حیثیت ہونا ثابت کرنا، یا ان کواجاگر کرکے ان کی اہمیت کوبڑھانا؟ آپ ماننے کا دعویٰ بھی کررہے ہیں اور اشکالات کا ہَوّا بھی کھڑا کررہے ہیں؟
ھذا العمری فی القیاس بدیع
انکار کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے عزیز موصوف کی مزید گوہرافشانی یاکاوش!!
’’ان (اشکالات) کی بنیاد پرپیش گوئی کامطلقا انکارکردینا درست نہیں، خاص طور پر جب کہ روایات سے متعلق یہ معلوم ہے کہ وہ بالمعنی نقل ہوئی ہیں اور کسی بھی واقعے سے متعلق تفصیلات کے نقل کرنے میں راویوں کے سوءِ فہم کاشکار ہوجانا ذخیرۂ حدیث میں ایک جانی پہچانی چیز ہے‘‘(الشریعۃ،ص:۱۸۷)
اہل علم اس اقتباس سے بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ اقرار ہے یاانکار؟علاوہ ازیں احادیث کے بالمعنی نقل ہونے اور نقل کرنے والے راویوں کے سوءِ فہم کاشکار ہونے کی دہائی کے بعد کیا ساراذخیرۂ حدیث ،دفتر بے معنی اور غرق مئے ناب اولیٰ، کامصداق نہیں بن جاتا؟
کیا روایات بالمعنی نقل ہونے کے باوجود محدثین نے ان کو قابل اعتماد اور مستند نہیں مانا ہے؟ او رخود آپ نے نمبر(۱) اقتباس میں نزول مسیح کی روایات کو قابل اعتماد اور ان کے ماننے کو ایمان کاتقاضا قرار نہیں دیا ہے؟
صحیحین (بخاری ومسلم) کی متفق علیہ روایات اور دیگر کتابوں کی صحیح احادیث بالمعنی نقل ہوئی ہیں یا باللفظ؟ باللفظ تو شایدچند ہی ہوں۔ سب بالمعنی ہی ہیں۔ ان بالمعنی روایات میںمحدثین نے،اسلاف نے، یا ائمہ کرام نے محض اس بنیاد پر احادیث کو مشکوک ٹھہرانے کی کوئی کوشش کی ہے؟
مان کر نہ ماننے والی روش کامظہر، تیسرااقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’۳۔نبی ﷺ کی بیان فرمودہ ایک پیش گوئی کے طور پر سیدنا مسیح uکی دوبارہ تشریف آوری پر اعتقاد رکھتے ہوئے ،یہ نکتہ بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ اپنی بنیادی نوعیت کے لحاظ سے یہ ’عقیدے‘ کا مسئلہ نہیں، یعنی کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے نبی ﷺ نے ایمانیات کے ایک جزو کے طور پر بیان کیاہو۔ ایمانیات کے معروف اور مسلمہ اجزاء کے ساتھ موازنے سے اس مسئلے کی یہی نوعیت واضح ہوتی ہے۔ مثلاً:اللہ کی صفات، تقدیر، رسالت، ختم نبوت، قیامت وغیرہ، ان تمام عقائد پر اسلام کے اعتقادی وعملی نظام کی بنیاد ہے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی اپنی جگہ سے ہٹانے سے یہ پورا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے، اس کے برخلاف احادیث میں بیان ہونے والے مستقبل کے واقعات میں سے کسی واقعے کے رونما ہونے یا نہ ہونے پر اسلام کی دینیاتی نظام کا ہرگز مدار نہیں اور بالفرض ان میں سے کوئی ایک واقعہ بھی رونما نہ ہو تو اسلام کے کسی اعتقادی نظام میں کسی طرح کا کوئی خلل واقع نہیں ہوتا‘‘
یہ بات ہماری سمجھ سے بالاہے کہ عمارصاحب نے اس عقیدۂ نزول مسیح کے بارے میں پہلے تو یہ فرمایا کہ ’’نبی ﷺ کی دوسری بہت سی پیش گوئیوں کی طرح اس پیش گوئی کے سچاہونے پر بھی یقین رکھنا آپ پر ایمان رکھنے کاتقاضا ہے‘‘ اور اب آپ ایک تو یہ فرمارہے ہیں کہ یہ سرے سے ایمانیات اور عقیدے کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ دوسرے، بالفرض اگر آمد ثانی کا یہ واقعہ رونما ہی نہیں ہوتا تو اس سے اسلام کے اعتقادی نظام میں کسی طرح کا کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ یہ دونوں باتیں بیک وقت کس طرح ہوسکتی ہیں؟ کیا ان میں باہم تضاد نہیں؟
جس چیز پر یقین رکھنا نبی ﷺ پرایمان کاتقاضا ہو، کیا وہ چیز ایسی مشکوک بھی ہوسکتی ہے کہ اس کا وقوع اور عدم وقوع برابرہو؟ پھر وہ ایمان والی بات تو نہ ہوئی، وہ تو نجومی کی اٹکل بچوپیش گوئی ہوئی۔ اور اگر وہ ایمان والی بات ہے(جیسا کہ آپ نے خود لکھا) تو وہ نبی کی پیش گوئی ہوئی۔ اور نبی کی پیش گوئی کی بنیاد، مستقبل کاعلم نہیں، کیونکہ وہ تو علم غیب ہے اور نبی ﷺ عالم الغیب بھی نہیں تھے، پھر اس پیش گوئی کی بنیاد وحیٔ الٰہی کے سواکوئی اورہوسکتی ہے؟وہ بتلائیں وہ کیا ہے؟ اگر وحیٔ الٰہی ہی ہے اور یقینا وہی ہے تو پھر وقوع اور عدم وقوع ،دونوں امکان کس طرح صحیح ہوسکتے ہیں؟ اس کا وقوع اورظہور تو یقینی ہے۔ اور اس اعتبار سے اس کی صداقت پر یقین رکھنا ایمانیات اور عقیدے کاجزو کیوں نہیں ہوگا؟ وحیٔ الٰہی پر مبنی پیش گوئی کو ایمانیات سے خارج کرنے کی دلیل کیا ہے؟ وہ دو ہی ہوسکتی ہیں۔ اس سے متعلقہ روایات قابل اعتماد نہ ہوں، یا پھر نبی کے بجائے کسی نجومی کی پیش گوئی ہو۔
روایات کوآپ مستند اور قابل اعتماد مان چکے ہیں، لہذا یہ دلیل آپ پیش نہیں کرسکتے۔ اسے آپ نبی کی سچی پیش گوئی ہی تسلیم کرچکے ہیں، لہذا اس وقوع میں شک ایمان کے منافی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ پورااقتباس ،یافلسفہ آرائی یاچناں چنیں
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
کاآئینہ دار ہے۔
اب پیرا(۴)ملاحظہ ہو، اس میں انکارحدیث کا سب سے بڑا ہتھکنڈا -اخبار آحاد -کا استعمال کرتے ہوئے اس مسلمہ اسلامی عقیدے کو مشکوک ٹھہرانے کی مذموم سعی کی گئی ہے:
’’سیدنامسیحuکی آمد ثانی کی روایات محققین کے نزدیک اپنی اصل کے لحاظ سے اخبار آحاد ہیں اور اس دائرے میں آتی ہیں جہاں روایات کی تحقیق وتفتیش کے ضمن میں باہم مخالف قرائن کی روشنی میں اشتباہ کالاحق ہوجاناممکن ہے۔ بعض صحابہ کے آثار سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ اسے قطعی الثبوت اور متواتر روایات کے طور پر نہیں جانتے تھے۔ اس وجہ سے کوئی صاحب علم اگر ان روایات کے استناد سے اختلاف کریں تو یہ ایک علمی نوعیت کااختلاف ہوگا جس پر دلائل کی روشنی میں شائستگی سےہی تنقید کرنی چاہئے اور اس مسئلے کو ایمانیات کےبجائے احادیث کے حوالے سے بحث وتحقیق کے دائرے میںہی رکھنا چاہیے‘‘
(الشریعۃ،خصوصی اشاعت،جون۲۰۱۴ء،ص:۱۸۵)
عزیزموصوف کے اس اقتباس یاپیرے میں چند نکات قابل غور ہیں،ہم بالترتیب ان پر روشنی ڈالیں گے، وبیداللہ التوفیق
۱۔ان روایات کوآحاد قرار دینے والے’’محققین‘‘ کون ہیں؟
۲۔کیااخبار آحاد کے ذریعے سے معلوم ہونے والے امور میںواقعی اشتباہ ہوتا ہے اور وہ قطعی نہیں ہوتے؟
۳۔بعض آثار صحابہ کے حوالے سے جو کہاگیا ہے کہ وہ اسے قطعی الثبوت اور متواتر روایات کے طور پر نہیں جانتے تھے ، یہ صحابہ کون ہیں اور محولہ آثار کہاں درج ہیں؟
۴۔جب آپ کے پہلے پیرے(اقتباس:۱)میں ان روایات کو قابل اعتماد قرار دیاگیا تھا، کیا اس وقت یہ اخبار آحاد نہیں تھیں اور’’محققین‘‘ کے فیصلے کاآپ کو علم نہیں تھا؟
یہ انکشاف آپ پر بعد میں ہوا،کیونکہ یہ دونوں باتیں باہم متضاد اور ایک دوسرے کے منافی ہیں۔ اگر قابل اعتماد ہیں تو ان میں اشتباہ کا امکان تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔ اور اگر ان میں اشتباہ کا امکان ہےتو انہیں مستند ،قابل اعتماد اور ایمان بالرسالت کاتقاضا کیسے ماناجاسکتا ہے؟ ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات ہی صحیح ہوسکتی ہے، بیک وقت دونوں صحیح نہیں ہوسکتیں۔
۵۔جن موہوم آثارِ صحابہ کا سہارالیاگیا ہے،او ل تو ہمارے ناقص علم کی حدتک ان کا وجود ہی نہیںہے۔ اور اگر بالفرض وہ ہیں جن کا عمار صاحب یا اس گروہ کے’’محققین‘‘ نے سراغ لگالیا ہے تو کیا وہ متواتر ہیں اور مرفوع روایات سے فائق ترہیں؟
۶۔صحابہ کے بارے میں یہ دعویٰ کہ وہ اس عقیدے کوقطعی الثبوت اور متواتر روایات کے طور پر نہیںجانتے تھے ۔اس کی بنیاد کیا ہے؟ حدیثی روایات سے تو ان کا طرز عمل اس کے بالکل برعکس ثابت ہے۔ فرمان رسول ان کے سامنے آجانے پر وہ تو اسے بلاچون وچرا تسلیم کرلیتے تھے، ان کی رائے حدیث کے خلاف ہوتی تو اپنی رائے سے فوراً رجوع کرلیتے تھے۔
علاوہ ازیں ’’قطعی الثبوت‘‘ اور’’ظنی الثبوت‘‘ اور ’’متواتر‘‘ و’’آحاد‘‘ وغیرہ اصطلاحات کا کوئی وجود عہد صحابہ میں ملتا ہے؟ یہ تو بعد کے ان ’’فقہاء‘‘ کی ’’ایجادات‘‘ ہیں جو فقہی جمود میں مبتلا تھے او ان کو بعض اپنے فقہی مسائل میں احادیث سے جان چھڑانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو احادیث کو کنڈم کرنے کے لیے یہ اصول اور اسی انداز کے دیگر بعض اصول گھڑے جن سے ان کے لیے احادیث سے انحراف کارستہ آسان ہوگیا۔
محدثین کی اصطلاحاتِ حدیث میں تواتر اورآحاد کی اصطلاح یقینا ملتی ہے لیکن ان کے ہاں اس سے احادیث کی صرف درجہ بندی ہے۔ متواتر روایت درجے میں سب سے بلند ہے اور خبرواحد درجے میں اس سےکم تر، محدثین کاموقف کبھی یہ نہیں رہا کہ صحیح ،مرفوع، متصل خبر واحد ظنی الثبوت ہے، یا اس سے قطعی علم حاصل نہیں ہوتا، یا وہ احکام وعقائد میںدلیل بن سکتی، یا اس سے عموم قرآن کی تخصیص نہیں ہوسکتی، وغیرہ وغیرہ۔
اگرخبرآحاد کا وہ مفہوم ان کے نزدیک ہوتا جو بعض فقہائے نے لیا ہے ،یا آج کل اس میں مزید وسعت پیدا کرکے اخبار آحاد کو یکسر قابل رد قرار دیا جارہا ہے ،تو محدثین کو احادیث کی جمع وتدوین کے لیے اتنی محنت کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ انہوں نے تو سارے دینی احکام وعقائد کو، جو احادیث کو فقہی ابواب پرمرتب کرکے انہوں نے ثابت کیا ہے، ان کی بنیاد یہی احادیث ہیں جن کو وہ سنن سے بھی تعبیر کرتے ہیں اور ان مجموعہ ہائے ذخیرہ حدیث کا انہوں نے نام ہی سنن ابی داود، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ ، سنن ترمذی رکھا ہے۔
ان میں99فی صداحادیث اخبار آحاد ہیں ۔اگر یہ سارا ذخیرۂ آحاد ناقابل اعتبار ہے تواس کامطلب یہ ہے کہ اب دین صرف اس صحیفۂ غامدی کےا ندرمحصور ہے جس کی وحی کامہبط غامدی صاحب کا نہاں خانۂ قلب ہے اور اس میں صرف ۲۷سنتیں ہیں، باقی اللہ اللہ،خیرصلا۔
۷۔عمارصاحب فرماتے ہیں :’’یہ علمی اختلاف ہے، اس پر دلائل کی روشنی میں بحث کرنے کی ضرورت ہے اور اس مسئلے کو ایمانیات کے بجائے احادیث کے حوالے سے بحث وتحقیق کےدائرے میں ہی رکھنا چاہئے۔‘‘
اس میں پہلاسوال یہ ہے کہ اگر یہ ایمانیات کامسئلہ نہیں ہے تو آپ نے اسے پہلے ایمان بالرسالت کاتقاضا کیوں قرار دیا؟ جوعقیدہ اس اہمیت کاحامل ہو کہ وہ ایمان بالرسالت کاتقاضاہو،وہ ایمانیات میں داخل کیوں نہیں؟
علاوہ ازیں جن احادیث کی صحت چودہ سوسال سے مسلم چلی آرہی ہے، میں بھی آپ کے نزدیک بحث وتحقیق کی ضرورت ہے۔ تویہ علمی اختلاف ہے کہ مسلمات اسلامیہ کاانکار؟ محترم! یہ علمی اختلاف نہیں۔ علمی اختلاف تو وہ ہوتا ہے جس میں اختلاف کرنے والے کے پاس بھی کچھ دلائل ہوں،یا ایک فریق کے مقابلے میں دوسرے فریق کے پاس اس کے دلائل سے بڑھ کرمضبوط دلائل ہوں۔ اس کے لیے توآپ کے پاس سرے سےدلائل توکجا ایک’’دلیل‘‘ بھی ایسی نہیں جو چودہ سوسالہ اس اجماعی اور متفق علیہ مسئلے کو بے بنیاد ثابت کرسکے ۔
آپ نے پہلے مستند اورقابل اعتماد روایات کی وجہ سے نزول مسیح کی پیش گوئی کو سچا اور ایمان کاتقاضا قراردیا۔ لیکن اس کے بعد محض مفروضوں سے اس سے انکار کی گنجائش نکال رہے ہیں۔ یہ علمی اختلاف ہے، یاکفروالحاد ہے؟
(جاری ہے)

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے