Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ دسمبر » اربعینِ نووی قسط:47

اربعینِ نووی قسط:47

درسِ حدیث
فضیلۃالشیخ عبدﷲناصررحمانی

حدیث نمبر:19

(۵) وَاعْلَم أَنَّ الأُمّة لو اجْتَمَعَت عَلَى أن يَنفَعُوكَ بِشيءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلا بِشيءٍ قَد كَتَبَهُ اللهُ لَك.
ترجمہ:اچھی طرح جان لے اگر ساری امت جمع ہوکر تجھے کوئی فائدہ پہنچاناچاہے تو اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کے سواکوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی ۔
اس جملے کا ماقبل دونوں جملوں کے ساتھ گہرا تعلق اور ربط ہے، چنانچہ اوپر یہ ذکرہوا کہ ہرقسم کاسوال صرف اللہ رب العزت سے کرنا چاہئے، نیزہر قسم کی استعانت بھی اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئے،جبکہ یہ جملہ بتارہاہے کہ خیر کے تمام خزانے صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں،اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے جوخیر لکھ رکھی ہے وہ آپ کو حاصل ہوکر رہے گی ، پوری دنیا مل کر بھی نہ تو اس خیر سے آپ کو محروم کرسکتی ہے نہ ہی اس میں کسی قسم کی کمی بیشی کرسکتی ہے،لہذا جو خیربھی حاصل ہو اس کے بارہ میں یہ عقیدہ ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہےاور اس کی تقدیرمیں لکھی ہوئی ہے، جب یہ بات ثابت اور متحقق ہوگئی اور آپ کے عقیدے میں شامل ہوگئی تو پھر ہرخیر کے حصول کیلئے،اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ امیدیں وابستہ کرنی چاہئیں،کسی خیر کوپانے کیلئے کسی مخلوق کی طرف خواہ وہ زندہ ہو یامُردہ التفات جائز نہیں؛کیونکہ کوئی مخلوق کسی نفع یاضرر کی مالک نہیں۔
(۶)وإِن اِجْتَمَعوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشيءٍ لَمْ يَضروك إلا بشيءٍ قَد كَتَبَهُ اللهُ عَلَيْكَ.
ترجمہ:اور اگر ساری امت اکٹھی ہوکر تیراکوئی نقصان کرناچاہے تو اللہ تعالیٰ کے نوشتۂ تقدیر کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتی۔
یہ جملہ اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ انسان کو لاحق ہونے والاہر ضرر،اللہ تعالیٰ کا امرِ مقدرہے،اس کی تقدیر کے فیصلے کا سوچ کر اس کی قضاء وقدر پر راضی ہوجاناہی موجبِ سعادت اور سببِ رضاءِ الٰہی ہے، ذیل میں ایک حدیث درج کی جاتی ہے جو اسی مسئلہ کے بعض دیگر گوشوں کو اجاگرکرتی ہے: سیدناابوھریرۃ t سے مروی ہے، رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:
(المؤمن القوی خیر واحب الی ﷲ من المؤمن الضعیف وفی کل خیر احرص علی ماینفعک واستعن باللہ ولاتعجز وان اصابک شیٔ فلا تقل : لو أنی فعلت کذا کان کذا وکذا ،ولکن قل: قدر ﷲ وماشاء فعل، فان لو تفتح عمل الشیطان )
ترجمہ:طاقت ور مؤمن ،اﷲتعالیٰ کو کمزور مؤمن سے زیادہ بھلا اور محبوب ہے ،ویسے دونوں میں بھلائی اوربہتری ہے ۔ تم اپنے لئے ہر نفع بخش چیز کی حرص اور تمنا رکھواور اس کے حصول کیلئے اﷲتعالیٰ سے مدد طلب کرو،اور عاجز نہ بنو ۔اور اگر کوئی تکلیف پہنچے تو یوں مت کہو کہ اگر میں اس طرح کرلیتا تو اس طرح ہوجاتا ۔بلکہ یوں کہو:اﷲتعالیٰ کو یہی منظور ومقدورتھا،اور جو کچھ اس نے چاہاوہی کیا ۔ ’’ لو ‘‘یعنی اگر اگر کہنا شیطانی عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔(صحیح مسلم:۲۶۶۴)
البتہ اس ضرر کو رفع کرنے کی تدبیر یں اختیارکرنے میں کوئی مضائقہ نہیں،بشرطیکہ وہ تدبیریں مطابقِ شریعت ہوں، غیرشرعی تدابیر معصیت بھی ہیں اور ضرر کو رفع کرنے کی بجائے بڑھانے کا موجب بن سکتی ہیں۔(واللہ اعلم)
(۷) رُفعَت الأَقْلامُ، وَجَفّتِ الصُّحُفُ.
قلم اٹھالئے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔
قلم سے مراد وہ قلم ہیں جس سے مخلوقات کی تقدیریں لکھی گئیں اور صحیفوں سے مراد وہ صحیفے ہیں جن پر تقدیریں لکھی گئیں،جسے لوح محفوظ کا نام دیاگیا ہے،خشک ہونے کا معنی یہ ہے کہ تمام فیصلے لکھے جاچکے ہیں،جیسا کہ ایک حدیث میں ہے: تیرا رب بندوں کی تقدیر لکھ کر فارغ ہوچکاہے،یہ ناممکن ہے کہ کوئی حادثہ یا معاملہ وقوع پذیرہو اور وہ تقدیر میں نہ لکھاہو۔
صحیفوں کےخشک ہونے کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کسی فیصلے کو مٹانا ناممکن ہے، کوئی مخلوق کسی فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔
واضح ہو کہ حدیث کے ان آخری تینوں جملوں میں تقدیر پر ایمان کا اثبات ہے،تقدیر پر ایمان،ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے،جسے مانے بغیر کسی انسان کا کامل الایمان بلکہ صحیح الایمان ہونا ممکن نہیں،ایک شخص خواہ کتنے ہی اعمالِ صالحہ کے ڈھیرلگالے، لیکن اگر اس کے ایمان بالقدر میں کسی قسم کا کوئی رَخنہ ہے تو اللہ رب العزت انہیں قطعاً قبول نہ فرمائے گا۔
جنابِ عبداللہ بن عمرwسے بصرہ سے آئے ہوئے کچھ لوگوں نے جب یہ ذکر کیا کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ صحیح معنی میں تقدیر کو نہیں مانتے تو انہوں نے فرمایا:
«فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّي»، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ «لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَ اللهُ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ» (صحیح مسلم، الرقم:۸)
یعنی: جب تم بصرہ واپس لوٹ کر ا ن لوگوں سے ملو،تو انہیں بتادینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں،اللہ تعالیٰ کی قسم! اگر کسی بندے کے پاس احدپہاڑ کے برابرسوناہو،جسے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کردے،تو اللہ تعالیٰ اسے ہرگز قبول نہ فرمائے گا،جب تک تقدیر پر صحیح ایمان نہ ہو۔
واضح ہو کہ جب مسئلۂ تقدیر اتنی اہمیت کاحامل ہے تو اس کی کماحقہ معرفت ضروری ہے،تاکہ بندے کےا عمال میں کسی ضیاع یا محرومی کا کوئی عنصرباقی نہ رہے،یہ مسئلہ ہماری دوکتابوں ایک شرح حدیث جبریل اور دوسری بنیادی عقائد میں بالتفصیل مذکور ہے ،یہاں قارئینِ مجلہ کے افادہ کیلئےدوضروری اور اہم مسائل کا تذکرہ کئے دیتے ہیں:ایک یہ کہ تقدیر پر ایمان کے مکمل مراتب کیا ہیں؟ان تمام مراتب کو تسلیم کیے بغیر ایمان بالقدرنہ تودرست ہوگا نہ ہی قابلِ قبول۔
دوسرا مسئلہ یہ کہ تقدیرپرایمان کا تعلق غیبی امور سے ہے،تقدیر اللہ تعالیٰ کا وہ راز ہے جس پر کوئی مخلوق مطلع نہیں ہے،لہذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی عالم الغیب نہیں ہوسکتا۔[قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللہُ۝۰ۭ ](النمل:۶۵)
جولوگ علمِ غیب کے دعویدارہیںیا جن کے بارہ میں غیب دانی کا دعویٰ کیاجاتاہے،وہ سب جھوٹ پرمبنی ہے،مستقبل کے احوال بتانے والے جھوٹے ہیںاورجھوٹ کی اساس پر ہی اللہ تعالیٰ کے راز یعنی تقدیر میں دخل اندازی کی جسارت کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔
(والعیاذ باللہ)
مراتب ِ قدر:
1علم2کتابت3ارادہ 4 خلق و ایجاد
واضح ہو کہ تقدیر پر ایمان لانے کے چار مراتب ہیں،ان چاروں مراتب کااعتقاد رکھنا ضروری ہے ۔
٭ پہلا مرتبہ یہ ہے کہ اس کائنات میں جوکچھ ہونے والاہے، سب کا اﷲتعالیٰ کو ازلی علم حاصل ہے ،اور یہ بات ناممکن ہے کہ کسی چیز کا اﷲتعالیٰ کو ازلی علم حاصل نہ ہو بلکہ بعد میں علم ہواہو۔
٭ دوسرامرتبہ یہ ہے کہ اس کا ئنات میں جوکچھ ہونے والاہے وہ سب اﷲتعالیٰ نے آسمان وزمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل لوحِ محفوظ میںلکھ دیا ہے۔جس کی دلیل رسول اﷲ ﷺ کا یہ فرمان ہے:
(کتب ﷲمقادیر الخلائق قبل ان یخلق ﷲ السموات والارض بخمسین الف سنۃ قال :وعرشہ علی الماء)(رواہ مسلم ۲۶۵۳،عن ابن عمر)
ترجمہ:اﷲتعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل تمام خلائق کی تقدیر لکھ دیں ۔فرمایا:اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔
٭ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے ارادہ ومشیئت پرایمان لایا جا ئے ۔یعنی اس کائنا ت میں جو کچھ ہورہا ہے اﷲتعالیٰ کی مشیئت سے ہورہا ہے، اور چونکہ سب کچھ اﷲتعالیٰ کی ملک ہے لہذا اﷲتعالیٰ کی ملک میں وہی کچھ ہوسکتا ہے جواﷲتعالیٰ ارادہ فرمالے ۔پس جو کچھ اﷲتعالیٰ چاہے گا وہی کچھ ہوگا،اور جوکچھ نہیںچاہے گا وہ ہرگز نہ ہوگا ۔ اﷲتعالیٰ نے فرمایا:
[اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَہٗ كُنْ فَيَكُوْنُ۝۸۲ ](یسین:۸۲)
ترجمہ:وہ جب کبھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی) ہے کہ ہوجا ،وہ اسی وقت ہوجاتا ہے۔
نیز فرمایا:
[وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۝۲۹ۧ ] (التکویر:۲۹)
ترجمہ:اور تم بغیر پروردگارِ عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔
٭ چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ اس کا ئنات میں جو کچھ ہے یا ہونے والا ہے سب اﷲتعالیٰ کی خلق وایجادہے،جو اﷲتعالیٰ کی مشیئت سے اس علمِ سابق (ازلی علم) کے مطابق عمل میں آتی ہے جواﷲتعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل لوحِ محفوظ میںلکھ دیاتھا،لہذا ہر ہر ذات ،اور ہر ہر فعل صرف اﷲتعالیٰ کی خلق وایجاد ہے۔
اﷲتعالیٰ نے فرمایا:
[اَللہُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ۝۰ۡ](الزمر:۶۲)
ترجمہ:اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔
نیز فرمایا:
[وَاللہُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ۝۹۶ ](الصفات:۹۶)
ترجمہ: حالانکہ تمہیں اور تمہارے اعمال کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے۔
ایمان بالقدر کا تعلق ایمان بالغیب سے ہے۔۔۔
اﷲتعالیٰ نے تقدیر میںجو فیصلے فرمادیئے اور انہیں لوحِ محفوظ میں تحریر فرمادیا وہ سب کا سب علمِ غیب ہے،جسے اﷲتعالیٰ کے سواکوئی نہیں جانتا۔البتہ مخلوق کو تقدیر کے فیصلوں کا علم درج ذیل دوصورتوں میں سے کسی ایک صورت کے ساتھ ہوسکتا ہے :
(۱) کسی چیز یا کام کے رونما ہونے سے ۔چنانچہ جب بھی کوئی چیز رونما ہوگی معلوم ہوجائے گا کہ یہی امرِ مقدور ہے، کیونکہ اگریہ امرِ مقدور نہ ہوتی تو ہرگز رونما نہ ہوتی ،کیونکہ جو اﷲچاہتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے ، اور جس چیز کا ہونا اﷲتعالیٰ نہ چاہے وہ ہرگز نہیں ہوسکتی ۔
(۲)دوسری صورت یہ ہے کہ رسول اﷲ ﷺ مستقبل میں رونما ہونے والے کسی واقعہ یا امر کی خبر دے دیں۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے ظہورِ دجال،خروجِ یاجوج وماجوج اور نزولِ عیسیٰ بن مریم u کی خبر دی۔ اس کے علاوہ اور بھی آپ ﷺ نے بہت سے امور کی خبر دی جو آخری دور میںظاہر ہونگے ۔ان تمام امور وواقعات کی خبر چونکہ الصاوق المصدوق محمد رسول اﷲ ﷺنے دی، لہذا ان کا حاصل ہونا لازمی ہے۔اور چونکہ ان تمام امور کا رونماہونا ایک طے شدہ حقیقت ہے لہذا یہ سب کچھ اﷲتعالیٰ کے علمِ سابق اور قضاء وقدر کے عین مطابق ہے۔ (لہذا ہمارایہ ایمان ہے کہ قربِ قیامت رونما ہونے والے یہ تمام واقعات برحق ہیں کیونکہ یہ سب رسول اﷲ ﷺ کی احادیث سے ثابت ہیں۔نیز یہ کہ ان تمام اموروواقعات کا اﷲتعالیٰ نے روزِ اول سے فیصلہ فرماکر تقدیر میں لکھ دیاتھا)
ہم مزید ایک مثال سے اس مسئلہ کو واضح کرتے ہیں۔رسول اﷲ ﷺ نے ایک ایسے واقعہ کی خبردی جس کا ظہور آ پ ﷺ کے زمانے کے بالکل قریب تھا ، چنانچہ ابوبکرۃt کی حدیث ہے فرماتے ہیں: رسول اﷲ ﷺ منبر پر تشریف فرماتھے اور حسن بن علی w آپ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے ،رسول اﷲ ﷺ کبھی لوگوں کو دیکھتے اور کبھی حسن کو، پھر فرمایا:
(ابنی ھذا سید ولعل ﷲ یصلح بہ بین فئتین من المسلمین )( بخاری:۳۷۴۶)
یعنی میرا یہ بیٹا سردار ہے اﷲتعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دوجماعتوں کے بیچ صلح کرائے گا۔
رسول اﷲ ﷺکی یہ خبر ۴۱ھ؁ میں حرف بحرف پوری ہوئی، چنانچہ اس سال مسلمانوں کی جمعیت متحد اورمجتمع ہوگئی ،حتی کہ اس سال کو ’’عام الجماعۃ‘‘کے نا م سے موسوم کردیا گیا۔
صحابۂ کرام رضوان اﷲ علیھم اجمعین نے آپ ﷺ کے اس فرمان سے یہ نکتہ اخذ کرلیا(کہ نبیﷺ کے دوسرے بیٹوں کے برعکس )حسن t بچپن میں فوت نہیں ہونگے بلکہ اتنی دیر تک ضرور زندہ رہینگے کہ صلح کے تعلق سے آپ ﷺ نے جو پیش گوئی فرمائی وہ آپ کے ہاتھوں پوری ہوجائے،اور کیونکہ یہ سب کچھ رونما ہوا لہذا یہی امرِ مقدور تھا۔ جس کا صحابۂ کرام کو قبل ا زوقوع (بوجہ فرمانِ رسول اﷲ ﷺ )علم ہوگیا۔
واضح ہو کہ حدیث کا یہاں تک کاحصہ جامع ترمذی کی روایت سے ہے،جس کی سند صحیح ہے،مستدرک حاکم وغیرہ میں کچھ جملے مزید وارد ہوئے ہیں،امام ذہبی aنے مستدرک کی تلخیص میں انہیں غیرمعتمد قرار دیا ہے،وہ جملے درج ذیل ہیں:
(۱)اِحفظِ اللهَ تَجٍدْهُ أَمَامَكَ.
تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کرہمیشہ اسے اپنے سامنے پائے گا۔
جامع ترمذی میں (امامک) کی جگہ (تجاھک) وارد ہے،دونوں الفاظ ہم معنی ہیں۔
(۲) تَعَرَّفْ إلى اللهِ في الرَّخاءِ يَعرِفْكَ في الشّدةِ.
آسانیوں اور آسائشوں میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی پہچان کروا،وہ تجھے سختیوں میں پہچان لیاکرے گا۔
یہ جملہ اس امر کا متقاضی ہے کہ جو بندہ صحت،تونگری اور فرصت وفراغت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتارہے گا،اللہ تعالیٰ اسے اس وقت یاد فرمائے گا جب یہ نعمتیں زائل ہوجائیں گی اور بندہ مشکلات اور امراض میں گِھر جائے گا،ان حالات میں بندے کی حاجات وضروریات شدت اختیار کرجاتی ہیں،لہذا اللہ تعالیٰ کا یاد کرنا اور فریاد رسی کرنا نیز نصرت کے اسباب کھول دینا،بہت بڑی نعمت قرارپائےگا۔
اللہ رب العزت بڑی سے بڑی مشکل ٹالنے پر قادر ہے،اصحاب الغار کاواقعہ اس پر شاہدِ عدل ہے،بخاری:(۵۹۷۴)ومسلم: (۲۷۴۳) کی حدیث کے مطابق تین افراد ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، ایک بڑی چٹان غار کے دروازے پر آگری اور ان کاراستہ بند ہوگیا، انہوں نے آسانی،صحت وتونگری کی حالت میں کی گئی اپنی ایک ایک نیکی کے وسیلے سے دعا کردی:ایک نے والدین کےساتھ حسن سلوک کی نیکی پیش کی، دوسرے نے حفاظتِ امانت کی نیکی کا واسطہ دیا، جبکہ تیسرے نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے برائی ترک کردینے ،حالانکہ وہ اس برائی پر پوری قدرت حاصل کرچکاتھا،کاوسیلہ پیش کیا۔
یہ تینوں نیکیاں انہوں نے اپنی آسانی اور صحت کے ایام میں انجام دی تھیں ،آج جبکہ وہ ایک مشکل میں گِھر چکے تھے جس سے نکلنے کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دے رہی تھی،اللہ رب العزت نے انہیں یاد فرمالیااور مصیبت کو ٹال دیا،بعض احادیث کے مطابق چٹان سرک گئی جبکہ بعض احادیث میں چٹان کے ریزہ ریزہ ہونے کا ذکر موجود ہے۔
(۳)وَاعْلَم أن مَا أَخطأكَ لَمْ يَكُن لِيُصيبكَ، وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُن لِيُخطِئكَ.
خوب جان لے کہ جو چیز تجھے نہیں مل سکی ،اس کا مل جانا ممکن نہیں اور جو چیز تجھے مل چکی اس کا نہ ملنا ممکن نہیں۔
یہ جملہ ایمان بالقدر کی روح کی حیثیت رکھتا ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں آپ کیلئے جس چیز کا حاصل ہوجانا لکھ رکھا ہے ،وہ لازماً حاصل ہوکررہے گی،دنیا کی کوئی طاقت اسے ٹال نہیں سکے گی،اور اللہ تعالیٰ نے جس چیز سے محرومی لکھی ہوئی ہے،وہ آپ کو قطعاً حاصل نہیں ہوگی،چاہے پوری دنیا اس کے حصول اور وقوع کیلئے تگ ودوکرتی رہے ،خلاصہ یہ ہے کہ وہی کچھ ہوتا ہے جواللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور جو اس نے تقدیر میں لکھ رکھا ہے،اور اللہ تعالیٰ جو چیز نہیں چاہتا وہ ہرگز واقع نہیں ہوسکتی۔
(۴) وَاعْلَمْ أنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الفَرَجَ مَعَ الكَربِ، وَأَنَّ مَعَ العُسرِ يُسراً.
اورخوب جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کے ساتھ ہےاور مصیبتوں کا ٹل جانا پریشانیوں کے ساتھ ہے،اور بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مدد اور نصرت کاحصول صبر کے ساتھ ہے،اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے صبر کا امتحان لیتاہے،بندے اگر واقعتاً صبر کادامن تھامے رکھیں تواللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت نازل ہوجاتی ہے۔
صبر سے مراد تین چیزیںہیں:1اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اعمال اختیار کرتے رہنا2اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچتے رہنا 3اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں لکھی ہوئی مشکلات ومصائب کو صبر کے ساتھ جھیلتے رہنا۔
حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بندے پر ٹوٹنے والی پریشانیاں بالآخر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ختم ہوجائیں گی اور بندہ آسانیوں اور خوشیوں سے مالامال ہوجائے گا،اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی توفیق،تدبیراور محض اسی کے امر سے ممکن ہے،اس کے علاوہ تکالیف ومشاکل کے رفع وکشف کا کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں:
[اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ۝۰ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝۰ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۝۶۲ۭ ](النمل:۶۲)
ترجمہ:بے کس کی پکار کو جب کہ وه پکارے، کون قبول کرکے سختی کو دور کر دیتا ہے؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو ۔
حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہرتنگی کےبعد آسانی کا آنا ایک لازمی امر ہے :
[فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۝۵ۙ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۝۶ۭ ] (انشراح:۵،۶)
پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے ،بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔
لہذا تنگیوں میں گِھرا ہر شخص اللہ تعالیٰ سے لَو لگاتے ہوئے ، دعائیں کرتے ہوئے اور اس کے وعدے کو سچا جانتے ہوئے، آسانیوں کا انتظار کرتارہے۔

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے