Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ دسمبر » بدیع التفاسیر قسط 186

بدیع التفاسیر قسط 186

۔ قسط 186 ۔۔۔ احسن الکتاب فی تفسیر ام الکتاب

شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

نیز سعد بن منصور عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ احادیث کا مذاکرہ کررہے تھے کہ کسی شخص نے کہا کہ انہیں چھوڑ دو ہمیں قرآن سناؤ، تو سیدناعمر نے فرمایا:
انک احمق اتجد فی کتاب اللہ الصلاۃ مفسرۃ أتجد فی کتاب اللہ الصیام مفسرا ان القرآن احکم ذالک والسنۃ تفسیرہ.(الفقیہ والمتفقہ للخطیب ۱؍۱۱۵موقوفا علی عمران بن حصین ،الرقم:۲۳۲)
یعنی تم توبے وقوف ہو کیا تمہیں نماز وروزہ کی مکمل تفصیل قرآن میں نظر آتی ہے؟ بلکہ قرآن نےتو محض احکامات ذکر کردیئے ہیں جس کی تفصیل وتفسیر تواحادیث میں ہے۔ ابوالقاسم لالکائی نے سیدنا علی سے روایت نقل کی ہے کہ جب وہ سیدنا ابن عباس کو خوارج سے مناظرے کیلئے روانہ کررہے تھے تو انہوں نے کہا اے امیرالمؤمنین میں قرآن کوخارجیوں سے زیادہ جانتاہوں توسیدنا علی نے فرمایا:
صدقت ولکن القرآن حمال ذو وجوہ تقول ویقولون ولکن حاجھم بالسنن فلم یبق بایدیھم حجۃ. (الفقیہ والمتفقہ للخطیب ۱؍۳۳۲موقوفا علی عمران بن حصین،الرقم:۶۰۱)
یقینا تم قرآن کو زیادہ جانتے ہو لیکن قرآن میں کئی ایسے الفاظ ہیں جن کے کتنے ہی معانی ہوسکتے ہیں اس لئے یہ خارجی (اور دوسرے اہل الرأی فرقے) اپنی خواہش کے مطابق غلط معنی اخذ کرکے عوام کو شبہات میں ڈال کر ورغلاتے او رگمراہ کرتے ہیں چنانچہ آپ ان سے حدیث وسنت کو سامنے رکھ کر گفتگو کریں(اس لئے کہ حدیث سےہی قرآن کا صحیح مفہوم متعین کیاجاسکتاہے،پھر ان کے لئے کوئی راہ فرار نہ ہوگی۔
جب ابن عباس نے اس طرز پر خارجیوں سے مناظرہ کیا تو وہ عاجز آگئے اور ان کے پاس کوئی حجت باقی نہ رہی، موجودہ دور کے فتنہ پرورفرقے قادیانی، چکڑالوی(منکرین حدیث) اور ملحد قسم کے لوگ یہی طریقہ اختیار کرتے ہوئے قرآن مجید کی، حدیث میں وارد تفسیر کی کوئی پرواہ نہیں کرتے بلکہ قرآنی آیات کے معانی اپنی خواہش نفسانی کے مطابق کرتے ہیں ،چنانچہ ایک ہی آیت کو کئی فرقے اپنی رائے کے ثبوت کیلئےپیش کرتے ہیں۔گویا کہ قرآن مجید کو جھگڑے اور اختلاف کا محور بنادیاگیاہے، اگر قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ مفسر یعنی نبی کریم ﷺ کی حدیث وسنت سے سمجھاجائے تو کبھی بھی اس قسم کا اختلاف برقرار نہیں رہ سکتا اور نہ ہی کسی دشمن دین کو فتنہ ڈالنے کےلئے کوئی چور دروازہ ملے گا، اس کی مزید توضیح کیلئے اس مثال سے سمجھا چاہئے کہ ایک چشمہ جس کے شیشے کے مختلف رنگ ہوتے ہیں مثلا کالا،لال، پیلہ، ہرا، اور نیلاوغیرہ اب جس رنگ کا چشمہ لگاکر دیکھاجائے گا تو دنیااسی رنگ کی نظر آئے گی ،مگر جب سفید رنگ کا اصلی چشمہ لگا کردیکھیں گے تو دنیا اپنے حقیقی رنگ میں ہی نظر آئے گی ۔
اسی طرح قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے اگر اس کی صحیح تفسیر یعنی رسول اللہ ﷺ کی حدیث وسنت کوسامنے رکھاجائے گا تو اس کی صحیح اور حقیقی تفسیر سامنے آئے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[اَللہُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ۝۰ۭ ](الانعام:۱۲۴)
یعنی اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کی امانت اور پیغام پہنچانے کے زیادہ لائق کون ہے۔
توپھر جب اس نے قرآن مجید کومحمدﷺ پر نازل فرمایا ہے تو یہ بات بالیقین معلوم ہوئی کہ وہی قرآن مجید کو سب سے زیادہ جاننے والے او ر سب سے بہتر مطلب سمجھانے والے ہیں۔
نیزبیہقی نے امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر سے کہا کہ:ہمیں قرآن میں بحالت حضر نماز (مکمل پڑھنے) کاذکر اور جنگ کی حالت میں(قصر)نماز کاحکم تو نظر آتا ہے مگر سفر (میںقصر) نماز کا کوئی ذکر نظر نہیں آتا!سیدنا عبداللہ بن عمر سے جواباً ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف (قرآن سمجھانے کے لئے) رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا ہم اپنی طرف سے کوئی عمل نہیں کرتے بلکہ ہم وہی کچھ کرتے ہیں جس طرح ہم نے آپ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔
(سنن ابن ماجہ:۱۰۶۶،سنن نسائی:۱۴۳۴،ابن خزیمہ:۹۴۶، ابن حبان:۱۴۵۱،مؤطا امام مالک،کتاب الصلاۃ باب قصر الصلاۃ فی السفر:۳۳۴،۳۸۹،۴۸۵)
سنن دارمی میں سعید بن جبیر تابعی سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان فرمائی توحاضرین میں سے کسی نے اعتراض کیا کہ قرآن کریم میں اس حدیث کے خلاف نظر آتا ہے، سعید بن جبیر نے فرمایا تجھے دوبارہ کبھی حدیث نہ سناؤں گا کیونکہ تو قرآن وحدیث کو باہم معارض سمجھتا ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ قرآن مجید کو تجھ سے زیادہ جانتے تھے۔
(سنن الدارمی۱؍۱۵۴،الرقم:۵۹۰)
نیزبیہقی اور دارمی نے حسان بن عطیہ دمشقی تابعی سے روایت نقل کی ہے کہ:کان جبریل علیہ السلام ینزل علی رسول اللہ ﷺ بالسنۃ کما ینزل علیہ بالقرآن یعلمہ ایاھا کما یعلمہ القرآن.
( السنۃللمروزی،ص:۳۲،۳۳الرقم:۱۰۲،سنن الدارمی:۵۸۸)
یعنی جبریل uجس طرح رسول اللہ ﷺ پر قرآن مجید لیکر نازل ہوتے تھے بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے حدیث لیکر نازل ہوتے تھے، جس طرح جبریل uاللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن لاکر رسول اللہ ﷺ کوسکھاتے تھے اسی طرح حدیث کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لاکر نبی کریم ﷺ کو سکھاتے تھے۔
یہ روایت امام ابوبکر خطیب بغدادی کی کتاب الکفایۃ،ص:۱۵ میں بھی ہے، جس میںیہ الفاظ بھی ہیں کہ
السنۃ تفسیر القرآن.یعنی حدیث ،قرآن مجید کی تفسیرو تشریح (کرتی) ہے۔
اسی طرح بیہقی میں امام مکحول تابعی سے نیز سنن دارمی میں یحیی بن ابن کثیر تابعی سے روایات مذکور ہیں کہ قرآن مجید کے لئے حدیث سے تفسیر کی ضرورت ہے کیونکہ حدیث،قرآن کی شرح اور وضاحت کرنے والی ہے۔ بیہقی نے مطرف بن عبداللہ تابعی سے روایت کی ہے کہ:
واللہ ما نرید بالقرآن بدلا ولکن نرید من ھو اعلم بالقرآن منا.
یعنی ہماراحدیث کو(کثرت سے) پڑھنے اور پڑھانے کایہ مطلب نہیں ہے کہ ہم حدیث کوقرآن کا عوض یا نعم البدل سمجھتےہیں بلکہ یہ سب کچھ اس لئےہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن مجید کو ہم سے زیادہ جانتے تھے ، یعنی ہم قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے حدیث کو پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، نیز سیوطی نے اپنے رسالے میں اسلاف کے دیگر کئی اقوال بھی نقل کئے ہیں امام بیہقی سے نقل کرتے ہیں کہ:
ان السنۃ مع الکتاب اقیمت مقام البیان عنداللہ کما قال اللہ وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم لاان شیئا من السنن یخالف الکتاب.
(مفتاح الجنۃ للسیوطی،ص:۴۳،۴، طبع الجامعۃ الاسلامیہ المیدنہ المنورۃ)
یعنی حدیث کاد رجہ ومقام یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی وضاحت اور تشریح کیلئے نازل فرمایا ہے،جیسا کہ سورۃ النمل کی اس آیت میں ذکر ہوا، اس لئے قطعی طور پر یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ کوئی حدیث قرآن مجید کے خلاف بھی ہوسکتی ہے۔
الحاصل: ہمیشہ سے سلف کا یہ متفقہ مسلک رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث قرآن مجید کی تفسیر، تشریح اور وضاحت ہے اس لئے تفسیر کے سلسلے میں قرآن مجید کے بعد سب سے بڑا درجہ حدیث کا ہے،جیسا ابن کثیر کے مذکورہ قول سے معلوم ہوا، بلکہ حدیث سے تفسیر کرنے کے کئی فوائد بھی ہیں:
الف: اس طریق پر تفسیر کرنے سےمفسر زیادہ تراغلاط سے محفوظ رہتا ہے، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کاقول بھی وحی ہے:
[وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى۝۳ۭ اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى۝۴ۙ ] (النجم:۳،۴)
ترجمہ:اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے ۔
ب: معصوم وغیر معصوم کے درمیان فرق کو ہرصاحب فہم بخوبی سمجھ سکتا ہے، اور اہل اسلام کے عقیدے کے مطابق معصوم(ہرخطا سےمحفوظ) صرف اور صرف نبی کی ذات ہی ہوسکتی ہے کوئی بھی غیر نبی معصوم نہیں ہوسکتا۔
ج: غیرنبی کی تفسیر پر کئی اعتراضات وارد ہوسکتےہیںمگر رسول اللہ ﷺ کی تفسیر پرکوئی بھی مسلمان اعتراض نہیں کرسکتا۔
د: تفسیر کرتے وقت حدیث رسول ﷺ کو سامنے رکھنے سے کوئی اختلاف باقی نہیںرہتا، دوسرے لوگوں کے اقوال خواہ وہ کوئی بھی ہوں انہیں سامنے رکھنے سے یقینا اختلاف پیداہوگا۔
فائدہ: قرآن کریم میں کئی ایسے مقام بھی ہیں جوبغیرحدیث کے کسی بھی صورت،حل نہیں ہوسکتے،تفسیر میں جابجا آپ کو ایسی مثالیں ملیں گی، بطورنمونہ یہاں چندامثلہ ذکر کہ جاتی ہیں:
(۱)[يُوْصِيْكُمُ اللہُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ۝۰ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ۝۰ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَاۗءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ۝۰ۚ وَاِنْ كَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ۝۰ۭ ](النساء:۱۱)
اس آیت میں تین صورتیں بیان ہوئی ہیں:1جس صورت میں ورثاء بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہوں۔2جب دوسے زیادہ تین یا اس سے بھی زیادہ بیٹیاں ہوں3جب ورثاء میں صرف ایک بیٹی ہو۔
آیت کریمہ میں ان تین صورتوں کاحکم مذکور ہوا ہے جبکہ چوتھی صورت میں جب ورثاء میںدوبیٹیاں ہوں کاحکم ذکرنہیں کیاگیا ، یہ مشکل صرف حدیث کی طرف رجوع کرنے سےہی حل ہوسکتی ہے، جس کو اپنے مقام پر بیان کیاجائے گا۔ان شاء اللہ
(۲)[وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۝۰۠ ] (آل عمران:۱۰۳)
مفسرین علماء کرام نے’’حبل اللہ‘‘ سے مراد قرآن مجید لیا ہے، یہی مراد منکرین حدیث بھی لیتے ہیں ،مگر یہ معنی باعتبارِ لغت نہیں بلکہ حدیث میں یہ معنی مذکور ہے،چنانچہ( صحیح ابن حبان۱؍۳۳۰،۳ ۳۱الرقم:۱۲۳ میں) زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا:
انی تارک فیکم کتاب اللہ ھوحبل اللہ من اتبعہ کان علی الھدی ومن ترکہ کان علی الضلالۃ.(ترتیب ابن حبان للفارسی۱؍۱۲۴،صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضائل علی بن ابی طالبؓ،الرقم:۲۴۰۸)
یعنی میں تمہارے درمیان کتاب اللہ چھوڑ کر جارہاہوں وہی حبل اللہ یعنی اللہ کی رسی ہے(جیسا کہ مندرجہ بالہ آیت میں مذکور ہے) جس نے اس کی اتباع کی وہ ہدایت پرہوگا اور جس نے اسے پس پشت ڈال کر چھوڑدیا وہ گمراہ ہوجائےگا۔
اس بارےمیں مزیدروایات بھی ہیں۔
(۳)[وَدَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِيْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ۝۰ۚ وَكُنَّا لِحُـكْمِہِمْ شٰہِدِيْنَ۝۷۸ۤۙ فَفَہَّمْنٰہَا سُلَيْمٰنَ۝۰ۚ ] (الانبیاء:۷۸،۷۹)
ترجمہ:اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو یاد کیجئے جبکہ وه کھیت کے معاملہ میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر چگ گئی تھیں، اور ان کے فیصلے میں ہم موجود تھے ،ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا۔
حدیث شریف کی طرف رجوع کئے بغیر اس آیت کامفہوم نہیں سمجھا جاسکتا اور نہ ہی یہ معلوم ہوگا کہ سیدنا سلیمانuنے کونسا فیصلہ فرمایاتھا، اور اب ایسی صورتحال پیداہوجائے توکیاکرناہوگا؟ یہ تمام باتیں صرف حدیث سے ہی معلوم ہوسکتی ہیں۔
ان کے علاوہ کئی مثالیں اور بھی ہیں جن کاذکر تفسیر میں اپنے اپنے مقام پر آئے گا۔وباللہ التوفیق
فائدہ:تفسیر القرآن بالحدیث پر کئی کتب لکھی جاچکی ہیں،خصوصاً تفسیر سفیان الثوری، تفسیر ابن جریر، تفسیر ابن کثیر، اور الدر المنثور وغیرہ مطبوع ہیں ان کے علاوہ تفسیر بقی بن مخلد، تفسیر ابن ابی حاتم، تفسیر ابن مردویہ وغیرھا من التفاسیر میں وہ احادیث مذکور ہیں جن سے قرآن مجید کی تفسیر کرنے اور اسے سمجھنے میں مددملتی ہے۔ واللہ الھادی الی سواء السبیل.
(جاری ہے)

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے