Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ ستمبر » ماہِ ذی الحج کی اہمیت

ماہِ ذی الحج کی اہمیت

حافظ محمدصہیب ثاقب
مدرس: المعہد السلفی کراچی

ذی الحج کامہینہ حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے۔ ماہِ ذی الحج میں حج اداکیاجاتاہے جو اسلام کا ایک رکن ہے۔ اسی ذی الحج کی ۱۰تاریخ کو عیدالاضحیٰ منائی جاتی ہے۔ اس روز مسلمان اللہ کے حکم سے سنتِ ابراہیمی کو پوراکرتے ہوئے جانور ذبح کرتےہیں۔
عشرہ ذی الحج کی فضیلت:
اس ماہ کےپہلے دس دنوں کی بڑی فضیلت ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’’قسم ہے فجر کی! اور اس راتوں کی‘‘(سورۃ الفجر:۱،۲)اس آیت سے اکثر مفسرین نے ذی الحج کے پہلے عشرہ کی دس راتیں مراد لی ہیںجس سے ان کی فضیلت کا اندازہ ہوتا ہے۔
عشرہ ذی الحج کی فضیلت کے بارے میں چند احادیثِ مبارکہ:
(الف)عبداللہ بن عباسwبیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:’’عشرہ ذی الحج میں کئے گئے اعمال صالحہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اللہ کو اتنا پسند نہیں جتنا اس مہینے میں کیے جانے والے نیک اعمال پسند ہیں، سوائے اس جہاد کےجس میں انسان شہید ہی ہوجائے۔(صحیح بخاری:۹۶۹)
(ب)اس مہینے کے ابتدائی نودنوں کے روزے رکھنا نبی ﷺ سے ثابت ہے۔(ابوداؤد:۲۱۲۹)خاص طور پر یومِ عرفہ ۹ذی الحج کے روزے کا اہتمام کرناچاہئے کیونکہ نبی ﷺ نے اس دن کار وزہ رکھنے والے شخص کو یہ خوش خبری سنائی ہے کہ اس کے گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے(صغیرہ)گناہ مٹادیئے جاتے ہیں۔(صحیح مسلم:۲۷۴۶)
۹ذی الحج کا روزہ رکھنا حاجیوں کیلئے غیرمستحب ہے کیونکہ نبی ﷺ نے اس دن دوورانِ حج روزہ نہیں رکھا۔(صحیح بخاری:۱۹۸۸،صحیح مسلم:۲۷۴۶)
یوم النحر کی فضیلت:
۱۰ذی الحج کو یوم النحر (قربانی کادن) کہاجاتاہے۔ حدیث میں ہے کہ’’اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والادن یوم النحر(قربانی کادن) ہے۔‘‘(ابوداؤد:۱۷۶۵)۱۰ذی الحج کو عیدالاضحیٰ کی نماز باہر کھلے میدان میں اداکرنا اور پھر قربانی کرنا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل ہے اس کا اہتمام کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ نمازعید کیلئے گھر سے کچھ کھائے پیئے بغیر تکبیریں پڑھتے ہوئے عیدگاہ کی طرف جانا، عورتوں کو بھی عید گاہ میں لے جانا،عیدگاہ سے واپسی پر راستہ تبدیل کرنا، قربانی کاگوشت خود بھی کھانا ،رشتہ داروں ،دوستوں اور فقراء ومساکین کو بھی دینا۔ یہ سارے اعمال مختلف احادیث سے ثابت ہیں۔نبیشہ الہذلی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:’’ایام تشریق (۱۱،۱۲،۱۳ذی الحج) کھانے پینے اور اللہ کاذکر کرنے کے دن ہیں۔(صحیح مسلم:۱۱۴۱)اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ تین دن قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے ہیں۔(مسند احمد والسلسلۃ الصحیحۃ:۵؍۵۹۷)
قربانی کرنے والوں اور قربانی کی استطاعت نہ رکھنے والوں کا عشرہ ذی الحج میں بال اورناخن وغیرہ کٹوانا:
(الف)نبی ﷺنے فرمایا:’’جب تم ذی الحج کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھے تواپنے بال اورناخن نہ کاٹے یہاں تک کہ وہ قربانی کرلے۔‘‘(صحیح مسلم:۱۹۷۷)
(ب) ایک شخص نے نبی ﷺ سے قربانی کی عدم استطاعت کا ذکر کیا توآپﷺ نے اسے کہا:’’تم ۱۰ذی الحج کو اپنے بال کٹوالینا، ناخن تراش لینا،مونچھیں کٹوالینااور زیرناف بال صاف کرلینا،یہی اللہ کے نزدیک تمہاری قربانی ہے۔
(مسنداحمد۸۱؍۱۰،احمد شاکرنے اس حدیث کی سند کوصحیح کہا ہے۔)
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ قربانی کی عدم استطاعت والاشخص اگر عشرہ ذی الحج میں حجامت وغیرہ نہ کروائے اورعیدالاضحیٰ کے دن حجامت وغیرہ کرلے تو اسے بھی قربانی کا ثواب مل جائے گا۔
اس ماہ کی رسوم وبدعات:
شب عید کوفضیلت والی رات سمجھ کر اس میں خصوصی عبادات کا اہتمام کرنا،بلاعذر مسجد میں عید کی نماز ادا کرنا، نماز عید کے بعد گلے ملنے کوضروری سمجھنا، اکھٹے مل کر تکبیرات پڑھنا، نماز عید سے پہلے قربانی کرنا اور (یوم النحروایام تشریق میں)رات کے وقت قربانی کرنے کو مکروہ سمجھنا، عیدالاضحیٰ اور ایام تشریق میں سے کسی دن کاروزہ رکھنا۔یہ تمام اعمال اختیار کرنے سے گریز کرناچاہئے کیونکہ شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں۔

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے