Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اکتوبر » حدیث:انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لانبی بعدی: سے غلط استدلال اور اس کاجواب

حدیث:انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لانبی بعدی: سے غلط استدلال اور اس کاجواب

شفیق احمد،مدرس: المعہد السلفی کراچی
مأخوذ:بدیع التفاسیرجلد۸ص:۵۰۶تا۵۰۹

[وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْہِ ہٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ ] (الاعراف:۱۴۲)
ترجمہ:موسیٰuنے اپنے بھائی ہارون uسے کہا میری قوم میں میری طرف سے نیابت کرنا۔
شیعہ صاحبان اس آیت کے ساتھ ایک حدیث ملاکر امیرالمؤمنین علیtکے خلیفہ اول ہونے پر استدلال کرتے ہیں،یہ حدیث مشکوٰۃ ،ص:۵۶۳باب مناقب علی بن ابی طالب ،الفصل الاول میں اس طرح ہے:
عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہ ﷺ لعلی انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الاانہ لانبی بعدی.
(متفق علیہ)
ترجمہ:سعد بن ابی وقاص wسےر وایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علیtکوفرمایا:تم میرے لئے ایسے ہوجیسے ھارون uکا مقام موسیٰuکے پاسمگر یہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
الجواب:وباللہ التوفیق.
1موسیٰuنے ان کو وفات کے وقت خلافت کیلئے نہیں کہاتھا، بلکہ ہارون uموسیٰuسے پہلے ہی فوت ہوگئے تھے۔(البدایہ والنھایہ ۱؍۳۱۷،۳۱۸)
اس لئے یہ قیاس مع الفارق ہے۔
فتح الباری۷؍۷۴میں ہے کہ اس بات پر سب کااتفاق ہے کہ موسیٰuسے پہلے ہارونuفوت ہوگئے تھے۔اس لئے ان کی خلافت زندگی کے ان دنوں کی تھی جس میںموسیٰuاپنی قوم کے پاس موجود نہیں تھے۔
اسی طرح امام ابوسلیمان خطابی اعلام الحدیث شرح الصحیح البخاری ۳؍۱۶۳۷میں فرماتے ہیں کہ اس بات پر تنبیہ ہوجاتی ہے کہ علیtکی خلافت رسول اللہ ﷺ کے بعد کیلئے نہیں بلکہ اس خاص عرصے کیلئے ہے جس میں آپﷺ مدینے میں موجود نہیں تھے۔
الثانی۔الثالث:رسول اللہ ﷺ اپنی عدم موجودگی والے مواقع مثلاً: جنگ یاحج وعمرہ کے مواقع پر دیگر کئی صحابہ کرام کو اپنا خلیفہ اور نائب بنایا۔
مثلاً:(۱)جنگ ابواء میں رسول اللہ ﷺ نے سعد بن عبادہt کو (۲) بواط والی جنگ میں سعد بن معاذ tکو(۳)غزوہ کرز بن جابراور غزوہ مریسیع میں زید بن حارثہt کو (۴)ذی العشیر والی جنگ میں ابوسلمہ بن عبدالاسد tکو (۵) بدربن قینقاع اور سویق والی جنگوں میںابولبابہ بن عبدالمنذرالصمدی tکو خلیفہ مقررفرمایا۔
(۶) قرقرۃ الکوزبن سلیم، احد،جمراء الاسد، بنی النفیر،خندق (احزاب) بنی قریظہ ،بنی لحیات،الفابہ جس کو قرد بھی کہاجاتاہے ،حدیبیہ اور فتح مکہ ، ان سب جنگوں میں عبداللہ بن ام مکتوم tکو۔
(۷) بدر الموعود میں عبداللہ بن رواحہtکو
(۸) غطفان اور ذات الرقاع میں عثمان بن عفانtکو
(۹) دومۃ الجندل اور خیبر میں سباع بن عرفطۃالغفاری tکو جانشین مقرر فرمایا۔
(۱۰) عمرہ قضاء کے موقعے پر ابورھم کلثوم بن حصین tکو خلیفہ مقرر کیا۔
(دیکھئے:طبقات ابن سعد،ص:۸تا۱۳۵ج۲)
(۱۱) غزوہ بنی مصطلق میں ابوذر غفاری tکو کچھ کے خیال کے مطابق نمیلہ بن عبداللہ لیثی tکوخلیفہ مقرر فرمایا۔
(سیرۃ ابن ہشام۳؍۲۸۹)
پھر ان میں سے توکوئی بھی خلیفہ مقرر نہ ہوا،حالانکہ زندگی میں آپﷺ اپنی غیر موجودگی میں مختلف لوگوں کو اپنی صوابدید پر خلیفہ مقرر کرتے تھے۔
رابعا:تبوک کے وقت بھی امام ابن سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں محمد بن سلمہ tکو خلیفہ مقرر کیاتھا،پھر لکھتے ہیں :
وھو اثبت عندنا ممن قال استخلف غیرہ.
(طبقات ابن سعد۲؍۱۶۵)
یعنی یہی قول ہمارے نزدیک زیادہ ثابت ہےبنسبت اس قول کے جس میں کسی اور کو خلیفہ مقرر کرنے کانام لیاگیاہے۔
(سیرۃ ابن ہشام۴؍۵۱۹)میں ہے:
قال ابن ہشام وستعمل علی المدینۃ محمد بن سلمۃ الانصاری وذکر عبدالعزیز بن محمد الدراوردی عن ابیہ ان رسول اللہ ﷺ استعمل علی المدینۃ مخرجہ الی تبوک سباع بن عرفطۃ وخلف رسول اللہ ﷺ علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیہ علی اھلہ وامرہ بالاقامۃ فیھم.
امام ابن ہشام فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک کے وقت مدینہ منورہ میں محمد بن سلمہ الانصاری کو خلیفہ مقرر کیاتھا۔عبدالعزیز بن محمد بن عبید دراوردی اپنے والد سے نقل کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک کی طرف نکلتے وقت مدینہ میں سباع بن عرطفہ tکو مقرر فرمایا۔ ابن ہشام فرماتےہیں کہ علیtکو اپنے گھر والوں کا جانشین مقرر کے گئے تھے اور ان کوان کے ساتھ رہنے کاحکم دیکر گئے تھے ۔
ثابت ہوا کہ یہ قول خود قطعی نہیں کہ آپﷺ نے علیtکو خلیفہ مقرر کیا تھا، بلکہ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں،بقول ابن سعد صحیح وثابت قول وہی ہے جس میں محمد بن سلمہ tکا ذکر ہے۔
بلکہ علیtکو اپنے اہل کی حفاظت اور خدمت کیلئے اپنے طور پر مقرر کرکے گئے تھے۔
جیسا کہ بڑی جنگ بدر کے وقت،عثمانtکو اپنی بیٹی رقیہ r جو ان کے نکاح میں تھیں اور اس وقت بیمار تھیں،کی حفاظت وخدمت کی خاطر اپنے طور پران کے پاس چھوڑکر گئے تھے ، جبکہ اس وقت مدینہ منورہ میں جانشین ابولبابہ بن عبدالمنذرtتھے۔
(طبقات ابن سعد۲؍۱۲)
پھر علیtکوبچوں کیلئے چھوڑنا ایسے ہی تھا۔
جیسے عثمان tکو اپنی بیٹی کی خدمت وحفاظت کیلئے چھوڑ کر گئے تھے۔وھوالخامس.
سادساً: یہ روایت کہ تم میرے بعد ہارونuکی طرح ہو،اس تشبیہ سے اگر خلافت پر استدلال کیا جاسکتا ہے توپھر رسول اللہ ﷺ نے ابوبکرصدیقtکو ابراھیم وعیسیٰ علیھما السلام اور عمرtکو نوح وموسیٰ علیھما السلام کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔
وان مثلک یاابابکر کمثل ابراھیم علیہ السلام قال من تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم.ومثلک یاابابکر کمثل عیسیٰ قال ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم.ان مثلک یاعمر کمثل نوح قال رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا.وان مثلک یاعمر کمثل موسیٰ قال رب اشد علی قلوبھم فلایؤمنوا حتی یروا العذاب الیم.(مسندا حمد۱؍۳۸۳)
ترجمہ:نبیﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر الصدیقtآپ کی مثال ابراھیم uکی طرح ہے، کہ ا نہوں نے کہا:جو میری اتباع کرے وہ مجھ سے ہے اور جومیری نافرمانی کرے پس بیشک توبخشنے اوررحم کرنے والاہے۔
اوراے ابوبکرآپ کی مثال عیسیٰuکی طرح ہے کہ انہوں نے کہا: اگر تو ان کوعذاب دے توتیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کومعاف کردے توبیشک توغالب وحکمت والاہے۔اورآپ کی مثال اے عمر!نوحuکی طرح ہے کہ انہوں نے کہا: اے رب زمین پر کسی کافر کے گھر کو نہ چھوڑ۔اورآپ کی مثال اے عمر!موسیٰuکی طرح ہے، کہ انہوں نے کہا:اے رب ان کےد لوں کوسخت کردے اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کےد ردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
یقیناًیہ چاروں انبیاء کرام نوح،ابراھیم،موسیٰ،عیسیٰ oہارونu سے افضل اور زیادہ درجےو الے تھے، لہذا ان احادیث کی رو سے شیخین ابوبکر وعمرwزیادہ افضل اوربطریق اولیٰ خلافت کے حقدار کہلائیں گے۔
سابعاً:یہ حدیث متعدد طرق سے،امام نسائی نے اپنی کتاب خصائص امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبt میں ذکر کی ہے،ص:۶۷ میں یہ الفاظ ہیں کہ
لماغزا رسول اللہ غزوۃ التبوک خلف علیا بالمدینۃ فقالوا فیہ ملہ وکرہ صحبتہ الذراری والنساء حتی قالوا ملہ وکرہ صحبتہ فقال لہ النبی ﷺ انما خلفتلک علی اھلی اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ غیر انہ لانبی بعدی۔
یعنی:نبیﷺ تبوک کی لڑائی کی طرف نکلے توعلیtکو مدینہ منورہ میں پیچھے چھوڑا،جس پرلوگوں نے کہا کہ نبیﷺ آپ سے تنگ ہوگئے ہیں اور آپ کو پسند نہیں کرتے،اس لئے چھوڑ کر گئے ہیں، پھر علیtپیچھے جاکرراستے میں ملے اورعرض کیا کہ آپ نے مجھے مدینہ میں بچوں اورعورتوں کے ساتھ چھوڑا ہے، جس پرمجھے لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ مجھ سے تنگ آگئے ہیں اور آپ کی صحبت کو پسند نہیں کرتےتونبی ﷺ نے فرمایا:اے علی!میں نے آپ کو صرف اپنے گھر والوں کی حفاظت کیلئے چھوڑا ہے کیا تم اس بات پرراضی نہیں ہو کہ تم میری طرف ایسے ہو جیسے ہارون uموسیٰuکیلئے تھے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جب علیtکو لوگوں نے طعنے دیئے تب ان کی تالیف قلبی کیلئے یہ الفاظ ارشاد فرمائے۔
اس حدیث سے یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ آپﷺ نے علی t کودارالخلافۃمدینہ کاخلیفہ بناکر نہیں گئے تھے بلکہ اہل وعیال کیلئے مقرر کرکے گئے تھے۔وھوالثامن.
تاسعاً:ثابت ہوا کہ علیtکو پیچھے رہنا پسند نہ تھا کہ مجھے بچوں اورعورتوں کی طرح کمزور سمجھ کر چھوڑ کر گئے ہیں، پھر نبی ﷺ نے ان کوسمجھایا اورعلیtنے خود اس فرمان کو نبی ﷺ کی وفات کے بعد خلیفہ ہونے کیلئے نہیں سمجھا!اورنہ ہی ابوبکرtکے خلیفہ بننے پر کو ئی اعتراض کیا۔
عاشراً:سیرۃ ابن ہشام(۴؍۵۱۹)میں ہے کہ علیtنے کہا:
یا نبی اللہ زعم المنافقون انک انما خلفتنی انک ستثقلتنی وتخففت منی فقال کذبوا ولکنی خلفتک لما ترکت ورائی فارجع فاخلفنی فی اھلی واھلک افلا ترضی یا علی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الاانہ لانبی بعدی.
یعنی اللہ کے نبیﷺ منافقوں کاگمان ہے کہ آپ نے مجھے بچہ سمجھ کر پیچھے چھوڑا اور آپ نے مجھے بوجھ سمجھاہے،نبی ﷺنے فرمایاکہ جھوٹ بولاہے انہوں نے لیکن میں نے آپ کوصرف اس وجہ سے چھوڑا ہے کہ اپنے گھروالے چھوڑے ہیں،تم لوٹ جاؤ میرے اور اپنے اہل کے اندر میری طرف سے جانشین بن جاؤ،اے علی! کیا تم اس بات پرراضی نہیں ہو کہ تم میرے پیچھے ایسے ہو جیسے ہارون uموسیٰuکے پیچھے جانشین تھےسوائے اس بات کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ثابت ہواکہ یہ محض منافقوں کی شرارت تھی جنہوں نے علی tکو نبی ﷺ سے بدظن کرنےکی سازش کی، مگر یہ حقیقت ظاہر ہوئی اورثابت ہوا کہ اس بات کاخلافت کے ساتھ کوئی تعلق نہیںبلکہ اس حدیث سے علیtکیلئے بہت بڑی فضیلت ظاہر ہوئی جس کاکوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا۔
اور یہ فضیلت ایسی نہیں جس میں صرف علیtکو خصوصیت حاصل ہو کوئی اورصحابی شریک نہ ہو،بلکہ ہم صحابہ کی ایک جماعت کیلئے یہ فضیلت ثابت کرچکے ہیں کہ ان سب کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی غیرموجودگی اپنا جانشین مقرر کیا، جیسے موسیٰuنے ہارونuکو اپنی غیرموجودگی میںاپنا جانشین مقرر کیاتھا۔وللہ الحمد

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے