احکام ومسائل

G.147
جناب مفتی صاحب السلام علیکم
عرض یہ ہے کہ ہمارے والد محترم کا انتقال ہوگیا ہے، ہمارے والد کے پسماندگان میں ایک بیوی سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی جبکہ دوسری بیوی (ہماری والدہ) سے چاربیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ ہمارے والد کی جائیداد گاؤں ضلع دہرلوٹر میں واقع ہے۔
اسی ماہ اگست 2016ء میں ہم بھائی گاؤں گئے تقسیم وارثت کے لئے تووہاں موجود بھائی نے شرعی وراثت کوماننے سے انکار کیااور اپنی مرضی کی تقسیم پربضدرہا اور کہاکہ گاؤں میں کوئی بہنوں کوحصہ نہیں دیتا اور گاؤں کے دیگررہائشیوں نے بھی ان کی تصدیق کی اور وہ بات بات میں کہتے کہ عدالت میں جاؤاور کیس کردو ورنہ کچھ حصہ طے کرکے بہنوں کو اور باقی ہم پانچ بھائیوں میں پانچ حصوں میں تقسیم کرو۔ ہم چونکہ مستقل کراچی کے رہائشی ہیں اور وہاں کی باتوں کو زیادہ نہیں سمجھتے لہذا ہم نے یہ طے کیا کہ ہم پانچ حصوں میں تقسیم کرلیتے ہیں اور اپنے حصے میں جوآجائے اس میں سے شرعی طور پر اپنی والدہ اور بہنوں اور بھائیوں میں تقسیم کردیں گے۔ان شاءاللہ
یہ عمل جو کہ ہم کرچکے ہیں کیا یہ درست ہے؟
اگر ہم ایسا نہ کرتے تو چونکہ گاؤں کے لوگ بھی اس معاملے میں ان کے طرف دار تھے اور وہ جائیداد ویسے ہی ان کے پاس وہیں رہتی اور اگر کسی کو بھی اس میں سے کچھ نہ ملتا۔
آپ سے گزارش ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میںہماری رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: اگر ہم نے درست کیا تو جو اس بھائی کی بہن کاحصہ ہے وہ ہمارے ذمہ ہوگا، یا اس کابھائی اس کو دے گا کیونکہ اس بھائی نے کہا کہ میں اپنی بہن کو راضی کرلوں گا، اس تقسیم پر اور اس بہن نے ہمارے سامنے جو کچھ حصہ اس کے لئے مقرر کیا تھا اس بہن نے اس پر دستخط کرکے تسلیم کرلیا۔(سائل:جاویداختر)
J
الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
سائل جاویداختر نے جن احوال وظروف میں اپنے والد کی وراثت کے تعلق سے گاؤں میں موجود بھائی کافیصلہ جوشریعت کے مطابق نہ تھا۔اس کو قبول کرکے اپنے حصے میں آنے والی رقم سے اپنی بہنوں اور والدہ کوحصہ دینے کاجوفیصلہ کیا ہے وہ انہیں محروم کرنے سے بہتر ہے۔
امید ہے کہ آپ بموجب فرمان باری تعالیٰ:[لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۭ ]یعنی: اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتا۔(البقرۃ:286)
لہذاجومعاملہ آپ کے بس سے باہر تھا اس میں شرعاً آپ پر کوئی گرفت نہیں اور جومعاملہ آپ کے اختیار میں تھا اس میں آپ نے جن کا حق وحصہ تھا اسے اداکیا،یہی شریعت اسلامیہ کی تعلیم ہے ارشاد نبوی ہے:فاعط کل ذی حق حقہ.ہر حق والے کو اس کاحق دو۔
(صحیح بخاری)
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:[لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ۝۲۷۹ ] نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ ہی تم پر ظلم کیاجائے۔(البقرۃ:279)
اور جہاں تک اس مسئلہ کا تعلق ہے کہ اس بھائی نے اپنی بہن کو حق یعنی وراثت میں حصہ نہیں دیا تو اس کاآپ کو کوئی گناہ نہیں ہے اسے چاہئے کہ وہ معاف کروانے کے بجائے اس کاحق اسے دیکر فارغ کردے، نیزآپ، والد کی وراثت میں تمام اولاد کاحصہ ہوتا ہے اس کے دلائل قرآن وسنت کی روشنی میں جمع کرکے یا کسی اہل علم سے لکھواکر اس بھائی کو بھیجیں،اس طرح ممکن ہے وہ اپنی اصلاح کرلے اورآپ کی طرف سے بھی اتمام حجت ہوجائے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
G.148
جناب مفتی صاحب السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کتاب وسنت کی روشنی میں:
میرا مسئلہ یہ ہےکہ میرے بھائی محمدصابر ولدعبدالجبار کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہوگیا ہے اس کے بعد میری بھابھی محمدصابر مرحوم کی اہلیہ کا بھی حال ہی میں انتقال ہوگیا ہے ، اب ان کے وارثوں میں ان کی ایک بیٹی شازیہ محمدصابر جوکہ لے پالک ہےاور شادی شدہ ہے۔
مرحوم محمدصابر کے وارث:(۱) محمدصادق (چھوٹابھائی) محمد صادق کے تین بیٹے اوردوبیٹیاں ایک شادی شدہ اور ایک غیرشادی شدہ۔
(۲)عبدالسلام(بڑےبھائی)اور اس کی ایک شادی شدہ بیٹی۔
(۳) مبینہ(بڑی بہن مرحومہ) اور ان کی دوبیٹیاں شادی شدہ ہیں۔
مرحوم محمد صابر کی اہلیہ نفیسہ (مرحومہ) کے وارث
والدہ،ایک بہن اور دوبھائی۔
ان سب کا جورشتہ لکھاگیا ہے،کتاب وسنت کی روشنی میں آپ فرمائیں کہ مرحوم کے مکان اور مال واسباب میں کس کا کتنا حصہ ہے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
نوٹ: مرحوم کے انتقال سے پہلے ایک بھائی (عبدالسلام)اور بہن فوت ہوچکے تھے کیا ان کی اولاد وارث ہوگی؟
J
الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
مرحوم محمدصابر ولدعبدالجبار کی وراثت میں ان کی بہن اوربھائی کا کوئی حصہ نہیں جو ان کی زندگی میں فوت ہوچکے تھے۔
اور نہ ہی ان کی اولادکا کوئی حصہ شرعابنتاہے۔ مرحوم کے اصل وارث ان کی اہلیہ ،جن کاحصہ بموجب فرمان باری تعالیٰ:[وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ۝۰ۚ ] (النساء:12) اور ان (بیویوں) کیلئےجوکچھ تم نے چھوڑا ہے اس میں سے چوتھا حصہ ہے اولاد نہ ہونے کی صورت میں۔ یہ حصہ مرحوم کی بیوہ(جن کااب انتقال ہوچکا ہے) اس کے ورثاء یعنی والد اور بہن بھائی کوملے گا۔یعنی کل مال کے چھ حصے ہونگے چھٹا حصہ والدہ کو بقیہ پانچ حصوں میں سے ایک حصہ بہن کو اور چارحصے دوبھائیوں کے درمیان تقسیم کردیئے جائیں۔
کل مال واسباب سےمذکورہ چوتھا حصہ نکال کر بقیہ3حصے مرحوم کے بھائی کو دیئے جائیں گےبموجب فرمان رسول ﷺ:الحقوا الفرائض باھلھا فما بقی فلاولی رجل ذکر.(صحیح مسلم) یعنی جن کاحصہ شرعامقرر کیا ہوا ہے اس کاحصہ نکالنے کے بعد جوباقی بچے گا وہ میت کے سب سے قریب مرد کو ملے گا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
vvvvvvvvvvvvv

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے