Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ نومبر » فتنۂ غامدیت . قسط:۱۷

فتنۂ غامدیت . قسط:۱۷

حافظ صلاح الدین یوسف قسط:۱۷
مشیر:وفاقی شرعی عدالت پاکستان

اگرآپ کو میرے الفاظ سخت محسوس ہو رہے ہو تو راقم معذرت کرنے کے لئے تیار ہے لیکن پہلے آپ خود اپنے اکابر کے بارے میں سوچ لیں جنہوں نے عقیدۂ نزول مسیح کے انکار کو’’کفر والحاد‘‘ قرار دیا ہے۔
اکابر علمائے دیوبند کے فتاوے
یہ اکابر ہیں، علامہ انورشاہ کشمیری، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی وغیرھم۔یہ وہ اکابرہیں جن کو موجودہ اکابر دیوبند بھی اپنا اکابر مانتے ہیں اور ان کی عظمت کو تسلیم کرتےہیں۔ علاوہ ازیں عمار صاحب کے’’محققین‘‘ میں سرفہرست تومرزا غلام احمد قادیانی ہے جس نے برصغیر پاک وہند (متحدہ ہندوستان) میں سب سے پہلے عقیدۂ نزول مسیح کا انکار کیا کہ وہ خود’’مسیح موعود‘‘ کے منصب پر براجمان ہوسکے۔ اس کے بعد اس ’’تحقیق‘‘ کو (فراہی گروہ سمیت) تمام منکرین حدیث نے اپنالیا۔ لیکن مذکورہ اکابر تو وہ’’محققین‘‘ہیں جن کی عظمت اور تحقیق میںاہل دیوبند میں دورائیں نہیں۔
علامہ انورشاہ کشمیری مرحوم نے اس مسئلے میںدو کتابیں عربی زبان میں لکھی ہیں، ایک کانام ہے’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ اس میں انہوں نے سواسو کے قریب احادیث وآثار جمع کئے ہیں ،کیا اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود یہ روایات متواتر نہیں، خبرواحد ہی ہے؟ ماشاءاللہ عمار صاحب کی، یا ان کے’’محققین‘‘ کی کیاخوب تحقیق اور کیا خوب انصاف ہے۔
دوسر ی کتاب ہے’’عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ اس کتاب کی تعلیقات بھی مولانا کشمیری نے لکھی ہیں، اس کا نام ہے’’تحیۃ الاسلام‘‘ اس کتاب پرمقدمہ لکھا ہے، مولانا کشمیری کے سب سے بڑے علمی وارث مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم نے، جس کا نام ہے ’’نزول اہل الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام‘‘
ہم اس مقدمے سے اور اصل کتاب سے کچھ اقتباسات ،بغیر اردو ترجمے کے،نقل کرتے ہیں تاکہ کم از کم اہل علم کے سامنے تو مسئلے کی اصل اہمیت وحیثیت واضح اور اس کے انکار کی شناعت وقباحت ،بلکہ اس کا کفر وبطلان اجاگر ہوجائے۔
مولانا بنوری مقدمے میں لکھتے ہیں:
’’ھذا الکتاب عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام ،وسماہ الشیخ ایضا’’حیاۃ المسیح بمتن القرآن والحدیث الصحیح‘‘ وافادنی رحمہ اللہ بان موضوع کتابی ہذا اثبات حیاتہ بادلۃ القرآن الکریم، وانما جاءت الاحادیث والآثار تبعا لایضاح الآیات، لم یکن الغرض استیفاء الاحادیث والروایات فی الکتاب ،فلایظن ان الشیخ رحمہ اللہ استوفی الآیات والروایات جمیعا کما یظنہ کثیر من اھل العلم ۔وانما انتقضی الروایات فی رسالۃ ’’التصریح‘‘ کما سبق۔وانما الغرض الوحید شرح آیات من التنزیل العزیز ما یتعلق بحیاتہ علیہ السلام…..‘‘(ص:۱۲،۱۳)
پھر لکھتےہیں:
’’ثم ان اصل موضوع کتاب عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام ھو اثبات نزولہ قرب القیامۃ، تلک العقیدۃ المعطوع بھا فی الامۃ الاسلامیۃ…..(ص:۱۶)
’’ومن اکبر من قام تمحیص ھذہ الحقائق العلمیۃ والکلام علیھا بحثا وتحقیقا ھو شیخنا الامام صاحب کتاب عقیدۃ الاسلام وافود کتابہ لعقیدۃ نزولہ عیسیٰ علیہ السلام وحیاتہ واثبت نزولہ من القرآن الحکیم بادلۃ شافیۃ ومن الاحادیث النبویۃ بانھا متواترۃ فی نزولہ ومن اجماع الامۃ المحمدیۃ من عھد الصحابۃ والتابعین وائمۃ التفسیر والحدیث والفقہ والتوحید، وانھا عقیدۃ قطعیۃ متوارثۃ لاتحتمل التأویل وانھا من ضروریات الدین وان قدرتہ تعالیٰ محطیۃ بالخوارق وتظھر ھذہ المعجزۃ الخارقۃ قرب القیامۃ التی ھی وقت الظھور الخوارق الالٰھیۃ‘‘(ص:۱۷،۱۸)
’’وبالجملۃ عقیدۃ نزولہ علیہ السلام عقیدۃ اتفق علیھا اھل الحق قاطبۃ من عھد الصحابۃ الی یومنا ھذا، نطق بھا التنزیل العزیز علی الراجح من تفسیر الآیات الکریمۃ وتواتر بھا السنۃ النبویۃ فی الاحادیث الکریمۃ، وقد صرح بتواترھا ابو جعفر ابن جریر الطبری وابو الحسین الآبری وابن عطیۃ المغربی وابن رشد الکبیر والقرطبی وابوحیان وابن کثیر وابن حجر وغیرھم من حفاظ الحدیث…..‘‘(ص:۲۰،۲۱)
مولانا بنوری مشہور مصری عالم علامہ زاہد الکوثری کی بابت لکھتے ہیں کہ انہو ں نے بھی اس موضوع پر کتاب لکھی ہے، اس کتاب سے بھی متعدد اقتباسات مولانا بنوری نے اپنے مقدمے میں نقل کیے ہیں۔ اس مسئلے میں امت کا جو اجماع ہے، اس ضمن میں اجماعی حیثیت واہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا بنوری نے علامہ کوثری کا ایک اقتباس نقل کیا ہے۔ملاحظہ ہو:
ان حجیۃ الاجماع مما اتفق علیہ فقھاء الامۃ جمیعا وعدّوہ ثالث الادلۃ حتی ان الظاھریۃ علی بعدھم عن الفقہ یعترفون بحجیۃ اجماع الصحابۃ بل اطلق کثیر من العلماء القول بان مخالف الاجماع کافر….وقد دل الدلیل علی ان ھذہ الامۃ محفوظۃ من الخطأ وانھم عدول شھداء علی الناس وانھم خیر امۃ اخرجت للناس یأمرون بالمعروف وینھون عن المنکر وان من تابعھم تابع سبیل من اناب ومن خالفھم سلک سبیل غیر المؤمنین وناھض علماء الدین الی ان قال: فاذا ذکر اھل الاجماع فانما یریدون بہ اجماع من بلغوا رتبۃ الاجتہاد من بین العلماء باعترافھم مع ورع یحجزھم عن محارم اللہ یمکن بقاءہ بین الشھداء علی الناس فمن لم یبلغ مرتبۃ الاجتھاد باعتراف العلماء لہ بذلک فھو خارج من ان یعتد بکلامہ فی الاجماع ولو کان من الصالحین الورعین الخ…..
ولیس معنی الاجماع ان یدون فی کل مسئلۃ مجلدات، تحتوی علی اسماء مائۃ الف صحابی مات عنھم النبی ﷺ ورضی عنھم بالروایۃ عن کل واحد منھم بل تکفی فی الاجماع علی صحۃ الروایۃ فیہ عن جمع من المجتہدین من الصحابۃ وھم نحو عشرین صحابیا فقط التحقیق بدون ان تصح مخالفۃ احد منھم لذلک الحکم بل قد لاتضر مخالفۃ واحد واثنین منھم فی مواضع فصلھا ائمۃ ھذا الشان فی محلہ-وہکذا الامر فی عھد التابعین وتابعیھم الخ
وقال فی (۶۲و۶۳)ونزول عیسیٰ علیہ السلام مما نص علیہ ثلاثون من الصحابۃ رضی اللہ عنھم وآثارھم الموقوفۃ علیھم للکشمیری…. ولم یصح صحابی واحد القول بما یخالف ذالک فاذا لم یکن مثلہ اجماعا فلا یوجد فی الدنیا اجماع آھ وحکی عن التلویح ان انقل قد یکون ظنیا فبالاجماع یصیر قطعیاآھ۔
علامہ کوثری(مصر) کے مذکورہ اقتباسات نقل کرنے کے بعد مولانا بنوری فرماتے ہیں:
’’قال الراقم عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام قد اصبحت کالشمس فی رابعۃ النھار من جھۃ دلالۃ القرآن الحکیم والسنۃ المتواترۃ واجماع الامۃ فی کل عصر من عصور الاسلام ولم ار تاکیدا بلیغا فی الاحادیث النبویۃ الکریمۃ بنزولہ المقرون بالایمان المؤکدۃ فی حکم او عقیدۃ مثلھا….(ص:۲۴)
پھر مولانا بنوری نزول عیسیٰ uکی بعض متفق علیہ احادیث بیان کرکے دیگراحادیث کے بارہ میں مفتی محمد شفیع مرحوم کی بابت لکھتے ہیں:
’’کما جمعھا فضیلۃ الشیخ مولانا محمد شفیع الدیوبندی وغیرہ بحیث یقطع کل شک یحوم فی الباب وکل ریبۃ تدخل فی الباب وکل تجوز فی التعبیر من النزول او ظھورا المثیل مجالا لزیغ او انکار اوتحریف او تاویل الآیۃ الکریمۃ [وانہ لعلم الساعۃ فلا تمترن بھا] تشبہ الحدیث تماما فی تاکید انہ البلیغۃ کما لایخفی -واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل‘‘(ص:۲۴،۲۵)
آگے یہ عنوان قائم کرکے -الانکار عن عقیدۃ النزول منشؤہ الاستغراب ’’عقیدۂ نزول کے انکار کا منشاء اس کو نہایت انوکھا اور ناممکن باور کراناہے‘‘
لکھتے ہیں:
قد ثبت ثبوتا لامردلہ ان عقیدۃ نزول سیدنا المسیح علیہ السلام اصبحت حقیقۃ واقعیۃ نطق بھا القرآن الکریم وشھد بھا الاحادیث المتواترۃ المقطوعۃ واجمعت علیھا الامۃ المحمدیۃ من اھل السنۃ الجمعاء بل اھل الاعتزال والامامیۃ -فاذن الانکار جھل فاضح او الحاد واضح او استغراب نشأ من جھۃ الوھم والخیال لم یستند الی عقل صریح-وہذا الاستغراب لیس الامن تلقاء الغفلۃ عن مشاہدۃ بدائع ملکوت اللہ الحکیم فی ھذا الکون والکائنات من الآیات البینات والمعجزۃ الخارقات -فھذہ العجائب المحدثۃ المخترعۃ الیست مدھشۃ الی الغایۃ وھی بین ایدیکم تمسعونھا او تشاھدونھا….‘‘ آگے اس کی مثالیں بیان کرتے ہیں)(ص:۲۵)
پھر بظاہر آج سے کچھ عرصہ قبل ان انسانی ایجادات کے ناممکن الوقوع ہونے کی مثالیں بیان کرکے لکھتے ہیں:
فبجنب ہذہ المخترعات المدھشۃ التی اخترعھا عقل باحث طبیعی، ھل یعد ابداع القادر الحکیم العزیز العلیم مستحیلا؟ فالحیاۃ الطویلۃ وعروج البشر الی اسماء ونزولہ الی الارض وظھور تلک الخوارق الالٰھیۃ البدیعۃ کیف تعد مستحیلا .کلا ثم کلا، نعم نعم انھا مستغربۃ وانھا خارقۃ للعادۃ وانھا مدھشۃ للعقول ومحیرۃ للفحول فانھا من صنع اللہ القدیر وفعل اللہ الحکیم الخبیر -فلیس ھناک شیٔ یعتبر محالا بعد اخبر بہ الصادق المصدوق الرسول الامین-فالحقائق الاسلامیہ من وجود السماوات ووجود الملائکۃ فیھا ونزولھا وعروجھا فی طرفۃ عین ولمح بصر وواقعۃ اسرائہ ومعراجہ ﷺ کل ذلک من بدائع القدرۃ الالٰھیۃ فی ھذا العالم المحکم العجیب….(ص:۲۷،۲۸)
’’وبالجملۃ عقیدۃ حشر الاجساد والمعاد الجسمانی وبعث العالم کلہ بعد الموت ولنشر بعد الفناء والدثور اغرب وابعد من رفع سیدنا المسیح علیہ السلام الی السموات ونزولہ منھا الی الارض.فان کانت تلک العقیدۃ المقطوعۃ الحقۃ المتفقۃ بین الادیان السماویۃ الالٰھیۃ الایمان بھا محتم ولا یعذر المرأ فی الانکار عنھا لاجل غرابتھا وبعدھا عن محیط العقول فکیف بھذہ العقیدۃ .فالایمان بالحشر ولنشر والبعث وانشأۃ الثانیۃ اقدم واھم من ہذہ العقیدۃ‘‘(ص:۲۹)
آگےپھر لکھتے ہیں:
وبالجملۃ ہذہ واقعۃ من وقائع ہذا العالم البدیع نطق بھا القرآن الحکیم ثم توارت بوقوعھا الاحادیث وتوارث بھا الاعتقادالصحیح من عھد النبوۃ ثم الصحابۃ الی یومنا ھذا -ولیس بدعا فی القدرۃ الازلیۃ الالٰھیۃ القاھرۃ ، ولا یستحیلھا العقل الصحیح ولایمکن ان یستغربھا احد امام ہذہ الغرائب الکونیۃ والبدائع الطبیعیۃ فی ہذہ الکائنات المادیۃ، فالایمان بھا واجب والانکار عنھا کفر والتأویل فیھا زیغ وضلال والحاد -وفق اللہ الامۃ المحمدیۃ للسداد وحماھا عن کل شر وفساد وضلال والحاد وکفر وعناد‘‘(ص:۳۱)
مسئلہ زیربحث کے اثبات پر علامہ کشمیری مرحوم کی ضخیم کتاب، جو بڑے سائز کے۳۴۰ صفحات پر مشتمل ہے، اور قرآنی نصوص او ر متواتر احادیث اور اقوال ائمہ کی روشنی میں اس کو نہایت مدلل انداز سے پیش کیاہے اور منکرین کے دلائل کا رد کیا ہے۔مذکورہ کتاب کے صرف مقدمہ سےہی کچھ اقتباسات پیش کیے گئے ہیں اور اختصار کے پیش نظر مولانا کشمیری کی اصل کتاب سے کوئی اقتباس نقل نہیں کیا جب کہ انہوں نے بھی یہی کچھ کہا ہے۔ بہرحال ان سے یہ بات واضح ہے کہ نزول عیسیٰuکا عقیدہ :
vقرآن کریم کی آیات (نصوص قرآنیہ) سےثابت ہے۔
vاس کی بابت احادیث متواتر اور قطعی ہیں۔
vاس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔
vاس سے متعلقہ آیات واحادیث کی دوراز کارتاویل زیغ وضلال ہے۔
vاس کاانکار کفروالحاد ہے۔
یہ کتاب ’’المجلس العلمی‘‘ کراچی کے زیر اہتمام ۱۹۶۱ء میں شائع ہوئی ہے۔
علامہ کشمیری مرحوم کی دوسری کتاب
اسی مسئلے میں علامہ انور شاہ کشمیری (المتوفی ۱۳۵۲ھ) کی دوسری کتاب’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ ہے۔ اس کے عنوان سے ہی واضح ہےکہ یہ مسئلہ متواتر نصوص سے ثابت ہے۔ چنانچہ اس میں۸۵ احادیث ہیں۔۷۵علامہ کشمیری کی اور دس مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی مرحوم کی جمع کردہ ہیں۔ ان کے علاوہ ۳۵صحابہ وتابعین کے آثار ہیں۔ گویا ایک سوبیس احادیث وآثار کا مجموعہ ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب ان لوگوں کے مونہوں پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہے جو ان احادیث کی بابت’’آحاد،آحاد‘‘ کی رٹ لگانے سے باز نہیں آتے۔
اس کتاب کامقدمہ مولانا محمد شفیع مرحوم نے لکھا ہے جو کم وبیش ساٹھ صفحات پر مشتمل ہے اس مقدمے میں بھی مولانا بنوری کی طرح فاضل مقدمہ نگار نے بھی مسئلے کو نصوص قرآنی اور متواتر احادیث اور اجماع امت سے ثابت شدہ قرار دیا ہے، اور اس کے انکار کو کفر سے تعبیر کیا ہے۔ اس کتاب پر تعلیقات لکھی ہیں، شام کے ایک حنفی عالم عبدالفتاح ابوغدہ نے۔ ان تعلیقات میں توضیحات مزید سے مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے علاوہ ان جلیل القدر ائمہ حدیث وتفسیر کے اقوال بھی جمع کردیے ہیں جنہوں نے اس مسئلے میں اجماع امت اور احادیث کے تواتر کو تسلیم کیا ہے۔ علاوہ ازیں اس مسئلے کے اثبات میں عربی، فارسی اور اردو میں جو کتابیں شایع ہوئی ہیں، ان کی تفصیلات بھی انہوں نے پیش کی ہیں۔ یہ ایک درجن کے قریب کتابیں ہیں، ان کے مؤلفین اور تاریخ طبع وغیرہ بھی درج ہیں۔
یہ کتاب بھی بڑے سائز کے۳۵۰صفحات پر مشتمل ہے۔اس کا ووسرا ایڈیشن تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان نے شایع کیا ہے۔ جی تو چاہتا ہے کہ اس سے بھی کچھ اقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش کئے جائیں لیکن یہ موضوع پہلے ہی قدرے طویل ہوگیا ہے، اس لیے کتاب کے تعارف تک ہی بات کو محدود رکھاجارہا ہے۔
[اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَہُوَشَہِيْدٌ۝۳۷ ](ق:۳۷)
یہاں تک لکھ لینے کے بعد ایک اور کتاب(علماء اہل حدیث کی کتابوں کے علاوہ) ہمارے علم میں آئی ،یہ کتاب خود عمار صاحب کے جد امجد کی، جن کو وہ ’’امام اہل سنت‘‘ لکھتے ہیں، تالیف ہے،’’توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام‘‘ اس میں بھی مولانا گھکھڑوی مرحوم نے نزول مسیح کے انکار کو’’کفر والحاد‘‘ قرار دیا ہے۔
vvvvvvvvvvvvvv

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے