Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اکتوبر » آدابِ دعوت وتبلیغ

آدابِ دعوت وتبلیغ

حافظعمران ہارون،گولارچی

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ۝۰ۭ ](النحل:۱۴۵)
اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے۔
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۝۰ۭ](المائدہ:۶۷)
اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔
اس جیسی قرآن مجید میں بہت سی آیتیں ہیں جس میں براہ راست خطاب کیا جارہا ہے کہ آپ دعوت دین میں ڈٹ جائیں کمربستہ ہوجائیں ۔
محترم ساتھیو! میں نے جو آپ کے سامنے پہلی آیت ذکر کی اللہ تعالیٰ نے اس میں دعوت دین کے بارے میںد و اصول بتلائے کہ جب بھی آپ دعوت دیں تو سب سے پہلے اپنے اندر دوچیزیں لائیں :ـ
پہلااصول: دعوت توحید حکمت وبصیرت ودانائی ،عقلمندی کے ساتھ دی جائے۔
دوسرااصول: اچھے اخلاق،اچھی نصیحت اور صبر کےد امن کو تھامے رکھیں اور نرمی اختیار کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان موسیٰ سے خطاب کرتے ہوئے ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّہٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى۝۴۴ ] (طہ:۴۴)
اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وه سمجھ لے یا ڈر جائے ۔
کہ جاؤفرعون کی طرف اور اس کومیراپیغام سنادواور اس میں طریقہ کیااختیار کرنا کہ تمہاری آواز میں نرمی ہو۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی تلقین کی ،اللہ تعالیٰ کا فرمان:
[وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۝۰۠](آل عمران:۱۵۹)
اور اگر آپ زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔
آپ کے اخلاق کی گواہی اللہ تعالیٰ نے سورہ القلم میں کچھ اس طرح دی:[وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۝۴ ](القلم:۴)
اور بیشک آپ (ﷺ)بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہیں۔
اس لئے تو آپ کے نبوت سےپہلے بھی لوگ آپ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔
محترم ساتھیو! اب ذرا ہم آتےہےاپنے اصل موضوع کی طرف، لوگ آپﷺ سے اتنے متاثر کیوں ہوئے کہ لوگ پے درپے اسلام میں داخل ہوئے اگر ذرا ہم آپﷺ کی سیرت کامطالعہ کریں تو اس سے دوبنیادی چیزیں ظاہر ہوتی ہیں اور وہ بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں ۔(۱) اخلاق (۲) صبر۔
آپ کی اخلاق کی گواہی ابوسفیان نے اسلام لانے سے پہلے بادشاہ ہرقل کے سامنے دی تھی،جب روم کے بادشاہ ہرقل نے ابوسفیان سے سوال کیا کہ محمد(ﷺ) کے بارے میں مجھے بتلاؤ کہ آج تک ان کے دین سے کوئی شخص متنفر ہوکر یا مرتدہوا؟
ابوسفیان نے کہا ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ ان کے اخلاق کیوجہ سے کوئی مرتد ہوا ہو وہ تو شروع ہی سے اچھے اخلاق والے شخص تھے اور ہیں۔(صحیح بخاری ومسلم)
ہم ذرانبیﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں اسے اپنائیں،ہم ایک اچھے داعی بن سکتے ہیں اپنے اندراچھا اخلاق پیدا کرکے اور اس میں ہمارے لئے بہت سارے فائدے ہیں اگر ہم جنت میں جانا چاہتے ہیں تو یہ ہمارے لئے بہترین سرٹیفکیٹ ہے آپ اس کااندازہ اس حدیث بھی لگاسکتے ہیں کہ آپﷺ کا فرمان:
[اکثر ما یدخل الجنۃ تقوی اللہ وحسن الخلق] اکثرلوگ تقویٰ اور اچھے اخلاق کیوجہ سے جنت میں داخل ہونگے۔(ترمذی)
محترم ساتھیو ! میں آپ کے سامنے نبی ﷺ کےچند واقعات ذکر کرونگا کہ آپ نے جب دعوت تبلیغ کا کام شروع کیا تو آپ پر کس قدر تکلیفیں آئیں ۔آپ اس بات کا اندازہ اس حدیث سے لگاسکتے ہیں کہ جب عائشہ rنے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ تکلیف کب پہنچی ؟ تو نبیﷺ نے فرمایا: طائف والے دن۔
محترم ساتھیو!اس قدر تکلیف پہنچنے کے باوجود آپﷺ نے کس قدر صبر اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کیا توآپ کو اس کاصلہ کیا ملاکہ لوگ دین میں داخل ہوتے رہے اور آج ہم ذرا اپنامحاسبہ کریں آج کسی کے سامنے دعوت دین پیش کرتے ہیں اگر آگے سے ہمیں سننے کیلئے کچھ ملے تو ہم دل برداشتہ ہوجاتے ہیں صبر کا مظاہرہ کیےبغیر مایوس ہوجاتے ہیں یا لوگوں سے الجھ پڑتے ہیں۔لہذا سب سےپہلے آپﷺ کی سیرت کا مطالعہ ہر داعی کے لئے ضروری ہے۔
اب ذرا آپﷺ کی سیرت کی طرف آئیں کہ آپ کے اوپر تکالیف ومصائب کس قدر آئیں لیکن آپ نے صبر اوراچھے اخلاق کامظاہرہ کیا جب آپﷺ طائف کی طرف گئے داعی بن کر آپﷺ نے وہاں پہنچ کر طائف کے سرداروں کو جمع کیا اور درس توحید دیا۔
بدنصیب سرداروں نے آپﷺ کی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے آپ کے پیچھے اوباش لڑکے لگادیے انہوں نے آپ ﷺ پر اس قدر سنگ باری کی کہ آپﷺ کا جسم خون سے لت پت ہوگیا اسی حالت میں آپﷺ بیہوش ہوکرگرگئے،لیکن اس میں جو ہمارے لئے ہم نکتہ ہے اور ذراغور کرنے کی بات ہے ،آپﷺ نے کوئی بددعا نہیں کی بلکہ صبراور اخلاق کا اس قدرمظاہرہ کیا کہ اتنی دیر میں ایک فرشتہ آیا اور کہا اے اللہ کے رسول آپ صرف اپنی رائے بتائیں ،آپ کا کیا ارادہ ہے ان کو ان پہاڑوںپر دےماروں انہیں کچل دوں یہ سن کر مجسمہ اخلاق نے فرمایا:میں ان کی تباہی نہیں چاہتا،ہوسکتا ہے ان کی آئندہ نسلیں اسلام کی معاونین بنے۔(بخاری)
محترم ساتھیو!رب کعبہ کی قسم یہ بات سچ ہے :[وما ینطق عن الھوی0 ان ھو الا وحی یوحیٰ] کی تاریخ گواہ ہے،آج ہم جس زمین میں بے خوف رہتے ہے جسے سندھ کہا جاتا ہے اس قبیلے کے ایک فرد کی محنت کا نتیجہ ہے جس کے نام سے مسلمان کا ہر بچہ واقف ہے جسے محمد بن قاسمa کہا جاتا ہے ۔
اسی طرح ایک اور مشہور واقعہ ثمامہ بن اثال کا ، ان کے اسلام لانے کیوجہ صحابہ کرام yکی آپس میں محبت اور آپ ﷺکے ان کے ساتھ اچھے اخلاق کا برتاؤتھا۔
جب صحابہ کرام انہیں گرفتار کرکے لائے اور مسجد کے ستون سے باندھ دیا تو نبی ﷺ سوال کرتے ہیں ثمامہ کیاحال ہے تمہارا؟ تو ثمامہ سینہ تان کے کہتا اگر آپ مجھے قتل کرینگے تو میراخون اتنا فضول نہیں جو ضایع ہوجائے بلکہ خون کا بدلہ خون سے لیاجائے گا ،آپ اگر مجھ پر احسان کریں گے تو میں احسان فراموش نہیں بلکہ احسان کا بدلہ احسان سے دونگا۔آپ ﷺ نے اس کی بات پر غصہ نہیں کیا بلکہ صبر اور نرم لہجہ کا مظاہرہ کیا اور صحابہ کرام کو حکم دیا اسے چھوڑ دو،حالانکہ ثمامہ بن اثال کے الفاظ میں بظاہر دھمکی تھی جب صحابہ کرام نے کھولاتونبی ﷺ نے فرمایا جاؤ آج تمہیں بخش دیا یہ سن کے وہ مسلمان ہوگیا۔
محترم ساتھیو! یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ غور کرنے کا پہلو ہے اس عمل پر ثمامہ کو کس چیز نے آمادہ کیاآپ ﷺکے بہترین اخلاق، عمدہ گفتگو، شفقت بھرے کلام نے ،اسلام لانے پر مجبور کیا۔
ساتھیو جس کو آپ دین کی دعوت دینا چاہتے ہیں پہلے آپ پیار، محبت اور الفت کا رویہ اپنائیں ،اگر اس کی زبان سے کچھ ناپسندیدہ جملے نکلیں تو آپ اس پر صبر کریں۔
حکمت کی ایک اور صورت یہ ہے کہ داعی لوگ دوسرے لوگوں کی معاونت کریں کیونکہ نبی ﷺ کافرمان:
واللہ فی عون العبد ماکان العبد فی عون أخیہ.صحیح مسلم
کہ جو کسی کی مدد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے۔
اگر ہم لوگ ان کی مدد کرینگے تو ان سے ہمارا تعلق پیدا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہماری معاونت کرے گا پھر وہ ہماری بات کو ہرگز نہیں ٹالینگے۔
نصیحت کا طریقہ کار
کہ آپ جب دعوت دیں یا واعظ کریں اس بات کا خیال رکھیں کہ سامنے والااکتانہ جائے اور آپ کے وعظ کے اندر ایسے واقعات ہوں جس سے آنکھیں نم ہوجائیں،دل دہل جائے لیکن اس بات کا ہمیں ضروری خیال رکھنا چاہئے کہ قرآن مجید میں اور حدیث میں اس کی اصل موجود ہو۔
لیکن افسوس کی بات ہے آج ہمارے معاشرے میں کچھ عالم دین قرآن وحدیث بیان کرنے کےبجائے من گھڑت قصے اور کہانیوں پر مشتمل واعظ دیتے ہیں اور ان کے بیان کرنے کامقصدیہ ہوتا ہے کہ ان کی واہ واہ ہو لوگ چاہنے والے بن جائیں ،معاشرے میں ہمارا کچھ نام ہو اور اپنے مفاد کے لئے حدیث رسول ﷺ کامذاق اڑانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
محترم ساتھیو ! ایسی دعوت کا کوئی فائدہ نہیں جس کادنیا میں وا ہ واہ اور آخرت میں ہوخسارہ۔
صحیح بخاری کی حدیث ہے اسماء بنت ابی بکرr بیان کرتی ہیں کہ آپﷺ خطبہ میں عذاب قبر کاذکر کرتے اور صحابہ چیخ چیخ کر روتے تھے، دعوت کا اصل طریقہ یہ ہے کہ آ پ کی زبان میں نرمی ہو۔
محترم ساتھیو!ہم آج ایک ایسی شخصیت کاذکر کرتے ہیں بلکہ آج ہم لوگ جس سرزمین میں موجود ہیں جو کہ توحید وسنت سے وابستہ ہے کبھی یہاں بھی جہالت اور شرک اور اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی جسے ریگستان میں جانے کا موقعہ ملےتو ان سے یہ ضروسر پوچھے آج آپ جو توحید سنت سے وابستہ ہیں اس کا سبب کون ہے؟ تو لوگ کہیں گے یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر ایک فرشتہ صفت انسان بھیجا جس نے نہ گرمی کی پرواہ کی نہ ہی سردی کی پرواہ کی، ہرآزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا وہ کون تھے؟اس کے نام سے آج سندھ کا بچہ بچہ باخوبی واقف ہے وہ ہیں محدث العصر شیخ علامہ بدیع الدین راشدیaجنہوں نے یہاں توحید وسنت کا پرچم لہرایا اور جہالت اور شرک کو جڑ سے مٹانے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی، لوگ ان سے بہت متاثر ہوئے اس کی اصل وجہ کیا تھی؟محترم ساتھیو اس کی اصل وجہ ان کا اچھا خلاق، لوگوں سے اچھا برتاؤکرنا ان سے جو تکلیفیں آئیں اس پر ان کاصبر کرنا۔
محترم ساتھیوآپ ان کے اخلاق اور فقاہت کا اندازہ اس واقعے سے لگا سکتے ہیں کہ ایک دفعہ ہمارے محترم شیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی dکے فرزند بدیع الدین جو ہماری کلاس کے سینئرطالب علم ہیں، نے ایک واقعہ سنایا کہ انہیں شیخ صاحبdنے بتایا کہ ایک دفعہ حرم میں فضیلۃ الشیخ محدث العصر علامہ البانیaکوکچھ لوگوں نے گھیرلیا اور مختلف قسم کے سوالات کرنے لگے ان کے جو سوالات کا طریقہ تھا اس سے علامہ البانی کچھ پریشان ہوئے کیونکہ لوگوں نے ایک دم سے انہیں گھیر لیا۔اتنی دیر میں شاہ صاحب نے جو معاملہ دیکھا اور علامہ البانی کا دفاع کرتے ہوئے لوگوں سے مخاطب ہوئے اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں سوالات کا طریقہ سکھایا اور سمجھایا۔
محترم ساتھیو! بعض دفعہ سائل ایسے سوالات کرلیتا ہے کہ جواب دینے والاپریشان ہوجاتا ہے لیکن وہاں مایوس ہونے کے بجائے اسے اچھے طریقے سے معاملے کو نمٹانے کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرے کہ یا اللہ مجھے دین پر استقامت دے اور اس معاملے میں میری مدد فرما۔
محترم ساتھیو! اسی طرح امام مالک aکا واقعہ ہے کہ جب انہوں نے ظالم بادشاہ کے سامنے حق کانعرہ بلند کیا تو ان کے چہرے پر کالک ملی گئی اور ان کے گلے میں جوتے کا ہار پہناکر انہیں گلیوں میں گدھے پر بیٹھا کر گھومایاگیا وقت کے محدث ہونے کے ناطے انہوں نے اس پر صبر کامظاہرہ کیا ۔
محترم ساتھیو! اچھے کاموں کاحکم دینے اور برے کام سے روکنے والوںکے اوصاف جاننا ہمارے لئے ضروری ہے اور یہ چیزیں خاص ان لوگوں کے لئے ضروری ہوجاتی ہیں جو حق کو پھیلانے کی ذمہ داری اٹھا لیتے ہیں اور وہ اس جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں جس کی نشاندہی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کی ہے:
[وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۱۰۴ ](آل عمران:۱۰۴)
ترجمہ:اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور وہی لوگ بامراد ہیں۔

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے