Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اکتوبر » علماءوائمہ کاگستاخ کون؟فیصلہ آپ پر!

علماءوائمہ کاگستاخ کون؟فیصلہ آپ پر!

حافظ شبیر جمالی،نواب شاہ

اسی عنوان سے موسوم ایک مضمون راقم کاماہوار رسالے دعوت اہل حدیث قسط نمبر173کے تحت بھی شایع ہوچکاہے۔عرض یہ ہے کہ دورحاضر میں مخالفین اہل حدیث اپنا تقیہ کلام ہی یہ بناچکے ہیں کہ اہل حدیث علماء وائمہ کے گستاخ ہیں،پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ تقیہ کلام مخالفین حق کی محض مجبوری ہے، اس لئے کہ وہ خود اس مذمومہ عمل کا ارتکاب کرتے آرہےہیں، اب انہیں یہ ڈرلاحق ہے کہ کہیں ان کی حقیقت آشکارہ نہ ہوجائے اس آشکاری سے قبل ہی وہ اوروں کو مطعون ٹھہراتے ہیں تاکہ اوروں کو اعتراض کرنے کی فرصت ہی نہ ملے۔ اب جبکہ حقیقت آشکارہ ہوچکی ہے،زیربحث مضمون میں ہم ان کے دو معتمد علیہ علماء کی مرقومہ عبارات پیش کرتے ہیں ،جن کے بعد فیصلہ قارئین کرام ہی فرمائیں کہ علماء وائمہ کاگستاخ کون ہے؟
سب سے پہلے ان علماء کامختصراً تعارف پیش خدمت ہے:
۱۔شیخ الحدیث محمد سرفراز خان صفدر
موصوف حلقہ یاراں میں،امام اہل سنت، کے لقب مبارک سے ملقب ہیں۔
دیکھئے احسن الکلام۱؍۲مکتبہ صفدریہ، اور موصوف کی عام تصانیف وغیر۔
۲۔ابویوسف محمد شریف کوٹلوی
اپنے حلقہ احباب کے ہاں، فقیہ اعظم اورمحدث ،جیسے اوصاف جمیلہ سے متصف ہیں۔
دیکھئے: فقہ الفقیہ،ص:۲فرید بک سٹال
اور اسی کیساتھ ان ائمہ مرحومین کا بھی مختصراً تعارف پیش کیاجائے گا جن پر ان موصوفَین نے طعن زنی کی ہے،تاکہ ان کی اصل منزلت بھی پیش نظر ہو۔
(۱)سیدنا عبادہ بن صامتt
آپ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی ہیں، پھر انصاری بھی ہیں، اور پھر اسی کیساتھ بدری بھی ۔
(ملخصاً تقریب التھذیب،ص۳۱۶دار الحدیث القاہرہ)
مزید تعارف کی ضرورت نہیں اس لئے کہ لفظ ’’صحابی‘‘ میں عزت ورفعت کے سارے مراتب مستتر ہیں۔
اب آپtکے متعلق سرفراز خان لکھتے ہیں:
حضرت عبادہ بن الصامتؓ نے صحیح سمجھا یاغلط بہرحال یہ بالکل صحیح بات ہے کہ حضرت عبادہؓ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کے قائل تھے۔(احسن الکلام۲؍۱۵۶)
غورفرمائیے کہ صحابی tکو کس طرح مشکوک الفہم ٹھہرایا جارہا ہے ، اور اس کیساتھ یاد ہو کہ مشکوک الفہم واجتہادی خطادو الگ چیزیں ہیں انہیں ایک نہ سمجھاجائے۔کماواضح
(۲)امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ المعروف ابن ابی شیبہؒ(المتوفی ۲۳۵ھ)
آپ کے متعلق امام محمد بن احمد بن عثمان الذھبیؒ(المتوفی ۷۴۸ھ)فرماتے ہیں:
الامام ،العلم،سیدالحفاظ وصاحب الکتب الکبار.
(سیر اعلام النبلاء۹؍۱۵۵،دارالحدیث القاہرہ)
اب آپ aکے وارد کردہ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے محمد شریف کوٹلوی لکھتے ہیں:
جملہ اعتراضات حسد یا عداوت یاقلت فقاہت پر مبنی ہیں۔
(فقہ الفقہ،ص:۲۵۹)
کہاں سیدالحفاظ اور کہاں حاسد وقلیل الفہم!
(۳)امام محمدبن اسمٰعیل البخاریؒ(المتوفی ۲۵۶ھ)
آپ کے متعلق ابو الحجاج یوسف بن عبدالرحمٰن المزیؒ(المتوفی ۷۴۲ھ)فرماتے ہیں:
الحافظ صاحب الصحیح امام ہذا الشأن والمقتدی بہ فیہ والمعول علی کتابہ بین اھل الاسلام.(تہذیب الکمال۸؍۵۵۲دار الکتب العلمیہ)
سرفراز خان’’لطیفہ‘‘ کی ہیڈنگ لگاکر لکھتےہیں:
کیا بعید ہے حمادؒ نے امام کے پیچھے قرأت کی بندش کا یہ طریقہ ایجاد کیا ہو، مگر امام بخاریؒ اس کی سطحی مٹھاس کو دیکھ کر ان کو اپنا ہم نوا سمجھ بیٹھے ہوں۔(احسن الکلام۱؍۳۹۱)
کہاں امیرالمؤمنین فی الحدیث کہاں ان پر طنز ومزاح!
مزید لکھتے ہیں:
امام بخاریؒ کی وفات۲۵۶ھ میں ہوئی ہے اس لئے ابن نجادؒ (جو حضرت سعد بن ابی وقاص کی اولاد میں تھے) کی جہالت کو بہانہ بنا کر اس اثر کو رد کرنا صحیح نہیں۔(احسن الکلام۱؍۳۹۱)
کہاں امام ہٰذا الشان اور کہاں بہانے بازیاں!
(۴)امام ابوبکر احمد بن حسین البیھقیؒ(المتوفی ۸۵۲ھ)
آپ کے متعلق مؤرخ اسلام حافظ ابوالفداء اسماعیل بن کثیر الدمشقیؒ(المتوفی ۷۷۴ھ)فرماتے ہیں:
الحافظ الکبیر….احد الحفاظ الکبار وممن لہ التصانیف التی سارت بھا الرکبان فی سائر الامصار والأقطار….. وکان واحد زمانہ فی الاتقان والحفظ والتصنیف فقیھا محدثا اصولیا…… وجمع اشیاء کثیرۃ نافعۃ جدا لم یسبق الی مثلھا ولا یدرک فیھا.
(البدایہ والنھایہ ۱۳؍۱۶۵دار ابن کثیر)
آپ aبڑے حافظ(حدیث بلکہ ان) حفاظ (حدیث) اور صاحب تصانیف میں سے ہے جن کی طرف دنیا کے مختلف علاقوںسے لوگوں نے سفر کیے ہیں، وہ اتقان اورتصنیف (کے میدان) میں وحید العصر تھے، آپa(بہت بڑے) فقیہ، محدث اور اصولی تھے، آپaنے کئی ایسی مفید اشیاء جمع کیں جو کسی اور کے حصہ میں نہ آسکیں۔ملخصا۔
اب آپaکے متعلق سرفراز خان صفدرلکھتے ہیں:
حضرت امام بیہقیؒ اور مبارکپوریؒ وغیرہ نے اس اثر کو منقطع کہہ کر گلوخلاصی کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، جو بے سود ہے۔
(احسن الکلام ۱؍۱۳۷)
مزید لکھتے ہیں:امام بیھقیؒ علامہ حازمیؒ (المتوفی ۵۴ھ1)اور مبارکپوریؒ وغیرہ نے اس روایت کے منقطع ہونے کا ناکام بہانا کیا ہے۔(احسن الکلام۱؍۱۴۱)
مزید لکھتے ہیں:امام بیھقی علیہ الرحمۃ کو کیا مصیبت درپیش ہے۔
(احسن الکلام۱؍۲۸۵)
مزید لکھتے ہیں:امام بیھقیؒ نے امام مسلم ؒ کی ایک عبارت میں مغالطہ دینے کی سعی فرمائی ہے۔(احسن الکلام۱؍۳۵۱)
اورمزید لکھتے ہیں:امام بیھقیؒ وغیرہ نے گو اس حدیث کے صحیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اور اس کے اثبات کے لئے ہاتھ پاؤں بھی مارے ہیں۔
مؤرخ اسلام حافظ ابن کثیرaکی تعریفی کلمات کے بعد یاروں کے امام اہلسنت کے افکار پر بھی غور فرمایاجائے کہ انہوں نے کیا خوب سراہا ہے اپنے زمانے کے امام اور وحید العصر ونبیل الدھر کی شخصیت عظمیٰ کو!
(۵)علامہ ابوبکر محمد بن موسیٰ بن عثمان الحازمیؒ(المتوفی ۵۸۴ھ)
آپ کے متعلق امام محمد بن احمد بن عثمان الذھبیؒ(المتوفی ۷۴۸ھ)فرماتے ہیں:
الإمام الحافظ الحجۃ الناقد النسابۃ البارع.
(سیر اعلام النبلاء۱۵؍۳۵۳دارالحدیث القاہرہ)
اب آپaکے متعلق سرفراز خان لکھتے ہیں:
امام بیہقی ؒ علام حازمیؒ(المتوفی۵۴ھ1)اورمبارکپوری ؒ وغیرہ نے اس روایت کے منقطع ہونے کا ناکام بہاناکیا ہے۔
(احسن الکلام۱؍۱۴۱)
سرفراز خان کے آئینہ تخیلات میں گویا سارے علماء وائمہ بہانے باز ہیں۔اعاذنا اللہ
(۶)علامہ محی الدین یحی بن شرف النوویؒ(المتوفی ۶۷۶ھ)
آپaکا تعارف حافظ ابن کثیرa(المتوفی ۷۷۴ھ)بایں کرواتے ہیں:
العالم… العلامۃ شیخ المذھب وکبیر الفقھاء فی زمانہ… لا اعرف فی کتب الفقہ احسن منہ… وقد کان من الزھاد والعبادۃ والورع والتحری والانجماع عن الناس علی جانب کبیر لا یقدر علیہ احد من الفقھاء غیرہ.(البدایہ والنھایہ ۱۵؍۴۶۰دار ابن کثیر)
آپa ایک عالم دین تھے،(لیکن بہت) بڑے عالم دین ، حتی کہ اپنے مذہب کے شیخ، اپنے زمانے کے فقہاء میں سب سے بڑے فقیہ(یہاں تک کہ میں نے یعنی ابن کثیرؒنے) کتب( کی دنیا ) میں ان سے بڑا وبہتر فقیہ نہیںدیکھا۔
اور آپaزاہد وعابد،صاحب تقویٰ وتحری لوگوں میں سے تھے کہ آپ کی منزلت ومرتبت کا عالم یہ تھا کہ اسے کوئی نہیں پہنچ سکتا۔مخلصا
اب مذکورہ اوصاف کے صاحب کے متعلق سرفراز خان لکھتے ہیں:
امام نوویؒ کا یہ کھلاقصور ہے۔(احسن الکلام۱؍۲۶۲)
اب معلوم نہیں کہ کسی اجتہادی مسئلے میں کسی علامہ الدھر کو کھلاقصور وار ٹھہرانا کہاں کی تادیب وتہذیب ہے۔ یادر ہے کہ اجتہادی خطا اور قصور دو الگ چیزیں ہیں۔ فتدبر!
(۷)حافظ احمدبن علی بن حجر العسقلانیؒ(المتوفی ۸۵۲ھ)
آپaکے متعلق علامہ جلال الدین بن کمال الدین السیوطیؒ (المتوفی ۹۱۱ھ)فرماتے ہیں:
شیخ الاسلام وامام الحفاظ فی زمانہ حافظ الدیار المصریہ بل حافظ الدنیا مطلقا قاضی القضاۃ.(طبقات الحفاظ للسیوطی،ص:۵۵۲،دارالکتب العلمیہ)
ان کی عظیم شخصیت ،اپنے زمانے کے سب سے بڑے حافظ (حدیث) مصری علاقوں کے حافظ(حدیث) بلکہ مطلقا پوری دنیا کے بڑے حافظ(حدیث اور) قاضیوں کے قاضی تھے۔
اب اس حافظ دنیا aکے متعلق سرفراز خان لکھتے ہیں:
حافظ صاحب موصوفؒ نے ایک لطیفہ حیلہ کرتے ہوئے گول مول حکم صادر کرکےحضرت جابرؓ کی روایت سے گلوخلاصی کرنے کی کوشش فرمائی ہےمگرناکام۔(احسن الکلام۱؍۳۳۰)
غور فرمائیں!کہاں حافظِ دنیا اور کہاں وارد کردہ الزامات۔
(۸)محدثین امت s
جن کی عظمت کاتذکرہ فرماتے ہوئے احمد بن علی بن ثابت المعروف خطیب بغدادیa(المتوفی ۴۶۳ھ)لکھتے ہیں:
وکفی المحدث شرفا ان یکون اسمہ مقرونا باسم رسول اللہ ﷺ وذکرہ متصلا بذکرہ.(الکفایہ ۱؍۵۱مکتبہ ابن عباس)
محدث کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کانام رسول اللہ ﷺ کے نام کیساتھ جڑا رہتا ہے، اور اس کاذکر(آپﷺ کی حدیث بیان کرنے کی وجہ سے)آپ کے ذکر کیساتھ ملاہوتاہے۔
اب جس جماعت کاذکر ونام رسول اللہ ﷺ کے ذکر ونام کیساتھ جڑا رہتا ہے اس جماعت کوفقہاء کے مقابلے میں نیچ ثابت کرنے کے لئے معلو م نہیں ذکر کردہ موصوفَین نے کیسے کیسے جتن کیے ہیں، کن کن اھانتوں کا ارتکاب کیا ہے، بطور تدبر دومثالیں ملاحظہ ہو:
پہلی مثال:
محمد شریف کوٹلوی لکھتے ہیں:
ایک محدث بعداستنجا کے وتر پڑھا کرتے تھے، پوچھاگیا تو فرمایا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے:
من استنجی فلیوتر.
جو استنجا کرے چاہئے کہ وتر پڑھے۔
اس نے یہ سمجھا کہ جو استنجا کرے چاہئے کہ وتر پڑھے، حالانکہ معنی یہ تھے کہ استنجا میں طاق کوملحوظ رکھے۔(فقہ الفقیہ،ص:۱۸)
غورفرمائیے کہ کوٹلوی نے فقہاء کی عظمت کو بڑھاتے بڑھاتے ساتھ ساتھ محدثین امت کو ہیچ سے ہیچ دکھاتے انہیں درجہ اولیٰ کے طلباء سے بھی کم تر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، کیونکہ بحمداللہ مندرجہ بالاحدیث کا معنی تو ادنی درجے کے طلباء بھی جانتے ہیں جبکہ کوٹلوی خیالات کے پیش نظرمحدثین امت تو ایسے گئے گزرے ہیں وہ اس کا معنی بھی نہیں جان سکے ۔اعاذنااللہ منہ
دوسری مثال:
یہی کوٹلوی ایک اور مقام پر کسی محدث کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ:
انہوں نے چالیس سال جمعہ کی نماز سے پہلے کبھی سر نہ منڈایا اور دلیل میں یہ حدیث پیش کی یہ رسول کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے:
عن الحلق قبل الصلاۃ یوم الجمعۃ.
حالانکہ اسی حدیث میں لفظ حلق بکسر لام ہے جس کے معنی حلقہ کرکے بیٹھنا ہے۔(فقہ الفقیہ،ص:۱۶)
افسوس درافسوس کہ ایک محدث کو’’الحلق‘‘ کا لفظ چالیس سال تک پڑھنا نا آسکا۔ازراہ کرم بتلایاجائے کہ علماء ومحدثین کی اس سے بڑی گستاخی اور کیاہوسکتی ہے۔
انہی حقائق کےپیش نظر قارئین کرام ہی منصفی سے بتائیں کہ علماء وائمہ کاگستاخ کون ہے؟
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو درست بات سننے ،سمجھنے پھر اسے اختیار کرنے کی توفیق بخشے۔آمین

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے