Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مارچ » نماز میں بیٹھتے وقت دایاں بازو جھکانا ہی مسنون ہے

نماز میں بیٹھتے وقت دایاں بازو جھکانا ہی مسنون ہے

ابوعبدالرحمان عبدالرزاق دل،فاضل:المعہدالسلفی کراچی۔
مدیرومدرس:جامعہ بدیع العلوم الاسلامیہ سعیدآباد

بنام
(التلویح و التوضیح المجلی فی خفض المرفق الیمنیٰ عند الجلوس للمصلی)

الحمدللہ وحدہ والصلاہ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد :
نماز میں بیٹھتے وقت کون سا بازو جھکانا چاہیے؟ اس حوالےسے علماء اھل حدیث کے دو موقف پائے جاتےہیں۔ اس کے متعلق ابوداؤد شریف میں سیدنا وائل ابن حجر tسے ایک روایت مروی ہے جس میں وہ آپ ﷺ کی نماز کا طریقہ ذکر کرتے ہوئے جب آپ کے بیٹھنے کا ذکر کرتے ہیں تو ایک جملہ ذکر کرتےہیں جس کو دو طرح سےپڑھا گیا ہےاور اسی وجہ سے دو موقف پیدا ہوئے ہیں چنانچہ ہم دونوں موقف اوران میں سے راجح و صحیح بیان کرتےہیں۔
پہلا موقف اور عبارت : بایاں (الٹا) بازو جھکانا چاہیے۔ اس موقف کے قائلین کے ہاں عبارت اس طرح ہے [ وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْاَيمَنَ عَلَىْ فَخِذِهِ الْيُمْنَى](ابودائود حدیث:957) اس موقف کےقائلین کے ہاں (حد)کو فعل ماضی اورعبارت کو جملہ فعلیہ پڑھا گیا ہے، یعنی آپﷺ جب بیٹھے تو آپ ﷺ نے بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا اوراپنے دائیں ہاتھ کی کہنی کوسیدھا رکھا۔ لیکن یہ موقف مرجوح اورغیر صحیح ہے،اور اس طرح عبارت پڑھنا ٹھیک نہیں کیونکہ اس وجہ سے خوامخواہ یہ روایت شاذ بن جاتی ہے،کیونکہ ان الفاظ کواس طرح عاصم بن کلیب سے صرف بشربن مفضل ہی بیان کرتے ہیں جبکہ عاصم کےدیگر شاگرد اس کے صریح خلاف بیان کرتے ہیں بشر اگرچہ ثقہ ہےلیکن اسکی روایت کئی ایک ثقات کے مخالف ہونے کی وجہ سےشاذ بن جاتی ہے۔ کماستنظر۔ ان شاءاللہ۔
دوسرا موقف اورعبارت :دایاں (سیدھا) بازو جھکانا چاہیے۔ اس موقف کے قائلین کےہاں مذکورہ عبارت اس طرح ہے(وَحَدُّ مِرْفَقِهِ الاَيْمَنِ عَلَىْ فَخِذِ الْيُمْنَى)اس موقف کےقائلین کےہاں (حد)کوپیش کےساتھ پڑھا گیا ہےاورعبارت کو جملہ اسمیہ بنایا گیاہے لھذا موجودہ حالت میں مفہوم یوں ہوگا (آپ ﷺ نےاپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا اورآپکی دائیں کہنی کا انتہائی حصہ دائیں ران پر تھا) اس طرح پڑھنے سے یہ روایت شاذ ہونے سے بچ جاتی ہے اور دیگر ثقات کی روایت کے موافق ہوجاتی ہے۔ اور یہی عبارت پڑھنا درست اور صحیح ہے جس حوالے سے ہم وضاحت عرض رکھتے ہیں۔
اولا:اس روایت کو بشر بن مفضل ،عاصم بن کلیب سے بیان کرتے ہیں جبکہ عاصم کے دیگرکئی شاگرد ہیں جن کی روایات صراحۃ دوسرے موقف اور عبارت کی تائید کرتی ہیں جس کی وضاحت ملاحظہ ہو۔
عَاصم کا پہلا شاگرد :عبدالواحد بن زیاد ، جس کے بارے حافظ نے فرمایا:ثقۃ( تقریب :4240) اسکے الفاظ (مسند احمد حدیث:18850) وغیرہ مین موجود ہیں۔ ( وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى) یعنی آپ ﷺ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھا اور اپنی (دائیں) کہنی کے انتہائی (آخری) حصہ کو اپنی دائیں ران پر رکھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ بائیں گھٹنے پر صرف ہاتھ رکھنا چاہیے نہ کہ کہنی۔
عاصم کا دوسرا شاگرد :عبداللہ بن ادریس ، جس کے بارے حافظ نے فرمایا: (ثقۃ فقیہ عابد، تقریب :3207) اسکے الفاظ (صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان:1941)وغیرہ میں موجود ہیں (وَوَضَعَ مِرْفَقهُ الیُمنَی عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى) یعنی آپ ﷺ نے اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران پر رکھا۔اسی طرح ابن ادریس کے (مصنف ابن ابی شیبہ 8442) میں موجود لفظ اس سے بھی زیادہ واضح ہیں جو صراحت سےبیان کرتے ہیں کہ صرف دایاں بازو ہی جھکانا چاہیے (حدثنا ابن إدريس، عن عاصم بن كليب، عن أبيه، عن وائل بن حجر، قال: رأيت صلى الله عليه وسلم واضعا أحد مرفقيه الأيمن على فخذه اليمنى) یعنی سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو اپنی دونوں کہنیوں میں سے ایک دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران پر رکھتے دیکھا۔اسی طرح (ابن خزیمہ: 713) میں بھی اسی معنی والے الفاظ موجود ہیں۔
عاصم کا تیسرا شاگرد:زائدہ بن قدامہ ہے، اس کے بارے میں ابن حجر فرماتے ہیں (ثقۃ ثبت صاحب سنۃ، تقریب:1982)اسکے الفاظ (مسند احمد:18870ابن حبان بترتیب ابن بلبان:1856) میں موجود ہیں۔ (وجعل حَدَّ مرفقِہ الایمن علی فخذہ الیمنی) یعنی آپ ﷺ نے اپنی دائیں کہنی کا انتہائی حصہ اپنی دائیں ران پر رکھا۔
عَاصم کا چوتھا شاگرد:زھیر بن معاویہ ہے ، اس کے بارے میں ابن حجر فرماتے ہیں (ثقۃ ثبت ، تقریب:2051) اسکے الفاظ (مسند احمد،18876) میں موجود ہیں (ووضع كفه اليسرى على ركبته اليسرى، فخذه في صفة عاصم، ثم وضع حد مرفقه الأيمن على فخذه اليمنى) اسکا بھی اسی طرح مفہوم ہے۔
عاصم کا پانچواں شاگرد: امام سفیان ثوری ہے ، اس کے بارے میں ابن حجر فرماتے ہیں(ثقۃ حافظ فقیہ عابد امام حجۃ، تقریب:2445) اسکی روایت (مسند احمد18858) وغیرہ میں ان الفاظ سے موجود ہے(ثم وضع يده اليسرى على ركبته اليسرى، ووضع ذراعه اليمنى على فخذه اليمنى) یعنی آپ ﷺ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر اور اپنی دائیں ذراع(بازو) کواپنی دائیں ران پر رکھا۔
نوٹ: ذراع کا اطلاق کہنی سے لے کر ہاتھ کی درمیانی انگلی کے آخر تک ہوتا ہے۔ کذا فی کتب اللغہ۔
عاصم کا چھٹا شاگرد: ابوالاحوص سلام بن سلیم ہے ، اس کے بارے میں ابن حجر فرماتے ہیں (ثقۃ متقن صاحب حدیث ،تقریب:2703) اس کے الفاظ (المعجم الکبیرللطبرانی ج:22ص:34ح:80) میں موجود ہیں ( فَوَضَعَ كَفَّهُ الْأَيْسَرَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى) یعنی آپ ﷺ نے اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنی دائیں کہنی کو دائیں ران پر رکھا۔
نوٹ:اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آپ ﷺ نے بائیں ران پر صرف (کف) رکھا اور کف کا اطلاق ہاتھ کی کلائی سے لے کر ہاتھ کی درمیانی انگلی کے آخر تک ہوتا ہے، نہ کہ پورے بازو پر۔
عاصم کا ساتواں شاگرد: محمد بن فضیل ہے ، اس کے بارے میں ابن حجر فرماتے ہیں (صدوق عارف رمی بالتشیع ،تقریب:6227) اور اس طرح کے راوی کی روایت متابعت مین بیان کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔اسکی روایت (ابن خزیمہ:713) میں موجود ہیں (ثم وضع حد مرفقه الأيمن على فخذه اليمنى) یعنی آپ ﷺ نے اپنی دائیں کہنی کا انتہائی حصہ اپنی دائیں ران پر رکھا۔
عاصم کا آٹھواں شاگرد: خالد بن عبدللہ ہے ، اس کے بارے میں ابن حجر فرماتے ہیں (ثقۃ ثبت ، تقریب:1647)اسکے الفاظ
(سنن الکبری للبیھقی ص131ج2 باب ما روی فی تحلیق الوسطی بالابھام) میں موجود ہیں (ثم جلس فوضع يده اليسرى على فخذه اليسرى، ومرفقه اليمنى على فخذه اليمنى) یعنی آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر اور اپنی دائیں کہنی کو دائیں ران پر رکھا۔
عاصم کا نواں شاگرد: قیس بن ربیع ہے ، اس کے بارے میں ابن حجر فرماتے ہیں (صدوق، تغیر لما کبر۔۔۔۔ تقریب:5573) لیکن ایسے راوی کی روایت متابعت میں حجت ہے، اسکی روایت (طبرانی کبیر:ج:22ص:34ح:79) میں ان الفاظ سے موجود ہے۔
(فلما جلس وضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى ووضع مرفقه اليمنى على فخذه اليمنى) اسکا بھی اسی طرح مفہوم ہے۔
خلاصہ بحث:اس بحث سے بخوبی معلوم ہوا کہ بشر کی روایت کو دیگر ثقات کی روایات کے مطابق بنانے کے لیے جملہ اسمیہ بنانا ضروری ہے ورنہ اسکی روایت شاذ بن جائے گی۔
ثانیا :اس حوالے سے سیدنا نمیر خزاعیtسے مروی روایت مذکورہ موقف کی مزید تائید کرتی ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں(رأيت النبي ﷺ واضعا ذراعه اليمنى على فخذه اليمنى) یعنی میں نے نبی ﷺ کو دائیں ذراع (بازو) کو دائیں ران پر رکھتے دیکھا۔ (ابودائود:991ابن خزیمہ:716)علماء نے اسے صحیح کہا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب.

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے