Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ نومبر » مساجد کی طرف کثرت سے قصد کرنے پر خوشخبریاں

مساجد کی طرف کثرت سے قصد کرنے پر خوشخبریاں

عبدالسلام جمالی، نواب شاہ

امام کائناتﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ:روئے زمین پراللہ کو سب سے زیادہ محبوب جگہ مساجد ہیں۔(مسلم:671)
مساجد کی طرف کثرت سے قصد کرنے والابندہ اللہ عزوجل کے ہاں محبوب بن جاتاہے ،اور بہت ساری رحمتوں بشارتوں سے نوازا جاتا ہے۔
مساجد کی طرف کثرت سے قصد کرنے کی بشارتیں سن کر بنوسلمہ والوں نے چاہا کہ مسجد کے قریب آکر آبادہوجائیں یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو ان سے فرمایا مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟ انہوںنے جواب میں کہاہاں۔یارسول اللہﷺ!ہم نے یہی ارادہ کیاہواہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بنوسلمہ! موجودہ گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھ دیئے جاتے ہیں۔(مسلم:665)
جو بندہ کثرت سے مساجد کی طرف قصد کرتا ہے تو وہ بندہ اللہ عزوجل کے ہاں مومنین میں سے لکھاجاتاہے بلکہ اس کےمومن ہونے پرلوگوں کو گواہ بنایاجاتاہے ،آپﷺ کافرمان مبارک ہے کہ جب تم کسی شخص کو مسجد کی خبرگیری کرتے ہوئے دیکھو تو اس کےا یمان کی گواہی دےدو۔(سنن ترمذی:2622)
اور ہاں !وہ بندہ ان متقیوں میں سے ہی ہوتا ہے جن کے لئے تمام خیرکااعلان قرآن حکیم کرچکا ہے ،آپﷺ نے فرمایا:المسجد بیت کل تقی.(سلسلہ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی556:)
مسجد ہی متقی (پرہیزگار) کاگھرہے۔
آپﷺ نےفرمایا کہ مسجد سے کسی کی رہائش جتنی زیادہ دور ہوگی اسی قدر اس کاثوب زیادہ ہوگا۔(سنن ابن ماجہ 783،ترغیب 306)
ایک روایت میں ہے کہ ،آپﷺ نے فرمایا: نماز کا ثواب اسی کا زیادہ ہوگا جو زیادہ دور سے آتاہوگا اور جوباجماعت نماز کے انتظار میں رہتا ہے اس کاثواب اس شخص سے زیادہ ہوتا ہے جو نما ز پڑھ کرسوجاتا ہے۔(بخاری:651مسلم:662)
مساجد کی طرف قصد کرنے اور مسجد میں بیٹھنے سے بندہ بہت سارے شرف بشارتوں سے نوازاجاتاہے ،سیدنا ابوھریرہ tسے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
إذا خرج المسلم إلی المسجد کتب اللہ لہ بکل خطوۃ خطاھا حسنۃ، ومحی عنہ بھا سیئۃ ،حتی یأتی مقامہ.
جب مسلمان مسجد کی طرف نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے ہر قدم کےبدلے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک برائی معاف کرتاہے حتی کہ وہ اپنے مقام تک پہنچ جاتاہے۔(الصحیحۃ للالبانی:1063)
کتنی بڑی سعادت ہے کہ نوری مخلوق خاکی مخلوق کےہم نشین وخادم بن جاتے ہیں۔
آپﷺ نے فرمایا کہ بیشک بعض لوگ مسجد نشیں ہوتے ہیں کہ فرشتے ان کے ہم نشیں ہوتے ہیں،اگر وہ غائب ہوجائیں تو وہ انہیں تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمارپڑجائیں تو وہ ان کی عیادت کرتے ہیں، اوراگرانہیں ضرورت ہوتو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔مسجد میں بیٹھنے والے کو کوئی، ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے ، کوئی اس سے استفادہ کرتا ہے یا وہ حکمت والی بات کرتا ہے یا اسےرحمت کا انتظارہوتا ہے۔
(الصحیحۃ للالبانی:555)
جو بندہ ملعون دنیاکو چھوڑ کر رب رحمان کے گھر کاقصد کثرت سے کرتا ہے تو مالک کائنات نوری مخلوق کو اس بندے کاخادم مقرر کرتا ہے، تاکہ بندہ کبھی بھی کسی مسئلے مسائل پہ پریشان وپشیماں نہ ہو۔
جو بندہ کثرت سے مساجد کی طرف قصد کرتا ہے اس بندہ کے مرنے کے بعد بھی اس کے لئے قبر میں وہ ہی سکون واطمینان حاصل ہوتا ہے جو دنیا میں اللہ عزوجل کے گھر مسجد میں تھا بلکہ ممکن ہے کہ اس سے بھی زیادہ مزید سکون واطمینان نصیب ہو، اور پھر وہ بندہ روزِ قیامت بھی بہت ساری بشارتوں سے نوازا جاتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
من توضأ وجاء إلی المسجد فھو زائر اللہ عزوجل وحق علی المزور أن یکرم الزائر.(الصحیحۃ للالبانی:1119)
جوشخص وضوکرے اور مسجد کی طرف آئے تو وہ اللہ عزوجل کامہمان ہے، اور میزبان (اللہ تعالیٰ) پر یہ حق ہے کہ وہ مہمان کا اکرام کرے۔
ہاں!یقینا اللہ میزبان اپنے مہمان بندے کی عزت واکرام کرتا ہے جو دنیا میں اس کی خدمات کے لئے نوری مخلوق فرشتے مقرر کرتا ہے، اور آخرت میں کیا اکرام ہوگا۔
آپﷺ نے فرمایا :
من غدا إلی المسجد وراح أعداللہ لہ نزلہ من الجنۃ کلما غدا أوراح.(بخاری:662مسلم:669)
جوشخص صبح کو او رشام کو مسجد کی طرف گیا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مہمان نوازی کاسامان(ہرمرتبہ) تیار کردیتاہے جب بھی وہ صبح یاشام کے وقت گیا۔
رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
بشروا المشائین فی الظلم إلی المساجد.
اندھیروں میں مساجد کی طرف بہت زیادہ چل کر جانے والوں کو روزِ قیامت مکمل نور کی بشارت دے دو۔(مسلم:223)
یہی نورروزِ قیامت مؤمنین کا زیور بناہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحدید ،آیت۱۲میں ذکر فرمایا:
یعنی: کہ روزِ قیامت اس بندے کو بھی مؤمنین کے ساتھ روشنی والا زیور پہنایاجائےگا۔
اورآپﷺ نے فرمایا:
’’ترفع درجۃ ‘‘اللہ تعالیٰ اس بندہ کے درجے بھی بلند فرماتا ہے۔
سیدناانسtسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ندادے گامیرے پڑوسی کہاں ہیں؟ میرے پڑوسی کہاں ہیں؟ فرشتے کہیں گے:اے ہمارے رب کس کے لائق ہے کہ وہ آپ کا پڑوسی بنے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:مساجد کوآباد کرنے والے کہاںہیں(وہی میرے پڑوسی ہیں)
(الصحیحۃ للالبانی:561)
مذکورہ تمام تر بشارتیں وہ بندہ حاصل کرپائے گا جو اس نیت سے مساجد کی طرف قصد کرے کہ وہ اپنے خالق کائنات کے ذکر وفکر میں رہے گناہوں سے ہٹ کر زندگی بصر کرے۔ ایک مرتبہ سیدنا ابوھریرہt مدینہ کے ایک بازار میں گئے اور بازار والوں کہا:آپ کو کس نے عاجز کیاہے؟ انہوں نے کہا کس چیز سے؟ ابوھریرہtنے کہا: رسول اکرم ﷺ کی وراثت تقسیم ہورہی ہے اور تم یہاں ہو؟ تم جاکر اپناحصہ کیوں نہیں وصول کرتے؟ انہوں نے کہا: کہاں ہے وہ؟ ابوھریرہtنے کہا: مسجد میں،چنانچہ وہ جلدی مسجد کی طرف چلے گئے لیکن خود ابوھریرہ وہی رہے ،جب وہ لوگ واپس لوٹے تو ابوھریرہtنے کہا: کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: ابوھریرہ!ہم مسجد کے اندر گئے لیکن ہمیں تو اس میں کوئی چیز تقیسم ہوتی ہوئی نظر نہیں آئی!ابوھریرہtنے کہا:تم نے مسجد میں کسی کو دیکھا بھی؟ انہوں نے کہا:ہاں کچھ لوگوں کو ہم نے دیکھا جو نمازپڑھ رہے تھے ،کچھ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور کچھ لوگ حلال وحرام کے بارے میں مذاکرہ کررہے تھے۔ ابوھریرہtنے کہا: افسوس ہے تم پریہ ہی تو محمدﷺ کی وراثت ہے۔(الطبرانی وصححہ الألبانی فی صحیح الترغیب والترھیب:83)
اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کثرت سے مساجد کی طرف قصد کرنے اور وہیں بیٹھ کر رب رحمان کے ذکر وفکر میں زندگی بسر کرنے کی توفیق عطافرمائے، اور مذکورہ خوشخبریوں سے نوازے۔آمین یامجیب السائلین.

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے