Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ دسمبر » جشن عیدمیلاد النبیﷺ کی شرعی حیثیت

جشن عیدمیلاد النبیﷺ کی شرعی حیثیت

حافظ محمدصہیب ثاقب،مدرس: المعہد السلفی کراچی

رسول اللہ ﷺ کی پیدائش اور آپﷺ کی بعثت تمام دنیا کے لوگوں کیلئے نعمت عظمیٰ ہے، اس نعمت کی صحیح قدر صحابہ کرامyنے کی، اب اگر کوئی شخص یا جماعت صحابہyکے طریقہ کوچھوڑ کر نیاطریقہ ایجاد کرے تو وہ بدعت اورگمراہی ہے، ارشاد نبویﷺ ہے:’’(دین میں) ہر نیاکام بدعت ہےا ور ہربدعت گمراہی ہے‘‘(صحیح مسلم: ۸۶۷) لیکن افسوس! شیطان انسان کو گمراہ بنانے کی کوشش میں دن رات لگارہتا ہے ،جیسا کہ ماہ ربیع الاول میں محبت کےنام پر محفل میلاد منعقد کرنا۔
جشن عیدمیلاد النبیﷺ کے نام لے کرمبالغہ آمیز نعتیں پڑھنا، عورتوں اور مردوں کے مخلوط اور غیرمخلوط جلوس نکالنا،گلی گلی چراغاں کرنا، کعبہ ،مسجدِ نبوی اور روضہ رسول ﷺکاماڈل بناکر ان کاطواف کرنا، یہ سب بدعات ہیں۔
الغرض میلاد النبیﷺ کےنام پر سجائی جانے والی محافل وغیرہ اگر جائز اور ذریعہ محبت ہوتیں تو سب سے پہلے صحابہ کرامyاس پر عمل کرتے کیونکہ وہ یہ سچے محبان تھے۔ کیا ان کی زندگی میں ربیع الاول کا مہینہ نہیں آتاتھا؟ انہوں نے محفل میلاد کیوں منعقد نہ کی؟
ممکن ہے کہ کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر اس کام کا وجود صحابہyکےدور میں نہ تھا تو پھر یہ کب شروع ہوا؟ تو آیئے سنیئے علامہ سیوطی،امام ابن جوزی اور مورخ ابن خلکانSاپنی تصانیف میں لکھتے ہیں کہ اس بدعت کامؤجد ابوسعید بن زین الدین تھا جو کہ شہر اربل جوموصل(عراق) کے قریب ہے کاگورنرتھا،جس نے ساتویں صدی ہجری میں اس کو رائج کیا، جو لوگ شاہ اربل کی اس محفل میں شامل ہوتے تھے ان کابیان ہے کہ اس مجلس میں ظہر سے عصر تک ناچ گانا ہوتا، شاہ اربل خود بھی سب کے ساتھ مل کر ناچتا، مسلمانو! اللہ کے لئے سوچو!کس قدر افسوس کامقام ہے کہ تم نے اللہ کوچھوڑا،صحابہؓ کو چھوڑا، تقلید کی تو کسی کی؟
عیدمیلاد النبیﷺ منانے والوں کیلئے چند غور طلب پہلو
(الف) کیا سورۃ یونس کی آیت ۵۸عیدمیلاد میں ہے؟ سورۃ یونس آیت۵۸ترجمہ: ’’(اے نبیﷺ) کہہ دیجئے! کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے‘‘۔عیدمیلاد النبیﷺ منانے والے اس آیت میں رحمت سے مراد نبی ﷺ کے مولود کی خوشی لیتے ہیں اور عید میلاد النبی ﷺ منانے کی ایک دلیل یہی آیت بتلاتے ہیں، جبکہ اگر ہم اس سے پچھلی آیت کو بھی اس کے ساتھ ملا کر پڑھیں،(اس سے پچھلی آیت کاترجمہ:’’ اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جونصیحت ہےا ور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لئے شفاء ہے، اوررہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت اور ایمان والوں کیلئے۔(سورۃ یونس:۵۷) تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رحمت سے مراد قرآن ہی ہے، تاہم پھر بھی اگر اس آیت میں رحمت سے مراد عید میلاد النبیﷺ ہی لے لیاجائے تو کیا اس کایہ مطلب خود رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ نہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے کبھی عید میلاد النبیﷺ نہ منائی، بلکہ یہ تو ہے ہی ساتویں صدی ہجری کی ایجاد، جیسا کہ اوپرگزرا۔
(ب) اسلام میں عیدوں کی تعداد: اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں یعنی عید الفطر اور عیدالاضحیٰ۔ سیدنا انسtبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ان لوگوں کے ہاں سال میں دو دن کھیل کود کیلئے مقرر تھے۔ آپﷺ نے پوچھا: یہ دودن کیا ہیں؟ انہوں نے کہا:ہم دورجاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیلتے کودتے تھے، تورسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے بدلے ان سے اچھے دن دیئے یعنی أضحیٰ(قربانی) اور فطر کادن۔
(سنن ابی داؤد:۱۱۳۴)
اگر اسلام میں کوئی تیسری عید ہوتی تو اس کاذکر اس حدیث میں ضرور ہوتا اور اس کے علاوہ بھی کسی محدث نےاپنی کتاب میں تیسری عیدکا تذکرہ نہیں کیا۔
(ج) نبیﷺ کی تاریخ ولادت: اکثر اہل علم واہل تاریخ کے قول کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی وفات ۱۲ربیع الاول ،بروز پیر، گیارہ ہجری کوہوئی، جبکہ ولادت ۸یا۹ربیع الاول کوہوئی۔(السیرالنبویہ، توقیتی مطالعہ، از پروفیسر ظفر احمد) تاہم اگر ۱۲ربیع الاول ہی کو آپﷺ کا یوم ولادت تسلیم کرلیاجائے توظاہر ہے یہی دن آپﷺ کی وفات کا بھی ہے۔ اس اعتبار سے ذراسوچئے! کہ کیا نبیﷺ کی وفات والے دن’’جشن‘‘منانا صحیح ہے؟آج سے تین چار دہایاں قبل ۱۲ ربیع الاول کا دن’’بارہ فات‘‘ کے نام سے ہی منایاجاتاتھا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی وفات کے دن خوشیاں مناتے ہیں؟
(د) غیر مسلموں کی مشابہت: عیدمیلاد النبی ﷺ عیسائیوں کی نقالی ہے جو سیدنا عیسیٰuکی پیدائش کی خوشی میں’’کرسمس‘‘ مناتے ہیں جو فرمان رسول اللہ ﷺ کی رو سے جائز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نےکسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہیں میں سے ہوگا۔ (سنن ابی داؤد:۴۰۳۱) اسی طرح چراغاں کرنا بھی غیر مسلموں یعنی مجوسیوں(آتش پرستوں) کا طریقہ رہا ہے۔ انہوں نے آتش پرستی کی کئی چیزیں اسلام میں داخل کردیں۔ وہ خوشی کےموقع پر آتش بازی اور چراغاں کیا کرتے تھے، حقیقتاً ان کامقصد آگ کی پوجا کرنا ہوتا تھا۔ ہمیں کوئی بھی خوشی منانے سے پہلےیہ دیکھ لیناچاہئے کہ کہیں یہ غیر مسلموں کی مشابہت تونہیں؟ اور اس میں ایسا ہی ہے۔
(د) ابولہب کالونڈی آزادکرنا: عیدمیلاد النبی ﷺ کے موقع پر جلوس نکالنے والے کہتے ہیں کہ ابولہب جیسے لوگوں نے میلاد النبی ﷺ پر خوشی کااظہار کرتے ہوئے لونڈی آزاد کی تھی، ابولہب کالونڈی آزاد کرنا اگرتسلیم بھی کرلیاجائے تو اس کا یہ عمل ایک طبعی خوشی کے نتیجے میں تھا کہ آپﷺ اس کے بھتیجے تھے نہ کہ اس نے آپﷺ کی نبوت ورسالت کو تسلیم کرتے ہوئے اس خوشی کااظہار کیا تھا۔ ابولہب کے چاہنے والوں کو سوچناچاہئے کہ وہ کس کی مثال دے رہے ہیں جبکہ اللہ نے فرمایا: ’’عنقریب ابولہب دہکتی ہوئی جہنم میں جائے گا۔(سورۃ اللھب:۳)
(ط) محافل میلاد میں منکرات کاارتکاب: مفتی منیب الرحمٰن صاحب روزنامہ جنگ کراچی ،مورخہ ۲۵دسمبر۲۰۱۵ء بروز جمعہ کی اشاعت میں تفہیم المسائل میں ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: ’’میلاد النبی ﷺکے جلوس نہ ضروریاتِ دین سے ہیں اور ہی مسلکِ اہل السنۃ والجماعۃ سے، البتہ یہ برصغیر میں شعائرِ اہل سنت سے ہیں‘‘۔ اسی طرح وہ آگے لکھتے ہیں کہ’’محافلِ میلاد کے نام پر مقدس محافل کی آڑ میں بڑے بڑے کاروبارکیے جارہے ہیں،بعض مقامات پر نعت خوانوں اور شعلہ بیان مقررین(جن کی اکثریت موضوع روایات کا سہارا لیتی ہے) کی ایجنٹوں کے ذریعے لاکھوں میں بکنگ ہورہی ہے‘‘۔ پھر آگے لکھتےہیں کہ’’بعض لوگ جھانجھر والے دف کے ساتھ لڑکیوں سے ٹی وی پر گروپ کی شکل میں نعت پڑھواتے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔‘‘
وماعلیناالاالبلاغ

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے