Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اگست » بشیربھائی کا سانحۂ ارتحال

بشیربھائی کا سانحۂ ارتحال

ذوالفقار علی طاہر

20جون2016ء بمطابق14رمضان 1437ھ بروز سوموار عین افطار کے وقت جماعتی احباب تک یہ جانکاہ خبرپہنچی کہ المعہد السلفی شعبہ تحفیظ القرآن تین ہٹی کراچی کے ناظم مالیات محترم بشیر بھائی انتقال کرگئے ہیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون.
باہمی مشاورت سے 12بجے شب نماز جنازہ کا وقت مقرر ہوا۔ سوا 12بجے شب فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdکے بیرون ملک (سفرِعمرہ پر) ہونے کی وجہ سے حافظ محمد سلیم صاحب شیخ الحدیث المعہد السلفی کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی گئی،صراط مستقیم تین ہٹی حاضرینِ جنازہ سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی،متعدد علماء کرام سمیت سینکڑوں احباب اہل حدیث نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔
بشیربھائیaچند ماہ سے صاحبِ فراش تھے، کبھی طبیعت زیادہ ناساز ہوتی تو اسپتال میں داخل کرادیاجاتا پھر بہتری آتی تو واپس گھر آجاتے، ان ہی ایام میں یکم مئی 2016ء کو آپaکی والدہ کا انتقال ہوگیا اور آپaنے بحالت بیماری وکمزوری والدہ کےجنازہ میں شرکت کی اور پھرٹھیک ایک ماہ بیس دن بعد آپ خود بھی بقضائے الٰہی وفات پاگئے اور والدہ کے پہلو میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔
فروغِ شمع، گوباقی رہے گا صبح محشرتک
مگرمحفل توپروانوں سے خالی ہوتی ہے
بشیربھائیaکاعقیدہ توحید پہاڑ کی طرح ٹھوس ومضبوط تھا اور اس حوالے سے آپ سختی سے شریعت پر عمل پیرا تھے۔ اس آخری بیماری میں جب طبیعت درست ہونے کو نہیں آرہی تھی تو آپaکو آپ کے ایک بے تکلف دوست نے کہا کہ آپ کو کسی بابے کے پاس لے چلتے ہیں اور اس سے آپ کاروحانی علاج کراتے ہیں، یہ سنتے ہی انتہائی سختی سے منع کردیا اور کہا کہ اگر تم مجھے زبردستی وہاں لے گئے اور اس نے جیسے ہی شریعت سے متصادم کوئی حرکت کی تو میں اسی حالت وکیفیت میں ا سے لڑپڑوں گا۔
بشیربھائیaکی ادارے کےبارے میں فکر مندی کا اندازہ اس بات سے باحسن طورلگایاجاسکتاہے کہ اس مرض الموت میں،وفات سے دو تین روز قبل اپنے بیٹے مصعب سے کہنے لگے کہ میں عہدِ صحت میں کہیں نے کہیں سے افطاری کا انتظام کرلیتاتھاآپ فوراً مسجد جاؤ اور شیخ عبدالمالک مجاہدصاحب (نگراں ادارہ المعہد السلفی شعبہ: تحفیظ القرآن) کا ہاتھ بٹاؤوہ پریشان ہوں گے۔
یعنی آپaنے سخت تکلیف کی حالت میں بھی ادارہ کو فراموش نہیں کیا۔رحمہ اللہ
بشیربھائی aخادم العلماء والمتعلمین تھے،وہ بلا شبہ بےلوث اورہر قسم کے تصنع سے مبرّاتھے، ادارہ کے حوالہ سے جو امورمشکل سےمشکل تر بلکہ مشکل ترین ہوتے بشیربھائی وہ امور اپنے ذمہ لے لیتے اس کی ایک مثال طلبہ کیلئے ناظم آباد کی ایک بیکری سے ناشتہ لانے کی ذمہ داری،رات کے بارہ بجے ہوںیا ایک بجاہو، موسم کیسا بھی ہو سردہویاگرم،بادوباراں ہو یاطوفان بشیربھائی aنےسالہاسال تن تنہا یہ ذمہ داری نبھائی۔
ایک کالم نگار نے اپنی پسندیدہ شخصیت کی وفات پر اسےان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا:’’وہ صاحبِ ہنر بھی تھے۔ اور وہ ہنر تھا، اللہ کے بندوں کادل جیتنا۔ بناکسی غرض کے۔بنا کسی معاوضے کے اور بنا کسی تعریف یاتنقید کے۔ برستی برسات میں اپنے لئے چھاتہ تاننے والے بہت ہوتے ہیں۔لیکن طوفانی بارش میں دوسروں کو بچاکرخود بھیگنے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں‘‘
اللہ غریقِ رحمت کرے ہمارے بشیر بھائی aبھی بعینہ ایسے ہی تھے کہ انہوں نے معلمین ومتعلمین کی ایسے ہی خدمت کی۔
بشیربھائیaادارہ کے لئے تعاون جمع کرنے سے ذرا بھی جھجھکتےنہ ہچکچاتے حالانکہ آپ اپنی گجر برادری میں ایک معزز شخصیت کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے تھے اگر کوئی اس حوالے سے آپ سے بات کرتا تو فوراً فرماتے کون سامیں اپنی ذات کیلئے جمع کررہاہوں، جب معاملہ اللہ کے دین کا ہے تو پھر کیاندامت اور کیاشرمساری۔
بشیربھائیaخود اپنی جیب سے بھی ادارہ پربے حد وحساب انفاق کرنے والے تھے، ایک مرتبہ امیرمحترم فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی dکے حکم سے ادارہ کے مالی معاملات کاآڈٹ ہوا، آڈٹ کے بعد امیرمحترمdکو جورپورٹ پیش کی گئی اس کے مطابق ادارہ بشیر بھائیaکاہزاروںروپے کامقروض نکلا،بشیربھائیaنے یہ انفاق واپس لینے کیلئے نہیں کیاتھا وہ تو اس بات پر حزن وملال میں مبتلا تھے کہ خفیہ وپسِ پردہ کی ہوئی نیکی آڈٹ کہ وجہ سے عیاں ہوگئی۔
بشیربھائی aعلماء سے بڑی چاہت ومحبت رکھتے تھے جب کوئی عالم دین بطورمہمان ادارہ میں تشریف لاتا توبشیربھائی گویاجی اٹھتے اور اس عالم دین کی آمد سے آپaکی خوشی دیدنی ہوتی۔ پھر آپa آناًفاناًاس عالم دین کی خدمت میں جُت جاتے،یہی وجہ ہے کہ ان سے سلام دعا رکھنے والاہرعالم دین یہی یقین رکھتا کہ بشیربھائی سب سے زیادہ اس سے محبت رکھتے ہیں۔
قارئین کرام! المعہد السلفی کراچی کی سالانہ تقریب بخاری ہو یا جمعیت اہل حدیث سندھ کی سالانہ سیرت کانفرنس نیوسعیدآباد،عیدگاہ شارع قائدین کےا نتظامات ہوں یاعیدقرباں کے معاملات بشیر بھائی ہمیں قدم بقدم یاد آئیں گےاور ان کے لئے دل سے دعائیں نکلیں گی اس لئے کہ بشیربھائی aکی جماعتی زندگی بے لوث،تصنع اور بناوٹ سےپاک، محنت محنت اورمحنت سے عبارت تھی۔
آخر میں اللہ رب العزت سے دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ وہ بشیر بھائی aکی بشری لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کی جمیع حسنات کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے انہیں اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین وپس ماندگان کوصبرجمیل عطا فرمائے اور ہم ناتواں وکمزوروںکو بشیر بھائی aکا نعم البدل عطا فرمائے آمین۔ اللھم اجرنا فی مصیبتنا واخلف لنا خیرا منھا اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ.
وے صورتیں ،الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب جن کے دیکھنے کوآنکھیں ترستیاں ہیں
دریں اثناء فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdامیر جمعیت اہل حدیث سندھ نے بشیربھائی aکی ناگہانی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار فرمایا ہےاور کہا ہے کہ جماعت ایک بےلوث،محنتی اور سرتاپا پیکرِ اخلاص رفیق کار سے محروم ہوگئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ بشیربھائی کی دین کیلئے تمام محنتوں کوقبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے، ان کی قبر کووسعت بخشے اور نور سے بھردے، ان کی بیوہ، بیٹی،صاحبزادگان اوردیگرلواحقین کوصبرجمیل عطافرمائے۔آمین
vvvvvvvvvvvvv

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے