احکام ومسائل

رضاعی چچا بھتیجی اور پھوپھی بھتیجا کا
آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا

محترم جناب مفتی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں نے اپنی پھوپھی یعنی والد کی بہن کا دودھ پیا ہے،میری پھوپھی کہتی ہے کہ میں نے چار(4)مرتبہ تمہیں دودھ پلایااور میری ماں کہتی ہے کہ اس نے یعنی پھوپھی نے ایک مہینے دودھ پلایاہے اور اب ہم لوگوں نے آپس میں رشتہ کیا ہے،یعنی پھوپھی نے اپنی بیٹی کا رشتہ میرے بیٹے کو دیا ہےاور ہم نے اپنی بیٹی کا رشتہ پھوپھی کے بیٹے کو دیا ہے، منگنی ہوچکی ہےجب کہ اب تک رخصتی نہیں ہوئی،یعنی نکاح نہیں ہوا۔
آپ محترم سے درخواست ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ یہ نکاح شرعی ہے یانہیں؟
برائے کرام قرآن وسنت کے دلائل کےمطابق جواب ارسال کریں۔
J
الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
مذکورہ رضاعت کے سبب سائل کی بیٹی کا نکاح پھوپھی کے بیٹے سے ،پھوپھی کی بیٹی کا نکاح سائل کے بیٹےسے اس لئے نہیں ہوسکتا کہ اب یہ آپس میں رشتے کے اعتبار سے چچابھتیجی اور پھوپھی بھتیجا بن چکے ہیں، جس طرح حقیقی چچا اور بھتیجی کانکاح نہیںہوسکتا اسی طرح رضاعی چچابھتیجی کا نکاح بھی نہیںہوسکتا،بالکل اسی طرح رضاعی پھوپھی اور بھتیجے کا نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰـتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃ](النساء:۲۳)
ترجمہ:حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی لڑکیاں اور بہن کی لڑکیاں اور تمہاری وه مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں۔
یعنی تم پر تمہاری ماں سے بیٹیوں سے بہنوں ،پھوپھیوں اور تمہاری خالائیں اوربھائی کی لڑکیاں اور بہن کی بیٹیوں سے نکاح کرنا حرام قرار دیاگیا ہے چاہے یہ خونی رشتے ہوں یا رضاعی دونوں ہی حرام ہیں۔
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن وسنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

comments

About حافظ محمد سلیم

مفتی جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

احکام ومسائل

گورنمنٹ کا مسجدکو سیل کرنا محترم جناب حافظ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے …

جواب دیجئے