Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ ستمبر » مولانا صفی اللہ محمدی جوگی کی رحلت

مولانا صفی اللہ محمدی جوگی کی رحلت

ذوالفقار علی طاہر

6اگست2016ء بروز ہفتہ بوقت صبح مولانا صفی اللہ محمدی فاضل المعہد السلفی کراچی طویل علالت کے بعدسول اسپتال گمبٹ ضلع خیرپور میں انتقال کرگئے۔ انا للہ واناالیہ راجعون.
مولانا صفی اللہ محمدی طویل عرصہ سے ہیپاٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا تھے۔آپaنےجمعہ5اگست2016ء کاخطبہ جمعہ اپنے گاؤں کی مسجد میں ارشاد فرمایا،بعد نماز عصر اچانک آپ کی طبیعت کافی قدرناساز ہوگئی، آپ کو ٹھری میر واہ کے اسپتال لے جایاگیا، وہاں سے خیرپور بھیجاگیا،وہاں بھی ڈاکٹرز نے داخل کرنے سےمنع کردیا اورگمبٹ لےجانے کامشورہ دیاگیا چونکہ رات کا وقت تھا سینئرڈاکٹر موجود نہیں تھے لہذا آپ کاکماحقہ علاج نہ ہوسکا لیکن یہ سب بہانے ہیں اصل بات یہ ہے کہ وقت مقررہ آچکاتھا بالآخر آپ نے صبح بوقت تہجد اپنی جان،جاں آفریں کے سپرد کردی۔
آپ کی نماز جنازہ آپ کے آبائی گاؤں ننڈھی ٹھری میں دومرتبہ ادا کی گئی،پہلی مرتبہ مولاناعبدالرحمٰن ثاقب صاحب کی اقتداء میں مغرب سے کچھ قبل جبکہ دوسری مرتبہ آپ کے چھوٹے بھائی قاری عبدالباسط صاحب فاضل المعہد السلفی ومعلم شعبہ تحفیظ القرآن تین ہٹی کراچی کی اقتداء میں ادا کی گئی۔
مولانا صفی اللہ محمدی جوگی بن غلام رسول جوگی 1970ء میں گوٹھ قائم شاہ تحصیل ٹھری میرواہ ضلع خیرپور میرس میںپیدا ہوئے ۔ آپ نے دو شادیاں کیں، اللہ نے آپ کو ایک بیٹے سے نوازا جس کانام سمیع اللہ تجویز ہواجو المعہد السلفی کے شعبہ حفظ القرآن میں زیرتعلیم ہے۔
مولانا صفی اللہ محمدیaکا امیرمحترم فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdسے محبت واطاعت کا رشتہ تھا،انہوں نے اپنی حیات میں اس کا متعدد مرتبہ ثبوت دیامثلاً:
ایک ادارہ نےاپنی فتاویٰ کو کتابی شکل میں شایع کرناچاہا، اس ادارہ کی فتاویٰ میں ایک فتویٰ امیرمحترم کا بھی تھا، محض عناد کی بناء پر امیر محترم کےاس فتوے کو شایع نہیں کیاجارہاتھا،اشاعتی مراحل طے کرنا مولانا صفی اللہ کی ذمہ داری تھی انہوں نےامیرمحترم کا وہ فتویٰ شایع کرادیا جس پرا نہیں سخت سرزنش ہوئی اور امیرمحترم کی خاطر انہوں نے وہ سرزنش خندہ پیشانی سے سہہ لی ۔امیرمحترم نے ادارہ المعہد السلفی قائم کیا تومولاناصفی اللہ محمدی اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے المعہد السلفی آگئے اور تعلیم حاصل کرنا شروع کردی بالآخر المعہد السلفی ہی میں تعلیم کی تکمیل کی۔
اس کے بعد امیرمحترم کے حکم سے ان کی تقرری جامعہ بدیع العلوم مٹھی میں ہوئی لیکن کچھ عرصہ بعد المعہد السلفی کیلئے ان کی خدمات کی ضرورت پڑی اور انہیں واپس بلالیاگیا پھراہل علاقہ کے اصرار پر ان کی تقرری ٹنڈومیر علی کی مسجد میں بطور امام وخطیب ہوئی اوربالآخرانہیں ان کے اپنے گاؤں ہی میں امام،خطیب اور مدرس مقرر کیاگیا الغرض جہاں جہاں امیرمحترم انہیں حکم دیتے گئے وہ اطاعت وفرما نبرداری سے اس پر عمل پیراہوتے رہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں امیر کی اس اطاعت شعاری پر اجرعظیم عطا فرمائے ۔آمین
دریں اثناء امیرمحترم فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانی dنے مولانا صفی اللہ کی وفات پر گہرے رنج وغم کااظہارفرمایا ہے اور دعا فرمائی ہے کہ اللہ پاک مولانا صفی اللہ محمدی کی بشری لغزشوں سے درگزر
فرمائے۔ان کی علمی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشتے ہوئے انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ عطافرمائے ۔اس موقع پر امیرمحترم نے مولانا صفی اللہ محمدی کے لواحقین کے ساتھ بھی دلی تعزیت کی۔ جبکہ شیخ محمد داؤد شاکر نائب مدیر المعہد نے امیرمحترم کے حکم سے 13 اگست 2016ء بروز ہفتہ صفی اللہ محمدی کے گاؤں جاکر ان کے بھائی قاری عبدالباسط اور ان کے بھانجے قاری اسحٰق کے ساتھ تعزیت کی۔
اللھم اغفرلہ وراحمہ وعافہ واعف عنہ.

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے