Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ ستمبر » ذبح کے چند ضروری مسائل

ذبح کے چند ضروری مسائل

محدث دیارِ سندھ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی
ترجمہ:شفیق احمد فاضل المعہد السلفی کراچی

[وَلَاتَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌ۝۰ۭ وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــہِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ۝۰ۚ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْہُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۝۱۲۱ۧ ] ترجمہ:اور تم اس (جانور کے گوشت) سے نہ کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام نہ لیا گیا ہو اور بیشک وہ (گوشت کھانا) گناہ ہے، اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں (وسوسے) ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم ان کے کہنے پر چل پڑے (تو) تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔(الانعام:۱۲۱)
مسئلہ:(۱)
جب کوئی مشرک،جانور ذبح کرے یاکوئی شخص غیراللہ کےنام پر ذبح کرے تو وہ حرام ہے، کیوں کہ مشرک کے سارے عمل برباد ہیں، کوئی عمل قابل قبول نہیں اس لئے کہ اس کابسم اللہ پڑھنا یانہ پڑھنا برابر ہے اور ایسی چیز کے کھانے کی آیت میں منع وارد ہوئی ہے۔
مسئلہ (۲)
عنقریب مسئلہ(۶) میں بخاری ومسلم کے حوالے سے ایک حدیث ذکر ہوگی کہ جوجانورذبح کے وقت خون بہائے اور اس پر بسم اللہ پڑھی جائے تو اس کوکھاؤ۔
یعنی ثابت ہوا کہ ذبح کے وقت تھوڑا یازیادہ خون بہنا ضروری ہے اوریہ حلال ہونے کیلئے شرط ہے۔
مسئلہ (۳)
عن ابن عباس وابی ھریرۃ قالانھی رسول اللہ ﷺ عن شریطۃ الشیطان وھی التی تذبح فیقطع الجلد ولاتفری الاوداج ثم تترک حتی تموت.(ابوداؤد:۲؍۳۹)
ترجمہ:ابن عباس اور ابوھریرہwسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شیطانی طریقہ سے کھال کواتارنے سے منع فرمایا ہے۔
یعنی جانور ذبح کیاجائےاور اس کی رگیں نہ کاٹی جائیں، اس میں جان ابھی باقی ہو،اسی کیفیت میں اس کی کھال اتارنا شروع کردی جائے اور وہ جانور (تڑپ تڑپ کر) مرجائے۔
’اوداج‘ جمع ہے ’ودج‘ کی جس کامعنی رگ ہے۔جس سے خون بہتا ہے۔ لفظ جمع اس بات پر دال ہے کہ کم از کم تین رگیں کاٹی جائیں، ان رگوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے اس کے نیچےسے کاٹنا ضروری ہے،نہیں تو کم از کم رگوں کاوہ مجموعہ کاٹ دیاجائے اگر وہ مجموعہ رہ گیاتوجانور حلال نہ ہوگا،کیونکہ رگوں کے کاٹنے کا حکم آیا ہے اس کی تائید میں دیگراحادیث بھی وارد ہوئی ہیں۔
1حذیفہ بن یمان tسے طبرانی اوسط میں اور
2طبرانی کبیر میں ابوامامہ tسے
ان دونوں روایتوں میں اگرچہ کلام ہے مگر بطور استشہاد پیش کرسکتے ہیں۔
مجمع الزوائد ۶؍۳۳،۳۴؍صحیح بخاری ۲؍۸۲۸،باب النحر والذبح ،کتاب الذبائح والصید والتسمیۃ،کے اندر عطاء بن ابی رباح aکا قول موجود ہے کہ
والذبح قطع الاوداج کہ ذبح رگوں کے کاٹنے کو کہا جاتا ہے، رگیں کٹنے کے سوا ذبح نہیں کہلائیگا، اس لئےرگوں کے مجموعہ کا کٹ جانا ضروری ہے۔
امام بخاری aنے یہ قول ذکرکرکے ظاہر کیا ہےکہ ان کا بھی یہی مذہب ہے کیونکہ ترجمۃ الباب میں امام صاحب کے مذہب کا بیان ہوتا ہے۔
فائدہ:بعض اوقات رگوں کا وہ مجموعہ نیچے رہ جاتاہےبعد میں پتاچلتا ہےکہ جانور میں ابھی سانس باقی ہے تودوبارہ اس کوجلدی سے کاٹ دیاجائے تو جانور حلال ہوجائے گا،باقی مرجانے کے بعدحلال نہ ہو گا۔
مسئلہ(۴)
ہرچیز سےذبح کرسکتے ہیں مگرہڈی اورناخن سے ذبح جائز نہ ہوگا۔
عن رافع بن خدیج قال قلت یارسول اللہ انا لاقوا العدو غدا ولیست معنا مدی افنذبح بالقصب قال ماانھر الدم وذکر اسم اللہ فکل لیس السن والظفر وساحدثک عنہ اما السن فعظم وما الظفر فمدی الحبشۃ، الحدیث.
ترجمہ: رافع بن خدیج tسے روایت ہے کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ کل ہم دشمن کے آمنے سامنے ہونے والے ہیں اور ہمارے پاس کوئی چھری نہیں تو ہم سرکنڈے وغیرہ سے جانور ذبح کرسکتے ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا:جس چیز سے خون بہےاور اس پر بسم اللہ پڑھی جائے تو اس کوکھاؤ مگر دانت اورناخن نہ ہو، عنقریب میں اس کے بارے میں آپ کو بتاؤنگا کہ دانت ایک قسم کی ہڈی ہے (یعنی ہڈی سے کاٹنا صحیح نہیں) اور ناخن حبشیوں(کفار) کی چھری ہے(یعنی یہ بھی ہمارے لئے نہیں ہے)(مشکوٰۃ:۳۵)
اس کے علاوہ پتھر ،لکڑی وغیرہ سے ذبح کرنے کاذکر آیا ہے،جیسا کہ آگے مسائل میں بیان ہوگا۔
مسئلہ(۵)
ذبح کے آداب میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ کاٹنے،ذبح کرنے کے آلات کوتیز کیاجائےتاکہ جانور کو تکلیف نہ ہوجیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت [وَاَحْسِنُوْا۝۰ۚۛ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ۝۱۹۵ ]کی تشریح میں شداد بن اوس tکی حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ احسن انداز میں ذبح کرو اورکاٹنے کے آلہ کو تیز کرو کہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔
مسئلہ (۶)
عورت اگر ذبح کرناچاہے تو اس کاذبح کرنا بھی جائز ہے۔
اس کے متعلق امام بخاری aنے اپنی صحیح ۲؍۸۲۷میں مستقل باب قائم کیا ہے ،باب ذبیحۃ المرأۃ والأمۃ،یعنی لونڈی یاعورت کا جانور ذبح کرنا، پھر اس حدیث کوذکر کرتےہیں :
ان جاریۃ لکعب بن مالک کانت ترعی غنما بسلع فاصیبت شاۃ منھا فادرکتھا فذبحتھا بحجر فسئل النبی ﷺ فقال کلوھا.
ترجمہ:کعب بن مالک tکی ایک لونڈی سلع(نامی پہاڑ) کے پاس بکریاں چرایاکرتی تھی،پھر ایک دن ایک بکری بیمارہوگئی ،تو اس لونڈی نےاس کو پتھر سے ذبح کیا ،پھر اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ اسے کھاسکتے ہو۔
حافظ ابن حجر فتح الباری۹؍۶۳۲،۶۳۳میں فرماتےہیں کہ گویا اس باب میں امام بخاری aان لوگوں پر رد کرنا چاہ رہے ہیں جو عورت کے ذبیحے سےمنع کرتے ہیں۔اور سنن سعید بن منصور میں ابراھیم نخعی aسےصحیح سند سے مروی ہے کہ عورت کے ذبح میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کو ذبح کرنے کی طاقت ہو اور اس کو بسم اللہ بھی یادہو۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جس جانور کو عورت ذبح کرے اس کو کھاناحلال ہے،پھر وہ عورت آزاد ہو یالونڈی، چھوٹی ہو یابڑی، یا اہل کتاب سے ہو،کیونکہ اہل کتاب کا ذبیحہ بھی حلال ہے۔(جیسا کہ مائدہ میں گزرا)(شاہ صاحب aنے وہاں جو دلائل دیئے ہیں مسائل ذکر کرنے کے بعد آخر میں انہیں بیان کیاجائیگا۔مترجم)
پاکی کی حالت میں ہو یانہ،کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کے ذبح کیے ہوئے جانور کے کھانے کاحکم دیا ہے، یہ تفصیل نہیں پوچھی کہ عورت بڑی ہے یاچھوٹی؟ لونڈی ہے یاآزاد؟ذبح کرتے وقت پاک تھی کہ نہیں؟لہذاحدیث کاحکم عام ہے اس لئے امام شافعیa نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ یہی جمہور کاموقف ہے، اس کے متعلق دیگر احادیث بھی وارد ہوئی ہیں، مثلاً:طبرانی اوسط میں ابن عمرwسے روایت ہے کہ
ان کعب بن مالک سأل رسول اللہ ﷺ عن جاریۃ ذبحت بلیطۃ فقال کلہ.
ترجمہ: کعب بن مالکaنےایک لونڈی کے متعلق رسول اللہ ﷺسے سوال کیا جس نے درخت کے(تیز دھار)چھلکے سے جانور کوذبح کیاتھا،آپﷺ نے اس کو کھانے کاحکم دیا۔
فائدہ: اسی طرح بعض جہال نابالغ لڑکے یا جس کاختنہ نہ ہوا ہو کے ذبیحے سے بھی منع کرتےہیں، مگر حدیث میں ایسی کوئی منع نہیں ہے، نہ ہی ایسی کوئی شرط موجود ہےاسی طرح اگر کوئی جنبی شخص ذبح کرتا ہے تو وہ جانور بھی حلال ہے،بلکہ امام بخاری aاپنی صحیح (۱؍۴۴) میں فرماتے ہیں کہ
وقال الحکم انا اذبح وانا جنب وقال اللہ عزوجل ولاتأکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ.
حکم بن عتبہ تابعی فرماتے ہیں کہ میں جنبی حالت میں بھی ذبح کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:جس چیز پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے اس کو نہ کھایاکرو۔
امام بخاریaباب میں اس مسئلہ کو ذکر کرکے اپنے مذہب کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔
یہ اثر مسند ابی الجعد(۱؍۳۴۵)میںموصولاًمذکور ہے۔
مسئلہ (۷)
بعض لوگ یہ شرط لگاتے ہیں کہ ذبح کے وقت جانور کاچہرہ قبلہ رخ کیاجائے ورنہ ذبح صحیح نہ ہوگا،اگرچہ یہ کام بہتر ہے جیسا کہ مشکوٰۃ، ص: ۱۲۸ بحوالہ احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ اور دارمی کی ایک حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دودنبے قبلہ رخ کرکے ان کو لٹایا پھر ان کو ذبح کیا، مگر یہ شرط لگانا کہ اس کے سوا صحیح نہ ہوگا،درست نہیں ہے یہ صرف شیعوں کا موقف ہے باقی تمام مسلمان متفق ہیں کہ کسی طرف بھی چہرہ ہو، ذبح جائز ہے۔
جیسا کہ امام ابن جوزی نے تلبیس ابلیس،ص:۱۰۰میں ذکر کیا ہے۔
مسئلہ(۸)
بعض جہال سے یہ بھی سناگیا ہے کہ ذبح کے وقت جانور یا پرندے کاسر الگ ہوجائے ، تو وہ اس کوحرام کہتے ہیں، اس کاکوئی ثبوت نہیں ،اور کہتے ہیں کہ جانور کے پیٹ کے بل گرنے سے قبل اس کاسر نہ کاٹا جائے جبکہ یہ عقیدہ بالکل غلط ہے، جس کا قرآن وحدیث میں کوئی ثبوت نہیں لہذا اگر سرالگ ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔
شاہ صاحبa سورہ مائدہ کی آیتـ[وَطَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ۝۰۠ ] کے تحت لکھتے ہیں:
اور اہل کتاب کاطعام تمہارے لئے حلال ہے۔
اس آیت سےعام مفسرین یہی مراد لیتے ہیں کہ اہل کتاب کا ذبح کیاہوا جانور ہمارے لئےحلال ہے، ابن عباس،ابو امامہyمجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ ،عطاء،حسن بصری ،مکحول، ابراھیم نخعی، سدی اور مقاتل بن حیان سب اسی طرح کہتے ہیں کہ اس آیت سے اہل کتاب کاذبح کیا ہوا جانور مراد ہے۔
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اہل کتاب کا ذبح کیاہوا جانور مسلمانوں کیلئے حلال ہے، کیونکہ اہل کتاب غیراللہ کیلئے ذبح کیے ہوئے جانور کے متعلق حرام ہونے کاعقیدہ رکھتے ہیں، اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق ان کے ذہنوں میں کچھ غلط عقائد ہیں،جن سے رب تعالیٰ پاک ہے، مگرذبح کیے ہوئے جانور پر اللہ کے سوا اور کانام نہیں لیتے۔
عبداللہ بن مغفل tسےر وایت ہے کہ خیبر والے دن مجھے چربی کی ایک تھیلی نظرآئی،میں نے اس کوقابو کرلیا کہ آج میں اس میں سےکسی کوکچھ نہیں دونگا۔پھر(اچانک) رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ مسکرارہے ہیں۔
(مسلم۲؍۹۷مع النووی)
اس میں بھی دلیل ہے کہ اہل کتاب کاذبیحہ حلال ہے کیونکہ وہ چربی یہود کے علاقے خیبر سے ہاتھ لگی تھی، اس سے بہتر دلیل (بخاری۲ ؍ ۶۱۰)اور (مسلم۱؍۴۴) وغیرہ میں حدیث ہے کہ فتح خیبر کے بعد یہودیوں کی طرف ایک سے بھونی ہوئی بکری رسول اللہ ﷺ کو بطور ہدیہ پیش کی گئی،اور(بخاری۲؍۶۳۷) میں عائشہrسے معلقا حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس میں سے کچھ کھایا اورآخری بیماری میں اس زہرکااثرنظرآیانیز مستدرک حاکم ۳؍۵۸میں یہ حدیث موصولاً مذکور ہے۔
امام بیہقی کی دلائل النبوۃ۶؍۲۶۲میں جابرtسے روایت ہے کہ اس میں سے بعض اصحاب نے کھایا جس کی وجہ سے وہ فوت ہوگئے۔
ایک روایت ابوسلمہ اور ابن شھاب زہری سے مرسل مذکور ہے کہ بشر بن براء بن معرورtنے اسے کھایا اور فوت ہوگئے۔
امام بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ روایت ابوھریرہtسےموصولاًمروی ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ اہل کتاب کی ذبح کی ہوئی اور بھونی ہوئی بکری قبول کی گئی اور آپ نے خود بھی کھانے کاارادہ کیا اور دوسروں نے بھی آپﷺ کے سامنے اسے کھایا۔ابن کثیر۲؍۱۹مع التشریح)
(ماخوذ از بدیع التفاسیرج۸،تفسیر سورۂ انعام)

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے