Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اکتوبر » کشادہ رزق کے ذرائع

کشادہ رزق کے ذرائع

ازکیٰ اخت حافظ محمداحمدمیمن

رزق عطا کرنے والااللہ ہی ہےاک مسلمان مومن کو کامل یقین ہونا چاہئے کہ تمام معاملات وہ دنیاوی ہوںیا اخروی سب کاا ختیار ایک اللہ کے پاس ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[وَمَامِنْ دَاۗبَّۃٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللہِ رِزْقُہَا ] (ھود:۶)
اور زمین پر چلنے والے ہر جاندار کارزق اللہ کے ذمے ہے۔
یعنی وہ کفیل اور ذمے دار ہے، زمین پر چلنے والی ہر مخلوق کو انسان ہو یا جن،چرند ہویاپرند، چھوٹی ہویابڑی، بحری ہویابری، اس کی نوعی یا جنسی ضروریات کے مطابق وہ خوراک مہیاکرتا ہے ۔
(تفسیر احسن البیان)
اکثرلوگ کشادہ رزق کے لئے طرح طرح کی بدعات کاارتکاب کرتے ہیں غیراللہ کے نام پے نذر ونیاز کرتے ہیں۔اس کی نفی کرتے ہوئےارشاد باری تعالیٰ ہے:
[وَاللہُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَحَفَدَۃً وَّرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ۝۰ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَتِ اللہِ ہُمْ يَكْفُرُوْنَ۝۷۲ۙ وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَمْلِكُ لَہُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۝۷۳ۚ ] (النحل:۷۲،۷۳)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں۔ کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان ﻻئیں گے؟ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے؟ اور وه اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے انہیں کچھ بھی تو روزی نہیں دے سکتے اور نہ کچھ قدرت رکھتے ہیں ۔
اب ذیل میں کچھ ایسے اعمال کا ذکر کرتے ہیں جن کو انجام دینے سے اللہ اپنے فضل سے کشادہ رزق عطا کرتا ہے اور یہ اعمال قرآن و حدیث سے ثابت ہیں لہذا ان اعمال کو اخلاص نیت سے سرانجام دینے کے بعد رزق کی کشادگی میں کوئی رکاوٹ نہیں آسکتی کیوں کہ یہ اعمال بھی اللہ رب العزت کے بتائے ہوئے ہیں اور رزق دینے والا بھی وہی ہے۔
وہ اعمال ترتیب وار یہ ہیں:
ایمان-تقویٰ-توکل
ارشا باری تعالیٰ ہے:
[ ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِہٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۥۭ وَمَنْ يَّـتَّقِ اللہَ يَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۝۲ۙ وَّيَرْزُقْہُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ فَہُوَحَسْبُہٗ۝۰ۭ ] (الطلاق:۲،۳)
ترجمہ:یہی ہے وه جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔
نماز قائم کرنا اورصدقہ دینا
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ۝۳ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا۝۰ۭ لَہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۝۴ۚ ](الانفال:۳،۴)
ترجمہ:جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وه اس میں سے خرچ کرتے ہیں سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرنا
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ۝۷ ](ابراہیم:۷)
ترجمہ:اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے ۔
صلہ رحمی
سیدناانسtسے روایت ہے نبیٔ رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہے کہ اس کارزق فراخ ہوجائے اور اس کی عمر میں برکت ڈال دی جائے تو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔
(صحیح بخاری:2097)
توبہ استغفار
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ غَفَّارًا۝۱۰ۙ يُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا۝۱۱ۙ وَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْہٰرًا۝۱۲ۭ ](نوح۱۰تا۱۲)
ترجمہ:اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے والاہے وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا ۔
استغفار کا دنیا میں بھی یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس سے تنگدستی اور کئی دوسری پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں،چنانچہ حسن بصریaسے ایک شخص نے قحط کاشکوہ کیا، دوسرے نے محتاجی کا تیسرے نے اولاد نہ ہونے کا توآپ نے ان تینوں کو استغفار کاحکم دیا کسی نے کہا ان کے شکوے توالگ الگ ہیں لیکن آپ ہر ایک کو استغفار کا ہی حکم دے رہے ہیں؟اس کے جواب میں آپ نے یہی آیت مذکورہ بالاپڑھ کر اسے مطمئن کردیا۔(تیسیر الرحمٰن)
دعا-ذکراللہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے:[وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِيْشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَعْمٰى۝۱۲۴ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِيْٓ اَعْمٰي وَقَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا۝۱۲۵ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَہَا۝۰ۚ وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى۝۱۲۶ ] ترجمہ:اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے وه کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا (جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے ۔(طہ۱۲۴تا۱۲۶)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ کا ذکرکرنے والے کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور اللہ اس کے مال میں برکت نازل فرماتا ہے اور وہ روز قیامت کی رسوائی سے بھی محفوظ رہےگا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ۝۰ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِيْنَ۝۶۰ۧ] (بقیہ صفحہ:39)
ترجمہ:اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے ۔(غافر:۶۰)
سیدنا نعمان بن بشیرtسےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:(الدعاء ھو العبادۃ)(سنن ترمذی:3376)
دعا ہی عبادت ہے۔
سیدناسلمان فارسی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا خَائِبَتَيْنِ(سنن ترمذی:3556)
بے شک اللہ تعالیٰ حیا کرنے والااور مہربان ہے اور کوئی بندہ جب اس کی طرف ہاتھ بلند کرتا ہے تو اسے حیاآتی ہے کہ وہ انہیں خالی واپس لوٹائے۔
اللہ ارحم الراحمین ہے اس سے دعا میں اس کارحم اور پاکیزہ رزق مانگنا چاہئے یہ نہ کہ جیسا بھی ملے بس ہمیں ملے۔
اللہ رب العزت ہمیں اپنا فرمانبردار بنائے اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔آمین

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے