Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ نومبر » بدیع التفاسیر قسط 185

بدیع التفاسیر قسط 185

۔ قسط 185 ۔۔۔ احسن الکتاب فی تفسیر ام الکتاب

شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

دسواں باب
تفسیر قرآن سے متعلق ضروری احکامات کابیان
اس باب میں اکیس فصلیں ہیں۔
تفسیرقرآن کاطریقہ کار بیان کرتے ہوئے حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر۱؍۱۳ میں فرماتے ہیں :
ان اصح الطریق فی ذالک ان یفسر القرآن بالقرآن فما اجمل فی مکان فانہ بسط من موضع آخر فان اعیاک ذالک فعلیک بالسنۃ فانھا شارحۃ للقرآن وموضحہ لہ.
تفسیر قرآن کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ خود قرآن سے اس کی تفسیر کی جائے، کسی جگہ قرآنی مضمون مجمل ہوتا ہے تو دوسری جگہ اس کی تفسیر موجود ہوتی ہے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر حدیث سے قرآن مجید کی تفسیر کی جائے کیونکہ حدیث قرآن کی شرح وتفسیر ہے جو کہ مضامین قرآن کی وضاحت کرتی ہے۔
تفسیر قرآن کے مختلف طرق کو ہم مختلف فصلوں میں تفصیل سے ذکر کریں گے ،ان شاء اللہ
پہلی فصل:
خود قرآن مجید سے اس کی تفسیر
قرآن مجید کی تفسیر سے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
[اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ۝۱۷ۚۖ فَاِذَا قَرَاْنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ۝۱۸ۚ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَہٗ۝۱۹ۭ ](القیامۃ:۱۷تا۱۹)
یعنی اے نبیﷺ آپ کے سینے میں قرآن کو جمع کرنا ہمارا کام ہے اسی طرح اس کا بیان اور تفسیر بتانا بھی ہمارا کام ہے۔
اس آیت کریمہ کا تقاضہ ہے کہ قرآن کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ اور سمجھادی گئی ہے، خود قرآن مجید اس سے اولین مراد ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ۝۱ۙ ](ھود:۱)
یعنی قرآن مجید کی آیات واحکام مضبوط ومحکم ہیں، اور خود حکیم خبیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی تفصیل ،تفسیر اور بیان ہوچکا ہے۔
اس آیت کریمہ سے واضح ہوا کہ قرآن کی تفسیر خود قرآن میں موجود ہے۔
تفسیر ابن کثیر۲؍۴۳۵میں اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ:
ای ھی محکمۃ فی لفظھا مفصلۃ فی معانھا.
یعنی آیات قرآنیہ باعتبار الفاظ مضبوط اور معنی کے اعتبار سے مفصل وبیان شدہ ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا۝۳۳ۭ ](الفرقان:۳۳)
یعنی مخالفین کے ہر شبہ واشکال کے جواب میں ہم حق بیان کرتے ہیں جو کہ واضح اور تفسیر شدہ ہے۔
ان آیات اور اس قسم کی دوسری آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آیاتِ قرآنیہ کی تفسیر دوسری قرآنی آیات سے بخوبی سمجھی جاسکتی ہے، اسی لئے حافظ ابن کثیر نے تفسیر کے دیگر طرق کے مقابلے میں اس طریق کو زیادہ صحیح قرارد یا ہے ،بلکہ تمام علماء اس پر متفق ہیں کہ سب سے بہتر اور معتبر تفسیر وہی ہے جو خود قرآن مجید کے الفاظ، سیاق اور ایک آیت کی وضاحت دوسری آیت سے ہو، اس لئے سلف میں سے اکثر مفسرین او ان کے نقش قدم پر چلنے والے متاخرین بھی قرآن مجید کی تفسیر کرتے ہوئے قرآنی شہادات ودلائل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، امام ابن الجوزی نے اس سے متعلق مستقل کتاب تصنیف فرمائی ہے، جس میں وہ ایک مجمل آیت ذکر کرتے ہیں پھر دیگر آیات سے اس کی تفسیر ذکر کرتے ہیں۔(الاتقان۲؍۱۷۵)
امام المفسرین ابن جریر الطبری نے اپنی تفسیر میں جابجا یہی طریق اختیار کیا ہے، حافظ ابن کثیر بھی حتی الامکان قرآن کی تفسیر کے لئے آیات سے استدلال کرتے ہیں، ماضی قریب میں شیخنا ثناء اللہ امرتسری مرحوم نے اسی نہج پر باقاعدہ ایک تفسیر لکھی ہے جو کہ ’’تفسیر القرآن بکلام الرحمٰن‘‘ کے نام سے معروف ہے، جس میں قرآنی آیات سے ہی استدلال کیا گیا ہے ،فجزاہ اللہ عن الاسلام والمسلمین.
خیر،حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر قرآنی آیات کی تفسیر اوروضاحت خود قرآن مجید میں موجود ہو تو کوئی دوسری تفسیر اس سے بہتر نہیں ہوسکتی، جیسا کہ مثال مشہور ہے کہ:
صاحب البیت ادری بمافیہ
یعنی جو چیز گھر میں موجود ہو اس کا سب سے زیادہ جاننے والاگھر کا مالک ہی ہوسکتا ہے۔
چونکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کاکلام ہے تو اس کے رموز وحقائق اور بیان شدہ مسائل واحکام کو سب سے زیادہ وہی جانتا ہے ،دوسرے لوگ صرف اتنا ہی جان سکتے ہیں جتنا علم رب العالمین نے انہیں عطا کیا ہے۔[وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ۝۰ۚ ] (البقرۃ:۲۵۵)
کوئی بھی مصنف اپنی کتاب کو دوسروں سے زیادہ سمجھ سکتا ہے اور دوسروں کو سمجھاسکتا ہے،اس لئے کہاجاتا ہے کہ:
ع تصنیف را مصنف نیکو کند بیان
اس لئے ہر مفسر کو چاہئے کہ قرآنی آیات کی تفسیر سب سے پہلے خود قرآن مجید میں ہی تلاش کرےبلکہ راقم الحروف کا تو معمول ہے کہ جس آیت کی تفسیر مطلوب ہوتی ہے تو اس مضمون کی تمام آیات کوذہن نشین کرنے سے اصل آیت کامطلب بلکل واضح اور روشن ہوجاتا ہے کئی مرتبہ یہ چیز عمل میں آچکی ہے ،فللہ الحمد.
دوسر ی فصل:
احادیث مبارکہ سے قرآن مجید کی تفسیر
اللہ تعالیٰ کافرمان ہے کہ:[وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ۝۴۴ ](النحل:)
یعنی اے نبی ﷺ ہم نے آپ کی طرف قرآن کو نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لئے اس کے احکامات کوواضح کرکے بتائیں۔
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نہ صرف قرآن مجید کے مبلغ ہیں بلکہ آپ اس کے مفسر اورشارح بھی ہیں۔ آپ کا ہر قول وعمل قرآن مجید کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہے، کہیں اجمال کی تفصیل ہے تو کہیں مبہم کابیان اور کہیں لفظ مشترک کی تعیین وغیرہ۔
امام فخرالدین رازی اپنی تفسیر۲؍۳۸میں اس آیت کے تحت فرماتےہیں:
ظاھر ہذہ الآیت یقتضی ان یکون الرسول ﷺ ھو المبین لکل ماانزل اللہ علی المکلفین.
یعنی اس آیت کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لئے جو بھی احکامات نازل فرمائےہیں ان سب کو بیان، وضاحت اور ان کی تشریح کرنے والے صرف رسول اللہﷺ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر۲؍۱تا۵میں ہے:
وانزلنا الیک الذکر یعنی القرآن لتبین للناس مانزل الیھم ای من ربھم لعلمک بمعنی ماانزل اللہ علیک وحرصک اتباعک لہ ولعلمنا بانک افضل الخلائق وسید ولدآدم فتفصل لھم ما اجمل وتبین لھم مااشکل.
یعنی: ہم نے آپ کی طرف قرآن مجید کو نازل کیا تاکہ آپ کھول کر وضاحت کرکے اسے سمجھادیں اس لئے کہ آپ ہی قرآن کو جاننے والے اور اس کی اتباع کرنےوالے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ آپ تمام مخلوقات میں سب سے افضل اور پوری اولاد آدم کے سردار ہیں اس لئے آپ ہی جمال کی بہترتفسیر اور مشکل مضمون کی صحیح طور پروضاحت کرسکتے ہیں۔
رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں اس طرح کی کئی سوالات پیش آئے جنہیں آپﷺ نے حل فرمایا چندامثلہ پیش خدمت ہیں:
(۱)عن عَائِشَةرضی اللہ عنھا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ» قُلْتُ: أَوَلَيْسَ یَقُوْلُ اللَّهُ تَعَالَى: {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8] فَقَالَ : «إِنَّمَا ذَلِكِ العَرْضُ، وَلکن من نوقش فی الحِسَاب یھلک»(متفق علیہ)
(مشکاۃ،ص۴۸۴،صحیح بخاری، کتاب الرقاق ، باب من نوقش فی الحساب عذب۶۵۳۷،مسلم۲۸۷۶)
یعنی سیدہ عائشہ rسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن جس کا بھی حساب وکتاب لیاگیا تو وہ ہلاک ہوجائے گا میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ یہ جوفرماتا ہے کہ:یعنی جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیاگیا اس کاحساب وکتاب آسان کردیا جائے گا۔(یعنی جب بعض لوگوں کا حساب وکتاب آسان بھی ہوگا توسارے (حساب وکتاب لئے جانے والے) ہلاک کیسے ہونگے! آپ ﷺ نے فرمایااس آیت میں نامہ اعمال کے صر ف پیش ہونے کاذکر ہے باقی جس شخص کا حساب وکتاب تفصیل سے لیاگیا وہ ہلاک ہوجائے گا۔
اس حدیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
الف:رسول اللہ ﷺ قرآن مجید کے بڑے مفسر اور اسے سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔
ب: صحابہ کرام yقرآن مجید کےکسی مشکل مقام کو سمجھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرتے اور آپ سے ہی معلوم کرتے۔
ج: آپﷺ کی وضاحت وبیان پر صحابہ کرام yکو پورا اعتماد اور مکمل بھروسہ ہوتاتھا، آپ کی وضاحت کے بعد وہ کسی تردد اور شک وشبہ کا شکارنہیں رہتے تھے،(بلکہ دل وجان سے اسے قبول کرتے )
د: اگر کسی آیت اورحدیث کےد رمیان بظاہراختلاف نظرآئے تو فوراً ہی اس پرتعارض کاحکم نہیں لگانا چاہئے بلکہ پوری طرح اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
(۲)امام ابن حبان اپنی صحیح میں سیدنا ابوھریرہ tسے روایت لائے ہیں کہ:
قال جاء رجل الی رسول اللہ ﷺ فقال یامحمد ارأیت جنۃ عرضھا السموت والارض فاین النار؟ فقال النبی ﷺ ارأیت ہذا اللیل قد کان ثم لیس شیٔ این جعل؟ قال اللہ اعلم فقال فان اللہ یفعل مایشاء.(ترتیب ابن حبان للامیر علاء الدین الفارسی ۱؍۱۰۴، صحیح ابن حبان ۱؍۳۰۶،۳۰۷ح۱۰۳)
ایک شخص نے سوال کیا کہ:(قرآن مجید) جنت کا طول وعرض (چوڑائی) آسمان وزمین کے برابر بیان کی گئی ہے۔(آل عمران،الحدید) تو پھر جہنم کس جگہ واقع ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: گذشتہ رات بھی پورے آسمان وزمین میں نظرآرہی تھی(بتاؤ اب)اس وقت وہ کہاں ہے؟ اس نے عرض کی اللہ ہی جانتا ہے آپﷺ نے فرمایاان تمام امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے۔
(۳)درمنثور ۴؍۲۰۳ میں بحوالہ احمد، بخاری،مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابونعیم فی المعرفۃ، ابن مردویہ، اور بیہقی فی الاسماء والصفات،سیدناانس tسے روایت ہے کہ:
قال قیل یارسول اللہ کیف یحشر الناس علی وجوھھم قال الذی امشاھم علی ارجلھم قادر ان یمشیھم علی وجوھھم.(صحیح بخاری، کتاب التفسیر سوررۃ الفرقان، باب قولہ الذین یحشرون علی وجوھھم الی جھنم،ح:۴۷۶۰،۶۵۲۳مسلم۲۸۰۶،مسنداحمد۳؍۲۲۹،النسائی فی الکبری ۶؍۴۲۰)
رسول اللہ ﷺ سےد ریافت کیاگیا کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے چہروں (سروں) کے بل کیسے اٹھایاجائے گا؟(جس کا ذکر سورہ بنی اسرائیل میں ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: جس اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پاؤں کے بل چلایا ہے وہ یہ بھی قدرت رکھتا ہے کہ انہیںچہروں (سروں) کے بل چلائے۔
ان امثلہ سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام میں کوئی تکلف نہ تھا بلکہ وہ (قرآن مجید کی تفسیر وتشریح کیلئے) رسول اللہ ﷺ کی وضاحت کو کافی سمجھتے تھے، آپﷺ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ہی قرآن مجید سمجھتے تھے۔
صحیح مسلم،کتاب الحج،باب حجۃ النبی ﷺ ح:۱۲۱۸ میںسیدنا جابر بن عبداللہtسےرسول اللہ ﷺکا حج کا واقعہ مذکور ہے کہ:
ثم رکب القصواء حتی اذا استوت بہ ناقتہ علی البیداء نظرت الی مد بصری بین یدیہ من راکب وماش وعن یمینہ مثل ذلک وعن یسارہ مثل ذلک وعن خلفہ مثل ذلک ورسول اللہ ﷺ بین اظھرنا وعلیہ ینزل القرآن وھو یعرف تاویلہ وماعملہ من شیٔ الاعملنا بہ.
سیدنا جابربن عبداللہ wفرماتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ احرام باندھ کر اونٹنی پر سوار ہوئے جب اونٹنی کھڑی ہوئی تو میں نے آپ کے چاروں اطراف نظردوڑائی تاحدنگاہ مجھے لوگ ہی لوگ نظرآئے، بعض سوار توبعض پیدل، آپﷺ درمیان میں تھے (ارکان حج کے بارے میں) آپﷺ پر قرآن نازل ہوتاتھا اور آپ اس کی وضاحت فرماتے اس کامعنی ومفہوم سمجھاتے ،اور ہم تو صرف آپﷺ کو دیکھتے جس طرح آپ عمل کرتے تھے ہم بھی بالکل اسی طرح عمل کررہے تھے۔
معلوم ہوا کہ صحابہ کرام yرسول اللہﷺ کے ہر عمل کو قرآن مجید کی تفسیر تصور کرتے تھے۔
اسی طرح سیوطی نے رسالہ’’مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ‘‘میں کئی صحابہ yوتابعین سے روایات نقل کی ہیں ،جس میں سے چند ایک یہاں ذکر کی جاتی ہیں،چنانچہ بیہقی نے مدخل صغیر میں شبیب بن فضالہ مکی سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمران بن حصینtنے ایک مرتبہ شفاعت کےبارے میں احادیث ذکر فرمائیں، حاضرین میں سے کسی نے اعتراض کیا کہ آپ ایسے مسائل کے بارے میں احادیث ذکر کرتے ہیں جن کاذکر قرآن مجید میں نہیں ہے، عمران بن حصینtنے سخت غضبناک ہوکرفرمایا:کیا تم نے قرآن پڑھاہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں میں نے قرآن پڑھا ہے ،آپ نے فرمایا: تو پھر کیا تمہیں اس میں یہ نظر آتا ہے کہ عشاء، ظہراورعصر کی نماز چارچار رکعتیں پڑھو، مغرب کی تین رکعت اور فجر کی دو رکعت؟
اس نے جواب دیا کہ نہیں آپ نے فرمایا تو پھر تم نے یہ تعداد کیسے مقرر کرلی؟ ہم نے ہی تو(ان کی تعداد کے بارے میں) تمہیں حدیثیں بتائی ہیں،کیا تمہیں قرآن میں یہ نظر آتا ہے کہ چالیس بکریوں پر ایک بکری بطور زکاۃ ادا کرنی ہے؟ نیز اونٹوں اور درہموں کی زکاۃ کا کیا نصاب ہے؟ یہ سب کچھ حدیث سے ہی معلوم ہوتا ہے، اسی طرح طواف کے بارے میں قرآن میں ہے: [ولیطوفوا بالبیت العتیق] (الحج) مگر اس کی تفصیل کہ طواف کے سات چکرہیں اور بعدمیں مقام ابراھیم کے پاس دو رکعتیں نماز اداکرنی ہیں،قرآن میں موجود نہیں ہے بلکہ حدیث میں ہے، اسی طرح نکاح میں شغاروغیرہ کاممنوع ہونا بھی حدیث میں ہے کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا:[وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ ](الحشر:۷)
یعنی رسول اللہ ﷺ جو بھی تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز آجاؤ ۔
اسی طرح ہم نے رسول اللہ سے کئی اورباتیں بھی سیکھی ہیں جو کہ تمہیں معلوم نہیں ہیں۔
(ابوداؤد،کتاب الزکاۃ، باب ما تجب فیہ الزکاۃ، ح۱۵۶۱، الثقات لابن حبان ۷؍۲۴۸،ح۹۹۱۵ ،دلائل النبوۃ للبیھقی ۱؍۲۵،۲۶)
(جاری ہے)

About admin

Check Also

المعھد السلفی للتعليم والتربيہ رپورٹ 2018

جواب دیجئے