Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ جولائ » بدیع التفاسیر قسط 180

بدیع التفاسیر قسط 180

۔ قسط 180 ۔۔۔ احسن الکتاب فی تفسیر ام الکتاب

شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

بشر نےکہالمبی تقریر چھوڑو میرے پاس قرآن کےمخلوق ہونے کے متعلق صریح آیت موجود ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔ تو نے جس طرح گزشتہ دلائل کے متعلق طویل تقاریر کرکے جوابات دیئے ہیںا س دلیل کے مقابلہ میں تجھے کوئی سبیل نہیں مل سکتی، میں نے اس آیت کو عمداً مجلس کے آخری حصہ کیلئے رکھا ہے کہ تو پہلے دیگر دلائل پراپنی مکمل توانائی صرف کرلے تو آخر میں یہ آیت پیش کروں۔
میں نے کہا توجلدی سے وہ آیت پیش کر میں امیرالمؤمنین کو گواہ بناکر عرض کرتا ہوں کہ اگر قرآن میں کوئی ایسا حکم موجود ہے تو سب سے پہلے اسے میں تسلیم کروںگا۔ بشر نے یہ آیت پیش کی:[اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا ](الزخرف:۳)
میں نےکہاتمام مسلمان اس آیت پر ایمان رکھتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے، کوئی بھی مسلمان ا س سے انکاری نہیں ہے۔ مگر اس آیت میں تیری دلیل کہاں ہے اس آیت میں کہاںمذکورہے کہ قرآن مخلوق ہے؟ بشر نے جوابا کہا کہ:’جَعَلْنٰہُ‘کے معنی’خَلَقْنٰہُ ‘کے ہیں اس میں کسی کو بھی شک نہیں ہے۔ میں نے امیر المؤمنین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بشر کادعویٰ نص پیش کرنے کا تھا لیکن نص پیش کرنے کے بجائے اس کا مدار وہی تاویل ومعنی پر ہی رہا ۔ بشر کہنے لگا یہ تاویل ہےنہ تفسیر بلکہ عین نص ہے۔ میںنے کہا کہ اے امیرالمؤمنین قرآن عرب کی لغت کے مطابق نازل ہوااور وہی اس کے معانی کو زیادہ سمجھ سکتے ہیں جبکہ بشر عجمیوں کی اولاد ہے لہذا فضول تاویلات کرتا اور معانی تبدیل کرتا رہتا ہے۔ اور معانی بھی وہ جن کولغتِ عرب تسلیم نہیں کرتی۔ اور بشر محض تاویلات کی بنیاد پر لوگوں پر کفر کا فتویٰ لگاتا اور ان کے خون کومباح قرار دیتا رہتا ہے۔
بشرچیخنے لگا اور یہ آیات تلاوت کرنے لگا:[جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ۝۰ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَہُوْقًا۝۸۱](بنی اسرائیل:۸۱)
[فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِہٖ۝۰ۡفَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۝۸۹ ](البقرۃ:۸۹)اور مجھے دھمکاتے ہوئے کہنے لگا توخواہ کتنی ہی طویل تقاریر کر،میں نے تیرے سامنے ایسی دلیل پیش کی ہے جس کارد کرنے کی تجھ میں طاقت نہیں ہے، اگر تیرے پاس دلیل ہے تو پیش کرورنہ تیری گفتگو ختم ہوچکی اور تیری حجت منقطع ہوچکی اور مجلسِ مناظرہ کوختم سمجھنا چاہئے ۔ میں خاموشی سے بشر کی دھمکیاں سنتارہا۔ خلیفہ مامون نے مجھے مخاطب کیا کہ آپ خاموش کیوں ہوگئے ہیں۔ اگر اس کے سوال کا کوئی جواب آپ کے پاس ہے تو پیش کیوں نہیں کرتے؟ میں نے عرض کی کہ بشر مجھے گفتگو کرنے کا موقعہ ہی نہیں دے رہا۔ وہ اپنا چیخنا چلانا بند کرے تو میں اللہ کے حکم سے اسے جواب دیکر اس کے قول کو کاٹ کے رکھدوں گا۔ خلیفہ پوری کیفیت دیکھ رہے تھے، انہوں نے بشر کو خاموش ہوجانے اور مجھے گفتگو کرنے کاحکم دیا۔
میں بشر سے مخاطب ہوا کہ تولفظ’جعل‘‘ کو محکم سمجھتا ہے او ر یہ کہ اس کاترجمہ ’خلق‘ کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا؟ کہنے لگا: ہاں میں کیا سب لوگ عرب خواہ عجم اس بات پر متفق ہیں کہ ’جعل‘ بمعنی ’خلق‘ ہے۔ تب میں نےد وبارہ اس سے سوال کیا کہ اس ایک آیت: [اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا ]میں یہ معنی ہے یا مکمل قرآن میں جہاں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہاں اس کامعنی ’خلق‘ ہے؟ بشر نے کہا کہ مکمل قرآن میںیہی معنی ہے بلکہ تمام کلاموں میں نظم ہویانثر۔
میں نے ایک بار پھر امیرالمؤمنین کو گواہ بناتے ہوئے بشر سے کہا کہ:[اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا ]کے معنی تو یہی کرتا ہے کہ ہم نے قرآن کو عربی میں پیدا کیا ہے؟ بشر نے کہا:ہاں۔
میں نے اس سے کہا کہ تیرے قول کے مطابق قرآن کاخالق،اللہ اکیلا ہے یااس کے پیدا کرنے میں کوئی اور بھی اس کاشریک ہے؟ بشر نے کہا وہ اکیلا ہے۔ میں نے پھر سوال کیا کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ انسانوں نے قرآن کو پیدا کیا ہے تو وہ مسلمان کہلائے گا یاکافر؟ بشر نے کہا وہ کافر ہے، اور اس کاخون مباح ہے۔ میں نے پوچھا اگر کوئی کہے کہ تورات کویہودیوں نے تخلیق کیا ہے؟ کہنے لگا وہ بھی کافر ہے اور حلال الدم ہے۔ میں نے اس قسم کے دیگر سوالات کئے مثلاً: کوئی کہے کہ اللہ کو انسانوں نے تخلیق کیا ہے یاکہے کہ اللہ تمام اشیاء کاخالق ہے مگر تخلیق کرنے میں بعض بنی آدم بھی شریک ہیں۔یا کوئی کہے کہ فرشتوں کو بھی کچھ انسانوں نے تخلیق کیا ہے۔ یا کہے کہ انسانوں نے اللہ کیلئے شرکاءتخلیق کئے ہیں۔ ان تمام سوالات کے جواب میں وہ یہی کہتا رہا کہ ایسے عقیدہ کاحامل کافر اور مباح الدم ہے۔ میں نے امیر المؤمنین کومخاطب کرکے کہا کہ آپ گواہ رہنا کہ آپ کے سامنے بشر نے اپنے کافر ہونے کااقرار کیا ہے اور اپناخون مباح قرار دیا ہے۔
بشر چیخ پڑا کہ اے امیرالمؤمنین یہ آپ کی مجلس میں ہمیں بغیر کسی دلیل کے کافر کہہ رہا ہے اور ہمارے خون کو مباح قرار دے رہا ہے بلکہ اس نے یہ مجلس ہی اس غرض سے بپا کی ہے۔ مامون مجھ پر غصہ کرتے ہوئے مخاطب ہوا کہ تو نے بہت ہی برا فتویٰ دیا ہے، جوبات بشر کے منہ سے میں نے سنی نہیں، میں اس کاگواہ کیسے بن سکتا ہوں؟
میں نے عرض کی کہ امیرالمؤمنین آپ میری بات سنیں ،میں نے جو کچھ کہا ہے، ایک ایک جملے کیلئے میں قرآنی آیت پیش کروں گا ورنہ آپ کے لئے میراخون حلال ہے۔ آپ حاضرین کے سامنے میرا سر قلم کردیجئے گا۔خلیفہ نے کہا :اپنے دلائل پیش کرو۔ میں نے عرض کی کہ قرآن میں ہے:
[وَاَوْفُوْا بِعَہْدِ اللہِ اِذَا عٰہَدْتُّمْ وَلَا تَـنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِہَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللہَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا۝۰ۭ](النحل:۹۱)
اے امیرالمؤمنین !بشراور اس کے پیروکاروں کے ہاں ’وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللہَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا‘کا معنی یہ ہے:’قد خلقتم اللہ‘ حالانکہ پور ے عرب وعجم میں کسی کے ہاں بھی یہ معنی نہیں ہے اور دوسری طرف بشر کاکہنا ہے کہ جو اللہ کو کسی اور کی مخلوق قرار دے تو وہ کافر اورحلال الدم ہے۔ بشر معنی کرنے میں اگرچہ جھوٹا ہے لیکن اپنے فتویٰ میں سچاہے۔ اسی طرح میں نے دیگر آیات پیش کیں:
[وَلَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَيْمَانِكُمْ ](البقرۃ:۲۴۴)
[وَيَجْعَلُوْنَ لِلہِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَہٗ۝۰ۙ وَلَہُمْ مَّا يَشْتَہُوْنَ۝۵۷ ](النحل:۵۷)
[وَجَعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِہٖ۝۰ۭ](ابراھیم:۳)
[وَجَعَلُوْا لِلہِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ ](الانعام:۱۰۰)
[وَجَعَلُوْا لِلہِ شُرَكَاۗءَ۝۰ۭ قُلْ سَمُّوْہُمْ۝۰ۭ الآیۃ](الرعد:۳۳)
[فَلَمَّآ اٰتٰىہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىہُمَا۝۰ۚ] (الاعراف:۱۹۰)
[اَمْ جَعَلُوْا لِلہِ شُرَكَاۗءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِہٖ](الرعد:۱۶)
[وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَۃَ الَّذِيْنَ ہُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا۝۰ۭ ] (الزخرف:۱۹)
[قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاۗءَ بِہٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّہُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَہَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا۝۰ۚ ](الانعام:۹۱)
[الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ۝۹۱ ](الحجر:۹۱)
اے امیرالمؤمنین! بقول بشر کے ان تمام آیات میں ’جعل‘ بمعنی ’خلق‘ ہے اور دوسرا کوئی معنی نہیں ہوسکتا اور اس کے معنی کے مطابق، آیات کامطلب یہ ہوگا کہ (معاذاللہ) تورات یہود کی تخلیق ہے اور اللہ کو بھی لوگوں نے تخلیق کیا ہے، اور انسانوں نے اللہ کیلئے بیٹیاں اور شرکاء تخلیق کئے ہیں اور لوگوں نے فرشتوں کوتخلیق کیا ہے اور تخلیق کرنے میں وہ اللہ کے شریک ہیں۔ اور لوگوں نے قرآن تخلیق کیا ہے اور دوسری طرف بشر واضح طور پر فتویٰ دے چکا ہے کہ ایسا کہنے والاکافر اور حلال الدم ہے۔ یہ فتویٰ واقعتاً درست ہے جو اس نے’جعل‘ کا معنی کیا ہے اس کے مطابق بشر خود ہی اپنے فتویٰ کامصداق ہے۔ خلیفہ نے مجھے مخاطب کرکے کہا:
بس بس اے عبدالعزیز تو نے جوکچھ کہا وہ سب سچ ہے واقعتاً بشر نےمجھے گواہ بنا کر اپنے کافر ہونے کااقرار کیا ہے اور اپناخون مباح کہا ہے مگر وہ یہ فہم ہی نہیں رکھتا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اس کاکیانتیجہ نکلے گا لیکن یہ فیصلہ خاص بشر کیلئے ہے دوسرے اس میں داخل نہیں ہیں۔ میں نے عرض کی کہ واقعتاً ایسا ہی ہے لیکن اس قول میں جو بشر کی اتباع کرے گا وہ اس میں داخل ہے۔ خلیفے نےکہا کہ :احسنت یاعبدالعزیز!
خلیفہ نے مجھے کہا کہ تو اپنا بیان جاری رکھ اور ’جعل وخلق‘ میں جو فرق ہے، وضاحت کےساتھ بیان کرتاکہ حاضرین مجلس اس سے واقف ہوں۔
میں نے عرض کی کہ اگر اجازت ہو تو میں آگے بیان کرنے سے پہلے مندرجہ بالاتقریر کی کچھ مزیدمثالیں پیش کروں ۔ خلیفہ نے اجازت دیدی۔
میں نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کوفرماتا ہے:
[لَا تَجْعَلْ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ](بنی اسرائیل:۲۲)
بقول بشر آیت کامعنی ہوگا کہ اے نبی!اللہ کے ساتھ دوسرا معبود پیدا نہ کر۔
لہذا یہ کس قدر غیرموزوں کلام ہوگا۔
نیز اللہ تعالیٰ رسول ﷺ سے فرماتا ہے:[وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰى عُنُقِكَ](بنی اسرائیل:۲۹)
بشر اس کامعنی یہ کرے گا کہ:اے نبی! آپ اپنا ہاتھ پیدا نہ کریں۔
کس قدر بے ہودہ معنی ہے۔کیا(معاذاللہ)اللہ نے نبی کو بغیر ہاتھوں کے پیداکیاتھا؟ موسیٰuاور فرعون کے واقعہ میں ہے کہ:
[لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰــہًا غَيْرِيْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ۝۲۹ ](الشعراء:۲۹)
بشر کے قول کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ فرعون نے موسیٰ uسے کہا کہ تو اگر میرے علاوہ کسی اور کو الٰہ کہے گا تو میں تجھے ضرور پیداکروں گا۔
اس معنی میں کس قدر فساد ہے اور یہ معنی کس قدرباطل ہے۔
نیز [لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاۗءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا۝۰ۭ ](النور:۶۳)
بشر کے فاسد گمان کے مطابق معنی ہوگا کہ پکارنے کو پیدا نہ کرو۔
اور ہر ایک جانتا ہے کہ یہ معنی غلط ہے۔
[وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْہِ۝۰ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْہِ فَاَلْقِيْہِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ۝۰ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْہُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْہُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۝۷ ](القصص:۷)
[وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ اَىِٕمَّۃً وَّنَجْعَلَہُمُ الْوٰرِثِيْنَ۝۵ۙ ](القصص:۵)
[يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَۃً فِي الْاَرْضِ ](ص:۲۶)
ابراھیم واسماعیل علیھماالسلام کی دعا میں ہے کہ:
[رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ](البقرۃ:۱۲۸)
نیز:[ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا ](ابراھیم:۳۵)
ان تمام آیات میں ’جعل‘ سے’خلق‘ مراد لیاجائے گا تو پورامضمون لغو بن جائے گا کیونکہ موسیٰ،داؤد، ابراھیم، واسماعیلoاور بنی اسرائیل ، کعبہ شریف، یہ سب پہلے سے تخلیق شدہ تھے۔پھر انہیں دوبارہ تخلیق کرنے کامطلب کیا ہے؟
یہ ایسا معنی ہے جِسے کوئی بھی عربی خواہ عجمی معقول نہیں کہےگا۔
[مَا جَعَلَ اللہُ مِنْۢ بَحِيْرَۃٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَۃٍ وَّلَا وَصِيْلَۃٍ وَّلَا حَامٍ۝۰ۙ ](المائدۃ:۱۰۳)
بشر کے دعویٰ کے مطابق آیت کا معنی یہ ہوگا کہ ان چاروں اشیاء کو اللہ نے نہیں کفار نے تخلیق کیا ہے۔یہ عقیدہ صریحاًکفر باللہ العظیم ہے۔
خلیفہ مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بولے:بس بس اے عبد العزیز! پہلے مسئلہ کی طرح اس باب میں بھی تیری دلیل ثابت ہوئی اور بشرکاقول ٹوٹ چکا اور اس کادعویٰ باطل ہوا۔ لہذا اب تم اس مضمون کو ترک کرواور عرب کلام میں’جعل‘ اور’خلق‘ کے مابین جو فرق ہے وہ سمجھاؤ۔
(جاری ہے)

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔ صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

بدیع التفاسیر قسط 197

المسلمات:وہ قضیے جو مدمقابل کے نزدیک بھی مسلم ہوں اور ان کے ساتھ اس کا …

جواب دیجئے