اداریہ

ایک خواب کی تعبیر

ذوالفقارعلی طاہر
الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ کسی بھی مکتبہ فکر کے خلاف اہل حدیث کا قلم ہمیشہ دفاعی صورت میں ہی حرکت میں آیا ہے، پہلے دیگر اہل مکتبہ فکر اہل حدیث پرتنقید کے نشترچلاتے ہیں پھر اہل حدیث کو بھی اپنے دفاع میں میدانِ مبارزت میں آناپڑتا ہے اور یہ اہل حدیث کا شرعی وقانونی حق ہے۔
اس کی تازہ مثال ’’ماہنامہ زاد السعید کراچی‘‘ میں شایع ہونے والے ایک خواب کی تعبیر، کی ہے۔ محولہ بالاماہنامہ کے مدیر اعلیٰ مفتی سعید احمد صاحب ہیں جو کہ عالمگیر مسجد بہادرآباد کراچی کے امام وخطیب بھی ہیں۔ ان ہی کے مضمون’’فن تعبیر سیکھئے‘‘ سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’(خواب میں)خود کو اہل حدیث د یکھنا یا ان کی مسجد یا ان کی محفل میں دیکھنا مزاج اورفکر کی آزادی کی طرف اشارہ ہے۔ اس سے بچنا چاہئے۔ہاں! ان سے مناظرہ کرتے ہوئے دیکھنا اچھا ہے۔ باطل پر غلبہ نصیب ہوگا۔
مفتی صاحب آگے لکھتے ہیں:
منکرین حدیث کو اہل قرآن کہا جاتا ہے،اس کی بھی وہی تعبیر ہے جو اہل حدیث کی ہے البتہ تکبر کی طرف بھی اشارہ ہے۔ خود کو تکبر کے مرض سے بچایئے۔(ماہنامہ زاد السعید کراچی،مجریہ شعبان ۱۴۳۶ھ،ص۱۹)
مفتی صاحب کی تعبیر سے اہل حدیث کے متعلق دو اہم باتیں معلوم ہوئیں:
۱۔اہل حدیث کی فکر ومزاج (دین ،مذہب وشریعت سے)آزاد ہے۔
۲۔اہل حدیث ومنکرین حدیث میں کوئی فرق نہیں۔
ہم بتوفیق اللہ وتعالیٰ دونوں نکات کا تفصیلی جواب دیں گے ۔لیکن پہلے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس وقت جبکہ وطن عزیز پاکستان میں باہمی اتحاد واتفاق پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے اور ہمارے حکومتی ادارے اس کی سرتوڑ کوشش بھی کررہے ہیں اس کی تازہ مثال پورے ملک میں رمضان المبارک کا ایک ساتھ آغاز ہے۔ اس محنت پر وفاقی وزیر مذہبی امور بجاطور پر مبارکباد کے مستحق ہیں،ایسے حالات میں مفتی صاحب کو اہل حدیث پر اس انداز سے تنقید کی کیا سوجھی؟اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے پیچھے مفتی صاحب کا مزاج کارفرما ہے، جس میں اہل حدیث عداوت کوٹ کوٹ کر نہیں پیس پیس کر بھری ہوئی ہے۔ اس عداوت کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:
دوسال قبل اسی عالمگیر مسجد میں مفتی صاحب تربیت حج کی نشست سے خطاب کررہے تھے دورانِ خطاب کہنےلگے :’’کچھ لوگ داڑھی سے کھیلنے کیلئے سینےپر ہاتھ باندھتے ہیں‘‘ خیر اس طنز کا تو وہاں پر موجود ایک اہل حدیث نے مفتی صاحب کے اپنے،ہاتھ باندھنے کے محل کے حوالے سے، بروقت وبرمحل لاجواب الزامی جواب دے دیاتھا جو تحریر کرنے سے قلم وقرطاس کا تقدس مانع ہے۔ بہرحال یہ مفتی صاحب کا محض طنز ہےجوا نہوں نے اپنی تسکین طبع کے طور پر اہل حدیث پر کیا ہےورنہ اہل حدیث بحمدللہ احادیث نبویہ علی صاحبھا الصلاۃ والسلام کے پیش نظر سینے پر ہاتھ باندھتے ہیں نہ کہ داڑھی سےکھیلنے کیلئے۔
قارئین کرام! یہ ہے مفتی سعید احمد صاحب کا عداوتِ اہل حدیث پر مبنی مزاج جس کے ہاتھوںمجبور ہو کر انہوں نے اہل حدیث کے خلاف خواب کی تعبیر شایع کی ورنہ وہ اونٹ،اوجھڑی،ا نگور ۔انناس وغیرہ خواب میں دیکھنے کی تعبیربیان کرنے پر اکتفا کرسکتے تھے لیکن انہوں نے ان کی تعبیر بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اہل حدیث پر نشترزنی ضروری سمجھی۔
اب آیئے ان دونکات کی طرف جو مفتی صاحب کی تعبیر سے عیاں ہوتے ہیں:
آزاد فکروآزاد مزاج کون ہے؟ اس کی جانکاری کیلئے، افراد و فِرَق کا منہج ونظریہ دیکھا جاتا ہے۔ اہل حدیث کا منہج ونظریہ فقط وحی الٰہی ہے اس کی گواہی امام ابوحنیفہ aکے ملازم تلمیذ قاضی ابویوسف aبھی دیتے ہیں آپ اہلحدیثوں کو دیکھ کر فرماتے:
ما علی الارض خیر منکم الیس قد جئتم وبکرتم تسمعون حدیث رسول اللہ ﷺ (شرف اصحاب الحدیث،ص:۵۱)
یعنی روئے زمین پر آپ لوگوں سے بہتر کوئی جماعت نہیں ہےاس لئے کہ آپ لوگ آتے جاتے ہر وقت نبی اکرم ﷺ کی حدیثیں ہی سنتے رہتے ہیں۔
جبکہ مفتی سعید احمد صاحب جس فقہ کے قائل وحامل ،داعی ومبلغ ہیں، وحی الٰہی سے آزادی اس فقہ کا طرۂ امتیاز ہے۔ یاد رہے کہ امام ابوحنیفہ aکی طرف مروجہ فقہ حنفی کی نسبت ازقبیل غلط ہے اس لئے کہ اس فقہ کی سند امام ابوحنیفہ aتک متصل نہیں ہے اور اس لئے بھی کہ امام موصوفaنے اپنی فقہ ترتیب دینے اور اپنی تقلید سے منع فرمادیاتھا،چنانچہ ایک مرتبہ قاضی ابویوسف کو فرمایا:
’’ویحک یایعقوب !لاتکتب کل ماتسمع منی فانی قد اری الرأی الیوم واترکہ غدا واری الرأی غدا واترکہ بعد غد‘‘
اے یعقوب(ابویوسف) تیری خرابی ہو، میر ی ہر بات نہ لکھا کر، میر ی آج ایک رائےہوتی ہے تو کل بدل جاتی ہے۔ کل دوسری رائے ہوتی ہے تو پرسوں وہ بھی بدل جاتی ہے۔(تاریخ ابن معین ج۲ص ۶۰۷ت ۲۴۶۱وسندہ صحیح ،وتاریخ بغداد ۱۳؍۴۲۴بحوالہ مقالات محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ج۲ص۸۷)
بلکہ امام ابوحنیفہ aتو حدیث رسول ﷺ سن کر اپنے موقف سے رجوع فرمادیتے تھے جیسا کہ امام ابوعوانہ وضاح بن عبداللہ الیشکری a سے روایت ہے کہ میں(امام) ابوحنیفہ(a)کی مجلس میں تھا کہ ان کےپاس کسی قاضی کا خط آیا جس میں اس نے کچھ چیزوں کے بارے میں پوچھا تھا ۔ابوحنیفہ کہنے لگے: لکھو(ہاتھ) کاٹاجائے گا۔،کاٹاجائے گا،حتی کہ انہوںنے کھجور کے درخت اور کھجور کے بارے میں کہا: لکھو کاٹاجائے گا۔میں نےکہارک جاؤ،رسول اللہ ﷺ نےفرمایا ہے: لاقطع فی ثمر ولاکثر ،پھل اور شگوفے (چرانے) میں ہاتھ نہیں کاٹا جائےگا۔ تب انہوں (امام ابوحنیفہ a)نے فرمایا اسے (یعنی میرے فتوے کو)کاٹ دو اور لکھو: (ہاتھ) نہیں کاٹا جائے گا۔
الطیوریات ج۳ ص ۹۷۱ح۹۰۳وسندہ صحیح، السنۃ لعبد اللہ بن احمدبن حنبل ۱؍۲۲۱ ج۳۸۰وسندہ صحیح بحوالہ مقالات محدث العصر حافظ زبیر علی زئی aج۲ص۵۳۹)
معلوم ہوا مروّجہ مسمّیہ فقہ حنفی کا امام عالی مقام امام ابوحنیفہaسے کوئی تعلق نہیںہے۔
اب آیئے اس مروجہ فقہ کی وحی الٰہی سے متصادم چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے۔
قرآن مجید سے تصادم
۱۔قرآن مجید میں ہے کہ :[اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا۝۰ۚ ](التوبہ:۲۸)
یعنی بے شک مشرکین نجس (پلید) ہیں۔ اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کےقریب نہ آئیں۔
اس آیت کریمہ سے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز aوغیرہ نے استدلال کیا ہے کہ کفارمسجدحرام وغیرہ میں داخل نہیں ہوسکتے۔
(تفسیر قرطبی ج۸ص۱۰۴)
جبکہ مروجہ فقہ میں کفار(اہل الذمہ) کا مسجد حرام میں داخل ہونا جائز ہے۔ دیکھئے ہدایہ کتاب الکراھیۃ ج۲ص۴۷۴)
۲۔قرآن کریم میں ہے کہ :[وَكَتَبْنَا عَلَيْہِمْ فِيْہَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ۝۰ۙ ](المائدۃ:۴۵)
یعنی اور ہم نے اس (تورات) میں ان پر فرض کیا کہ نفس کے بدلے میں نفس کو قتل کیا جائے ۔
جبکہ مروجہ فقہ میں ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نابالغ بچے وغیرہ کو پانی میں ڈبوکر قتل کردے تو اس قاتل پر کوئی قصاص نہیں ہے۔دیکھئے ہدایہ کتاب الجنایات باب مایوجب القصاص ومالایوجبہ ج۲ص۵۶۶)
۳۔قرآن مجید میں ہے کہ [وَثِيَابَكَ فَطَہِّرْ۝۴۠ۙ ](مدثر:۴)
اور اپنے کپڑے پاک رکھ ۔
جبکہ ہدایہ ج۱ص۷۴اور شرح وقایہ ج۱ص۱۳۹میں لکھا ہواہے کہ اگر ایک درہم کےبرابر گندگی لگی ہوئی ہو تونماز جائز ہے۔
حدیث سے تصادم
۱۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:(من مات وعلیہ صیام صام عنہ ولیہ)(صحیح بخاری ج۱ ص ۲۶۲، صحیح مسلم ج۱ ص ۳۶۲) جو شخص مرجائے اور اس پر( نذر وغیرہ کے) روزے باقی ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی یہ روزے رکھے۔
جبکہ ہدایہ کتاب الصوم ،ص:۲۰۳ میں ہے کہ لایصوم عنہ الولی. میت کی طرف سے اس کاولی روزہ نہ رکھے۔
۲۔سیدنا عبداللہ بن زید tسےروایت ہےکہ( خرج النبی ﷺ یستسقی فتوجہ الی القبلۃ یدعو وحول ردائہ ثم صلی رکعتین یجھر فیھما بالقراءۃ )
نبی ﷺ استسقاء (بارش طلب کرنے) کیلئے نکلے۔ پس آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا دعا کرتے ہوئے اور آپ نے اپنی چادر پلٹائی پھر آپ نے دورکعتیں پڑھیں ان میں آپ جہرکے ساتھ قرأت کررہے تھے۔(صحیح بخاری ج۱ص۱۳۹) صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ ثم صلی لنا رکعتین پھر آپ نے ہمیں دورکعتیں پڑھائیں۔
جبکہ ہدایہ باب الاستسقاء ج۱ص۱۷۶میں ہے کہ :لیس فی الاستسقاء صلوۃ مسنونۃ فی جماعۃ .یعنی استسقاء کے موقعہ پر نماز باجماعت مسنون نہیں ہے۔
۳۔صحیح بخاری وصحیح مسلم اور دیگر کتب میں موجود متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ ’حرم‘ ہے دیکھئے نظم المتناثر من الحدیث المتواتر ص۲۱۲)
جبکہ فقہ حنفی کا فیصلہ ہے کہ مدینہ حرم نہیں ہے۔’’ لاحرم للمدینۃ عندنا‘‘ہمارے(یعنی حنفیوں کے)نزدیک مدینہ حرم نہیں ہے۔
(الدر المختار ج۱ص۱۸۴ آخر کتاب الحج، رد المختار ج۲ص۲۷۸)
قارئین !مندرجہ بالاامثلہ بطور نمونہ کے ذکر کی گئیں ہیں ورنہ مروجہ فقہ حنفی کی قرآن وحدیث سےتصادم کی تیسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں، اب فیصلہ آپ پر ہے کہ آزاد فکر وآزاد مزاج کون ہے۔ وحی الٰہی کو بطور نظریہ ومنہج اپنانے والے اہل حدیث یاوحی الٰہی سے قدم بقدم متصادم مروجہ مسمیہ فقہ حنفی کو بطور منہج ونظریہ اپنانےوالے مفتی سعید احمد صاحب؟؟؟
ہماری مندرجہ بالاگفتگو سےجہاں نکتہ نمبر۱واضح ہوگیا وہاں دوسرا نکتہ بھی اظہر من الشمس ہوگیا کہ منکرین حدیث کے ہم نوا، کثیر احادیث ِ رسول ﷺ سے متصادم نظریہ رکھنےوالے مفتی سعید احمد صاحب ہیں نہ کہ قدم قدم پر احادیث رسول ﷺ کا دفاع کرنے والے ،اہل حدیث!!!
ہم آخر میں مفتی صاحب سے گزارش کریں گے کہ اہل حدیث سے بغض وعناد دل سے نکال دیجئے اس لئے کہ یہ اہل بدع کی علامت ہےجیسا کہ امام بخاری،امام مسلم، امام نسائی، امام ابوداؤد، امام ابن ماجہ، سمیت متعدد محدثین کے شیٰخ امام احمد بن سنانaکا قول ہے کہ: لیس فی الدنیا مبتدع الاوھو یبغض اھل الحدیث فاذا ابتدع الرجل نزع حلاوۃ الحدیث من قلبہ .(شرف اصحاب الحدیث)
یعنی: بدعتی دنیا میں جہاںکہیں بھی ہوگا اہل حدیث سے بغض رکھتاہوگا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص بدعت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کےدل سےحدیث کی حلاوت نکال دی جاتی ہے۔
اوریہ بھی کہ آج وطنِ عزیز پاکستان کو اتحاد واتفاق کی ضرورت ہے تاکہ یہ اسلامی مملکت اپنے بیرونی واندرونی دشمنوں سے یکسو ہوکرنمٹ سکے نہ کہ فرقہ واریت پھیلاکر مملکت خداداد کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی جائے!!!
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

جیسی کرنی ویسی بھرنی

12جون2016ءبروز اتوارر ۸بجے صبح امریکی شہر اورلینڈو کے ایک نائٹ کلب میں ایک افغان نژاد امریکی نوجوان نے اندھا دھند فائرنگ کرکے50امریکیوں کو ہلاک کردیا۔ امریکہ میں تسلسل کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہورہےہیں جیسے14دسمبر 2012ء کو ایلیمنٹری اسکول میں فائرنگ سے ۲۶افراد ،۱۶ستمبر۲۰۱۳ء واشنگٹن نیوی یارڈ میں فائرنگ سے ۱۲افراد،۲۳ مئی ۲۰۱۴ء کیلفورنیا میں چاقو حملہ سے ۶افراد، ۲دسمبر ۲۰۱۵ء سنیٹ برنیڈو میں فائرنگ سے ۱۴افراد ہلاک ہوئے جبکہ ۲۸نومبر ۲۰۱۵ء ریاست کوریڈو میں فائرنگ سےکئی افراد زخمی ہوئے اور ۱۷جون ۲۰۱۵ء جیلاس میں پولیس ہیڈ کواٹر پرحملہ کیا گیا۔(روزنامہ امت ۱۳جون ۲۰۱۶ء)
قارئین ! اسلام اس طرح کے حملوں کی اجازت نہیں دیتا کہ بے گناہوں کو قتل کردیاجائے ،بس اس پوری صورتحال میں عالم اسلام سمیت پوری دنیا کے ممالک میں سازشوں کے تانے بانے بننے اور متعدد ممالک میں خون کی ہولی کھیلنے والے امریکہ کیلئے لمحہ فکریہ ہےکہ وہ اس طرز عمل کو ترک کرےتاکہ امریکی عوام بھی چین سےزندگی بسرکرسکیں ورنہ یہ اصول توصدیوں سےچلاآرہا ہے کہ
جیسی کرنی ویسی بھرنی

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

پاکستان زندہ آباد

فضیلۃ الشيخ ذوالفقار علی طاہرر رحمہ اللہ کی یوم آزادی کی مناسبت سے لکھی ہوئی …

جواب دیجئے