Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ دسمبر » وفاتِ نبیﷺ کا دکھ بھراتذکرہ

وفاتِ نبیﷺ کا دکھ بھراتذکرہ

خطاب: فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی، امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

جمع وترتیب: حافظ فضل اللہ ،فاضل المعہد السلفی ،امام وخطیب عمرفاروق مسجدحب چوکی

ماہ ربیع الاول شروع ہوتے ہی ہماری قوم خوشی کااظہار کرتی ہے، رسول اکرم ﷺ کی پیدائش کی مناسبت سے جلوسوں اور جلسوں کا اہتمام ہوتا ہے ،ریلیاں نکلتیں ہیں، موسیقی پر نبی کی نعت گائی جاتی ہے، چراغاں ہوتا ہے، بہت سی محافل میں مردوں اور عورتوں کااختلاط بھی سننے میں آتا ہے، بلکہ بعض مقامات پر اس مناسبت سے عید کی نماز بھی ادا کی جاتی ہے، مگر اس موقع پر ایک پہلو فراموش کردیاجاتاہے کہ بارہ ربیع الاول رسول اکرم ﷺ کی وفات کا دن بھی ہے۔ اس دن جو کہ ایک حزن وملال اور صدمے کی کیفیت مدینہ منورہ میں تھی وہ ناقابل بیان ہے۔
وفات رسول اللہﷺ کا ثبوت قرآن کریم سے

رسول اکرم ﷺ کی وفات، یہ تو قرآن پاک میں جابجا مذکور ہے، آپ کی وفات اللہ کے اس فرمان میں داخل وشامل ہے :[كُلُّ نَفْسٍ ذَاىِٕقَۃُ الْمَوْتِ](آل عمران:۱۸۵) ہر ذی روح نےموت کو چکھنا ہے۔
اللہ رب العزت نے اپنے پیارے پیغمبرﷺ کو مخاطب کر کے بھی فرمایا: [اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّيِّتُوْنَ۝۳۰ۡ ](الزمر:۳۰)بلاشبہ آپ بھی فوت ہونے والے ہیں، اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔
ایک اور مقام پرفرمایا:[وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۝۰ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ۝۰ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ۝۰ۭ ](آل عمران:۱۴۴)
محمدﷺ اللہ کے رسول ہیںان سے پہلے بھی رسل گذر چکے اگر وہ فوت ہوجائیں یا قتل کیے جائیں(تو) کیا تم اپنے ایڑیوں کے بل پھر جاؤگے۔
اس آیت مبارکہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر ہے، ایک اور مقام پرفرمایا:[قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ لَا شَرِيْكَ لَہٗ۝۰ۚ ](الانعام:۱۶۲،۱۶۳)
اے پیغمبرکہہ دیجئے بے شک میری تمام بدنی عبادتیں اور تمام مالی عبادتیں او میری پوری زندگی اور میری موت یہ سب کی سب اللہ رب العالمین کیلئے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔
یہ آیت مبارکہ بھی رسول اکرم ﷺ کی وفات کی خبر دے رہی ہے۔
رسول اکرم ﷺ کو آپ کی زندگی کے آخری ایام میں آپ کی وفات کی خبر دے دی گئی تھی، بہت سے اشارے آپ کو دیئے گئے۔ جیسے حجۃ الوداع کےموقعہ پر[اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ]اس آیت کانزول ہوا۔اس میں تکمیل دین کی خبر دی گئی کہ آج آپ کا دین مکمل کردیاگیا۔ تکمیل دین کا معنی ، کہ وہ مشن جو آپ کو سونپاگیاتھا، وہ پوراہوچکا، اور جب مشن پوراہوجائے تو بھیجنے والااپنے نمائندے کو واپس بلالیتا ہے، اس میں بھی ایک اطلاع چھپی ہوئی تھی،بلکہ اس سے قبل قرآن پاک کی ایک سورت نازل ہوئی ،سورۂ نصر۔
[اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ۝۱ۙ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللہِ اَفْوَاجًا۝۲ۙ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْہُ۝۰ۭؔ اِنَّہٗ كَانَ تَوَّابًا۝۳ۧ ] جب اللہ کی مدد آجائے گی آپ دیکھیں گے کہ لوگ اس دین میں جوق درجوق داخل ہورہے ہیں۔
اس میں بھی اشارہ ہے رسول اکرم ﷺ کی وفات کی طرف، اللہ کی مدد کاآنا، مکہ کافتح ہوجانا، قبیلوں اور قوموں کے راستے ہموار ہوجانا، ۹ہجری ،یہ عام الوفودتھا، ہر جگہ سے وفود نبی اکرم ﷺ کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے ، جوق درجوق لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ رسول اکرم ﷺ نے اس خبر کو اپنی وفات ہی کاپیغام سمجھا۔ آگے حکم دیا [فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْہُ۝۰ۭؔ اِنَّہٗ كَانَ تَوَّابًا۝۳ۧ ]جب آپ یہ سب کچھ دیکھ چکے فتح مکہ، اللہ کی نصرت، اور لوگوں کا کثرت سے اسلام قبول کرنا پھر آپ ایک کام شروع کردیں۔ اپنے رب کی تسبیح بیان کریں اور اس کی حمد بیان کریں اور استغفار بھی کریں۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں اس سورت کے نزول کے بعد آپﷺ کثرت سے یہ دعاپڑھتے:(سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفرلی) (بخاری،کتاب التفسیر،الرقم:4683،مسلم،کتاب الصلاۃ)
یااللہ تو پاک ہے ہر عیب سے اور تیری ہی تعریف کے ساتھ میں جڑاہواہوں اور یہ سب کچھ تیری ہی تعریف کےساتھ ہے اے اللہ مجھے معاف فرمادے۔
یعنی کثرت سے آپ نے یہ الفاظ کہنا شروع کردیئے، اور کثرت سے استغفار شروع کردیا،حالانکہ اس سے قبل بھی آپ کثرت سے استغفار کیاکرتے تھے۔
فرمایا:(انہ لیغان علی قلبی وانی لاستغفراللہ فی الیوم مائۃ مرۃ)
(صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والاستغفار،حدیث:2702)
ترجمہ:’’ میں اپنے دل پر کبھی کبھی غبار محسوس کرتاہوں اور میں تو دن میں سو باراستغفار کرتاہوں۔‘‘
پھرآپ اندازہ کیجئے، اس کے بعد نبی کی کثرت استغفار کاکیا عالم ہوگا اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ ایک انسان اپنی عمر کے آخری حصے میں کثرت سے استغفار کیا کرے۔
وفات رسول اللہ ﷺ کاثبوت احادیث مبارکہ سے

یہ رسول اکرم ﷺ کی طرف سے اپنے سفر آخرت کی تیاری تھی، تیاری آپ نے اور بھی کی، جو دس ہجری کارمضان کامہینہ ہے، یہ سوچ کر کہ یہ آخری رمضان ہوسکتا ہے اور بابرکت مہینہ ہے،نبی نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا،عام طور پرآپ کامعمول دس دن کا اعتکاف تھا۔
اسی رمضان میں جبریل امین نے دو دفعہ قرآن کادور کیا تھا اسے بھی آپ نے اپنی وفات کا اشارہ قرار دیاتھا،دودفعہ قرآن پاک کادور کرناحالانکہ ہررمضان میں وہ آتے تھے اور ایک بار دور کیا کرتے تھے۔ اس بار دودفعہ دور کیا۔ رسول کریم ﷺ نے اپنی وفات کی خبر اشاروں کنایوں میں اور بعض اوقات صراحت سے اپنے صحابہ کو دی۔
۱۰ھجری میں آپﷺ نے ایک بعثت فرمائی،سیدنا معاذ بن جبل کو آپ نے یمن بھیجا، جب وہ سوارہوچکے تونبی ان کے ساتھ پیدل چلناشروع ہوگئے،اور آپ نے فرمایا:(یامعاذ انک عسی ان لاتلقانی بعد عامی ھذا و لعلک ان تمر بمسجدی ھذا او بقبری )(السلسلۃ الصحیحۃ۵؍۶۶۵)
اے معاذ! شاید اس سال کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکواے معاذ! ممکن ہے اب کی بار اگر تم مدینے آؤتمہارا گذر میری اس مسجد اور قبر کے پاس سے ہو۔
سیدنامعاذ پر توایک سناٹا طاری ہوگیا مگرچونکہ یہ دعوت کامشن تھا جو آپ کوسونپا گیاتھا ،آپ کتنے بوجھل دل کے ساتھ روانہ ہوئے ہونگے۔
(اتت امرأۃ النبی ﷺ فامرھا ان ترجع قال ارأیت ان جئت ولم اجدک کانھاتقول الموت قال ﷺ ان لم تجدینی فاتی ابابکر )(صحیح بخاری، کتاب المناقب)
ایک خاتون پیغمبرکے پاس آئی آپ نے انہیں واپس جانے کاکہا اس نےعر ض کی اگر آئندہ کبھی آؤں آپ کو نہ پاؤں؟ گویا کہ اس کی مرادآپ کی وفات تھی۔آپ نے فرمایا: تو ابوبکر کے پاس چلی آنا۔
حجۃ الوداع کے موقعے پر آپﷺ نے اعلان فرمایاتھا:
(یاایھاالناس خذوا عنی مناسککم فانی لاادری لعلی لااحج بعدعامی ھذا) (نقلہ الالبانی فی صحیح الجامع وحکم عنہ بانہ صحیح والنسائی ،برقم:۳۰۶۲)
لوگو! مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو مناسکِ حج مجھے دیکھ کر سمجھ لواور سیکھ لو شاید اس سال کے بعد مجھے تمہارے ساتھ حج کرنے کا موقعہ نہ ملے یہ آخری سال تھا آپﷺ کا ،اس میں یہ سارے اشارے اس بات کا مظہر ہیں کہ آپ کو اشارات اور کنایات میں اطلاع دے دی گئی تھی کہ یہ سال آپ کاآخری سال ہوسکتا ہے۔
وفات سے چندروز قبل

۲۶صفرکی بات ہے رسول اکرم ﷺ ایک جنازے سےواپس آئے صحابی کاجنازہ پڑھایا اور اس کو دفن کیا۔آپ کوشدید سرکادرد لاحق ہوا، سیدہ عائشہ فرماتی ہیں :
رجع الی رسول اللہ ﷺ ذات یوم من جنازۃ بالبقیع وانا اجد صدعا فی رأسی وانا اقول وا رأساہ فقال بلی انا عائشۃ وا رسأہ (السنن الکبری للنسائی)
ایک دن رسول اللہ ﷺ بقیع سے ایک شخص کو دفن کرکے واپس آئے میں نےاپنے سر میںدرد محسوس کیا تو بول پڑی :ہائے سردرد ، آپﷺ نےفرمایا: اے عائشہ :بلکہ ہائے میرے سرکادرد۔
اسی کوسیدنا ابن مسعود اس طرح بیان فرماتے ہیں:میں نبی اکرم ﷺ کےپاس گیا میں نے محسوس کیا کہ آپ سے بڑی تپش محسوس ہورہی ہے،حالانکہ فاصلے پر بیٹھاتھا،میں نے عرض کیا:انک لتوعک یارسول اللہ؟ اے اللہ کے رسول! آپ کو توبخار ہے، فرمایا: نعم،انی لعوعک کما یوعک رجلان منکم.مجھے تمہارے دوآدمیوں کے برابربخار ہوتا ہے۔ جب بھی بخار ہوتا ہے، ایک عام شخص سے دوگنابخار ہوتا ہے۔ اور اللہ رب العزت اس بخار کے ذریعے بھی ہمارے اجر کو بڑھاتا ہے۔ (بخاری، کتاب المرضی، الرقم: ۴۳۲۴، مسلم البروالصلۃوالآداب)
نبی کی حدیث ہے:الحمی حظ کل مؤمن من النار.
(صححہ الالبانی لغیرہ فی الترغیب،الرقم:۳۴۴۶)
کسی مؤمن کو اگربخار چڑھ جائے یہ اس کی جہنم کی آگ کاحصہ ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ایسے مومن کوجہنم کاعذاب نہیں دے گا۔جس کاعقیدہ اچھا ہے، وہ توحید پر ہے، بخار ہوجائے گویا یہ جہنم کے عذاب کاحصہ ہے، بشرطیکہ کہ وہ صبر کرجائے۔
یہ رسول اکرم ﷺ کی مرض کی ابتداء ہے۔۲۹صفر کو آپﷺ کو شدیدبخارلاحق ہوا مگر آپﷺ دین کاکام اور دعوت کے امور انجام دیتے رہے، مسجد میں جاکرنمازیں پڑھاتے رہے، حتی کہ جمعرات آگئی آپ کی وفات سے پانچ دن قبل ، ایک دفعہ سیدنا ابن عباس تشریف فرماتھے،شاگرد سامنے بیٹھے ہوئے تھےپوچھا: آج کیا دن ہے؟ لوگوں نے کہا جمعرات کا دن ہے، عبداللہ بن عباس کو یہ وقت یاد آگیا روپڑے فرمایا:
وما یوم الخمیس .تم کیاجانو جمعرات کیا ہے، تمہیں کیامعلوم اس دن ہم پر کیا قیامت ٹوٹی تھی۔
اشد برسول اللہ ﷺ وجعہ .(صحیح مسلم، کتاب الوصیۃ، باب ترک الوصیۃ کمن لیس لہ شیٔ یوصیٰ فیہ)
آج نبی کا مرض شدت اختیارکرگیاتھا۔
نبی جمعرات کے دن مغرب تک نماز میں آتے رہے، مغرب کی جماعت آپ نے کرائی۔
ابن عباس اپنی والدہ ام الفضل سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں:
خرج الینا رسول اللہ ﷺ وھو عاصب رأسہ فی مرضہ فصلی المغرب فقرا بالمرسلات ،قالت: فماصلاھا بعد حتی لقی اللہ.(رواہ البخاری فی المغازی،الرقم:۴۰۷۶،مسلم فی الصلاۃ)
آپﷺ ہماری طرف آئے اپنی بیماری میں سرپرپٹی باندھ رکھی تھی،ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور پوری سورتِ مرسلات کی تلاوت فرمائی۔
مرض ونقاہت کے بسبب اس کے بعد رسول اللہﷺ جماعت کیلئے تشریف نہ لاسکے حتی کہ اپنے رب سے جاملے۔
مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد آپ گھرتشریف لے گئے آپ پر ایک غشی سی طاری ہوگئی تھوڑا ساہوش آیا تو پوچھا:اصلی الناس؟ کیا لوگوں نے عشاء کی نماز پڑھ لی۔
عرض کیاگیا: ھم ینتظرونک.وہ کیسے پڑھ سکتے ہیں وہ تو آپ کا انتظار کررہے ہیں، آپﷺ نے وضوکیا لیکن وضو کے بعد پھر غشی طاری ہوگئی، تین دفعہ ایسا ہوا پھرآپﷺ نے بالآخر فرمایا: مروا ابابکر فلیصل بالناس.
ابوبکر کوحکم دو وہ لوگوں کو نماز پڑھادے،جماعت کرادے۔
(صحیح بخاری،کتاب الاذان ،الرقم:۶۵۵،مسلم ،کتاب الصلاۃ)
یہ جمعرات کا دن تھا اور پیر کےدن آپ کا انتقال ہوایہ آپﷺ کی وفات سے پانچ دن قبل کی بات ہے۔ اس دوران آپﷺ صرف دو موقعوں پر مسجد تشریف لے گئے،خطبہ ارشاد فرمانے کیلئے۔
ایک موقعہ پر آپ نے ارشاد فرمایا: سات مختلف کوؤں کے مشکیزے بھر کے لیکرآؤ۔
لم تحلل اوقیتھن.جن کے تسمے نہ کھولے گئے ہوں۔
(احمد،الرقم:۲۴۶۵۳،المستدرک علی الصحیحین،کتاب الطھارۃ، الرقم: ۵۲۷)
یعنی سات مختلف کوؤں کاپانی ہو اور مشکیزے بھرے ہوئے ہوں اور مشکیزوں کوبھر کر کھولانہ گیاہو اور مجھے ان سات مشکیزوں سے غسل دو۔
تسمے کھولے نہ گئے ہوں کیوں کہ میں ایسے پانی سے غسل کروں جن کو انسانی ہاتھوں نے نہ چھوہاہواور بالکل میرے پروردگار کا پاکیزہ اور صاف پانی ہو۔
یہ پیغمبر کی نفاست طبع ہے، کہ اس مرض میں اس نفاست کی طرف میلان اور پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مرض آخری ہو پروردگار سے ملاقات کی نوبت آجائے بالکل پاک صاف ہوکر میں اپنےرب سے جاملوں، جب غسل کرایاگیا تو کچھ نقاہت آپ کومحسوس ہوئی آپﷺ نے فرمایا کہ مجھے مسجد میںلے جاؤ خطبہ ارشاد فرمایا۔
اس خطبہ کامحور ایک ہی شخصیت تھی،ابوبکرصدیق ۔فرمایا:
ان من امن الناس علی فی صحبتہ ومالہ ابابکر(مسلم، کتاب الفضائل وفی المغنی عندالبخاری)
مجھ پر سب سے زیادہ احسانات صحبت میں اور رفاقت میں اور ساتھ دینے میں اورمال خرچ کرنے میںابوبکر کےہیں۔
وہ احسانات آپ کو بڑی شدت سے یاد آرہے ہیں ،اور جب انسان کا آخری وقت آتا ہے ،اس کو پھر سب سے محبو ب چیز یاد آتی ہے،مجھ پر سب سے زیادہ احسانات ابوبکرصدیق کے ہیں جن کابدلہ میں نہیں چکا سکااب تک مجھ پر بہت سے لوگوں نے احسانات کیے ہیں اور میں نے بڑھ چڑھ کر بدلہ دیا ہےمگرابوبکرصدیق کے احسانات میں نہیں چکا سکا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ابوبکر صدیق کوبدلہ دے گا۔
آگے فرمایا:لاتبقین فی المسجد خوخۃ الاخوخۃ ابی بکر. (بخاری ومسلم)
مسجد میں کھلنے والاہردروازہ بند کردو، سوائے ابوبکر صدیق کے دروازے کے، اسے کھلارکھو۔
علماء ومحدثین نے اس جملہ کوسیدنا ابوبکرصدیق کی خلافت پر محمول کیا ہے۔
اور بھی بہت سے اشارےآپ نے دیئے تھے، یہ خطبہ آپ نے ارشاد فرمایا۔
دوسری نوبت خطبہ ارشاد فرمانے کی اس دن آئی، جس دن انصار صحابہ مسجد میں جمع ہیں ،جنہیں پیارامحبوب نظرنہیں آرہا،اور مسجد میں بیٹھ کر رورہے ہیں۔
سیدنا عباس پاس سے گزرے اور نبی کوخبر دی کہ انصار صحابہ مسجد میں جمع ہیں اور سب کے سب رورہے ہیں توآپ نے ارشاد فرمایا: کہ مجھے سہارادواورمسجد میں لے جاؤ،سیدنا عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آپ کے سر پر سرخ پٹی لپٹی ہوئی تھی آپ منبر پرچڑھے اور یہ آخری بار آپﷺ منبر پر چڑھے اس کے بعد نبیuکو منبر پرکبھی نہیں دیکھا اور آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی:
اوصیکم بالانصار فانھم کرشی وعیبتی وقد قضوا الذی علیھم وبقی الذی لھم .
(صحیح بخاری، کتاب مناقب الانصار،الرقم:۳۵۸۸،صحیح مسلم:کتاب فضائل الصحابۃ)
تمہیں اپنےا نصار صحابہ کے بارے میں وصیت کرنے آیاہوں یہ میرے دل کے ساتھی تھے اور میرے راز دان تھے، یہ میرے بالکل اندر کے ساتھی تھے، جو ان کے فرائض تھے وہ انہوں نے پورے کردیئے، حقوق کبھی نہیں مانگے، دنیاکاسوال کبھی نہیں کیا،میں تمہیں وصیت کرنے آیاہوں کہ میرے بعد انصار صحابہ کا خیال رکھنا اور ان پر زیادتی نہ کرنا۔
یہ بات آپ نے ارشاد فرمائی اور پھر دوبارہ اپنے گھر تشریف لے گئے یہ مرض الموت کے دوران آپ دوبارہ تشریف لائے تھے، حتی کہ پھر بارہ ربیع الاول آگئی ،پیرکا دن ہے، متفقہ طور پر پیر کےدن بارہ ربیع الاول کو آپﷺ کا انتقال ہوا۔
۱۲ربیع الاول فجر کی نماز کے وقت ،نماز ہورہی تھی آپﷺ نے اپنے گھر کے دروازے کا پردہ ہٹایا اور مسجد کی طرف جھانکا،صحابہ کرام کی ایک نظر آپ کے گھر کی طر ف ہوتی کہ نبی اب آئیں گے، اب آئیں گے، اشتیاق تھا، اور ایک رنج والم کی کیفیت تھی۔
انس بن مالک کا بیان ہے کہ میری نظر پردے پرپڑی میرے پیغمبر کامسکراتا چھہرادکھا:کانہ ورقۃ مصحف.لگتاتھاکہ آپ کا چہرا قرآن پاک کا ایک ورقہ ہے۔
اس طرح صاف ستھرا محسوس ہورہاتھا،تبسم آپ کے چہرے پر تھا ابھی نماز قائم تھی جومشن آپ نےصحابہ کودیا اس پر عمل ہورہاتھا، اور صحابہ کرام دین پر پوری طرح جمے ہوئے تھے،ڈٹے ہوئے تھے آہستہ آہستہ تمام صحابہ کی نظر اس طرف پڑ گئی اور ایک عجیب خوشی کی کیفیت طاری ہوگئی۔
سیدناابوبکرصدیق نےپیچھے ہٹناچاہاکہ شاید اللہ تعالیٰ نے نبی کو افاقہ دیا ہےا ور آپ مسجد میں آنے والے ہیں، اور جماعت فرمائیں گے،مگر رسول اللہ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو، جماعت پوری کرو،پھرآپ نے پردہ گرادیا۔
(صحیح البخاری، کتاب الاذان ،رقم:۶۵۵،مسلمم،کتاب الصلاۃ)
یہ بارہ ربیع الاول آپﷺ کا آخری دن تھانبی کو مختلف باتیں یاد آئیں،اپنی وفات یاد آئی،یہ بات سوچی کہ وفات کے بعد امتیں بعض اوقات اپنے مشاہیر کے تعلق سے مبالغہ کاشکار ہوجاتیں ہیں،آپ ﷺ نے ایک دعا اور بددعا فرمائی۔
دعا یہ تھی:اللھم لاتجعل قبری وثنا یعبد.(موطاامام مالک،کتاب قصر الصلاۃ السفر،رقم:۴۱۶)
یااللہ! میری قبر کو پوجاگاہ نہ بنانا(کہ لوگ یہاں آئیں پرستش کریں، پوجا کریں اور میلے لگائیں۔)
یہ آپﷺ نے دعافرمائی۔
اور بددعایہ فرمائی:قاتل اللہ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد.
یااللہ! یہودونصاریٰ پر لعنتیں برسا انہیں نیست ونابود کردے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔
یحذر ماصنعوا.
دراصل رسول اللہ ﷺ یہود ونصاریٰ کے اس فعل کوذکر کرکے اپنی امت کو ڈرارہے تھے کہ اس عمل پر اگر یہود ونصاریٰ کے لئے لعنت اور بربادی کی بددعاہے تو اگر یہ کام تم بھی کروگے تو تم بھی ہمیشہ کے لئے مستحقِ لعنت قرارپاؤگے اور بربادی تمہارا مقدر بن جائے گی۔
سیدہ عائشہ صدیقہ ،فرماتی ہیں سیدہ فاطمہ آپ کی بیٹی آپ کے پاس آئیں روتی ہوئیںفرماتی ہیں کہ مجھے فاطمہ کی چال میں نبی کی چال نظر آتی تھی گویا کہ رسول اللہ ﷺ چل رہے ہوں،اور پھر وہ رسول اکرم ﷺ کے پاس آکر بیٹھ گئیں، آپ نے دوسرگوشیاں فرمائیں،دوراز داری کی باتیں کہیں،فاطمہ پہلی بات سن کر روپڑیں اور دوسری بات سن کر ہنس پڑیں میں نے پوچھا کہ فاطمہ رسول اللہ ﷺ نے کیا راز داری فرمائی ہے؟
عرض کیا کہ اللہ کے نبی کاراز ہے میں کیسے افشا کروں ،پھر نبی کی وفات کے بعد خبردی ،پہلی بات یہ کہی تھی کہ میری فراق وجدائی کاوقت آپہنچا ہے۔
وانک اول اھل بیتی لحاقا بی فبکیت.
فاطمہ تم میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے مجھے آملوگی۔
وفات کی خبر سن کر میں روپڑی۔
پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا:اما ترضین ان تکونی سیدۃ نساء اھل الجنۃ او نساء المؤمنین فضحکت.
(رواہ البخاری فی کتاب المناقب:۳۳۵۳)
کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم تمام جنت کی عورتوں کی سردار ہوں گی۔یامومنہ عورتوں کی سردار ہوں گی، ا س سے مجھے خوشی ومسرت حاصل ہوئی میں ہنس پڑی۔
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں صدمہ اور خوشی دونوں اکٹھے میں نے پہلی بار دیکھے ایک لمحے میں رونا دوسرے لمحے میں ہنس پڑنا دونوں اتنے اکٹھے میں نے پہلی بار دیکھے۔
تکالیف رسول

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں پھر نبی پر وہ سکرات الموت طاری ہوگئے اور موت کی فزع اور جو ایک عالم ہوتا ہے،انتقال کےو قت وہ کیفیت پیغمبرپر طاری ہوگئی آپ نے چادر لے رکھی تھی ،کبھی چادر چہرے پر کرلیتے دم گھٹتا توہٹالیتے پانی سے بھرا ہوا پیالاآپ کے پہلو میں رکھاہواتھا انگلیوں کو ترکرکے اسے اپنے چہرے پرلگاتے اور فرماتے:لاالٰہ الااللہ ان للموت سکرات.
لاالٰہ الااللہ۔ موت کی کچھ غشیاں اور بے ہوشیاں ہوتیں ہیں اور موت کی کچھ تکلیفیں ہوتی ہیں۔(بخاری،رقم:۶۵۱۰)
سیدہ فاطمہ یہ منظر دیکھ کر برداشت نہ کر سکیں کہنے لگیں :
واکرب ابتاہ .
ہائے میرے بابا کی تکلیف ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
فاطمہ لیس علی ابیک کرب بعد الیوم .
(بخاری کتاب المغازی،رقم:۴۱۹۳)
آج کے بعد تیرے باپ پر کوئی تکلیف نہیں آئے گی۔
تکلیفوں کادور ختم ہونے والاہے آج کے بعد راحت ہی راحت ہوگی اور تیرے بابا پر کوئی تکلیف نہ آئےگی۔
یقیناً آپ کے ذہن میں وہ ساری تکلیفیں آئی ہوں گی جو ۲۳ سالہ دور میں آپ پرگزریں لیکن نبی شکوہ نہیں کرتا، اپنے پروردگار کے سامنے شکوہ کرتا ہے، اورصبرکرتا ہے۔
زبان حال پر یقینا یہ باتیں ہوں گی،کیا کیا تکلیفیں نہیں سہیں، یتیم پیدا ہوئے تھے، چھ سال کی عمر میں والدہ فوت ہوگئیں، داد ا نے کفالت کی ،آٹھ سال کی عمر میں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے، ابوطالب نے کفالت کی، جب نبوت کا سلسلہ عطاہوا وہ میرے لئے ڈھال بن گئے، یہ دس نبوت کا واقعہ ہے،ابوطالب بھی فوت ہوگئے گھر میں مواسات کرنے والی ہمدردی کرنے والی میری بیوی خدیجہ تین دن بعد وہ بھی فوت ہوگئیں، جومیرے دکھ درد کی ساتھی تھیں وہ بھی انتقال کرگئیں، اللہ تعالیٰ نے سات اولادیں دیں،عبداللہ اور قاسم اور ابراھیم تینوں بچپن میں فوت ہوگئے،کسی کو بچا نہ سکا۔ بیٹیاں بھی تین میرے سامنے فوت ہوئیں، صرف ایک فاطمہ باقی بچیں، یہ سارے صدمے آپ نے سہے تھے اور کفار قریش کی طرف سے تکلیفیں ،مقاطع، شعب ابی طالب کی تین سال وہ ایک محصور ایام آپ نے گزارے، قید کے دن آپ نے گزارے، پھر راستے میں کانٹے بچھائے گئے، کبھی گڑھے کھودے گئے اور طائف کی وادی میں اتنے پتھر مارے کہ آپ کاچہرہ جس طرف تھا اسی طرف آپ بھاگ پڑے اور فرشتے یہ منظر برداشت نہ کرسکے جب آپ کہیں رکے اور آپ کو ہوش آئی تو فرشتے بادل کاسایہ کئے ہوئے تھے ،اے محمدﷺ حکم دو اس قوم کو دوپہاڑوں کے بیچ میں پیس کررکھ دیں، مگر آپ نے فرمایا: بعثت رحمۃ ولم ابعث لعانا.
مجھے اللہ تعالیٰ نے رحمت بناکربھیجا ہے لعنت بناکر نہیں۔
آپ نے ہدایت کی دعا کی تھی،جنگ احد میں دندان مبارک شہید ہوئے پھرآپﷺ کا سرمبارک زخمی ہوا، چہرے پر گِہرا زخم آیا ایک گھاٹی میں نڈھال ہوکر آپ گرگئے ،کیاکیا تکلیفیں نہ سہیں۔
پھر نفسیاتی صدمے یہ کہ اس قوم نے آپ کو مجنون تک کہا، شاعر کہا، ساحرکہا، اللہ اکبر آپ کے سامنے آپ کے ساتھیوں کو شہیدکیاگیا ، یہ تکلیفیں یقیناً آپ کے ذہن میں گھومتی ہونگی مگر نبی تکلیفوں کا ذکر نہیں کرتا۔
لیس علی ابیک کرب بعد الیوم .
فاطمہ آج کے بعد تیرے باپ پر کوئی تکلیف نہیں آئے گی۔
وفات کے وقت

سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:ان سن نعم اللہ علی ان رسول اللہ ﷺ توفی فی بیتی وفی یومی وبین سحرو نحری. (رواہ البخاری فی المغازی:رقم:۴۱۸۴)
مجھ پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ جہاں اللہ کے پیغمبر ﷺ فوت ہوئے وہ میراگھرتھا، اور میری باری تھی، اور آپ کا سر مبارک میرے سینے سے ٹکاہواتھا،اور میری ٹھوڑی سے آپ کا سر چھورہاتھا۔
یعنی رسول اکرم ﷺکی وفات کا منظر میں نے سب سے زیادہ قریب سے دیکھا جب آپ فوت ہوئے تو آپ کاسر میرے سینے سے ٹکا ہوا تھا،اسی دوران آپ نے چھت کو ایک ٹک ٹکی باندھ کر دیکھا مسلسل دیکھا اور پھر آپ نےفرمایا:فی الرفیق الاعلیٰ.(بخاری:۶۵۱۰)
مجھے نبی کی حدیث یاد آگئی کہ جب کسی بھی نبی کاآخری وقت آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے موت سے پہلے جنت میں اس کاگھر دکھادیتاہے، محل دکھادیتاہے، اور نبی کا اوپر کی طرف دیکھنا ،مسلسل دیکھنا گویا اللہ رب العزت جنت میں آپ کو آپ کاگھر دکھارہاتھا۔
پھر اللہ تعالیٰ نبی کو اختیار دیتا ہے کہ چاہو تو اور قت گذار لو ہم آپ کو اور زندگی دیئے دیتے ہیں اور چاہو تو ہمارے پاس آجاؤ،نبی نے چھت کی طرف مسلسل دیکھا اور پھر فرمایا :فی الرفیق الاعلیٰ.
مجھے رفیق الاعلیٰ منظور ہے۔
سب سے اعلیٰ رفاقت، اور عمدہ رفاقت۔
اللہ کے پاس جانا اور نبیوں میں،صدیقین میں اور شہداء میں پہنچ جانا مجھے یہ رفاقت چاہئے ۔
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں جب میں نے یہ الفاظ سنے تو میں نے دل میں یہ بات طئے کرلی :اذا لایختارنا. اس کا معنی یہ کہ نبی نے اللہ کی رفاقت کو چن لیا ہے اور ہم سے جدائی کاوقت آگیا ہے۔
اسی عالم میں رسول اللہ ﷺ انتقال فرماگئے ،میرے سینے اور میری ٹھوڑی کے ساتھ آپ لگے ہوئے تھے ،آخری وقت آپ نے مسواک بھی کی یہ پیغمبر کی نفاست طبع، عمدہ ذوق تھا۔
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں نے اس مسواک کوچباکرنرم کیا اور اللہ کے پیغمبر کودیا اور میرے لئے ہمیشہ کے لئے یہ بات باعث فخر ہے کہ
ان اللہ جمع بین ریقی وریقہ عند موتہ.
اللہ تعالیٰ نے میرالعاب دہن اور اللہ کے پیغمبرﷺ کا لعاب دہن اکٹھاکردیا۔(بخاری کتاب المغازی ،رقم:۴۱۸۴)
اور جس دن پیغمبر فوت ہوئے وہ گھر بھی میر اتھا اور باری بھی میری تھی، اس طرح آپ کا انتقال ہوگیا۔
ترکہ رسول ﷺ

رسول اکرم ﷺ اپنی زندگی میں فرمایا کرتے تھے :ا
انا سید ولد آدم ولافخر.
(ابن ماجہ ،کتاب الزھد:۴۳۰۸)
میں پوری اولادآدم کا سردارہوں، اوریہ فخر سے نہیں کہہ رہا۔
پوری اولاد آدم کاسردار، کسی قبیلے کا نہیں،کسی قوم کانہیں، کسی ایک زمانے کا نہیں، تخلیق آدم سے لیکر قیامت تک آنے والوں کاسردار ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے اختیار بھی دیا تھا کہ چاہو تو ان پہاڑوں کو سونے کے بناکر تمہارے ساتھ چلاؤں ،مگرآپ نے فقر کی زندگی کو ترجیح دی۔ چنانچہ آپﷺ فوت ہوئے توگھر میں تھوڑا سا اسلحہ تھا، اور ایک خچرتھا، اور سات اشرفیاں تھیں جو آپ نے اپنی مرض الموت میں تقسیم فرمادیں یہ سردارِ کائنات کے گھر کاعالم ہے، اللہ اکبر۔
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں ،وہ آخری رات کمرے میں اندھیرا تھا، چراغ جلایاگیاتو چراغ میں تیل نہیں تھا، پڑوسن کی طرف کسی کو بھیج کر تیل ادھارمنگوایاگیا ۔
نبی کی آخری رات ہے گھر میں چراغ جل رہا ہے اس کا تیل ادھار منگوایاگیا۔
توفی رسول اللہ ﷺ ودرعہ مرھونۃ عندیھودی بثلاثین صاعا.
نبی کا انتقال ہوا آپ کی درع ایک یہودی کے پاس گروی پڑی ہوئی تھی۔
صرف۳۰صاع اناج کے بدلے،یہ سردارِ کائنات ہیں اور یہ آپ کاآخری سفر ہےاور آپ کا دنیا سے جانا ہے۔
خوشیاں منائی جاتی ہیں مگر یہ بات کیوں مخفی ہے….؟
صحابہ کرام yکارنج وغم
نبی کی وفات کاصدمہ صحابہ پر تازہ تھا، امیرعمرنے اعلان کیا تھا جو شخص کہے گا کہ نبی فوت ہوگئے اس کاسرقلم کردوں گا، کچھ لوگوں نے کہا اللہ کے نبی دوبارہ زندہ ہوکرآئیں گے، بہت سے کام آپ نے کرنے ہیں۔
سیدہ فاطمہ کی زبان پر یہ شعرتھا:
صبت علی مصائب لوانھا
صبت علی الایام صرن لیالھا
(الدر المنثور)
مجھ پر رنج والم کےپہاڑ توڑ دیئے گئے اگر یہ دنوں پر توڑے جاتے تو سارے دن شدت الم کی بنا پرراتیں بن جاتیں اور دن کانور ختم ہوجاتا۔
سیدناانس بن مالک نے فرمایاتھا: ایک دن نبی نے مدینہ کوروشن کردیا اور ایک دن مدینہ کو تاریک کردیا۔
روشن کب کیا جب ہجرت کرکے مدینہ میں داخل ہوئے اس دن یہ منور تھا ،روشن تھا، اور تاریک کب ہوا جب اللہ کے پیغمبر فوت ہوگئے۔
(صحیح ترمذی،الرقم:۳۶۱۸)
سیدہ عائشہ کویقین نہیں آرہاتھا آپ فوت ہوگئے ہیں،حالانکہ جب آپ فوت ہوئے توآپ کاسرسیدہ عائشہ کے ساتھ ٹکاہوا تھا حتی کہ فرماتی ہیں میں نے کمرے میں کدالے چلنے کی آواز سنی کہ قبر کھودی جارہی ہے پھر مجھے یقین آیا۔
صحابہ جب تدفین سے فارغ ہوئے، سیدہ فاطمہ نے پوچھا:
یا انس اطابت انفسکم ان تحثوا علی رسول اللہ التراب .
اے انس تم نے یہ کیسے گوارا کیا کہ نبی کےجسم اطہر پر مٹی ڈال کر آگئے۔(صحیح بخاری،الرقم:۴۱۹۳)
صدمے کی کیفیت تھی، اللہ تعالیٰ نے سیدناابوبکرصدیق کو عزیمت دی ، انہوں نے خطبہ ارشاد فرمایا:
من کان منکم یعبدمحمدا فان محمد قد مات، ومن کان یعبد اللہ فان اللہ حی لایموت .
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز،الرقم:۱۱۸۵)
تم میں سے جومحمدﷺ کی عبادت کرتا ہے یاکرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ دیکھ لے کہ اللہ کے پیغمبر فوت ہوچکے ہیں معبود فوت نہیں ہوتا۔
اللہ رب العزت زندہ ہے کبھی اسے موت نہیں آئے گی۔
سیدنا ابوبکرصدیق نے نبی اکرم ﷺ کاماتھا چوما اور فرمایا:
بابی انت یانبی اللہ لایجمع اللہ علیک موتتین.
(بخاری، کتاب الجنائز،الرقم:۱۱۸۵)
اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو دوموتیں نہیں چکھائے گا۔
یہ رد تھا ان لوگوں کا جنہوںنے کہاتھا اللہ کے پیغمبر دوبارہ زندہ ہوکر آئیں گے اور کچھ فیصلے آپ نے کرنے ہیں، اس کامعنی کہ آپ کا انتقال ہوا پھر آپ زندہ ہونگے پھر آپ کا انتقال ہوگا۔ نہیں دو موتیں اللہ آپ پر طاری نہیں کرےگا،بلکہ ایک ہی موت تھی جوواقع ہوچکی۔یوں لوگوں کے خلجان کو ان کے شبہات کوابوبکرصدیق نے دورفرمایا۔
سیدہ فاطمہ نے اس موقع پر کہاتھا ،صحیح بخاری کے الفاظ ہیں:
یا ابتا الی جبریل ننعاہ.(صحیح بخاری،الرقم:۴۱۹۳)
اے اباجان آپ نے اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کرکے ہمیں سوگوار چھوڑدیا۔
اے اباجان جنت الفردوس آپ کاٹھکانا ہے ،اے اباجان جبریل کو ہم یہ خبر کیسے پہنچائیں۔
لمحہ فکریہ

یہ بھی ایک ربیع الاول میں مدینہ میںایک فضا تھی اس کے بعد صحابہ نے تو کبھی کسی خوشی کااہتمام کیا نہ کبھی کسی غم کااہتمام کیا، بعض اوقات اللہ کے پیغمبر کی یاد آجاتی روپڑتے ۔سیدناابوھریرہ سے کسی نے کہا کہ نبی کی ایک ایسی حدیث سناؤجس میں آپ اور اللہ کے پیغمبر ہوں، تیسرا کوئی نہ ہو، ابوھریرہ نے فرمایا:
ایسی بہت سی حدیثیں ہیں ،ایک جگہ کی طرف اشار ہ کیا ،یہاں بیٹھے ہوئے تھے، نبی بھی ساتھ تھے اتنا کہہ کر بیہوش ہوگئے، نبی کی جدائی یاد آگئی آپ کی صحبتیں یاد آگئیں، تو کبھی بھی رنج والم کی کیفیت بن جاتی اور اللہ کے پیغمبر کو یاد کرکے روپڑتے، لیکن اس دن کی آمد پر کسی خوشی کااہتمام کسی غمی کااہتمام ایسا کچھ نہ تھا، اللہ پاک ہمیں ہرمقام کے لئے اپنے پیغمبر کی سنت کی اقامت کی توفیق عطافرمائے۔آمین
وآخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین.

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے