Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ دسمبر » مدارس نیوکلری لیاری کی سالانہ تقریب

مدارس نیوکلری لیاری کی سالانہ تقریب

رپورٹ:ذوالفقار علی طاہر

30اکتوبر بروز اتوار2016 بعدنمازعصر تاعشاء نیوکلری لیاری کراچی میں واقع مدارس جمعیت اہل حدیث سندھ کی سالانہ تقریب نتائج وتقسیم انعامات،سبحانی مسجد میں منعقد ہوئی۔ جس میں حلقہ لیاری سے کثیر تعداد میں عوام الناس اور شہر بھر سےعلماء کرام نےشرکت کی۔
اسٹیج پر تشریف فرماعلماء کرام کاتعارف حسب ذیل ہے:
مولانا عبدالعزیز نظامانی ماتلی سندھ۔ مفتی حافظ محمد سلیم شیخ الحدیث المعہدالسلفی۔مولانا عتیق الرحمٰن امام وخطیب مسجد عبدالرحمٰن بن عوفؓ ماڑیپور۔ مولانا احمد محمود امام مسجد راشدی موسیٰ لین۔ حافظ محمد اکبر محمدی امام وخطیب مسجد عمرفاروقؓ کمہارواڑہ۔ شیخ محمدداؤد شاکرنائب مدیر المعہدالسلفی۔ شیخ عبدالواحد نائب شیخ الحدیث جامعہ دار الحدیث رحمانیہ سولجربازار۔ حافظ عبدالرافع امام محمدی مسجد آگرہ تاج ۔ حافظ بدیع الدین متعلم المعہدالسلفی ۔
بعدنماز عصر مدارس کے طلبہ کی تلاوت، نظمیں، دعائیں، مختلف عناوین پر مکالمات ہوئے جو مدارس کی حسن کارکردگی کا بین ثبوت تھے، جنہیں علماء کرام اورعوام الناس نے خوب سراہا۔
بعدنمازمغرب اسٹیج سیکٹری حافظ محمد اسماعیل فاروقی امام وخطیب جامع مسجد سبحانی نے مدارس نیوکلری کا تعارف پیش کیا۔ تعارف حسبِ ذیل ہے:
تمام مدارس الشیخ حافظ محمد سلیم صاحبdاور ذوالفقار علی طاہرکی زیر نگرانی مصروف عمل ہیں۔
.1مدرسہ الحرمین للتعلم القرآن والحدیث
الحمدللہ مدرسہ الحرمین 2004ء میں لیاری کے علاقے ہنگورہ آباد گلی نمبر 1/Aمیں قائم کیا گیا جس میں علاقے کی بچیوں کو دینی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے۔ اس وقت مدرسہ الحرمین میں 104طالبات زیرتعلیم ہیں، اس وقت تک 8طالبات حفظ القرآن مکمل کرچکی ہیں 3مختلف شفٹوں میں6معلمات اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
.2مدرسہ سلیمان بن محمد لتعلیم القرآن والحدیث
الحمدللہ مدرسہ سلیمان بن محمد لتعلیم القرآن والحدیث 2005ء میں لیاری کے علاقے ہنگورہ آباد گلی نمبر3/Bمیں قائم کیا گیا جس میں علاقے کے بچوں کو دینی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے، اس وقت مدرسہ سلیمان بن محمد میں 95طلبہ زیر تعلیم ہیں ،اس وقت تک 8طلبہ حفظ القرآن مکمل کرچکے ہیں ۔
4مختلف شفٹوں میں3معلمین اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
.3مدرسہ محمد بن احمد للتعلم القرآن والحدیث
الحمدللہ مدرسہ محمد بن احمد2007ء میںلیاری کے علاقے ہنگورہ آباد گلی نمبر10/B میں قائم کیاگیا جس میں علاقے کی بچیوں کو دینی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے، اس وقت مدرسہ میں95طالبات زیر تعلیم ہیں۔
مختلف شفٹوں میں4معلمات اپنےفرائض انجام دے رہی ہیں۔
.4مدرسہ موسیٰ بن عیسیٰ لتعلیم القرآن والحدیث
الحمدللہ مدرسہ موسیٰ بن عیسیٰ لتعلیم القرآن والحدیث 2012ء میں لیاری کے علاقے ہنگورہ آباد گلی نمبر12/Bمیں قائم کیاگیا جس میں علاقے کے بچوں کو دینی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے، اس وقت مدرسہ میں 42طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
.5مدرسہ عبدالشکور بن عبدالرحیم عرف جن
الحمدللہ یہ مدرسہ 2014ء میں ہنگورہ آباد گلی نمبر2-Bمیں قائم کیا گیا جس میں علاقے کی بچیوں کو دینی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے، اس وقت مدرسہ میں 27 طالبات زیر تعلیم ہیں۔
2معلمات اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
.6مرکز انس بن مالک للأیتام
مدیر:الشیخ محمدداؤدشاکر
بمقام: جامع مسجد سبحانی اہل حدیث گلی نمبر20/Bنیوکلری ہنگورہ آباد روڈ لیاری کراچی
الحمدللہ مرکز انس بن مالک للأیتام سن 2013ءمیں لیاری کے علاقے ہنگورہ آباد میں یتیم بچوں کی کفالت اور ان کی دینی تربیت کیلئے جامع مسجد سبحانی اہل حدیث میں قائم کیاگیا ،جس کا افتتاح فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانیdامیر جمعیت اہل حدیث سندھ نے اپنے ہاتھوں سےکیا،اس مدرسے میں یتیم بچوں کو دینی تربیت کےساتھ ساتھ عصری تعلیم دی جاتی ہے۔
اس مدرسے سب اب تک 16بچے حفظ القرآن مکمل کرچکے ہیں، اور مزیداس سال ایک اور بچے نے حفظ القرآن مکمل کیا ہے۔
مدرسے میں بچوں کو دی جانے والی سہولیات:مکمل رہائش، طعام، ماہانہ500 روپے وظیفہ، عید ین کے موقع پر کپڑے، چپل، یونیفارم، علاج معالجہ اور اس کے علاوہ سال میں بچوں کو ۲بارپکنک پر لے جایا جاتا ہے۔
.7مدرسہ رحمیہ حسین
شعبہ جات: تفسیر، کتاب التوحید، اقبال کیلانی صاحب کی منتخب کتب، سیرت النبی ﷺ، عربی گرامر
الحمدللہ یہ مدرسہ 9فروری2015کو ہنگورہ آباد گلی نمبر4-Bمیں قائم کیاگیا۔گذشتہ سال ایک کورس بنام تدبر القرآن کروایاگیا جس میں17طالبات نے سندفراغت حاصل کی۔اس وقت ایک کورس بنام تفہیم الاسلام کروایاجارہاہے جس میں27طالبات پڑھ رہی ہیں۔
اس مدرسے میں9معلمات اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
تعارف مدارس کے بعد مفتی حافظ محمد سلیم صاحب کامختصر خطاب ہوا۔
اس کے بعد حافظ بدیع الدین بن شیخ عبداللہ ناصر رحمانی اور حافظ سمیع اللہ عثمان غنی نے تلاوتِ کلام پاک فرمائی اور مرکز انس بن مالک ؓ سے حفظِ قرآن کی تکمیل کرنے والے طالبِ علم حبیب الرحمٰن بن عبدالحکیم کو امیر محترم شیخ عبداللہ ناصر رحمانیdکے ہاتھوں سند جاری کی گئی اور تمام اساتذہ کو امیر محترم کے ہاتھوں تحائف دلائے گئے۔
بعدازاں فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdامیر جمعیت اہل حدیث سندھ کو دعوتِ خطاب دی گئی۔ بعدازخطبہ مسنونہ امیرمحترم کافرمانا تھا:
سب سے پہلے میں تاخیر سے پہنچنے پرآپ احباب سے معذرت چاہتا ہوں یہ پروگرام ہمارااپناپروگرام ہےلہذا حق بنتا ہے کہ ایسے پروگراموںمیں شروع ہی سے پہنچاجائے تاکہ اساتذہ وطلبہ کی کارکردگی کو جانچاجاسکے اور ان کی حوصلہ افزائی ہو۔دراصل میں آج لاہور میں تھا، ابھی شام ہی کو واپس پہنچاہوں۔ لیکن مجھے قوی امید ہے کہ حسبِ سابق اس سا ل بھی طلبہ وطالبات کی کارکردگی بہترین رہی ہوگی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام طلبہ وطالبات، اساتذہ ومنتظمین اور معاونین کو جزائے خیر عطافرمائے اور ان کی محنتوں وکاوشوں کوقبول فرمائے۔
سامعین محترم! نبی اکرمﷺ کی حدیث ہے کہ:ماانزل اللہ داء الا وقد انزل لہ شفاء علمہ من علمہ وجھلہ من جھلہ. اخرجہ احمد فی مسندہ35780باسناد حسن.
یعنی اللہ نے جو بیماری اتاری ہے اس کی شفاء بھی اتاردی ہے۔ بلکہ بعض ادویہ ایسی ہیں جو تمام یا بہت ساری امراض سے شفاء کاباعث ہیں جیسے نبی اکرم ﷺ کی حدیث ہے:
الحبۃ السوداء شفاء لکل داء الاالموت.
یعنی کلونجی موت کے علاوہ تمام امراض سے شفاء کاباعث ہے۔
اسی طرح قرآن میں شہد سےمتعلق وارد ہے:
[فِيْہِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ](النحل:۶۹)
اسی طرح نبیuکی حدیث ہےکہ
القسط الھندی-او-القسط البحری فیہ سبعۃ اشفیۃ.
یعنی عود ہندی یا عود بحری میں سات قسم کی امراض سے شفاء ہے۔
گویا اللہ تعالیٰ نے جتنی بیماریاں اتاریں اتنی شفاءبھی اتار دی، لہذا یہ کہنا غلط ہے کہ شگر،کینسر،ہیپاٹائٹس لاعلاج ہیں۔ کوئی بھی بیماری لاعلاج نہیں ہے۔ ہاں ایسا ممکن ہے کہ ہمارا علم کسی مرض کےعلاج تک نہ پہنچ سکے باقی کسی بیماری کو لاعلاج قرار نہیں دیاجاسکتا۔
سامعین حضرات! مذکورہ تمام اشیاء جسمانی امراض سے شفاء کا باعث ہیںجبکہ ایک چیزایسی بھی ہے جو ہرقسم کی مرض سے شفاء کاباعث ہے خواہ اس کاتعلق امراض الابدان سے ہویاامراض القلوب سے،وہ ہے اللہ تعالیٰ کاکلام پاک، یعنی قرآن مجید،اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
[وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَشِفَاۗءٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۝۰ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِـمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا۝۸۲ ] (الاسراء:۸۲)
یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاںظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی ۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
[يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ۝۰ۥۙ وَہُدًى وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۝۵۷ ] (یونس:۵۷)
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں اس کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے ۔
یعنی قرآن امراض قلوب، روحانی امراض کیلئے بھی شفاء ہے۔
نیز صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ ابوسعید خدری tقافلے کے ساتھ سفر سے لوٹ رہے تھے،ایک بستی والوں سے ضیافت طلب کی، انہوںنے انکار کردیا،اس بستی کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، بستی والے آگئے اور دم کرنے کامطالبہ کرنے لگے ابوسعیدخدریtنے دم کیا وہ پرسکون ہوگیا۔پھر انہوں نے ضیافت کی اور انعام میں بکریاں دیں۔ مدینہ پہنچ کرآپﷺ سے تذکرہ کیا۔آپﷺ نےد ریافت کیا تم نے کیاپڑھ کر دم کیا؟ ابوسعیدخدریtنے جواب دیا کہ:میں نے سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا۔ آپﷺ نے ابوسعید خدریtکی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا:کہ تجھے کس نے بتایا کہ یہ سورت دم ہے۔
آپﷺ نے فرمایا:سورۃ الفاتحہ :نعمت الرقیا ھی.
(شرح ریاض الصالحین للشیخ محمد بن صالح العثیمین)
دیکھیں زہرجیسی خطرناک بیماری سے، اس سردار کو سورۂ فاتحہ کی وجہ سے شفاء مل گئی۔
سورۂ فاتحہ جیسی آسان ترین سورت کو رقیہ(دم)قرار دیاگیا ہے تاکہ سب اس سے استفادہ کرسکیں۔ لہذا آپ خود اس سورت کے ذریعہ دم کیاکریں۔ کسی مولوی سے دم کراناضروری نہیں ہے۔ جتنی تڑپ، جتنااخلاص،آپ کے دم میں ہوگا ،اتنا مولوی کے دم میں نہیں ہوگااس لئے کہ اس کی نظر آپ کی جیب پر ہوگی۔
مذکورہ اشیاء(کلونجی، شہد،عودہندی) جسمانی امراض کا علاج ہیں، روحانی امراض کانہیں، روحانی امراض جیسے شرک وبدعت، شک وتردد، حسد، بغض، کینہ، سینے میں اللہ کے ولیوں سے نفرت اور اللہ کے دشمنوں کی محبت وغیرہ کاعلاج قرآن مجید میں ہے، اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ۝۰ۥۙ ] یعنی یہ قرآن امراضِ قلب کیلئے شفاء ہے۔
مسنداحمد(۱؍۱۹۳)میں نبیuکی دعامذکور ہے اور علامہ البانیaنے اسے صحیح قرار دیا ہے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ عَبْدُکَ ،وَابْنُ عَبْدِکَ ، وَابْنُ اَمَتِکَ، نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَآئُکَ، اَسْئَلُکَ بِکُلِّ اِسْمٍ ھُوَ لَکَ ،سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ، اَوْ اَنْزَلْتَہُ فِیْ کِتَابِکَ ،اَوْ عَلَّمْتَہُ اَحَداً مِنْ خَلْقِکَ ،اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ الْـغَیْبِ عِنْدَکَ ،اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ، وَنُوْرَ صَدْرِیْ ،وَجَلَآئَ حُزْنِیْ ،وَذِھَابَ ھَمِّیْ
’’اے اللہ!یقیناً میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے ہی بندے اور تیری ہی کنیز کابیٹاہوں۔میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، مجھ میں تیرا ہی حکم جاری وساری ہے، میرے بارے میں تیرافیصلہ مبنی برانصاف ہے، میں تیرے ہراس خاص نام کے ذریعے تجھ سے درخواست کرتاہوں جو تو نے خود اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا تو نے اسے علمِ غیب میں اپنے پاس (رکھنےکو) خاص کیا ہے(میں درخواست کرتاہوں) کہ تو قرآن مجید کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کانور، میرے غموں کاعلاج اور میرے فکروں کاتریاق بنادے۔‘‘
مسندأحمد:391/1ا،شیخ البانی aنے اسے صحیح کہا ہے۔
نبیuاس دعا میں اللہ تعالیٰ کو سب سےقوی واسطہ (صفاتِ الٰہی کا واسطہ) دیکر تین چیزیں مانگ رہےہیں۔
(۱)دل کیلئے قرآن کوموسمِ بہار میں برسنے والی بارش کی طرح بنا دے۔ یعنی اس کی آیات، دل پر موسمِ بہار کی بارش کی طرح برسیں اور اثرانداز ہوں۔
(۲) قرآن کے نور سے سینے کے ا ندھیرے چھٹ جائیں۔
(۳)یہ قرآن میرے ہر قسم کے غم،پریشانی اوردکھ کا مداوا بن جائے۔
نبیuنے آخر میں فرمایا :ینبغی لمن سمعھن یحفظھن.
جو ان کلمات کو سنے اسے چاہئے کہ انہیں یاد کرلے۔اللہ تعالیٰ اس کوخوش کردے گا۔
اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
[اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْہِمْ اٰيٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِيْمَانًا ] (الانفال:۲)
مؤمنوں کے سامنے جب اللہ کاذکر کیاجاتا ہے اوراس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کےدل کانپ جاتے ہیں اور ان کاایمان بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی قرآن کی تاثیر ہے جومؤمنوں پراثرانداز ہوتی ہے، مگر ان لوگوں کے قلب کاکیا کہیے جوقرآن اور وحی سنتے ہیں مگر اپنے مذہب کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے رد کردیتے ہیں۔
وجلت قلوبھم. والی کیفیت کہاں گئی؟
آ ج ملک میں تبدیلی لانے کی باتیں ہورہی ہیں۔ تبدیلی دھرنوں اور ناچ گانوں سے نہیں آئے گی، تبدیلی قرآن وحدیث سے آئے گی، ہر شخص اسے اختیار کرے۔
قرآن پڑھنا باعث برکت ہے، سننا باعث برکت ہے، ایک حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں، تلاوتِ قرآن سے اربوںکھربوں نیکیاں کمائی جاسکتی ہیں۔ نیکیوں کی اہمیت کاپتہ روز محشر چلے گا۔ ایک شخص کوفلاح پانے کیلئے ایک نیکی کی ضرورت ہوگی وہ تلاش کرے گا اپنے ماں باپ عزیزواقارب کے پاس جائے گا ،ہر کوئی ایک نیکی دینے سے بھی انکار کردے گا۔
نبیuکی حدیث ہے: القرآن شافع مشفع ما ھل مصدق من جعلہ امامہ قادہ الی الجنۃ ومن جعلہ خلفہ ساقہ الی النار.(ابن حبان وصححہ الالبانی ورواہ ابو نعیم فی الحلیۃ وفی الکبیر لطبرانی واخرجہ البیھقی فی الشعب۲۲۷۷ابالفاظ متقاربۃ)
یعنی یہ قرآن شفاعت کرنے والاہےاور اس کی شفاعت قبول بھی کی جائے گی،جس نے(زندگی کے تمام معمالات) میں قرآن (ہی) کو آگے رکھا (اس پر عمل پیراہوا) تو قرآن اس کی قیادت کرے گا جنت کی طرف اور جس نے قرآن کو پسِ پشت ڈال دیا تویہ قرآن اس کو جہنم کی طرف ہانک کر لے جائےگا ۔
القرآن حجۃ لک او علیک
یعنی یہ قرآن تمہارے لئے حجت بن سکتا ہے یا تم پر حجت بن سکتا ہے۔
ان اللہ یرفع بھذاالکتاب اقواما ویضع بہ آخرین.
یعنی اللہ تعالیٰ اس قرآن کی وجہ سے کئی قوموں کو رفعت اور کئی کو پستی عطا کرتا ہے۔
آج کے دور میں بطورخاص تعلق بالقرآن کی ضرورت ہے، آج پاکستان کوکئی دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں کاسامنا ہے پاکستان کو مٹانے کی باتیں ہورہی ہیں ،یہ دشمنوں کی بھول ہے، پاکستان کلمۂ توحید کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے،ان شاء اللہ اسے کوئی نہیں مٹاسکتا۔بس ضرورت ہے قرآن کے ساتھ تعلق جوڑنے کی، اس لئے کہ فتح وشکست اللہ کے ہاتھ میں ہے ہم اس کلام کو تھام لیں تو اللہ کی نصرت کے مستحق بن جائیں گے۔
میں یہ سمجھتاہوں کہ لیاری میں ہمارے جویہ ادارہ قائم ہیں یہ بڑی قابل قدرکاوش ہے۔ لہذاان مدارس کو قائم کرنے والے،معاونین، منتظمین ،اساتذہ ،طلبہ وطالبات سب کے سب مبارکباد کےمستحق ہیں۔اس موقع پر میری یہ تلقین اور نصیحت ہے کہ ان مدارس میں اضافہ کیا جائے اور طلبہ وطالبات میں بھی اضافہ ہوناچاہئے تاکہ لیاری اللہ کی وحی کے نور سے چمک اٹھے، اندھیرے چھٹ جائیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن مجید کے تمام حقوق ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
بعدازاں نماز عشاء ادا کی گئی اور بعدازنمازعشاء تمام حاضرین کے اکرام میں ضیافت کا اہتمام کیاگیا۔

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے