Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ دسمبر » نمازجنازہ میں سورۂ فاتحہ کاثبوت قسط:1

نمازجنازہ میں سورۂ فاتحہ کاثبوت قسط:1

محمدآصف فاروق کمبوہ ،فاضل المعہد السلفی (قسط:1)
امام وخطیب:رحمانیہ مسجدقمبر
نظر ثانی:شیخ ضیاء الحق بھٹی نائب شیخ الحدیث المعہد السلفی

نمازجنازہ میں سورۂ فاتحہ کاثبوت
کتب احادیث میں موجود تمام روایات کا باسندتذکرہ

حدیث ابن عباس وذکر روایۃ سفیان الثوری
(۱)قال البخاری حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ قَالَ: «لِيَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ»(الصحیح للامام البخاری،۱؍۵۹۴الرقم:۱۲۵۴)
مفہومی ترجمہ: امام بخاری ذکرفرماتے ہیں کہ:طلحہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے (رسول اللہ کے صحابی) عبداللہ بن عباس کے پیھچے نمازجنازہ پڑھی تو آپ نے سورت فاتحہ پڑھی اور(ساتھ ہی) فرمایا: تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ یہ سنت ہے۔
(۲)عبدالرزاق، عن الثوری، عن سعید بن ابراھیم، عن طلحۃ بن عبداللہ بن عوف، قال: صلیت مع ابن عباس علی جنازۃ فقرأ فاتحۃ الکتاب، فقلت لہ، فقال: انہ من تمام السنۃ، أو، انہ من السنۃ.(المصنف لعبدالرزاق۳؍۳۱۵، رقم:۶۴۵۵،اس کی سند بخاری والی سند ہے۔)
مفہومی ترجمہ: امام عبدالرزاق نے حدیث ذکر فرمائی ہے کہ:طلحہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے سورت فاتحہ پڑھی تو میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا؟توآپ نے فرمایا کہ یہ سنت کے تمام میں سے ہے، یایوں فرمایا کہ یہ سنت میں سے ہے۔
(۳)وقال ابوداؤد: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مع ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ فقَالَ: اِنَّهَا من السُنَّة»(السنن لابی داؤد ۲؍۴۴۵،الرقم:۶۰۰)
مفہومی ترجمہ: امام ابوداؤدحدیث ذکرفرماتے ہیں کہ:طلحہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس کے ساتھ نمازجنازہ پڑھی تو آپ نے سورت فاتحہ پڑھی(ساتھ ہی نماز سے فراغت کے بعد)فرمایا: یہ سنت سے ہے۔
(۴)وقال الترمذی: حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا عبدالرحمٰن بن مھدی، قال: حدثناسُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، ان ابْنَ عَبَّاسٍ صلی عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ ، فقلت لہ:فقَالَ:اِنَّه من السُنَّة،أو:من تمام السنۃ.
(السنن الترمذی ،ص:۲۴۳،الرقم:۱۰۲۷)
مفہومی ترجمہ: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ:طلحہ بن عبداللہ عبداللہ بن عباس کے متعلق ذکرفرماتے ہیں کہ یقینا انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی،اورسورت فاتحہ پڑھی ،میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت سےہے،یا فرمایا: تمام سنت سے ہے۔
(۵)وقال الدار قطنی: حدثنا ابن مبشر،ثنا أحمد بن سنان، ثناابن مھدی،ثناسُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قال: صلی ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ ، فقلت لہ؟ فقَالَ:اِنَّه من السُنَّة،أو:من تمام السنۃ.
(السنن الدار قطنی ۲؍۹۰،الرقم:۱۸۰۱)
مفہومی ترجمہ: امام دار قطنی حدیث ذکرفرماتے ہیں کہ:طلحہ بن عبداللہ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عباس نے نماز جنازہ پڑھائی،توسورت فاتحہ پڑھی ،تومیں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت سےہے،یا فرمایا: تمام سنت سے ہے۔
(۶)وقال البیھقی أخبرنا علی بن أحمد بن عبدان، أخبرنا أحمد بن عبید الصفار، حدثنا اسماعیل بن اسحاق،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حدثنَا سُفْيَانُ بن سعید، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مع ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ وقَالَ:اِنَّهَا من السُنَّة.(السنن الکبری للبیھقی ۴؍۲۰۷،الرقم:۶۴۵۵)
مفہومی ترجمہ: امام بیہقی حدیث ذکرفرماتے ہیں کہ:طلحہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس کےساتھ نمازجنازہ پڑھی تو آپ نے سورت فاتحہ پڑھی اور فرمایا: یہ سنت سےہے۔
(۷)وقال ابن الجارود:حدثنا محمد بن یحیی، قال: ثنا عبدالرزاق، قال ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مع ابْنِ عَبَّاسٍ بھذا.(المنتقی لابن الجارود،ص:۲۰۷،الرقم:۵۸۵)
مفہومی ترجمہ: امام ابن الجارودنے اپنی کتاب المنتقی میںطلحہ بن عبداللہ سے ان کا عبداللہ بن عباس کےساتھ نمازجنازہ پڑھنے والی حدیث اسی طرح ذکر کی ہے۔
(۸)وقال ابن حزم حدثنا عبدالرحمٰن بن عبد اللہ، ثنا ابراھیم بن أحمد، ثنا الفربری، ثنا البخاری، ثنا محمد بن کثیر، ثنَا سُفْيَانُ ھو الثوری، عَنْ سَعْدٍ ھو ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بن عبدالرحمٰن بن عوف، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ قَالَ: «لِتَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ»
(المحلی لابن حزم ۵؍۱۲۹،رقم المسألۃ:۵۷۴)
مفہومی ترجمہ: امام ابن حزمذکرفرماتے ہیں کہ:طلحہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس کے پیچھے نمازجنازہ پڑھی تو آپ نے سورت فاتحہ پڑھی (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) فرمایا:(یہ کام میں نے اس لئے کیاہے) تاکہ تمہیں پتہ چلے کہ سنت ہے۔
(۹)وقال البیھقی: أخبرنا أبو عبداللہ الحافظ ، أخبرنی أبو الحسن أحمد بن محمد عبدوس، حدثنا عثمان بن سعید الدارمی، حدثنا محمد بن کثیر،حدثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مع ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ فقَالَ: اِنَّهَا من السُنَّة»(السنن الصغری للبیھقی)
مفہومی ترجمہ: امام بیہقیطلحہ بن عبداللہ سے بیان فرماتے ہیں انہوں نے فرمایا میں نے عبداللہ بن عباس کے ساتھ نمازجنازہ پڑھی تو آپ نے سورت فاتحہ پڑھی(اورساتھ )آپ نے فرمایا: یہ سنت میںسے ہے۔
(۱۰)وقال ابن الجوزی:أخبرنا عبدالملک، قال: أنبأ الازدی، قال: أنبأ ابن الجراح، قال: حدثنا ابن محبوب، قال: حدثنا الترمذی، قال: حدثنا محمد بن بشار،حدثنا عبدالرحمٰن بن مھدی، حدثناسُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، ان ابْنَ عَبَّاسٍ صلی عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ ، فقلت لہ:فقَالَ:اِنَّه من السُنَّة،أو:من تمام السنۃ.(التحقیق فی حدیث الخلاف لابن الجوزی ۲؍۱۴،الرقم:۸۹۱)
مفہومی ترجمہ: امام ابن الجوزیطلحہ بن عبداللہ سے بیان فرماتےہیں،انہوں نے فرمایا:بے شک عبداللہ بن عباس نے نماز جنازہ پڑھائی،اورسورت فاتحہ پڑھی ،میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت سےہے،یا فرمایا: تمام سنت سے ہے۔
ذکر روایۃ شعبۃ بن الحجاج
(۱۱) قال البخاری حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بشار، قال: حدثناغندر،قال:حدثناشعبۃ،عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . (الصحیح للامام البخاری،۱؍۵۹۴الرقم:۱۲۵۴)
مفہومی ترجمہ: امام بخاریشعبہ کی سند سےطلحہ بن عبداللہ کا عبداللہ بن عباس کے پیھچے نمازجنازہ پڑھنےوالی حدیث بیان فرماتے ہیں۔
(۱۲)وقال ابوداؤد والطیالسی: حدثناشعبۃ،عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال حدثنی طَلْحَةُ بن عبداللہ بن عوف، قال صلینا ابن عباس علی جنازۃ، وأنا یومئذ شاب، فسمعتہ یقرأ علیھا بفاتحۃ الکتاب، فلما صلیت جئت فأخذت بیدہ، فقلت: یاأبا العباس ماہذہ؟ قال :ھذا حق وسنۃ أو: قال: سنۃ وحق.(المسند لابی داود الطیالسی۱؍۱۸۹الرقم:۴۷)
مفہومی ترجمہ: امام ابوداؤدالطیالسیطلحہ بن عبداللہ سے بیان فرماتے ہیںانہوں نے فرمایا کہ ہم نے عبداللہ بن عباس کے پیچھے نمازجنازہ پڑھی اور ان دنوں میںنوجوان تھا، میں نے سنا آپ نے سورہ فاتحہ اس نماز جنازہ میں پڑھی،جب میں نے نماز مکمل کی تو میں نے آپ کا ہاتھ تھام کرکہا: اے عباس کےباپ یہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا:یہ حق ہے اور سنت ہے، یایوں فرمایا: یہ سنت ہے اور حق ہے۔
(۱۳)وقال النسائی: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بشار، قال: حدثنامحمد،قال:حدثناشعبۃ،عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بن عبداللہ ،قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا علی جنازۃ، فسمعتہ یقرأبفاتحۃ الکتاب، فلما انصرف أخذت بیدہ فسألتہ ،فقلت: تقرأ؟ قال: نعم انہ حق وسنۃ.(السنن للنسائی ۱؍۲۰۴،الرقم:۱۹۹۲)
مفہومی ترجمہ: امام نسائی حدیث ذکرفرماتے ہیں کہ:طلحہ بن عبداللہ نے فرمایا میں نےعبداللہ بن عباس کےپیچھے نماز جنازہ پڑھی تو میں نے ان سے سنا کہ وہ سورہ فاتحہ پڑھ رہے ہیں، جب نماز ختم ہوئی تو میں نے ان کاہاتھ پکڑ کر ان سے سوال کیا کہ کیا آپ(سورہ فاتحہ) پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں، یقینا یہ حق ہے اور سنت ہے۔
(۱۴)وقال ابن الجارود:حدثنا الحسن بن محمد الزعفرانی، قال: ثنا یحی بن عباد، قال: ثناشعبۃ،قال أخبرنی سَعْد بْن إِبْرَاهِيمَ، قال طَلْحَةُ بن عبداللہ،قال صلیت خلف ابن عباس رضی اللہ عنھماعلی جنازۃ، فقرأ فیھا بفاتحۃ الکتاب، فأخذت بیدہ، فقلت: تقرأ بھا؟ قال :انھا سنۃ وحق.(المنتقی لابن الجارود،ص:۲۰۶،الرقم:۵۸۴)
مفہومی ترجمہ: امام ابن الجارودطلحہ بن عبداللہ سے بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نےعبداللہ بن عباس کےپیچھےنمازجنازہ پڑھی تو آپ نے اس میں سورہ فاتحہ پڑھی،میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کرپوچھا کیا آپ اسے پڑھتے ہو؟ آپ نے فرمایا:یقینا یہ سنت ہے اور حق ہے۔
(۱۵)وقال البیھقی:و أخبرنا ابو الحسن علی بن أحمد بن عمر المقری ابن الحمانی رحمہ اللہ ببغداد،أخبرنا أحمد بن سلمان الفقیہ،حدثنا عبداللملک بن محمد، حدثنا بشر بن عمر،حدثنا شعبۃ ،عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خلف ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فسمعتہ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ فلما انصرف سألتہ ؟فقال: سنۃ وحق، وربما، قال: سنۃ، ولم یذکر :حق.
(السنن الصغری للبیھقی۴؍۲۰۷،الرقم:۶۹۵۶)
مفہومی ترجمہ: امام بیہقیطلحہ بن عبداللہ سے بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے عبداللہ بن عباس کے پیچھے نمازجنازہ پڑھی میں نے سنا آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی، جب نماز ختم ہوئی تو میں نے آپ سے ( اس بارے میں) پوچھا؟ تو آپ نے فرمایا یہ سنت ہے اور حق ہے ،اور کبھی کہا:سنت ہے، حق کاذکر نہیں کیا۔
(۱۶)وقال البیھقی أیضا: رواہ شعبۃ ،عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ،قال حدثنی طَلْحَة بْن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خلف ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ وأنا یومئذ شاب، فسمعتہ یقرأ علیھا بفاتحۃ الکتاب، فلما صلیت جئت فأخذت بیدہ، فقلت: یاأبا العباس ماہذا؟ قال: ھذا حق وسنۃ أو: قال: سنۃ وحق.
أخبرنا ابوبکر بن فوزک، أخبرنا عبداللہ بن جعفر، حدثنا یونس بن حبیب، حدثنا ابوداود ، حدثنا شعبۃ فذکرہ(السنن الصغری للبیھقی۱؍۲۹۹،الرقم:۱۰۹۹)
مفہومی ترجمہ: امام بیہقیطلحہ بن عبداللہ سے بیان فرماتے ہیںانہوں نے فرمایا کہ میں نے عبداللہ بن عباس کے پیچھے نمازجنازہ پڑھی اور ان دنوں میںنوجوان تھا، میں نے سنا آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی،جب میں نےنمازختم کی تو میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کرپوچھا: اے ابوالعباس یہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا:یہ حق ہے اور سنت ہے، یایوں فرمایا: یہ سنت ہے اور حق ہے۔
(۱۷)وقال الحاکم: أخبرنا عبدالرحمٰن بن الحسن القاضی، ثنا ابراھیم بن الحسین ،ثنا آدم بن ابی ایاس:ثنا شعبۃ، عن سعد بن ابراھیم، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قال صلیت خلف ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فسمعتہ یقرأ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ ، فلما انصرف أخذت بیدہ فسألتہ ،فقلت: أتقرأ ؟فقال :نعم انہ حق وسنۃ.
(المستدرک للحاکم ۱؍۵۱۰،الرقم:۱۳۲۴)
مفہومی ترجمہ: امام حاکم طلحہ بن عبداللہ سے بیان فرماتے ہیں کہ میں نےعبداللہ بن عباس کےپیچھے نماز جنازہ پڑھی تو میں نے ان سے سنا کہ وہ سورہ فاتحہ پڑھ رہے ہیں، جب نماز ختم ہوئی تو میں نے ان کاہاتھ پکڑ کر ان سے سوال کیا کہ کیا آپ(سورہ فاتحہ) پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں، یقینا یہ حق ہے اور سنت ہے۔
(۱۸)وقال النسائی: أنبأ محمد محمد بن بشار، قال: حدثنا محمد،حدثنا شعبۃ، عن سعد بن ابراھیم، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال صلیت مع ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فسمعتہ یقرأ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ ، فلما انصرف أخذت بیدہ فسألتہ ،فقلت: أتقرأ ؟فقال :نعم انہ حق وسنۃ.
(السنن الکبری للنسائی ۱؍۶۴۴،الرقم:۲۱۱)
مفہومی ترجمہ: امام نسائی طلحہ بن عبداللہ سے بیان فرماتے ہیں کہ میں نےعبداللہ بن عباس کےساتھ نماز جنازہ پڑھی تو میں نے آپ سے سنا آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی ، جب آپ نے نماز مکمل کی تو میں نے آپ کاہاتھ پکڑ کر ان سے سوال کیا کہ کیا آپ(سورہ فاتحہ) پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا:
جی ہاں، یقینا یہ حق ہے اور سنت ہے۔
(جاری ہے)

About admin

Check Also

ختم قران ۔ المعھد السلفی

شیخ عبداللہ ناصررحمانی تاریخ 2018-06-12, بمقام مسجد نورالعلم نیا نام مسجد جنید  (المعھد السلفی للتعليم …

جواب دیجئے