Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ اکتوبر » وہ بدبخت جن کے لیے ویل ہے

وہ بدبخت جن کے لیے ویل ہے

قارئین کرام ! کچھ بدبخت لوگ ایسے ہیں جن کے لیے قرآن و سنت میں ویل کی وعید آئی ہے ۔

انہیں کن اعمال کی بنیاد پر یہ وعید سنائی گئی ہے ؟ آئیں ملاحظہ فرمائیں !اور ان اعمال سے اجتناب کریں ۔

1۔ کافروں کے لیے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

﴿اللَّهِ الَّذي لَهُ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الأَرضِ وَوَيلٌ لِلكافِرينَ مِن عَذابٍ شَديدٍ الَّذينَ يَستَحِبّونَ الحَياةَ الدُّنيا عَلَى الآخِرَةِ وَيَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ وَيَبغونَها عِوَجًا أُولئِكَ في ضَلالٍ بَعيدٍ﴾

اللہ کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ۔ اور کافروں کے لئے ویل ہے سخت عذاب میں سے ۔ جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پن پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔(إبراهيم : 3)

2۔اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے والوں کے لیے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

فَوَيلٌ لِلَّذينَ يَكتُبونَ الكِتابَ بِأَيديهِم ثُمَّ يَقولونَ هذا مِن عِندِ اللَّهِ لِيَشتَروا بِهِ ثَمَنًا قَليلًا فَوَيلٌ لَهُم مِمّا كَتَبَت أَيديهِم وَوَيلٌ لَهُم مِمّا يَكسِبونَ﴾

اُن لوگوں کے لئے ویل ہے جو اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ تعالٰی کی طرف کی کہتے ہیں اور اس طرح دنیا کماتے ہیں ، ان کے ہاتھوں کی لکھائی کو اور ان کی کمائی کو ویل اور افسوس ہے ۔

(البقرة: 79)

3۔ ناقص وضو کرنے والوں کے لیے ویل ہے

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ :

ایک سفر میں (جو ہم نے کیا تھا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اس وقت ملے جب ( عصر کی ) نماز کا وقت آن پہنچا تھا ہم ( جلدی جلدی ) وضو کر رہے تھے۔ پس پاؤں کو خوب دھونے کے بدلے ہم یوں ہی سا دھو رہے تھے۔ ( یہ حال دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا :

وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

ایڑیوں کے لیے ویل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار ایسے فرمایا۔ (صحیح بخاری : 60)

وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ .

ایڑیوں کے لیے ویل ہے ، اچھی طرح وضو کرو ۔

(صحیح مسلم : 570)

4۔ نماز میں غفلت کرنے والوں کے لیے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

﴿فَوَيلٌ لِلمُصَلّينَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاھوۡنَ﴾(الماعون : 4)

ان نمازیوں کے لئے ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں ۔

5۔زکوات نہ دینے والوں کے لیے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

﴿وَوَيلٌ لِلمُشرِكينَ الَّذينَ لا يُؤتونَ الزَّكاةَ وَهُم بِالآخِرَةِ هُم كافِرونَ ﴾

اور ان مشرکوں کے لئے ویل ہے ۔ جو زکوات ادا نہیں کرتے اور آخرت کا بھی انکار کرتے ہیں ۔(حم السجدة : 7)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

مانع الزكاة يوم القيامة في النار . ‌

زکوات نہ ادا کرنے والا قیامت کے دن جہنم میں ہوگا ۔

(صحیح الجامع :8507)

6۔ ظالموں کے لیے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

﴿قالوا يا وَيلَنا إِنّا كُنّا ظالِمينَ﴾(الانبیاء : 14)

کہنے لگے : ہمارے لیے ویل ہے ہم ہی ظالم تھے ۔

7۔مجرموں کے لیے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

﴿وَوُضِعَ الكِتابُ فَتَرَى المُجرِمينَ مُشفِقينَ مِمّا فيهِ وَيَقولونَ يا وَيلَتَنا مالِ هذَا الكِتابِ لا يُغادِرُ صَغيرَةً وَلا كَبيرَةً إِلّا أَحصاها وَوَجَدوا ما عَمِلوا حاضِرًا وَلا يَظلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا﴾

اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے ۔ پس تو دیکھے گا گنہگار اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہونگے اور کہہ رہے ہونگے : ہائے ہماری بربادی ! یہ کیسی کتاب ہے ؟ جس نے ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں چھوڑا جس کا پورا احاطہ نہ کرلیا ہو ۔ اور وہ اپنا سارا کیا دھرا اپنے سامنے موجود پائیں گے ۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر کوئی ظلم نہیں کرے گا۔  (الكهف : 49)

8۔جھوٹے گنہگار کے لیے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

﴿وَيلٌ لِكُلِّ أَفّاكٍ أَثيمٍ﴾

ہر ایک جھوٹے گنہگار کے لیے ویل ہے ۔ (الجاثیة : 7)

9۔جھٹلانے والوں کے لئے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

﴿وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ الَّذِیۡنَ یُکَذِّبُوۡنَ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ﴾

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے ویل ہے ۔ جو جزا و سزا کے دن کو جھٹلاتے ہیں ۔(المطففین : 11)

10سرکشوں کے لئے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

﴿قالوا يا وَيلَنا إِنّا كُنّا طاغينَ﴾(القلم: 31)

کہنے لگے : ہائے ہمارے لیے ویل ہے! یقیناً ہم سرکش تھے ۔

11ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

﴿وَيلٌ لِلمُطَفِّفينَ﴾(المطففين: 1)

ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ویل ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپ تول میں کمی کرنے کی دنیاوی سزا بیان کرتے ہوئے فرمایا :

وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ،‏‏‏‏ إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ،‏‏‏‏ وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ،‏‏‏‏ وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ .

جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

(سنن ابن ماجة : 4019)

12چغل خور اور طعنہ دینے والوں کیلئے ویل ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

﴿وَيلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ الَّذي جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ يَحسَبُ أَنَّ مالَهُ أَخلَدَهُ كَلّا لَيُنبَذَنَّ فِي الحُطَمَةِ وَما أَدراكَ مَا الحُطَمَةُ نارُ اللَّهِ الموقَدَةُ﴾

ہر طعن آمیز شرارتیں کرنے والے ، چغل خور کے لیے ویل ہے ۔ جو مال جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اسکا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا ۔ہرگز نہیں ! وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا اور تمہیں کیا معلوم حطمہ کیا ہے؟ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے ۔(الهمزة : 6)

13لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنے والوں کے لیے ویل ہے

سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا :

وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ، وَيْلٌ لَهُ، وَيْلٌ لَهُ .(سنن أبی داؤد : 4990)

ویل ہے اس کے لیے جو بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے، ویل ہے اس کے لیے، ویل ہے اس کے لیے۔

14 شریر لوگوں کے لیے ویل ہے

سیدنا انس بن مالک  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلْخَيْرِ مَغَالِيقَ لِلشَّرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلشَّرِّ مَغَالِيقَ لِلْخَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَطُوبَى لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الْخَيْرِ عَلَى يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَوَيْلٌ لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الشَّرِّ عَلَى يَدَيْهِ  .

بعض لوگ خیر کی کنجی اور برائی کے قفل ہوتے ہیں اور بعض لوگ برائی کی کنجی اور خیر کے قفل ہوتے ہیں، تو اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجیاں رکھ دیں ہیں، اور اس شخص کے لیے ویل ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجیاں رکھ دی ہیں ۔ (سنن ابن ماجة : 237)

15امراء کے لیے ویل ہے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ، لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا، يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَلَمْ يَكُونُوا عَمِلُوا عَلَى شَيْءٍ .

ویل ہے امراء کے لیے ، ویل ہے چودھریوں کے لیے ، جن کے پاس امانت رکھی جاتی ہے ، ان کے لیے ،روز قیامت یہ لوگ خواہش کریں گے کہ ان کے پیشانی کے بالوں سے انہیں جکڑ کر انہیں زمین و آسمان کے درمیان لٹکا دیا جاتا ، لیکن انہیں کسی کام کی ذمہ داری نہ دی جاتی ۔(مسند احمد : 8627)

یہ وہ حاکم اور چودھری ہوں گے جنہوں نے رعیت سے انصاف نہیں کیا ہوگا ۔

قارئین کرام ! آخر میں یہ وضاحت بھی انتہائی ضروری ہے کہ ویل سے مراد بعض نے ہلاکت و بربادی کولیا ہے اور بعض کے نزدیک یہ جہنم کی ایک وادی ہے ۔

نیز یہ افسوس کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ۔

About محمد سلیمان جمالی

Check Also

وہ بدبخت جن کے لیے خسارہ ہے

قارئین کرام ! کچھ بدبخت انسان ایسے ہیں جن کے لیے اپنے برے اعمال کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے