Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ نومبر » وہ بدبخت جن کے لیے خسارہ ہے

وہ بدبخت جن کے لیے خسارہ ہے

قارئین کرام ! کچھ بدبخت انسان ایسے ہیں جن کے لیے اپنے برے اعمال کی وجہ سے دونوں جہانوں میں خسارہ ہے ۔

یہ کون ہیں ؟ آئیں ملاحظہ فرمائیں ! اور اپنا دامن بچائیں ۔

1۔ باطل پر ایمان لانے والوں کیلئے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ}[العنكبوت: 52]

اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے ، اور اللہ کا انکار کیا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جو خسارے میں ہیں  ۔

2۔ شرک کرنے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ}

[الزمر: 65]

یقیناً تیری طرف اور تجھ سے پہلے ( انبیاء ) کی طرف وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور یقیناً تو خسارے والوں میں سے ہوگا .

3۔ اللہ کی آیات کا کفر کرنے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

[وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ  اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ]

[الزمر: 63]

اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو خسارے میں ہیں  ۔

ایک مقام پر فرمایا :

{وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَاسِرِينَ}[يونس: 95]

اور نہ ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ تعالٰی کی آیتوں کو جھٹلایا کہیں آپ خسارہ پانے والوں میں سے نہ ہوجائیں ۔

4۔اللہ کی ملاقات کو جھٹلانے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ}[يونس: 45]

تحقیق خسارے میں پڑے وہ لوگ ، جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہدایت حاصل کرنے والے نہ بنے ۔

5۔ باطل پر خوش فہمی اختیار کرنے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي  الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا . أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا}

کہو ! کیا ہم تمہیں بتادیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی تمام سعی اس دنیا کی زندگی کے پیچھے اکارت گئی اور وہ گمان کرتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔[الكهف: 103-104]

6۔ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرنے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ}[آل عمران: 85]

اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین طلب کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والے لوگوں میں سے ہوگا ۔

7۔کافروں کی پیروی کرنے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِينَ}

[آل عمران: 149]

اے ایمان والو! اگر تم کافروں کی بات مانو گے تو یہ تمہیں پیٹھ پیچھے لوٹا کے رہیں گے اور تم خسارے پانے والوں میں سے ہو جاؤ گے ۔

8۔ اللہ تعالی کا عہد توڑنے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ}[البقرة: 27]

وہ جو ﷲ تعالیٰ کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور وہ اُسے کاٹ دیتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اُسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں ، یہی لوگ خسارہ اُٹھانے والے ہیں ۔

9۔ اللہ تعالی کی تدبیر سے بے خوف ہونے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{أَفَأَمِنوا مَكرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ}[الأعراف: 99]

کیا پھر وہ اﷲ تعالیٰ کی تدبیر سے بے خوف ہوگئے ہیں؟ تو اﷲتعالیٰ کی تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے مگروہی لوگ جوخسارہ اٹھانے والے ہیں ۔

10۔ اللہ تعالی کے متعلق بد گمانی کرنے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنتُم بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ}[فصّلت: 23]

اور اسی تمہارے اپنے رب کے بارے میں بد گمانی نے تم لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ہے ۔ پس تم خسارے والوں میں سے ہو گئے

11۔ اللہ کی ذکر سے غفلت کرنے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ}[المنافقون: 9]

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اﷲ کی یاد سے تمہیں غافل نہ کر دیں اور جو لوگ ایسا کریں گے وہی خسارہ اُٹھانے والے ہیں ۔

12۔ اپنے مسلمان بھائی کو قتل کرنے والوں کے لیے خسارہ ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

{فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ}[المائدة: 30]

بالآخر اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کرلیا اور وہ اس کو قتل کرکے خسارہ پانے والوں میں سے ہو گیا ۔

13۔نماز نہ پڑھنے والے لوگوں کے لیے خسارہ ہے

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ .[سنن ترمذي: 413]

قیامت کے روز بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا محاسبہ ہوگا، اگر وہ ٹھیک رہی تو وہ کامیاب ہو گیا، اور اگر وہ خراب نکلی تو وہ ناکام اور خسارے میں رہا ۔

14۔ بے رحم لوگوں کے لیے خسارہ ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

خابَ عبدٌ وَّخسِرَ ، لمْ يجعلِ اللهُ تعالي فِي قلْبِه رحمَةً للْبَشَر؟(سلسلة الصحیحة : 456)

وہ بندہ ناکام اور خسارے میں رہا جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے رحم نہیں رکھا ۔

15۔ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کے لیے خسارہ ہے

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے : کعبہ کے رب کی قسم ! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ کعبہ کے رب کی قسم ! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میری حالت کیسی ہے، کیا مجھ میں ( بھی ) کوئی ایسی بات نظر آئی ہے؟ میری حالت کیسی ہے؟ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے، میں آپ کو خاموش نہیں کرا سکتا تھا اور اللہ کی مشیت کے مطابق مجھ پر عجیب بےقراری طاری ہو گئی۔ میں نے پھر عرض کی، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟

الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مَنْ قَالَ:‏‏‏‏ هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا .(صحیح بخاری : 6638)

لیکن اس سے وہ مستثنیٰ ہیں۔ جنہوں نے اس میں سے اس اس طرح ( یعنی دائیں اور بائیں بے دریغ مستحقین پر ) اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو گا۔

16۔ تین قسم کے لوگوں کے لیے خسارہ ہے

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ انہیں رحمت کی نظر سے دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا ۔ میں نے پوچھا : وہ کون لوگ ہیں؟ اے اللہ کے رسول ! جو نامراد ہوئے اور خسارے میں رہے ، پھر آپ نے یہی بات تین بار دہرائی ۔ میں نے عرض کیا : وہ کون لوگ ہیں؟ اے اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور خسارے میں رہے ۔

فَقَالَ:‏‏‏‏ الْمُسْبِلُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَنَّانُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ أَوِ الْفَاجِرِ  .(سنن ابی داؤد : 4087)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹخنہ سے نیچے تہ بند لٹکانے والا، اور احسان جتانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا ۔

About محمد سلیمان جمالی

Check Also

وہ بدبخت جن کے لیے ویل ہے

قارئین کرام ! کچھ بدبخت لوگ ایسے ہیں جن کے لیے قرآن و سنت میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے