Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ مارچ واپریل » مناظراسلام فضیلۃ الشیخ ابوالاسجد محمد صدیق رضاصاحب  کامختصرتعارف

مناظراسلام فضیلۃ الشیخ ابوالاسجد محمد صدیق رضاصاحب  کامختصرتعارف

نام:محمد صدیق رضا

ولدیت:معین الدین بن حسن بن فرید

پیدائش :20ستمبر 1977 کوتلہار ضلع بدین میں پیدا ہوئے۔

خاندانی پس منظر:

شیخ محترم حفظہ اللہ کے گھر والے عوام بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے تھے، ابھی شیخ صاحب حفظہ اللہ کی عمر ایک سال بھی نہ تھی کہ گھر والے مستقل بدین سے کراچی شفٹ ہو گئے ۔شیخ محترم شروع میں گھر سے ملے بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔

 1993 میں تحقیق کی اور دعوت اسلامی چھوڑ کر اہل حدیث ہوگئے،اس وقت وہ آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے ۔

دینی تعلیم ;

اہل حدیث ہونے سے پہلے دینی تعلیم ناظرہ قرآن مجید تک ہی تھی ،بعدمیں مرکز اللغۃ العربیہ دو سالہ عربی لغت کورس جامعہ ابی بکر الاسلامیہ گلشن اقبال کراچی سے حاصل کی ۔

اس دوران فرقہ رجسٹرڈ جماعت المسلمین کی دعوت ملی تو ان کی دعوت سے متاثر ہوکر اس تکفیرے فرقہ میں شامل ہوگئے ۔

ایک سال رجسٹرڈ جماعت کے ہاں عربی کا معلم چار حصے اور ترجمہ قرآن مجید پڑھا مسعود احمد صاحب(بانی فرقہ مسعودیہ) سے بھی کچھ پڑھا ۔

اس دوران بھی شیخ محترم حفظہ اللہ کے بعض علماء اہل حدیث سے رابطے برقرار تھے اللہ کے فضل اور ان  علماءکی محنت کے نتیجے سے  دوبارہ  مسلک حق اہل حدیث  قبول کرلیا۔نیزرجسٹرڈ جماعت کے کافی لوگوں کو تکفیر چھڑانے میں کامیاب ہوئے۔

آج تک ان سے متعدد بار مناظرے بھی کرچکے ہیں ان کی حقیقت واضح کرنے کے لئے ان کے بارے میں کئی ایک مضامین لکھے جن میں ان کی اپنی کتب سے ان کے موقف کا کامیاب رد کیاہے۔

 اگریہ کہاجائے کی شیخنا صدیق رضاء صاحبحفظہ اللہ دور حاضر میں اس فرقہ کے بارے میں مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں  تو غلط نہ ہوگا۔

فرقہ مسعودیہ  (نام نہادجماعت المسلین) ترک کرنے کے بعد تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔

2002میں دوبارہ دینی علوم پڑھنی کا شوق پیدا ہوا  کچھ عرصہ کرچی کے مختلف مدارس(المعہدالسلفی وجامعہ دراسات)میں پڑھتے رہے ۔

فراغت پنجاب کی معروف درسگاہ مرکزالدعوۃ السلفیۃ ستیانہ بنگلہ فیصل آباد  سے حاصل کی۔

پھر تین سال مرکز التربیہ الاسلامیہ فیصل آباد میں پڑھتے رہے ۔

دنیاوی تعلیم:

میٹرک

مشہوراساتذہ:

1۔محدث العصرحافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

شیخ صدیق رضاصاحب کا  شمارمحدث العصرحافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ کے خاص تلامذہ وقریبی ساتھیوں میں ہوتاہے۔

محدث العصرحافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ شیخ صدیق صاحب حفظہ اللہ سے بڑی شفقت کرتے تھے اور انکے مضامین اپنے علمی ومنہجی مجلہ اشاعت الحدیث میں  شایع کرتے تھے اپنی زندگی ہی میں انہوں نے مجلہ اشاعت الحدیث کی مجلس ادارت میں  شیخ صدیق کانام درج کردیاتھا۔

2۔استاذالاساتذہ الشیخ عبداللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ

ان سے مکمل صحیح البخاری  پڑھی۔

3۔الشیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ

4۔الشیخ حافظ مسعود عالمحفظہ اللہ

5۔  الشیخ حافظ شریف فیصل آبادیحفظہ اللہ

6۔عالم باعمل الشیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

7۔الشیخ خالد بشیر مرجالویحفظہ اللہ

8۔الشیخ مبشر احمد ربانیحفظہ اللہ

9۔الشیخ داؤد شاکر حفظہ اللہ

10۔الشیخ مفتی حافظ سلیمحفظہ اللہ

11۔الشیخ مفتی عبدالرحمن عابدحفظہ اللہ

 تدریس:

مرکزالتربیہ فیصل آباد سے فراغت کے بعد جامعہ الدراسات الاسلامیہ گلشن اقبال کراچی میں مدرس مقرر ہوئے،پانچ سال تک وہیں پر تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

بعد  میں جمعیت اہلحدیث سندھ نے انکی خدمات حاصل کرلیں اور جماعت کے مرکزی ادارہ المھد السلفی للتعلیم والتربیہ گلستان جوہر کراچی میں مدرس مقرر کیاگیا،ایک سال تک وہیں پڑھاتے رہے، بعدازاں مبلغ اسلام شیخ توصیف الرحمن راشدی متعنا اللہ بطول حیاتہ کی دعوت پرانتظامیہ المعھدالسلفی سے رخصت لیکر ریاض سعودیہ عربیہ چلے گئے،اب وہیں پر دینی خدمات میں مصروف ہیں۔

تصانیف:

شیخ صدیق رضاصاحب جماعت کے مایہ ناز مناظر ہونے کے ساتھ ساتھایک بہترین لکھاری بھی ہیں ،کل ۶کتب لکھ چکے ہیں ان میں سے چار مطبوع ہیں اور دو غیرمطبوع۔

1مشھور واقعات اور ان کی حقیقت

یہ کتاب مکتبہ اسلامیہ فیصل آبادسے مطبوع ہے۔

2۔  امت اور شرک کا خطرہ

یہ بھی  مکتبہ اسلامیہ سے مطبوع ہے

3۔مفتی تقی عثمانی اور پیشاب سے سورہ فاتحہ لکھنے کا مسئلہ

(مطبوع)

4۔مسئلہ سکتات ورجسٹرڈ جماعت المسلمین(مطبوع)

5کچھ دیر مقلدین دیوبند کے ساتھ(غیر مطبوع )

یہ کتاب ابوبکرغازیپوری کی کتاب( کچھ دیر غیرمقلدین کے ساتھ ) کےرد میں لکھی گئی ہے۔

6۔المھندکےدفاع کاجائزہ(غیرمطبوع)

یہ کتاب الیاس گھمن  حیاتی  کی کتاب(المھند علی المفند پر اعتراضات کاجائزہ) کے تعاقب میں لکھی ہے،عنقریب چھپ کرمنصئہ شہود پر آئیگی ان شاءاللہ۔نیز یہی کتاب مجلہ دعوت اہلحدیث میں قسطوار شایع ہورہی ہے۔

 اور متعدد مضامین  محدث العصرشیخ زبیرعلی علیزئی رحمہ الله کے موقر جریدہ اشاعۃ الحدیث میں ان کے حین حیات اور بعد بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔

اسی طرح موقر جریدہ ماہنامہ دعوت اہل حدیث حیدرآباد  اور ضرب حق سرگودھا میں بھی شائع ہوئےہیں۔

مناظرے:

اس وقت شیخ محترم جماعت کے بڑے معروف مناظر ہیں،مختلف فرقوں سے متعدد مناظرے کرچکے ہیں جوکہ نیٹ پر موجودہیں،اس حوالے سےشیخ محترم ہمارے استاد ہیں الحمدللہ ۔

شیخ محترم کے مناظروں میں سے بعض کا ذکرکیے دیتے ہیں۔

♦فرقہ دیوبندیہ:

سب سے زیادہ شیخ محترم نےاسی فرقہ کے علماء سے مناظرے کیے ہیں۔بعض کے نام پیش خدمت ہیں۔

1 الیاس گھمن حیاتی

2 مفتی انور اوکاڑوی(ماسٹراوکاڑوی کے بھائی ہیں)

3 مفتی حبیب الله سندھی( شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی)

4بداللہ شاہ مظہر (جیش محمد )

5یاء پیر زادہ صاحب

6فتی عبدالواحد( استاذ الحدیث جامعہ دار الخیرگلسان جوہر کراچی)

7مفتی ضیاء الدین

8فتی ضیاء اللہ ذاکر

9ولوی عبداللہ صفدر وغیرہم ۔

♦فرقہ بریلویہ:

1ہانگیر نقشبندی

2بدالرزاق عطاری

♦فرقہ قادیانیہ:

فیصل آباد کے قادیانی امیر سے کامیاب مناظرہ ہوا۔

♦فرقہ مسعودیہ (نام نہاد جماعت المسلمین رجسٹرڈ)

 اس فرقہ کے بہت سے افراد سے مناظرے کیے ہیں۔ بعض کے نام یہ ہیں۔

1نور الامین صاحب

2اہد علی صاحب

3ارشد صاحب

4دیق حسن

5رتاض حسن

6رکت اللہ صدیقی

7اسماعیل

8امام دین قمبر علی خان

♦ منکرین عذاب قبر:

  ان کی تنظیم کے رکن شوری یعقوب علی اور جاوید اختر وغیرہ سے اسی موضوع پر  مناظرے کیے ہیں  ۔

پسندیدہ محققین:

1حدث العصر ناصر الدین البانی رحمہ اللہ

2حدث العصر الشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

3حدث العصر ارشاد الحق الاثریحفظہ اللہ

پسندیدہ خطباء:

1ضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ

2ضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالمحفظہ اللہ

پسندیدہ کتب:

1قرآن مجید

2حیح البخاری

مجموعہ دارالاسلاف سندھ (علماءوطلباءکی جماعت)کے لیےنصیحت:

ہم سب کو خلوت و جلوت میں الله تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہئے ہر معاملہ میں قرآن و سنت سے مضبوط تمسک اختیار کرنا چاہئے ۔

About محمدابراھیم ربانی

Check Also

سیدناامیرمعاوی رضی اللہ عنہ اور کتابت وحی

آج کے اس پرفتن دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بالخصوص سیدنا معاویہ بن …

جواب دیجئے