Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جنوری » ’’جھوٹ‘‘ معاشرےکا ایک مہلک مرض

’’جھوٹ‘‘ معاشرےکا ایک مہلک مرض

دین اسلام نے انسان کوآداب زندگی سکھاکر تعظیم وتکریم عطا فرمائی ہے، جن کی علم وآگہی اگرانسان میں موجودہو تو اس کی شخصیت ایسی سنجیدہ اور باوقار ہوجاتی ہے کہ جس میں اس امر کی گنجائش بھی نہیں رہتی کہ کوئی فرد کسی کی بات سنے اور اسے بلاتحقیق وتصدیق دوسروں سے بیان کرتاپھرے،رسول رحمت،صادق المصدوق uنےیہ بات بڑے وثوق سے ارشاد فرمائی ہےکہ کسی انسان کے جھوٹا ہونے کےلئےیہ کافی ہے کہ وہ کوئی بات کسی سے سن کر بغیر تصدیق کیے اسے بیان کرتا پھرے، کفی باالمرء اثما ان یحدث بکل ما سمع .(ابوداؤد۲؍۲۰۳)

ماضی کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ، افواہ سازی کی توسیع وتشہیر ہمیشہ یہودی ذہنیت کی مرہون منت رہی ہے، سیدناعیسیٰuکےخلاف پروپیگنڈہ ہو، رسول اکرمﷺ کی دعوت وحکومت میں رخنہ اندازی ہو یا پھر دورجدید کے الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا ہو، ہر جگہ اسلام دشمن یہودی ذہن وفکر کارفرمانظر آتا ہے۔

چونکہ جھوٹ معاشرہ میں نہ صرف بے اعتمادی، غیر یقینی، تشکیک کو فروغ دیتا ہے بلکہ یہ سماجی ناسور معاشرتی انتشار،ذہنی ناآسودگی اور اقوام وافراد میں عدم تحفظ اور غیریقینی کا احساس بھی پیداکرتا ہے، آج کے دور میں جہاں متعدد سماجی ومعاشرتی برائیوں اور بداخلاقیوں نے اسلامی معاشرہ کو تباہ وبرباد کررکھا ہے وہاں پر کذب بیانی، جھوٹ دروغ گوئی نے سماج انسانی کوتباہ وبرباد کرکے رکھدیا ہے ،یہ سارے مصائب زبان کے غلط استعمال کی وجہ سے نازل ہوتے ہیں، کسی نے زبان کے متعلق کیاخوب کہا ہے:

لسان الفتی نصف ونصف فوادہ

فلم یبق الاصورۃ اللحم والدم

شرعی نقطہ نگاہ سے جھوٹ بولنا، جھوٹ کو فروغ دینا، معاشرہ میں فتہ وفساد ،قتل وغارت ،لڑائی جھگڑے اور عداوت دوشمنی میں سب سے نمایاں گناہ گناجاتاہے۔ بے بنیاد ،من گھڑت جھوٹی باتیں پھیلانا نہ صرف دنیوی اعتبارسے بلکہ اخروی کے اعتبار سے بھی ایک قابل مذمت گھناؤنا، گھٹیا اور اخلاقی اعتبار سے زہر ہلاہل سےکسی طرح کم نہیں، جھوٹی باتیں، خواہ حکومت کے خلاف ہوں، جماعتوں اور تنظیموں کےخلاف ہوں یا کسی ادارے کسی قوم وفرد کے خلاف ہوں مگر آخرت میںبھی اس سنگین گناہ کی پاداش میں سخت ترین سزا بھگتنی پڑے گی، ایسے جرائم بعض اوقات پوری قوم کے لئےہمیشہ شرمندگی اور ندامت کا باعث بنتے ہیں جن کے سنگین نتائج آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنے پڑتے ہیں، قرآن عظیم میں واضح ارشاد گرامی ہے کہ:

[فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ۝۳۰ۙ](الحج:۳۰)سوبچے رہو بتوں کی گندگی سے اور بچے رہو جھوٹی بات کہنے سے۔

ایک جگہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم کو کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ بتاؤں؟ آپ نے یہ جملہ تین بار کہا،ہم نے عرض کیا بتلایئے یارسول اللہ!آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانااور والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے پھرآپﷺ بیٹھ گئے اور آپﷺ نے فرمایا:خبردار! اور جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا،خبرداراور جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، آپﷺ برابر ہی ارشاد فرماتے رہے حتی کہ میں سمجھا کہ اب آپ خاموش نہ ہونگے۔(بخاری:5976مسلم وترمذی)

اخلاقی لحاظ سے دیکھاجائے توبھی، جھوٹ دروغ گوئی ،کذب بیانی انسان کے سارے اخلاق بدمیں سرفہرست شمارہوتا ہے، جھوٹ خواہ زبان سے بولاجائے، قلم سے لکھاجائے،یا عمل سے ظاہر کیاجائے انتہائی قابل حقارت ،قبیح اور لائق مذمت ہے، صد افسوس!آج کل جھوٹ ہماری زندگی میں خون کی طرح سرایت کررہا ہے، چھٹکارہ مشکل ہی نظر آتا ہے،چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے ،قول وفعل سے جھوٹ ہی جھوٹ جھلکتا ہوا نظرآتا ہے، بدقسمتی سے اس کا رواج اتنا عام ہوگیا ہے کہ اب ہم اس کو ناجائز گناہ بھی تصور نہیں کرتے، بلکہ اب ایک جملہ یہ کہہ کر جان خلاصی کرنے کی کوشش کرتے ہیںکہ کیاکریں مجبوری ہے!ہم لوگ باقاعدہ طنز ومزاح میں اٹھتے بیٹھتے ہوئے، جھوٹ کی ورزش جاری رکھتے ہیں جبکہ رسول اللہ ﷺنے ساری زندگی خوش طبعی کی باتیں کرتے ہوئے بھی کہیں اور کبھی ایسامذاق نہ فرمایا جوخلاف حقیقت ہو، ایک صحابیہ نے بچے کو بِھلانے کی خاطر کہابیٹے!یہاںآؤمیں تمہیں چیزدوں گی آپ نے پوچھا کہ تم کیاکروگی تو اس نے جواب دیا کہ یارسول اللہ ﷺ! میراکھجور دینے کا ارادہ ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارا کھجور دینے کا ارادہ نہ ہوتا توتمہارے نامہ اعمال میں یہ جھوٹ لکھ دیاجاتا۔

(سنن ابوداؤد:4991)

سیدنا عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ تم ہمیشہ سچ بولو، اس لئے کہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے پاس صدیق لکھ دیاجاتا ہے اور تم جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے ،جھوٹ کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ’’کذاب‘‘ لکھ دیاجاتاہے۔ (مسلم:2607)

قرآن عظیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :[اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللہِ۝۰ۘ وَاللہُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُہٗ۝۰ۭ وَاللہُ يَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ۝۱ۚ ]

(المنافقون:۱)

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ:

یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں،ا ن کے دعوے صرف زبانی دعوے ہیں عقیدہ کے لحاظ سے دل ودماغ سے آپﷺ کو رسول نہیں مانتے ،جبکہ اندر سے ان کا دل آپ کی تعلیمات عالیہ سےخالی ہے، حقیقت بیانی اور صداقت ان کے قریب سے بھی نہیں گزری ورنہ ان کے قول وفعل میں تضاد نہ ہوتا چونکہ صداقت کی آواز نمایاںہوتی ہے:

ہزار خوف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق

یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

(اقبال)

ایک سچا اور صالح مسلمان جھوٹ سے یوں گریزکرتا ہے جیسے غلاظت کےڈھیر سے،چونکہ ایک مؤمن کوہمیشہ جھوٹ سے نفرت وحقارت ہوجاتی ہے جیسے کسی غلاظت کے تعفن سے صالح الفطرت انسان کو گِھن آتی ہے جھوٹ سے کوسوں دوربھاگتا ہے اور نفرت کرتا ہے، پھر جھوٹ زندگی بھر سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوجاتا ہے چونکہ جھوٹ ہوتا ہی مٹنے کے لئے ہے، باقی جولوگ دنیاوی اغراض ومفادات اور مجبوریوں کے باعث جھوٹ کوجائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ دراصل علماء یہود کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں چونکہ جھوٹ ایک اخلاقی پلیدی سے کسی طرح کم نہیں، اس نجس سے ہر صورت نجات حاصل کرنی ہوتی ہے ورنہ

توبہ تو کرچکاہوں مگر پھر بھی اسے عدمؔ

تھوڑا سا زہر لاکے طبعیت اداس ہے

سیدنا ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو(رحمت خداوندی) کے فرشتے اس سے میل بھردور ہوجاتے ہیں اس بدبوکی وجہ سے جوجھوٹ کے باعث پیدا ہوتی ہے۔(سنن ترمذی:1972)

یعنی جس طرح راستہ چلتے ہمیشہ بول وبراز سے بچتے ہوئے نجاست وپلیدی سے حتی المقدور دامن بچاتے ہواسی طرح سلیم الفطرت لوگ ہمیشہ جھوٹ سے دامن بچاکر زندگی پاکیزہ گزارتے ہیں، مقام عبرت ہے کہ ایک جھوٹ بولنے سے رحمت کے فرشتے جھوٹے آدمی سے میلوں بھر دور ہوجاتےہیں، اب ہم کو اپناگریبان دیکھناچاہیے کے ہمارے روز مرہ کے ماحول میں محلوں،گلیوں،بازاروں،اداروں،آفیسوں گزرگاہوں ،شاہراہوں میں جھوٹ کی بادمسموم کس طرح ہولناک انداز میں چل رہی ہے،گفت وشنید،لین دین،بیع وشراءمیں دروغ گوئی ،دھوکہ فریب،ملمع سازی کی شب تاریک چھائی ہوئی نظر آتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنی نظر کرم کرے۔

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی

میرے جرم خانہ خراب کو تیرے عفو بندہ نواز میں

جس ملک وقوم کا اخلاقی تمدنی، معیشتی ،معاشرتی ،قانونی اور اقتصادی نظام جھوٹ میں جکڑا ہوا ہو، اس حال میں رحمت کے فرشتے کتنے کوسوں ہم سے دور رہتے ہونگے؟ جہاں پورا نظام زندگی جھوٹ سے وابستہ ہو وہاں سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کیسے اٹھ جائے گی

شب کی آہیں بھی گئیں

صبح کے نالے بھی گئے

دغا،دجل، فریب ومکر دروغ کی نحوست کے سبب ہمارے پورے ماحول سے رحمت خداوندی روٹھ چکی ہے، پھر آپس کے اختلافات، دشمنیاں،قتل وغارت ،بے رحمی ،وشقاوت قلبی کے سبب زبانوں کی شیرینی، چھوٹے بڑوں کاادب واحترام، دعاؤں کی استجابت، صنعت حرفت، زراعت ،باغ بانی، معاشیات واقتصادیات کی برکتیں بند ہوکر ابررحمت نے بابرکت بارش تک بند کردی چونکہ اس میں کوئی شائبہ نہیں کہ رحمت باراں کی رک جانے کا سبب ہمارا بے دریغ جھوٹ ہی ہے، جس کے باعث ہر چیز سے برکت ،رحمت کی روح پرواز کرچکی، کاش یہ سب کچھ معدوم ہونے سے قدرے قبل ایک بار پھر ہم جھوٹ ہمیشہ مٹانے کی کوشش کریں، مردعورت ،بچے بوڑھےاور نوجوان ہمیشہ جھوٹ بولنے سے باز آجائیں اوراپنی زبان کی آفتوں سے پورے معاشرہ کو تباہ وبرباد کرنے سے ہم احتراز کریں

اے چشم اشک بار ذرہ دیکھ تو سہی

یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو

سیدنا صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے دریافت کیا کہ(حضور) کیا مسلمان ڈرپوک ہوسکتا ہے آپﷺ نے فرمایا:ہاں! پھر فرمایا: کیا مسلمان بخیل ہوسکتا ہے؟آپﷺ نے فرمایا:ہاں! لیکن جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ(حضور) کیا مسلمان بھی کذاب دروغ گوہوسکتا ہے توآپﷺ نے فرمایا:ہرگزنہیں۔

(مؤطا امام مالک)

یعنی بزدلی اور بخیلی مسلمان کے لئے کمزوری اور سستی کاباعث تو بن سکتی ہے لیکن جھوٹ کی ہلاکت آفرینی سے پورے اسلام کی عمارت دھڑام سے زمین پر آگرتی ہے،درخت اپنے پھل سے پہچاناجاتا ہے، جب کے ہمارے اسلام کے درخت کی ٹہنیاں،پتے، جھوٹ، فریب، دروغ،دجل ودھوکہ کے مہلک گند سے زہرآلودہ ہوگئے ہو توپھر کون سی طاقت ہمیں نظر عنایت وعفو سے نوازے گی۔

فناہوجاجھلک اٹھے گا سینہ شمع عرفان سے

ابھی تو دل کے آئینے پے غافل داغ ہستی ہے

اللہ تعالیٰ کاارشاد گرامی ہے:[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاۗءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ۝۰ۚ](النساء:۱۳۵)

یعنی مسلمانوں اللہ کے واسطے سچی گواہی دینے کے لئے تیار رہو (پھر ماں،باپ،بہن بھائی، اولاد ،بیوی،رشتہ داراور دوست ہی کیوں نہ ہوں۔

مزیدارشاد باری تعالی ہے:[وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِـيْمٌۢ۝۰ۥۙ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ۝۱۰](البقرۃ:۱۰)

اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دردناک عذاب دیاجائے گا۔(الامان والحفیظ)

جھوٹ اکبرالکبائر گناہوں میں ایک گناہ ہے ویسے بھی جھوٹ بولنا اخلاقی نقطہ نگاہ سے بھی ایک گھٹیاحرکت ہےسورۂ حجرات میں امت مسلمہ کی اجتماعی اور شاندار ستہری زندگی کےلئے ایک جامع ضابطہ حیات پیش کیا گیا ہے، اس سورہ مبارکہ میں تمام اخلاقی برائیوں سے بچنے کی پرزور انداز میں تاکید کی گئی ہے مثلاً ایک دوسرے کا بے جامذاق اڑانا، طعن وتشنیع کرنا، لوگوں پر پھبتیاں کسنا،ان کے خلاف بدگمانیاں پیداکرنا، لوگوں کی غیبت کرنا، عیب جوئی کرنا، منافرت پھیلانا، حسد کرنا ،تعصب پرابھارنا، باہمی رنجشیں پیداکرنا، تجسس کرنا، وغیرہ جبکہ اسلام ہمیشہ مثبت رویہ کافروغ دینے کی تاکید کرتا ہے جس میں سب سے پہلے صدق بیانی، امانت، دیانت، باہمی اخلاص ،محبت ویگانیت،اعتماد واعتدال کی پرزور الفاظ میں تاکید کرتا ہے، ہمارے علماء ،عظام، مشائخ کرام، اساتذہ ،طلباء ہماری ملکی اور ملی صحافت پر بھی بھاری بھرذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کاش وہ اس فریضہ کااحساس کرکے امت مسلمہ پراحسان فرمائیں اور اکابرین امت صحافی حضرات،خطیب وداعی ،اصحاب علم وفضل آیات قرآنی اور احادیث نبوی کی روشنی میں ایک ایساضابطہ اخلاق مرتب کریں جس سے جھوٹ کی بیخ کنی ہوسکے اور صداقت ودیانت کی بادصبامعاشرہ کوامن وسلامتی کا گہوارہ بنائے۔

اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ تازامیت جھوٹ کی ہلاکتوں سے بچے رہیں اور جھوٹ نہ بولیں، جھوٹی قسم نہ اٹھائیں، جھوٹی گواہی نہ دیں تاکہ قرب الٰہی کا ذریعہ بن کر زبان کی خباثتوں سے ہمیشہ مامون ومحفوظ رہیں، اخلاقی لحاظ سے بلند مرتبہ حاصل کریں۔

پاک رکھ اپنی زبان تلمیذ رحمانی سے تو

ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو

About پروفیسر مولابخش محمدی

پروفیسر مولابخش محمدی،مٹھی تھرپارکر

Check Also

طمانیت قلب

ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ مسّرت و شادمانی کا تعلق بیرونی نہیں بلکہ اندرونی …

جواب دیجئے