پانی کی نعمت

خطبہ مسنونہ کے بعد:

اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہم سب پر بڑے احسانات اور بڑے انعامات ہیں بڑی نعمتیں ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی ،ہر نعمت بڑی نعمت ہے کوئی نعمت چھوٹی اور حقیر نہیں ہے ان ہی نعمتوں میں سے ایک نعمت پانی ہے،اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، انسان کے بےشمار معاملات پانی سے حل ہوتے ہیں انسان کو قدم قدم پر پانی کی ضرورت پڑتی ہےپانی کے بغیر انسان کے لئے شاید زندہ رہنا بھی ناممکن ہوجائے اور زندگی کے معاملات حل کرنا دشوار ہوجائیں تومعلوم ہوا کہ پانی اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور وطن عزیز پاکستان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس نعمت سے خوب نوازا ہے پانی وافر مقدار میں موجود ہے لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم اس پانی کی حفاظت کریں  پانی کو ضائع نہ کریں جتنی بڑی یہ نعمت ہے وہی حیثیت اس پانی کو دی جائے اور اس پانی کی حفاظت کی جائے اور اسے احتیاط سے استعمال کیا جائے لیکن مشاہدہ یہ ہےکہ جتنا احتیاط سے پانی کو استعمال کرنا چاہئے تھا اتنی ہی پانی کو استعمال کرنے کے حوالے سے بے احتیاطی برتی جاتی ہے یہ کسی ایک گھر کامعاملہ نہیں ہے یہ بے احتیاطی برتنا کسی گھر کامعاملہ نہیں ہے کسی محلے کا معاملہ نہیں ہے ملکی سطح پر یہی ہورہا ہے کوی پائپ لائن پھٹ جائے تو کئی دن تک اس کا تدارک نہیں کیاجاتا نہ حکومت کے کان پر جوں رینگتی ہے اور نہ ہی اس معاملے کو عوام سنجیدگی سے لیتے ہیں وہ لائن پھٹی ہوئی ہے پانی ضایع ہورہا ہے ہوتا رہے  اور نعمت کتنی بڑی ہے انسان کی ضروریات اس پانی کے ساتھ کس طرح جڑی ہوئی ہیں اس طرف دھیان نہیں ہے اسی طرح گھر میں اگر کوئی نلکا لیک ہوجائے کوئی ٹیونٹی خراب ہوجائے اور پانی گرنے لگ جائے کئی کئی دنوں تک کوئی خیال نہیں ہوتا کہ یہ پانی ضایع ہورہا ہے اس کا کوئی تدارک کیا جائے یہاں تک کہ وہ پانی جو اس ٹیونٹی سے گررہا ہے اس کا کوئی تدارک کیا جائے یہاں تک کہ وہ پانی جو اس ٹیونٹی سے گررہا ہے چاہے وہ کم گررہا ہے اس کے گرنے سے فرش پر نشان پڑجائے بھلے پڑجائے لیکن ہم اس کا تدارک کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے یہ ہیں پانی کو ضایع کرنے کے ہمارے طریقے اسی طرح ہم نہانے کے لئے جاتے ہیںکافی دیر تک نہاتے رہتے ہیں اور پانی ضایع کرتے رہتے ہیں ، شریعت اس چیز کی اجازت نہیں دیتی پانی استعمال کریں اس قدر جس قدر سے ضرورت پوری ہوجائے اضافی پانی ضایع کرنے کی شریعت اجازت نہیں دیتی اسی طرح گاڑی دھونی ہوکاکچن دھونا ہوتوکئی لاکھ گیلن پانی ہم ضایع کردیتے ہیں یہ من حیث القوم کی میں بات کررہاہوں من حیث القوم ،ہمارا مزاج ہماری طبیعت یہی بن گئی ہے تو کہنے کامطلب میرے بھائی یہ ہے کہ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اس نعمت کی اہمیت کو ذہن میں رکھ کر اس کے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر استعمال کرنی چاہئے ،عوام الناس کو بھی اور حکومت کو بھی جو آبی ماہرین ہیں انہوں نے باقاعدہ حساب لگایا ہے کہ دوہزار تیس تک ہماری جو آبادی ہےوطن عزیز پاکستان کی وہ پچاس کروڑنفوس سے تجاوز کرجائے گی اس وقت جو ہماری پانی کی طلب ہوگی وہ ستائیس کروڑ تیس لاکھ ایکڑ فٹ ہوگی اور ہمیں جو پانی دستیاب ہوگا وہ انیس کروڑ تیس لاکھ ایکٹر فٹ ہوگا اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ ہماری آبادی زیادہ ہوگی اور پانی کی ہمیں جوفراہمی ہوگی وہ کم ہوگی یہ کونسے سال کی بات ہے دوہزار تیس یہ کونسا شروع ہوا ہے دوہزار سترہ،کتنے سال باقی ہیں؟اندازہ لگائیں کہ پانی کا معاملہ ہمارے ساتھ کس طرح ہوتاجارہا ہے اور بنتا جارہا ہے وہ پانی جو وافرمقدار میں ہمیں دستیاب تھا ہم نے پانی کی قدر نہیں کی اور معاملہ کیابنتاجارہا ہے کہ ہمارے نفوس،ہماری آبادی کی تعداد بڑھتی جارہی ہے پانی کی طلب ہماری بڑھتی جارہی ہے اورپانی کی فراہمی کم ہوتی جارہی ہے ایسا کیوں ہورہاہےاس لئے کہ ہم نے پانی کی قدر نہیں کی ہم پانی ضایع کرنے پرتلے ہوئے ہیں لہذا جس نعمت کی قدر نہیں کی جاتی وہ آہستہ آہستہ چھین لی جاتی ہے :[ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ] (ابراھیم:۷)اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ تم جس نعمت کی قدر کروگے میں وہ بڑھاچڑھا کر تمہیں دونگا اس کے برعکس جس نعمت کی قدر نہیں کی وہ چھین لی جائے گی۔لہذا مستقبل کو دیکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں پانی کی حفاظت کے حوالے سے اقدام کیے جائیں۔

پانی کی حفاظت کے لئےچند علمی اقدام اورتدابیر

سب سے پہلے نمبر پر جنتا ہوسکے ہم ڈیم بنائیں جتنا ہوسکے ہمارا ازلی دشمن بھارت ڈیم پر ڈیم بنائے جارہا ہے اس نے کشمیر کے علاقہ میں کتنے ڈیم بنائے ذراتاریخ کا مطالعہ کرکے تودیکھیں اور ہم کالاباغ اور سفیدباغ کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں ،نہیں بنادیں گے، نہیں بنانے دیں گے ،اللہ کے بندو!یہ اگربنے گا فائدہ کس کو ہوگا پاکستان کو ہوگا یہ ہم سب کا وطن ہے،یہ ہم سب کا پیارا ملک ہے ہاں!جو جس کے تحفظات ہیں وہ بیٹھ کر دور کیے جائیں لیکن جیسے ہی ڈیم بنانے کی بات آتی ہے ایک صوبہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے نہیں بنانے دیں گے ،نہیں بنانے دیں گے،ہم اس چکر میں پڑے ہوئے ہیں اور وہاں ڈیم پرڈیم بنائے جارہے ہیں ۔

دوسرے نمبر پر جوبارش ہوتی ہے ،بارش کا جوپانی ہےاس کی حفاظت کے لئے باقاعدہ ڈیم بنائے جائیں ،مستقبل کا معاملہ بڑا ہی گھمبیر ہے پانی کے حوالے سے ،ڈیم بناکر چاہے یہ دریائی پانی ہو ،چاہے بارش کا پانی ہو اس کی حفاظت کی جائے۔

اور تیسرے نمبر پر عوام الناس کی باقاعدہ تربیت کی جائے ،اس طرح کے پروگرام چلائے جائیں کہ عوام پانی کی اہمیت کو سمجھیں اور پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں پانی ضایع نہ کریںیہ انتہائی ضروری اقدامات ہیں،عوام الناس میں یہ شعور بیدار کیاجائے کہ پانی ضایع نہ کریں ہر سطح پر گھر کی سطح پر، شہر کی سطح پر، ملکی سطح پر عوام الناس میں یہ شعور پیدا کیاجائے کہ پانی ضایع نہ کریں اور پانی کے استعمال میں کفایت ،قناعت کریں، اس لئے بھی کہ اللہ کے نبیﷺ نے پانی استعمال کرنے کے حوالے سے کتنی قناعت اور کتنی کفایت سے کام لیا ہے ،احادیث میں یہ بات بدرجہ اتم موجود ہے ،(صحیح بخاری:201 صحیح مسلم:325)صحابی کہتے ہیں کہ:’’کان رسول اللہ ﷺ یتوضأ بالمد ویغتسل بالصاع‘‘ کہ اللہ کے نبیﷺ ایک پاؤ پانی سے وضو کرلیتے تھے اور ڈھائی کلوپانی سے غسل کرلیتے تھے۔ اللہ کے نبی ﷺ کی اس حدیث سے کیا درس ملتا ہے،کفایت شعاری، یعنی پانی ضایع نہ ہو،پانی اتنااستعمال ہو جتنا ضرورت ہے اس سے زیادہ نہیں یہ اللہ کے نبی ﷺ کی سنت ہے،آج ہم دیکھیں وضوکرتے وقت ہم کتنا پانی ضایع کرتے ہیں،کتنے کلو ضایع کرتے ہیں اور ادھر ہمارےپیارے پیغمبر ﷺ ایک پاؤ پانی سے وضو کرلیتے تھے ،کہاں اللہ کے نبی ﷺ کی سنت اور کہاں ہمارا طرز عمل!؟کیا اللہ کے نبیﷺ کی سنت کی پیروی اور استعمال ان کاموںمیں ہے جو کام ہمارے مزاج کے مطابق ہیں بس۔نہیں میرے بھائی ہر کام میں ،ہر معاملے میں پیارے پیغمبر ﷺ کی سنت کی اتباع ضروری ہے،ڈھائی کلو پانی سے اللہ کے نبیﷺ غسل کرتے تھے اور ہم غسل کرتے وقت کتنا پانی ضایع کرتے ہیں، کوئی حساب ہے؟ کوئی حد ہے پانی استعمال کرنے کی؟ اور ادھر ہمارے پیغمبر ﷺ کی باقاعدہ ایک حد مقرر ہے کہ ایک پاؤپانی سے وضواورڈھائی کلوپانی سے غسل محمد رسول اللہ ﷺ کررہے ہیں ۔

سنن نسائی کی حدیث ہے صحابی کہتے ہیں کہ :’’أن رسول اللہ ﷺ توضأ بماء قدر ثلثی المد‘‘(نسائی:74ابوداؤد:94)

کہ اللہ کے نبیﷺ نے ایک بار وضوکیا کتنے پانی سے؟صحابی بتارہے ہیں کہ ایک پاؤپانی کے تین حصے کریں دوحصے الگ ایک حصہ الگ ،جودوحصے ہیں ان دوحصوں سے محمدرسول اللہ ﷺ نے وضوکیا۔ایک پاؤ پانی کو بھی تقسیم کریں ایک پانی کے تین حصے کریں ایک حصہ الگ دوحصے ایک ساتھ ،جودوحصہ ہیں ،دوتہائی جس کو بولتے ہیں،ایک پاؤ پانی کی دوتہائی،اللہ کے نبی ﷺ نے اس سے وضو کیا۔ پہلی حدیث سےکیاپتاچلاایک پاؤ پانی سے دوسری سے کیا پتہ چلا ایک پاؤ پانی سے بھی کم۔ کس طرح کیا صحابی خود آگے بیان فرماتے ہیں:

انہ ﷺ غسل ذراعیہ وجعل  یدلک ھما.(نسائی:74)

کہ اللہ کے نبیﷺ نے ایک پانی کی دوتہائی پانی سے کس طرح وضو کیا کہ آپ نے اپنے بازوپرپانی ٹپکایا،رکھا ’وجعل یدلک ھما‘ ملتے جارہے تھےتاکہ تھوڑا ساپانی استعمال ہو اور اعضائے وضودھل جائیں یہ کون ہیں محمدرسول اللہﷺ۔کیادرس دے رہے ہیں؟احتیاط سےپانی استعمال کریں وضوکرکے دکھارہے ہیں اپنی امت کو آج ہم ٹونٹی کھول پانی گررہاہے ہمیں کوئی پروانہیں پانی جتنا ضایع ہو ،کئی کلوپانی ضایع ہو جاتاہے، ہمارے وضو میں، محمدرسول اللہ ﷺ ایک پاؤ پانی کے جو دوثلث ہیں دوتہائی اس سے وضو کرکے دکھارہےہیں اپنی امت کو،ہم اس طرح نہیں کرسکتے،نیچے ہاتھ رکھیں ٹیوٹنی کھولیںتھوڑا سا پانی لیکر ٹونٹی بندکردیں وہ چہرے پرڈالیں اور پھر چہرے کو اچھی طرح ملیں اسی طرح دوسری بار کریں پانی لیکر ٹونٹی بند کردیں پھر اپنے بازو پر وہ پانی گرائیں اور اچھی طرح ملیں دیکھیں کہ اللہ کے نبیﷺ کی سنت پر کس طرح عمل ہوتا ہے،آزماکر دیکھ لیں اس پانی کو بھی آپ زیادہ محسوس کریں گے ،میں نےخودایک بار نہیں کئی بازر آزمایا ہے ،اللہ کی نبیﷺ کی یہ سنت بالکل برحق اور سچ ہے ہم عمل کرنے والے بنیں، ہم بات کو سمجھنے والے بنیں، یہ بات یہ معاملہ کوئی ہلکا نہیں ہےمیرے بھائی اللہ کے نبیﷺ یہ طریقہ دیکر گئے ہیں،یہ اسوہ دیکر گئے ہیں،یہ سنت دیکر گئے ہیں،جس طرح ہم ایک لوٹے سے وضو کرتےہیں ٹونٹی سے اس طرح نہیں کرسکتے؟کیالوٹے کوکھولناپڑتا ہے نہیں انڈیلناںپڑتا ہے، انڈیل کر پانی لیتے ہیںپھر ہم لوٹا رکھ دیتےہیں کیا ٹونٹی پر ہم اس طرح وضونہیں کرسکتے یہ تصور کرلیں کہ ہمارے سامنے ٹونٹی نہیں لوٹا ہے،اس تصور سے ہم اللہ کےنبی ﷺ کے طریقۂ وضوء کو اختیار کرسکتے ہیں ورنہ اگر ٹونٹی کھول دی پانی بہہ رہا ہے توپھر پانی ضایع کریں گے اور کچھ نہیںہوگااور اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے اور سنت سےد ور ہوتے چلے جائیں گے!

سنن نسائی میں حدیث موجود ہے ایک دیہاتی اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہواوضوکے بارے میں پوچھااللہ کے نبی ﷺ نے اس کاسوال سنا ’’فاراہ الوضوء ثلاثاثلاثاثم قال من زاد علی ہذا فقد اساء وتعدی وظلم‘‘

(ابوداؤد:135نسائی:1401ابن ماجہ:4221)

فرمایا کہ آؤ!میں تمہیں وضوکرکے دکھاتاہوںکون فرمارہےہیں؟ محمدرسول اللہﷺ ۔اللہ کے نبی ﷺ نے اعضاء وضوکو تین تین بار دھویا ،تین بار ہاتھ ،تین بار کلی،تین بارناک میں پانی ڈالا،تین بار چہرہ دھویا،تین باربازو،ایک بار سرکامسح دیگراحادیث میں موجود ہے،اور تین بار پاؤں دھوئے اس کے بعد فرمایا یہی وضو ہے جس نے اس سے زیادہ کیا اس نے براکیا زیادتی کی اور ظلم کیا ۔یہ کس کے الفاظ ہیں محمد رسول اللہ ﷺ کے ، ہم دیکھیں ہماراکوئی حساب ہے اعضائے وضو کو دھونے کا؟کوئی حساب نہیں،آزماکر دیکھ لیں ٹونٹی کھلی ہوئی ہے ہم نے ٹونٹی کے نیچے بازوکورکھاہواہےپتہ چلے گا کہ ہم کتنی بار دھورہے ہیں،گِناکیسے جائے گاکہ ٹونٹی بندہوپانی لیں ایک بار بازو پر گرائیں یہ ایک بار ہوگیا پھر دوسری بار پانی لیں پھر ٹونٹی بند کریں پھر بازوپرگرائیں یہ دوسری بار ہوگیا پھر تیسری بار پانی لیں پھر ٹونٹی بند کریں پھر بازو پرگرائیں اسی طرح چہرے پر ،جب ہم ان مرتبوں کو گن سکتے ہیں ،ایک بار دوسری بار تیسری بار، باقی ٹونٹی کھلی ہوئی ہے پاؤں نیچے رکھاہواہے ،بازونیچے رکھاہوا ہے کوئی پتہ نہیں چلے گا ہم کتنی بار دھو رہے ہیں ،بازو کواورپاؤںکو۔اورادھر اللہ کے نبی ﷺ کیافرمارہے ہیں : ’’من زاد علی ہذا فقد اساء وتعدی وظلم‘‘ جس نے تین بار سےز یادہ اعضائے وضوکودھویا اس نے برا کیا اس نے زیادتی کی اس نے ظلم کیا۔ اندازہ لگائیں کہ کس طرح پیارے پیغمبر ﷺنے اپنی امت کو احتیاط کا درس دیا ہے،کفایت شعاری کا درس دیا ہے، قناعت کا درس دیا ہے، ہم سنجیدہ ہیں پیارے پیغمبر ﷺ کے اس درس کو سمجھنےکے حوالے سے،کتناہماراشوق ہے،کتناذوق ہے اس درس کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونےکا۔

 سنن نسائی کی حدیث ہے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ وضوکررہےہیں، مر رسول اللہ ﷺ بسعد وھویتوضا .سعد رضی اللہ عنہ وضوکررہے تھے اللہ کے نبی ﷺ ان کے قریب سے گزرے ،اندازہ کریں کہ اللہ کے نبی ﷺ کس طرح اپنی امت پر نظر رکھتےتھے ،سعد رضی اللہ عنہ پرنظرپڑی اللہ کے نبیﷺ جووہاں سے چل رہے تھے گزرہے تھے ،پیارے پیغمبر ﷺ رک گئے اور سعد رضی اللہ عنہ کومخاطب کرکے فرمایا:’’یا سعد ماہذا السرف‘‘کہ سعد یہ اسراف! تم اتناپانی ضایع کررہے ہو،یہ اسراف سعد رضی اللہ عنہ کے وہم وگمان بھی نہیں تھا کہ وضومیں بھی پانی ضایع ہوتا ہے، وضومیں میں اسراف ہوتا ہے ،ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ،وہ حیران ہوگئے اور اللہ کے نبی ﷺ سےکہنے لگے ’’فی الوضوء سرف‘‘ اللہ کے نبی ﷺ کیاوضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:نعم وان کنت علی نہر جار(ابن ماجہ:425، مسند احمد: 2065) ہاںوضومیں بھی اسراف ،فضول خرچی ہے اس کا بھی گناہ ہے بھلے تم بہنے والی نہر پر بھی بیٹھ کر وضوکررہے ہو،وہاں پر بھی اسراف کا معاملہ ہے ،ابھی تو تم برتن سے وضوکررہے ہوناجس میں محدود پانی ہوتا ہے تم بہنے والی نہر کےکنارے پربیٹھ کر بھی وضو کرووہاں پر بھی اسراف کامعاملہ ہوگا۔وہاں پر بھی کیسے اسراف کامعاملہ ہوگا؟وہاں کیاپانی ضایع ہوگا ؟آدمی نہر کےکنارے بیٹھ کر وضو کرنے لگ جائے اور ذہن میں یہ ہو کہ یہ تونہر بہہ رہی ہے لہذا میں جتنی بار چاہوں اعضائے وضودھولوں، اب اگر اس نے نہر پر بیٹھ کر اس خیال سے کہ پانی ضایع نہیں ہوگا تین سے زیادہ باراعضائے وضوکودھویاتوسمجھواس نے اسراف کیاحالانکہ پانی ضایع نہیں ہوگا لیکن نہر پربیٹھ کر پانی ضایع ہونےکا کیامطلب؟ کہ شریعت نے حدمقرر کی کہ تین بار سے زیادہ نہیں،وہ آدمی نہر پر بیٹھ کر اس سوچ سے کہ یہاں میں جتنا چاہوں پانی استعمال کروںپانی ضایع نہیںہوگا ،تین سے زیادہ بار اعضائے وضوکودھویا تو اس نے اسراف کیا،یہ اللہ کے نبی ﷺ کی تعلیم ہے اندازہ کریں کہ معاملہ کہاپہنچتا ہے، پیارے پیغمبر ﷺ اپنے صحابی کو تعلیم دے رہے ہیں ،صحابی کی تربیت کررہے ہیں کہ وضو میں بھی پانی کم خرچ کریں وضوکرتے وقت بھی پانی ضایع نہ کریں یہ اللہ کےنبی ﷺ کی اپنے صحابی کو تربیت ہے اور تعلیم ہے تومیرے بھائیو!یہ تمام باتیں یہ تمام احادیث ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ ہماری پوری زندگی کفایت شعاری میں بسر ہو ،قناعت میں بسر ہو اور پانی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اس کو احتیاط سے استعمال کریں جیسا کہ میں نے شروع میںبتا یا کہ پانی کامعاملہ آئندہ سالوں میں بڑا ہی گھمبیر بننے والاہے خصوصی طور پر ہمارا جوازلی دشمن ہے بھارت اس کے متعلق بعض دانشور کہہ رہے ہیں کہ آئندہ اگر بھارت کے ساتھ کوئی جنگ ہوئی تو وہ کسی کشمیر وغیرہ کےمسئلے پر نہیں ہوگی ،کس طریقے سے وہ اقدامات اٹھارہا ہے ہمارا پانی …….اور شریعت کی حیثیت سے بھی اگر دیکھیں اس سے بھی ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ پانی احتیاط سے استعمال کریں،پانی ضایع نہ کریں اور جوملکی حالات ہیں اس حساب سے بھی دیکھیں تو ہمیںیہی پیغام ملتا ہے کہ پانی ضایع نہ کریں پانی احتیاط سے استعمال کریں توخلاصہ میرےبھائیو!یہی ہے کہ اپنی پوری زندگی میںکفایت شعاری اپنائیں ،قناعت اپنائیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی جو نعمتیں ہیں ان کی قدر کرناسیکھیں اگر یہی طریقہ ہم نے اختیار کرلیا تو پھر ہمارے لئے سراسر خیر ہے اور بھلائی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا کہ قرآن اور حدیث کی ان باتوں کو سمجھنے کی توفیق عطافرمائے ،اپنانے کی توفیق عطافرمائے اور دوسرےلوگوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے، وآخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین .

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

پاکستان زندہ آباد

فضیلۃ الشيخ ذوالفقار علی طاہرر رحمہ اللہ کی یوم آزادی کی مناسبت سے لکھی ہوئی …

جواب دیجئے