Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جنوری » المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

قسط نمبر : 9

(۲) عبداللہ بن ابراھیم الغفاری:ثنا عبدالرحمٰن بن زید(بن أسلم) عن أبیہ عن ابن عمررضی اللہ عنہ عن النبیﷺ کی سند سے مروی ہےکہ’’من زار قبری حلت لہ شفاعتی‘‘جس نے میری قبر کی زیارت کی (تو) اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوگئی۔(کشف الاستار عن زوائد مسند البزار۲؍۵۷ ح۱۱۹۸،شفاء السقام ،ص:۱۰۴)

یہ روایت دووجہ سے موضوع ہے:

اول: ابومحمد عبداللہ بن ابراھیم بن ابی عمروالغفاری کےبارے میں حافظ ابن حجر نے فرمایا:’’متروک ونسبہ ابن حبان إلی الوضع ‘‘متروک ہے اور ابن حبان نے بتایا کہ وہ (حدیثیں) وضع کرتا تھا۔(تقریب التہذیب :۳۱۹۹)

حافظ ابن حبان نے فرمایا:’’کان یأتی عن الثقات المقلوبات وعن الضعفاء الملزقات ‘‘وہ ثقہ راویوں سے مقلوب (الٹ پلٹ) روایتیں اور ضعیف راویوں سے چسپاں شدہ (موضوع) روایتیں بیان کرتاتھا۔

(کتاب المجروحین لابن حبان ۲؍۳۷،دوسرانسخہ ۱؍۵۳۱)

اس عبارت کامطلب ہے کہ’’أنہ یضع الحدیث‘‘ وہ حدیثیں وضع کرتا یعنی گھڑتا تھا۔(دیکھئے تہذیب الکمال للمزی ۴؍۸۱)

حاکم نیشاپوری نے کہا:’’یروی عن جماعۃ من الضعفاء أحادیث موضوعۃ ،لا یرویھا عنھم غیرہ‘‘ وہ ضعیف راویوں کی ایک جماعت سےموضوع حدیثیں روایت کرتا تھا ،جنہیں ان سے اس کے علاوہ دوسرا کوئی بھی بیان نہیںکرتا۔(المدخل الی الصحیح، ص:۱۵۱ت۹۰)

حافظ ذہبی نے فرمایا:’’متھم بالوضع‘‘ اس پر(محدثین کی طرف سے) وضع حدیث کی تہمت (یعنی گواہی) ہے۔

(المغنی فی الضعفاء۱؍۵۳۳)

تنبیہ: اسماء الرجال کی کتابوں میں(جمہور کے نزدیک مجروح راوی پر) متہم اور تہمت کا مطلب اردووالی تہمت نہیں ہوتا بلکہ اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ محدثین کرام نے گواہیاں دے کر اسے کذاب اور وضاع وغیرہ قراردیا ہےلہذا ایسا راوی ساقط العدالۃ ہوتا ہے۔

(دوم)اس سند کا دوسرا راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہے۔(تقریب التہذیب ۳۸۶۵)

حاکم نےکہا:’’روی عن أبیہ أحادیث موضوعۃ…‘‘ اس نے اپنے باپ سے موضوع حدیثیں بیان کی ہیں۔ الخ(المدخل الی الصحیح ،ص:۱۵۴ت۹۷)

خلاصۃ التحقیق: یہ روایت موضوع ہے۔

(تنبیہ :روایت کے ضعیف ہونے کے علاوہ ان میں بس زیارت قبر کی فضیلت مذکور ہے اس زیارت کے لئے سفر کرنے کی صراحت نہیں جس پر اصل نزاع ہے۔(صدیق رضا)

(۳) عبداللہ بن محمد العبادی البصری:ثنا مسلم بن سالم الجھنی: حدثنی عبیداللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہ کی سندسے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’من جاءنی زائرا لا یعلمہ حاجۃ الا زیارتی کان حقا علی ان اکون لہ شفیعا یوم القیامۃ‘‘جوشخص میرے پاس زیارت کے لئے آئے گا،اس کامقصد صرف میری زیارت ہوگی تو میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروںگا۔

(المعجم الکبیر للطبرانی ۱۲؍۲۹۱ح:۱۳۱۳۴۹،الاوسط لہ:۴۵۴۳، المعجم لابن المقریٔ:۱۶۹،شفاء السقام،ص:۱۰۷-۱۱۳)

بقول سبکی اسے ابن السکن نےصحیح کہا،عرض ہے کہ اس کاراوی مسلم( یامسلمہ) بن سالم الجہنی (المکی) ضعیف ہے۔(تقریب التہذیب :۶۶۷۲۸)

ہیثمی نے کہا:’’وھو ضعیف‘‘(مجمع الزوائد ۴؍۳)

حافظ ذہبی نے اسے دیوان الضعفاء میں ذکر کیا او ر کوئی توثیق نہیں کی۔ (۲؍۳۵۶،ت:۴۱۰۱)

حافظ ابن عبدالہادی نے اس کی روایت کو’’ضعیف الاسناد منکر المتن ‘‘الخ قرار دیا۔(الصارم المنکی فی الرد علی السبکی ،ص:۶۷)

ابومحمد عبداللہ بن محمد العبادی کی توثیق بھی نامعلوم ہے لیکن مسلم بن حاتم الانصاری (ثقہ وصدوق) نے اس کی متابعت کر رکھی ہے۔

دیکھئے اخبار اصبہان (۲؍۲۱۹وعندہ عبداللہ العمری بدل عبیداللہ)

خلاصۃ التحقیق یہ روایت ضعیف ہے۔

(تنبیہ: علامہ سبکی کی پیش کردہ یہ روایت ضعیف ہونے کے علاوہ نزاعی معاملہ بلکہ زیارت قبر نبویﷺ کےبارے میں نہیں بلکہ اس میں تو یہ الفاظ ہیں کہ جو میرے پاس بس صرف میری زیارت کی غرض سے آیا تو میں قیامت کے دن اس کا شفیع بنوں گا، ظاہر سی بات ہے کہ خود نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کی زیارت کرنا اور آپ کی وفات کے بعد آپﷺ کی حیات طیبہ میں آپ کی زیارت کرنا دوبالکل مختلف چیزیں ہیں جس نے ایمان کی حالت میں آپﷺ کی حیات طیبہ میں آپ کی زیارت کی وہ صحابیت کا مقام عالیشان پاگئے۔رضی اللہ عنھم ،لیکن آپ کی وفات کے بعد قبر مبارک کی زیارت کرنے والوں کو یہ مقام کسی طور پر حاصل نہیں۔ معلوم نہیں اس غیرمتعلق روایت سے علامہ سبکی کا موقف زیارت قبر کے لئے شدرحال کیسے ثابت ہوتا ہے اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا رد کیسے ثابت ہوتا ہے!؟ص،ر)

(۴)قاری حفص بن ابی داؤد نے لیث بن أبی سلیم عن مجاہد عن ابن عمر  رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من حج فزار قبری بعد وفاتی فکانما زارنی فی حیاتی‘‘جس نے حج کیا پھر میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو گویا اس نے میر ی زندگی میں میری زیارت کی۔(سنن الدار قطنی ۲؍۲۷۸،ح:۲۶۶۷،شفاء السقام،ص:۱۱۵)

اس روایت کی سند تین وجہ سے ضعیف ومردود ہے:

۱:قاری حفص بن سلیمان الاسدی البزار الکوفی الغاضری اگرچہ روایت قرآن میں ثقہ ہیں، لیکن روایت حدیث میں جمہور کے نزدیک مجروح ہونےکی وجہ سے ضعیف تھے ۔

حافظ ابن حجر نےفرمایا: ’’متروک الحدیث مع امامتہ فی القراءۃ‘‘وہ قراءت میں امام ہونے کے باوجود حدیث میں متروک تھے۔(تقریب التہذیب :۱۴۰۵)

حافظ ہیثمی نے فرمایا:’’وضعفہ الجمہور‘‘اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے۔(مجمع الزوائد ۱؍۱۶۳)

۲:لیث بن ابی سلیم جمہور کےنزدیک ضعیف راوی ہے۔

بوصیری نے کہا:’’ضعفہ الجمہور‘‘(زوائد سنن ابن ماجہ :۲۰۸)

ابن الملقن نے کہا:’’وقد ضعفہ الجمہور‘‘(البدر المنیر ۷؍۲۲۷)

ابن الملقن نےمزید کہا:’’وھو ضعیف عند الجمہور‘‘(خلاصۃ البدر المنیر:۷۸)

حافظ ابن حجر نے کہا:’’صدوق، اختلط جدا ولم یتمیز حدیثہ فترک‘‘وہ سچا ہے، بہت شدید اختلاط کے شکار ہوا، اور اس کی حدیث کی (اختلاط سے پہلے کی) پہچان نہ ہوسکی لہذا متروک ہوگیا۔(تقریب التہذیب :۵۶۸۵)

۳:لیث بن ابی سلیم مدلس ہے۔(دیکھئے مجمع الزوائد للہیثمی ۱؍۸۳،اور زوائد ابن ماجہ للبوصیری :۲۳۰)

حافظ ابن حبان نے’’؟ثم دلسوہ عن مجاہد‘‘ کہہ کر اسے مدلس قرار دیا۔

دیکھئے مشاہیر علماء الامصار(ص:۱۴۶،ت:۱۱۵۳)

اور یہ روایت عن سے ہے۔

تنبیہ: حفص بن ابی داؤد اور لیث بن ابی سلیم کی موجودگی کے ساتھ اس روایت کی دوسری مردود سند کےلئے دیکھئے:شفاء السقام،ص:۱۱۹)

خلاصۃ التحقیق :یہ روایت ضعیف ومردود ہے۔

(۵)محمد بن محمد النعمان:حدثنی مالک عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہ کی سندسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من حج البیت ولم یزرنی فقد جفانی‘‘جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور میری زیارت نہیں کی تو اس نے میرےساتھ بے رخی کی یعنی مجھ سے منہ پھیرا۔(شفاء السقام،ص:۱۲۷،الکامل لابن عدی ۷؍۲۴۸۰)

نعمان بن شبل کو ابن الجوزی نے کتاب الضعفاء والمتروکین (۳؍۱۶۴،ت:۳۶۴۱)اور ذہبی نے دیوان الضعفاء والمتروکین (۲؍۲۰۴،ت:۴۳۹۲)میں ذکر کیا اور حافظ ابن حبان نے فرمایا:’’یأتی عن الثقات بالطامات وعن الاثبات بالمقلوبات‘‘وہ ثقہ راویوں سے تباہ کن روایتیں اور ثقہ ثبت راویوں سے مقلوب(الٹ پلٹ) روایتیں لاتاتھا۔(کتاب المجروحین ۳؍۷۳،دوسرا نسخہ:۲؍۴۱۴)

اس راوی کی توثیق صرف صالح بن احمد بن ابی مقاتل(کذاب ودجال) نے کی ہے جو کہ اصلا مردودہے۔ اس سند کا دوسرا راوی محمد بن محمد بن نعمان بن شبل ہے جس کے بارے میں کوئی توثیق نہیں ملی اور حافظ ذہبی نے اسے کتاب :دیوان الضعفاء والمتروکین میں ذکر کیا۔(۲؍۳۳۴،ت:۳۹۶۱)

اور کہا جاتا ہے کہ دارقطنی نے اس پر طعن کیا ہے۔ واللہ اعلم

خلاصۃ التحقیق: یہ روایت ان دوراویوں کی وجہ سے سخت ضعیف ومردود ہے اور حافظ ذہبی نے اس کے بارے میں فرمایا: ’’ہذا موضوع ‘‘یہ موضوع ہے۔(میزان الاعتدال ۴؍۲۶۵)

تنبیہ: کتاب العلل للدارقطنی(۱۳؍۵۷سوال:۲۹۴۷)میں محمد بن الحسن الختلی قال:حدثنا عبدالرحمٰن بن المبارک قال: حدثنا عون بن موسیٰ عن ایوب عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ کی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من زارنی الی المدینۃ کنت لہ شفیعا وشھیدا‘‘جس نے مدینے میںمیری زیارت کی تو میںاس کا سفارشی یاگواہ ہوں گا۔(نیز دیکھئے شفاء السقام:،ص:۱۳۰)

یہ روایت دووجہ سے مردود ہے:

۱:محمد بن الحسن الختلی کی توثیق نامعلوم ہے۔

۲: ختلی کو متن کے بارے میں وہم ہوا ہے۔

دیکھئے لسان المیزان (۴؍۳۸۹،دوسرا نسخہ۵؍۳۵۵)

(۶) سوار بن میمون ابوالجراح العبدی قال: حدثنی رجل من آل عمر عن عمر رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من زار قبری أو قال: ’’ من زارنی کنت لہ شفیعا  أو شھیدا ومن مات فی احد الحرمین بعثہ  اللہ فی الآمین یوم القیامۃ‘‘جس نے میری قبر یا میری زیارت کی تو میں اس کا سفارشی یاگواہ ہوں گا اور جو مکہ یامدینہ میں فوت ہوا تو اللہ اسے قیامت کے دن امن والے لوگوں میں اٹھائے گا۔(مسند الطیالسی :۶۵، السنن الکبری للبیہقی ۵؍۲۴۵،ح:۱۰۲۷۲)

اس روایت کی سند رجل من آل عمر کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے اور بیہقی نے فرمایا:’’ہذا اسناد  مجہول ‘‘یہ سند مجہول ہے۔ (السنن الکبری ۵؍۲۴۵)

(۷) سوار بن میمون عن ھارون أبی قزعۃ عن رجل من آل الخطاب عن النبیﷺ کی سندسے مروی ہے کہ:’’من زارنی متعمدا کان فی جواری یوم القیامۃ‘‘جس نے پورے ارادے سے میری زیارت کی تو وہ قیامت کے دن میراپڑوسی ہوگا۔(الضعفاء للعقیلی ۴؍۳۶۲،شفاء السقام،ص:۱۳۴)

یہ روایت دووجہ سے ضعیف ومردودہے:

۱:ہارون بن قزعہ ابوقزعہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔

دیکھئے لسان المیزان (۶؍۱۸۰-۱۸۱)

۲:رجل من آل الخطاب مجہول ہے۔

لہذا اس روایت کو ’’مرسل جید‘‘ نہیں بلکہ ضعیف ،مردود کہنا ہی صحیح وصواب ہے۔

(۸) ھارون بن أبی قزعۃ عن رجل من آ ل حاطب عن حاطب  رضی اللہ عنہ کی سندسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من زارنی بعد موتی فکانما زارنی فی حیاتی ومن مات باحد الحرمین بعث من الآمنین یوم القیامۃ‘‘ جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی تو گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی اور جوشخص مکہ یامدینہ میں مرا(فوت ہوا) تواللہ اسے قیامت کےدن امن والوں میں اٹھائے گا۔(سنن دار قطنی ۲؍۲۷۸،ح:۲۶۶۸،شفاء السقام:ص:۱۳۸)

یہ روایت دووجوہ سے ضعیف ومردود ہے:

۱:ہارون ابوقزعہ ضعیف ہے۔ دیکھئے روایت نمبر۷

۲: رجل من آل حاطب مجہول ہے۔

تنبیہ: احمد بن مروان بن محمد الدینوری المالکی (ضعیف جدا) کی کتاب’’المجالسۃ وجواہر العلم‘‘(۱۳۰)میں یہ روایت ہارون بن ابی قزعہ عن مولی حاطب بن ابی بلتعۃ عن حاطب رضی اللہ عنہ کی سند سے مروی ہے۔(ص:۲۷)

ہارون ضعیف ہے اورمولیٰ حاطب مجہول ہے۔

شفاء السقام (ص:۱۳۹)میں اس روایت کی سند میں گڑبڑ ہوگئی ہے۔

(۹) ابو الفتح محمد بن الحسین الازدی الموصلی  نےابو سہل بدر بن عبداللہ المصیصی کی سند سے ایک روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ سے نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من حج حجۃ الإسلام وزار قبری وغزا غزوۃ وصلی علی فی بیت المقدس لم یسأل اللہ عزوجل فیما افترض علیہ‘‘جس نےاسلام کاحج کیا ،میری قبر کی زیارت کی، جہاد کیا اور بیت المقدس میں مجھ پر درود پڑھا، اللہ نے اس پر جوفرض کیا ہے اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کرے گا۔(شفاء السقام،ص:۱۴۰-۱۴۱)

یہ روایت دووجہ سے ضعیف ومردود ہے:

۱:ابوسہل بدر بن عبداللہ المصیصی مجہول ہے،سبکی نے کہا:’’ما علمت من حالہ شیئا‘‘مجھے اس کے حال کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔(شفاء السقام،ص:۱۴۱)

حافظ ذہبی نے فرمایا:’’عن الحسن بن عثمان الزیادی بخبر باطل‘‘اس نے حسن بن عثمان الزیادی سے باطل روایت بیان کی ہے۔(میزان الاعتدال ۱؍۳۰۰،لسان المیزان ۲؍۴،دوسرا نسخہ ۲؍۹)

۲:محمد بن الحسین الازدی (بذات خود) ضعیف ہے۔(ھدی الساری،ص:۳۸۶،ترجمہ احمد بن شعیب)جمہور نے اس پر جرح کی ہے۔دیکھئے:( تاریخ بغداد۲؍۲۴۴،ت:۷۰،کتاب الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی :۳؍۵۳،ت:۲۹۵۳اور دیوان الضعفاء والمتروکین للذہبی :۲؍۲۹۲،ت:۳۶۷۲)

(۱۰) الحسن بن محمد (بن اسحاق) السوسی: ثنا احمد بن سہل بن ایوب :ثنا خالد ابن یزید :ثنا عبداللہ بن عمر العمری قال: سمعت سعید المقبری یقول:سمعت ابا ھریرۃ رضی اللہ عنہ کی سند سےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من زارنی بعد موتی فکأنما زارنی وأنا حی ومن زارنی کنت لہ شھیدا وشفیعا یوم القیامۃ‘‘جس نےمیری وفات کے بعد میری زیارت کی تو گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی اور جس نے میری زیارت کی تو میں قیامت کے دن اس کے لئے گواہ اور سفارشی ہوں گا۔(شفاء السقام،ص:۱۴۴)

یہ روایت خالد بن یزید العمری کی وجہ سے موضوع ہے۔

خالد بن یزید کو امام یحی بن معین اور ابوحاتم وغیرہما نے کذاب (جھوٹا) کہا۔

دیکھئے:کتاب الجرح والتعدیل (۳؍۳۶۰) اور لسان المیزان (۲؍۳۸۹-۳۹۰،دوسرا نسخہ ۲؍۷۴۰-۷۴۳)

سبکی نے خالد بن یزید کے تعین میں شک کیا،جبکہ ابن عبدالہادی نے فرمایاکہ بلاشک وہ العمری ہے۔

عرض ہے کہ اگر یہ العمری نہیں تو پھر کون تھا؟

روایتِ مذکورہ کی سند میں احمد بن سہل بن ایوب الاہوازی (متوفی :۲۹۱ھ)اور حسن بن محمد بن اسحق السوسی دونوں مجہول الحال ہیں۔ الضیاء المقدسی کے سوا کسی نے بھی ان کی توثیق نہیں کی۔

(۱۱) ابو المثنی سلیمان بن یزید الکعبی عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ  کی سند سےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من زارنی بالمدینۃ محتسبا کنت لہ شفیعا وشھیدا‘‘جس نےثواب کی نیت سے مدینے میں میری زیارت کی تو میں اس کا سفارشی اور گواہ رہوںگا۔(شفاء السقام،ص:۱۴۷)

اس کاراوی سلیمان بن یزید الکعبی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

حافظ ابن حجر نےفرمایا:’’ضعیف‘‘(تقریب التہذیب: ۸۳۴۰، ترجمہ ابوالمثنی الخزاعی)

سلیمان بن یزید الکعبی طبقۃ السادسہ کا راوی ہے،لہذا سیدنا انس  رضی اللہ عنہ  سےاس کی ملاقات ثابت نہیں بلکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت منقطع ہے۔

سلیمان بن یزید الکعبی تک سندوں میں بھی نظر ہے،ایک میں سعید بن عثمان الجرجانی مجہول الحال ہے،دوسری میں ابوبکر محمد بن احمد بن اسماعیل بن الصرام الجرجانی کی توثیق نامعلوم ہے۔ تیسری میں احمد بن عبدوس بن حمدویہ الصفار النیسابوری اور ایوب بن الحسن دونوں نامعلوم ہیں۔

(۱۲)تقی الدین سبکی نے ابن النجار کی کتاب ’’الدرۃ الثمینۃ فی فضائل المدینۃ‘‘ سے جعفر بن ہارون :ثناسمعان بن مھدی عن انس رضی اللہ عنہ  کی سند سےروایت بیان کی   کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من زارنی میتا فکأنما زارنی حیا و من زار قبری وجبت لہ شفاعتی یوم القیامۃ ومامن احد من امتی لہ سعۃ ثم لم یزرنی فلیس لہ عذر‘‘جس نےمیری وفات کے بعد میری زیارت کی تو اس نے گویا میری زندگی میں میری زیارت کی، اور جس نے میری قبر کی زیارت کی تو اس کے لئے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہوگئی، اور میری امت میں سے اگر کسی نے وسعت کے باوجود میری زیارت نہیں کی تو اس کے لئے کوئی عذر نہیں ہے۔(شفاء السقام،ص:۱۵۰)

سمعان بن مہدی کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا:’’ لایکاد یعرف، ألصقت بہ نسخۃ مکذوبۃ رأیتھا ، قبح اللہ من وضعھا‘‘ وہ معروف نہیں ہے، اس کی طرف ایک جھوٹا نسخہ منسوب کیاگیا ہے جسے میں نے دیکھا ہے، جس نے اسے بنایا ہے اسے اللہ ذلیل کرے۔(میزان الاعتدال۲؍۲۳۴،لسان المیزان ۳؍۱۱۴واللفظ لہ)

جعفر بن ہارون بھی نامعلوم ہے اور باقی سند میں بھی نظر ہے ،سبکی کو چاہئے تھا کہ اس موضوع روایت کو پیش نہ کرتے ،کیونکہ عالم کی شان سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ بغیر جرح اور بغیر رد کے موضوع روایات لوگوں کے سامنے پیش کرے ۔

(۱۳) سعید بن محمد الحضرمی: حدثنا فضالۃ بن سعید بن زمیل الماربی عن ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس رضی اللہ عنہ  کی سند سےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من زارنی فی مماتی کان کمن زارنی فی حیاتی من زارنی حتی ینتھی الی قبری کنت لہ شھیدا یوم القیامۃ أو قال: شفیعا‘‘جس نےمیری وفات کے بعد میری زیارت کی تو گویا اس نےمیری زندگی میں میری زیارت کی، اور جس نے میری زیارت کی حتی کہ میری قبر تک پہنچ گیا تو میں قیامت کے دن اس کا گواہ یاسفارشی ہوںگا۔(کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی ۳؍۴۵۷،دوسرا نسخہ ۳؍۱۱۴۴،شفاء السقام،ص:۱۵۱)

اس کا راوی فضالہ بن سعید غیر موثق ہے اور حافظ ذہبی نے اس روایت کے بارے میں فرمایا:’’ہذا موضوع علی ابن جریج ویروی فی ہذا شیٔ أمثل من ہذا‘‘یہ ابن جریج پرموضوع(من گھڑت) ہے اور اس بارے میں اس سے بہتر روایت مروی ہے۔(میزان الاعتدال۳؍۳۴۹،لسان المیزان ۴؍۲۳۶)

حافظ ابن حجر نے بغیر کسی سند کے ابونعیم (الاصبہانی) سے نقل کیا:’’روی المناکیر ،لا شیٔ‘‘اس نے منکر روایتیں بیان کیں، وہ کوئی چیز نہیں ہے۔(لسان المیزان ،طبع جدید :۵؍۴۵۰)

سعید بن محمد الحضرمی کی توثیق بھی نامعلوم ہے اور اس سے سعید بن محمد بن ثواب الحصری مراد لینا غلط ہے۔

خلاصۃ التحقیق: یہ روایت ضعیف ،مردود بلکہ بقول ذہبی موضوع ہے۔

(۱۴) ابوالحسین یحیی بن الحسن بن جعفر الحسینی(؟)نے کہا:حدثنا النعمان بن شبل: ثنا محمد بن الفضل-مدینی- سنۃ ست وسبعین عن جابر عن محمد بن علی عن علی رضی اللہ عنہ، قال قال رسول اللہ ﷺ :من زار قبری بعد  موتی فکأنما زارنی فی حیاتی ومن لم یزرنی فقد جفانی‘‘

روایت کامفہوم:جس نے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی اور جس نے میری زیارت نہیں کی تو اس نے میری ساتھ بے رُخی کی۔(شفاء السقام،ص:۱۵۵-۱۵۶)

اس روایت میں محمد بن علی کا تعین مطلوب ہے، جابر سے مراد اگر جابر بن یزید الجعفی ہے تو وہ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔

محمد بن الفضل المدینی نا معلوم(مجہول) ہے۔

 نعمان بن شبل سخت مجروح بلکہ کذاب ہے ۔ دیکھئے روایت نمبر:۵

ابواحمد الہمدانی اورمحمد بن اسماعیل دونوں نامعلوم ہیں اور کتاب اخبار المدینہ کےمصنف یحی بن الحسن بن جعفر الحسینی کی توثیق نامعلوم ہے؟

خلاصۃ التحقیق: یہ روایت موضوع ہے۔

سبکی نے اس کی تائید میں ایک روایت پیش کی ہے،جس میں عبدالملک بن ہارون بن عنترہ کذاب(جھوٹا) ہے۔

امام یحی بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ کذاب‘‘ عبدالملک بن ہارون بن عنترہ کذاب ہے۔(تاریخ ابن معین ،روایۃ الدوری:۱۵۱۶)

حافظ ابن حبان نے فرمایا:’’ کان ممن یضع الحدیث…‘‘ وہ حدیثیں گھڑنے والوں میں سے تھا۔(کتاب المجروحین ۲؍۱۳۳،دوسرا نسخہ ۲؍۱۱۵)

حاکم نیشاپوری نے کہا:’’ روی عن ابیہ أحادیث موضوعۃ‘‘ اس نے اپنے باپ سےموضوع حدیثیں بیان کی ہیں۔(المدخل الی الصحیح ،ص:۱۷۰ت:۱۲۹)

یہ روایت بھی اس کے باپ سےہے۔

عبدالملک بن ہارون تک ساری سند میں بھی نظر ہے۔

خلاصۃ التحقیق :یہ روایت موضوع ہے۔

سمہودی نے وفاء الوفاء (۴؍۱۷۶)میں یحی الحسینی(؟؟)کی کتاب سے ایک اور مردود روایت پیش کی ہے، جس میں ابویحی محمد بن الفضل بن نباتہ النمیری مجہول اور باقی سند ضعیف ہے۔

(۱۵)یحیی الحسینی(؟؟)نے ’’اخبارالمدینۃ‘‘میں کہا: حدثنامحمد بن یعقوب :ثنا عبداللہ بن وھب عن رجل عن بکر بن عبداللہ عن النبی ﷺ قال: من أتی المدینۃ زائرا لی وجبت لہ شفاعتی یوم القیامۃ ومن مات فی أحد الحرمین بعث آمنا‘‘

مفہوم:جوشخص میری زیارت کے لئے مدینہ آیا تو قیامت کے دن اس کے لئے میری شفاعت ضروری ہوگئی اور جو شخص مکہ یامدینہ میں فوت ہوا تو وہ حالتِ امن میں زندہ کیاجائے گا۔

(شفاء السقام،ص:۱۵۷)

روایتِ مذکور میں(۱)رجل مجہول(۲)عبداللہ بن وہب مدلس۔ (طبقات ابن سعد۷؍۵۱۸)(۳)صاحب کتاب: یحی الحسینی مجہول الحال اور (۴)سند مرسل ہے۔

خلاصۃ التحقیق: یہ روایت عللِ مذکورہ کی وجہ سے ضعیف ومردود ہے۔

 یہ ہیں وہ پندرہ(۱۵)روایات جن کے بل بوتے پر سبکی نے حافظ ابن تیمیہ کارد کرنے کی کوشش کی تھی لیکن آپ نے دیکھ لیا کہ اصولِ حدیث اور اسماءالرجال کی رُو سے یہ ساری روایتیں ضعیف ومردود ہیں لہذا جمع تفریق کرکے انہیں حسن لغیرہ بنانا اور حجت سمجھنا غلط ہے۔

ایک موضوع قصہ:ابواسحاق ابراھیم بن محمد بن سلیمان بن بلال بن ابی الدرداء: حدثنی أبی محمد بن سلیمان عن ابیہ سلیمان بن بلال عن أم الدرداء عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ نے فرمایا: اے بلال!یہ کیا زیادتی ہے، کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم میری زیارت کرو؟

بلال رضی اللہ عنہ بیدارہوئے توغمگین اورخوف زدہ تھے، پھرانہوں نے سوار ہوکر مدینہ کی طرف سفر کیا پھر نبیﷺ کی قبر کے پاس آئے اور رونے لگے اورا پناچہرہ اس پر ملنے لگے،الخ

(شفاء السقام،ص:۱۸۵-۱۸۶،آثار السنن للنیموی:۱۱۱۳)

اس کا راوی ابراھیم بن محمد بن سلیمان مجہول ہے، حافظ ذہبی نے فرمایا:’’فیہ جھالۃ‘‘ اس میںجہالت ہے یعنی وہ مجہول ہے۔

(میزان الاعتدال۱؍۶۴)

حافظ ابن حجر العسقلانی نے اس قصے کے بارے میں فرمایا:’’ وھی قصۃ بینۃ الوضع‘‘ اور اس قصے کاموضوع ہونا ظاہر ہے۔

(لسان المیزان ۱؍۱۰۸)

سلیمان بن بلال بھی مجہول الحال ہے اور ام الدرداء رحمہا اللہ سے اس کی ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں ،اس کے باوجود سبکی نے لکھ دیا ’’باسناد جید‘‘!!

عرض ہے کہ سند جید کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے ہر راوی کی توثیق بطریقۂ محدثین ثابت کی جا ئے۔

حافظ ذہبی نے اس روایت کے بارے میں فرمایا:’’إسنادہ لین وھو منکر‘‘ اس کی سند کمزور ہے اور یہ منکر روایت ہے۔

(سیر اعلام النبلاء۱؍۳۵۸)

اس منکر اور موضوع روایت کو سبکی اور نیموی وغیرہما نے جید سند کہہ کر عام لوگوں کوورغلانے کی کوشش کی ہے ،حالانکہ راویوں کی توثیق اور اتصالِ سند کےبغیر ایسی ہر کوشش مردود ہے۔

نیز دیکھئے مشہور واقعات کی حقیقت(ص:۱۵۶-۱۵۹)اور الحدیث حضرو:۴۱ص:۵۹-۶۱

آخر میں عرض ہے کہ روضۂ رسول ﷺ کی طرف خاص طورپرسفر کرنا کسی صحابی ،تابعی یا تبع تابعی سے ثابت نہیں ہےاور ایک حدیث میں تین مساجد کے علاوہ سفر کرنے کی ممانعت آئی ہے،اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ الدھلوی الحنفی (متوفی ۱۱۷۶ھ)نے فرمایا:’’والحق عندی أن القبر ومحل عبادۃ ولی من اولیاء اللہ والطور کل ذلک سواء فی النھی ،واللہ اعلم‘‘

اورمیرے نزدیک حق یہ ہے کہ قبر،اولیاءاللہ میں سے کسی ولی کا محلِ عبادت اور کوہِ طور سب ممانعت میں برابر ہیں۔واللہ اعلم

(حجۃ اللہ البالغۃ ۱؍۱۹۲،من ابواب الصلوٰۃ)

معلوم ہوا کہ شاہ ولی اللہ کے نزدیک خاص قبر کی نیت سے سفر کرنا ممنوع ہے۔

تنبیہ:جو شخص مدینہ نبویہ جانے کی سعادت حاصل کرے تو اسے چاہے کہ مسجد نبوی(علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام) جاکردورکعتیں پڑھے اور روضۂ رسول کی زیارت کرے، نماز والادرود پڑھے اور اگر حجرہ مبارکہ کا دروازہ اس کے لئے کھل جائے اورخوش قسمتی سے وہ قبر مبارک کے پاس پہنچ جائے تو السلام علیک یارسول اللہ اور الصلوۃ علیک یا رسول اللہ بھی پڑھے جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفا ثابت ہے۔

(دیکھئے فضائلِ درود وسلام ،ص:۱۴۱،فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ بتحقیقی:۱۰۰)

لیکن یاد رہےکہ حجرۂ مبارکہ کے باہر تخاطب والے یہ الفاظ صحابہ کرام اور تبع تابعین وغیرہم سے ثابت نہیں لہذا باہر صرف نماز والادرود پڑھنا چاہئے۔

وماعلینا الاالبلاغ      (۴اپریل ۲۰۱۰)

(ماہنامہ الحدیث شمارہ نمبر:۷۷،مقالات ۳؍۲۴۵تا۲۶۰)

اس تحقیق سے علامہ سبکی کے اپنے بیان کا بطلان واضح ہوجاتا ہے اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی بات درست ثابت ہوتی ہے البتہ ان کی یہ بات محل نظر ہے کہ اس سلسلہ کی تمام روایات موضوع ہیں، دراصل اس باب کی بعض روایات ضعیف اور بعض موضوع ہیں، دوسروں سے عقائد کے معاملہ میں قاطعی الثبوت قطعی الدلالت کا مطالبہ کرنے والے دیوبندیوں کوغور کرناچاہئے کہ اپنے عقائد کے حق میں ضعیف روایات کا سہارالینا کہاں کاانصاف ہے؟            (جاری ہے)

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

قسط نمبر : 8 (۳۹) گھمن:مشہور غیرمقلد علامہ وحیدالزمان کی رائے… لکھتے ہیںامام الحرمین اور …

جواب دیجئے