Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جنوری » سیدناامیرمعاوی رضی اللہ عنہ اور کتابت وحی

سیدناامیرمعاوی رضی اللہ عنہ اور کتابت وحی

آج کے اس پرفتن دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بالخصوص سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کادفاع کرنا علماءاہل سنت والجماعت کا فریضہ ہے۔دشمنان صحابہ کی طرف  سےدیگر اصحاب رسولﷺ کی بنسبت سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ پر زیادہ تنقیدکی جاتی ہے،بلکہ صحابہ کرام کی عزتوں پر حملے کرنے والوں کی ابتداء اسی مظلوم  صحابی سے ہوتی ہے۔

اسی بناء پر اگر یہ کہاجائے کہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کےدفاع  میں تمام اصحاب رسول کا دفاع مضمر ہے تو غلط نہ ہوگا۔

اہل سنت کےمشہورثقہ امام ربیع بن نافع الحلبی رضی اللہ عنہ (المتوفی۴۴۱ھ) فرماتے ہیں:

 معاوية بْن أَبِي سفيان ستر أصحاب رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فإذا كشف الرجل الستر اجترئ على ما وراءہ۔

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺکے صحابہ کے لیے پردہ ہیں جب کوئی شخص اس پردے کوکھول دےگا تو  وہ اس پردے کے پیچھے جو لوگ ہیں ان پر بھی تنقید کرےگا۔

[تاریخ بغداد ج۱ص۲۲۳ت۴۸طبع دار الكتب العلمية،تاریخ دمشق ج۵۹ص۲۰۹طبع دار الفكر وسندہ صحیح]

اسی جذبہ کے پیش نظر بعض اکابرین کے حکم پر بندہ ناچیز کو اس عظیم ومظلوم صحابی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر ہونے والے اعتراضات کا مفصل جائزہ لینےکی سعادت حاصل ہوئی ہے ۔الحمدللہ علی ذالک۔

بعض محسنین کے اصرار پر اس مفصل جائزےکا کچھ حصہ(جوکہ کاتب وحی پرمشتمل ہے)مجلہ’’ دعوت اہلحدیث‘‘ کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہاہے۔

کاتب وحی اورخال المؤمنین ہونے کاشرف

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کوجلیل القدرصحابی ہونے کے ساتھ کاتب وحی اورخال المؤمنین یعنی مؤمنوں کا ماموں ہونے کاشرف بھی حاصل ہے۔

سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ سیدناابوسفیان رضی اللہ عنہ نےرسول  اکرمﷺسے کہا:

 يا نبي الله ثلاث أعطنيهن، قال نعم قال عندي أحسن العرب وأجمله، أم حبيبة بنت أبي سفيان، أزوجكها، قال: نعم قال ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك، قال نعم قال وتؤمرني حتى أقاتل الكفار، كما كنت أقاتل المسلمين، قال نعم۔

اے اللہ کے نبیﷺ آپ مجھے تین چیزیں عطا فرما دیجیے (یعنی تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرمالیجیے) آپﷺ نے جوابا ارشاد فرمایا:جی ہاں۔ (ابو سفیان رضی اللہ عنہ)نے عرض کیامیری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہ عرب کی سب سے زیادہ حسین وجمیل  خاتون ہےمیں اسے آپ کی زوجیت میں دیتاہوں ۔آپﷺنے فرمایا:جی ہاں ۔(ابوسفیان رضی اللہ عنہ)نے عرض کیاکہ آپ معاویہ  رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی بنالیں۔توآپﷺنے فرمایا :جی ہاں۔پھر (ابوسفیان رضی اللہ عنہ) نے عرض کیاکہ آپ مجھے کسی دستے کا امیر بھی مقرر کردیں تاکہ میں کفار سے لڑائی کروں جس طرح میں(قبول اسلام سے قبل)مسلمانوں سے لڑائی کرتاتھا ۔تو آپﷺ نے فرمایا:جی ہاں۔

[صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی سفیان برقم۶۴۰۹ ]

اس صحیح حدیث سے ثابت ہواکہ  امیرمعاویہ  رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی  اور خال المؤمنین  (مؤمنوں کا ماموں) ہونے کاشرف حاصل ہے۔

سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كنت ألعب مع الغلمان فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم قد جاء فقلت ما جاء إلا إلي فاختبأت على باب فجاء فحطأني حطأة فقال اذهب فادع لي معاوية  وكان يكتب الوحي قال: فذهبت فدعوته له فقيل: إنه يأكل، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته فقال فاذهب فادعه فأتيته فقيل انه يأكل، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته فقال في الثالثة لا اشبع الله بطنه۔۔۔

میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہﷺ تشریف لے آئے میں نے کہا آپﷺ میرے لیے ہی تشریف لائے ہیں۔میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔آپﷺ نے میرے کندھوں کے درمیان تھپکی لگائی اورفرمایا کہ جائو معاویہ رضی اللہ عنہ کومیرے پاس بلائو اور وہ (معاویہ)کاتب وحی تھے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہ)کہتے ہیں میں نے جاکر انہیں بلایا تو بتایاگیاکہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔میں نے آکر رسول اللہﷺ کوبتایا تو آپ نے  فرمایادوبارہ جائو انہیں بلائو میں ان کے پاس(دوسری بار )گیا تو بتایا گیاکہ وہ کھانا کھارہے ہیں ۔میں واپس رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی اطلاع دی  تو آپﷺنے (بطورمزاح)تیسری بارفرمایا:اللہ اس کے پیٹ کو سیر نہ کرے۔

[دلائل النبوہ للبیھقی ج۶ص۲۴۳طبع دارالکتب العلمیہ وسندہ صحیح]

مسند طیالسی میں اسی حدیث کے یہ الفاظ ہیں:

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث إلى معاوية يكتب له۔

یعنی رسول اللہ ﷺنے معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ آپ کے لیے وحی کی کتابت کریں۔

[مسند أبي داود الطيالسي ج۴ص۴۶۴ح۲۸۶۹،ط مصر]

بعض لوگ اس حدیث میں موجود الفاظ(لا اشبع الله بطنه) کو دیکھ کرپریشان ہوجاتے ہیں بلکہ بعض ناصبیوں نے تو اس  صحیح حدیث کاہی سرےسے انکار کردیا۔(العیاذباللہ)

حالانکہ یہی الفاظ صحیح مسلم( ۹۶/ ۲۶۰۴)میں بھی موجود ہیں جبکہ بخای  ومسلم کی تمام مرفوع ومتصل روایات کی صحت پر اجماع ہے۔

حقیقت میں ان الفاظ سے امیر معاویہ کی تنقیص ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس سےان کی منقبت ثابت ہورہی ہے۔ لغت عرب سے واقفیت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ کلام عرب میں اس طرح کے الفاظ مزاح اور تکیہ کلام کے طور پر بولے جاتے ہیں۔

جیساکہ مشہور لغوی ابومنصورالازہری ابوعبید سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:

وهذا على مذهب العرب في الدعاء على الشيء من غير إرادة لوقوعه، لا يراد به الوقوع۔

ایسی باتیں اہل عرب کے اس طریقے کے مطابق ہوتی ہیں،جس میں وہ کسی کے بارے میں بد دعا کرتےہیں لیکن اس کے وقوع کا ارادہ نہیں کرتے یعنی بددعا کا پورا ہوجانا مراد ہی نہیں ہوتا۔

[تهذيب اللغة ج۱ص۱۴۵،ط دار إحياء التراث العربي]

 مزید توضیح کے لیے چند ائمہ کی تصریحات پیش خدمت ہیں۔

شارح مسلم علامہ نووی رضی اللہ عنہ (المتوفٰی۶۷۶ھ)اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں:

وقد فهم مسلم رحمه الله من هذا الحديث أن معاوية لم يكن مستحقا للدعاء عليه فلهذا أدخله في هذا الباب وجعله غيره من مناقب معاويةلانه في الحقيقة يصير دعاء له۔

امام مسلم رضی اللہ عنہ نے اس حدیث سے یہ سمجھاہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بددعاکے مستحق نہیں تھےیہی وجہ کہ انہوں نے اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیاہے امام مسلم کے علاوہ دیگراہل علم نے بھی اس حدیث کو سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کے مناقب میں شامل کیاہےکیونکہ نبی اکرمﷺکے یہ الفاظ حقیقت میں ان کے لیے دعا بن گئے تھے۔

[شرح صحيح مسلم ج۱۶ص۱۵۶،ط دار إحياء التراث العربي]

مشہور مؤرخ ومفسرعلامہ ابن کثیر رحمہ اللہ  (المتوفٰی۷۷۴ھ) فرماتے ہیں:

فركب مسلم من الحديث الأول وهذا الحديث فضيلة لمعاوية۔

امام مسلم رحمہ اللہ  نے اس حدیث کو پہلی حدیث کے متصل بعد ذکر کیاہے،اس حدیث سے سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔[البداية والنهاية ج۸ص۱۲۸ونسخۃ اخریٰ ج۸ص۱۲۰]

امام آجری رحمہ اللہ  (المتوفٰی۳۶۰ھ)نے اس حدیث کو باب ذكر استكتاب النبي صلى الله عليه وسلم لمعاوية رحمه الله بأمر من الله عز وجل میں ذکر کرکہ بتایاکہ اس حدیث سے معاویہ کی فضیلت مترشح ہورہی ہے۔

[کتاب الشريعة  قبل حدیث ۱۹۳۴]

حافظ ابن عساکر رضی اللہ عنہ (المتوفٰی۴۷۱ھ)اسی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:

وأصح ما روي في فضل معاوية۔

امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں سب سے صحیح ترین روایت یہی ہے۔ [تاریخ دمشق ج۵۹ص۱۰۶،ط دار الفكر]

قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ  (المتوفٰی۵۴۴ھ)اس حدیث کی توضیح میں فرماتے ہیں:

يحمل على أنه من القول السابق إلى اللسان من غير قصد إلى وقوعه، ولا رغبة إلى الله تعالى فى استجابته۔

اس قول کو سبقت لسانی پر محمول کیاجائےگا جس میں وقوع کا ارادہ نہیں ہوتااورنہ ہی اللہ تعالیٰ سے اس کی قبولیت کی رغبت ہوتی ہے۔

[اکمال المعلم ج۸ص۷۵،ط دارالوفاء]

سبط ابن العجمی رحمہ اللہ  (المتوفٰی ۸۸۴ھ)اسی حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:

وهذا دعاء له بعدم التخمۃ۔

یہ دعااس(معاویہ )کوبدہضمی ختم کرنے کے لیے دی گئی تھی۔

[كنوز الذهب ج۱ص۱۲۳،ط دار القلم]

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ  (المتوفیٰ۸۵۲ھ)نے اس طرح کے ایک جملے کے متعلق فرماتے ہیں:

إنها كلمة تجري على اللسان ولا يراد حقيقتها۔

یہ ایسا کلمہ ہے جو زبان پر جاری ہوجاتاہے  اور اس کی حقیقت مقصود نہیں ہوتی۔

[فتح الباری ج۱۰ص۵۵۷،ط دارالسلام]

علامہ ابن بطال رحمہ اللہ  (المتوفٰی۴۴۹ھ) بھی اس طرح کی ایک حدیث کی توضیح کرتے ہوئے فرمایا:

هى كلمة لا يراد بها الدعاء، وإنما تستعمل فى المدح كما قالوا للشاعر إذا أجاد: قاتله الله لقد أجاد۔

یہ ایسا کلمہ ہے کہ جس سے بددعامراد نہیں ہوتی،اسے صرف تعریف کے لیے استعمال کیاجاتا ہے جیساکہ کوئی شاعرعمدہ شعر کہےتوعرب لوگ کہتے ہیں قاتله الله(اللہ اسے مارے)اس نے عمدہ شعر کہاہے۔[شرح صحيح البخارى ج۹ص۳۲۹،ط مكتبة الرشد]

علامہ ابن الملقن رحمہ اللہ  (المتوفٰی۸۰۴ھ)اس طرح کے ایک جملے کے بارے میں فرماتے ہیں:

كلمة تدعو بها العرب ولا يريدون حقيقتها ووقوعه۔[التوضيح ج۲۳ص۱۳۹،ط دار النوادر]

یہ ایک ایساکلمہ ہے جس کے ذریعہ عرب لوگ دعا دیتے ہیں اور وہ اس کی حقیت اوروقوع کا ارادہ نہیں رکھتے۔

علامہ ابو عبد الرحمن محمد ناصر الدين البانی رحمہ اللہ  (المتوفٰی ۱۴۲۰ھ) اسی حدیث(لا اشبع اللہ بطنہ)کےبارے میں فرماتے ہیں:

وقد يستغل بعض الفرق هذا الحديث ليتخذوا منه مطعنا في معاوية رضي الله عنه وليس فيه ما يساعدهم على ذلك، كيف وفيه انه كان كاتب النبي صلى الله عليه۔

بعض گمراہ فرقے اس حدیث کو غلط استعمال کرتے ہوئے اس سے سیدنا معاویہکی تنقیص ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اس حدیث میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو ان کی تائید کرتی ہو،اس حدیث سے معاویہکی تنقیص کیسے ثابت ہوگی اس میں تو یہ ذکر ہے کہ وہ نبی اکرمﷺکے کاتب وحی تھے،

[سلسلة الاحاديث الصحيحة ج۱ص۱۶۵برقم۸۲،ط مكتبة المعارف]

ائمہ دین کی ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ اس حدیث  سےسیدنا معاویہکی تنقیص ثابت نہیں ہوتی بلکہ یہ حدیث تو ان  کی فضیلت ومنقبت کو واضح کررہی ہے ۔

نیز یہ تو بات تھی ان الفاظ کے متعلق جو کہ بطورتکیہ ومزاح بولے جاتے ہیں لیکن اگر رسول اکرمﷺ کسی صحابی کے لیے حقیقت میں بددعابھی کرلیں تو اس کوبھی اللہ تعالیٰ دعامیں بدل دیتاہے۔

سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا:

اللهم إنما محمد بشر، يغضب كما يغضب البشر، وإني قد اتخذت عندك عهدا لن تخلفنيه، فأيما مؤمن آذيته، أو سببته، أو جلدته، فاجعلها له كفارة، وقربة، تقربه بها إليك يوم القيامة۔

اے اللہ بلاشبہ محمدﷺبشرہے اسے انسانوں کی طرح غصہ آجاتاہے،میں نے تجھ سے ایسا وعدہ لیاہواہے جس کو تونہیں توڑےگا وہ یہ ہے جس مؤمن کو میں تکلیف دوں یا برابھلا کہوں یا اسے ماروں تو ان چیزوں کو اس کے لیے گناہ کا کفارہ بنادے اور روزقیامت ان چیزوں کو اس کے لیے اپنی قربت کا ذریعہ بنادے۔

[صحیح مسلم برقم ۲۶۰۱]

دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں:

اللهم إنما أنا بشر فأي المسلمين لعنته أو سببته فاجعله له زكاة ورحمۃ۔

اے اللہ میں بشرہوں لہذا مسلمانوں  میں سے کسی کو بھی میں برابھلا کہوں یا بددعا کروں یا اسے ماروں تو ان چیزوں کو اس کے لیے پاکیزگی  اور رحمت بنادے۔[صحیح مسلم۲۶۰۰]

 امام العصر علامہ ذہبی رحمہ اللہ  (المتوفٰی۷۸۶ھ)  نے بھی ان الفاظ (لا أشبع الله بطنه)کی توجیہ میں رسول اللہ ﷺکا یہ فرمان: (اللهم من سببته أو شتمته من الأمة، فاجعلها له رحمة) پیش فرمایاہے۔

[سير أعلام النبلاءج۳ص۱۲۳ت۲۵،ط مؤسسة الرسالة]

m عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ  نے ایک  ذاکرین(اللہ کا ذکرکرنے والوں)کی مجلس میں فرمایا : كنت ختنه , وكنت في كتابه , وكنت أرحل له راحلته۔

میںرسول اکرمﷺکا(برادرنسبتی)ہوں،آپﷺکی کتابت میرے ذمہ تھی اور میں ہی آپﷺ کی سواری تیار کرتا تھا ۔

[الشریعۃ للآجری ج۵ص۲۴۶۱ح۱۹۴۷،طبع دار الوطن الرياض وسندہ صحیح]

اس سےمعلوم ہوا کہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہﷺ سے خاص(گہرا) تعلق تھا۔

امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا کاتب وحی ہونا

سلف صالحین رحمہ اللہ  کی نظر میں

سیدناامیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی اور خال المؤمنین ہونے پر سلف صالحین کا اتفاق ہے۔

جیساکہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ  رقمطراز ہیں: وهذا قدر متفق عليه بين الناس قاطبة۔

یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے پر اجماع ہے۔

[ البداية والنهاية ج۵ص۳۵۴،ط دار الفكر]

اور اسی طرح سلف صالحین کے متفقہ عقائد پر مشتمل کتاب موسوعة مواقف السلف في العقيدة والمنهج والتربية میں امیر معاویہ کے بارے میں سلف کا متفقہ موقف یوں بیان کیاگیاہے:

فهو خال المؤمنين وكاتب وحي رب العالمين۔

وہ (معاویہ)خال المؤمنین اور اللہ تعالیٰ کی وحی کےکاتب تھے۔

[موسوعة مواقف السلف في العقيدة ج۱ص۲۸۸شاملہ]

آنے والی سطور میں اس حوالے سے  ۳۰سلف  صالحین کی عبارات بمع حوالہ پیش خدمت ہیں۔

(۱)اہل بیت کےچشم وچراغ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ  فرماتے:  وكان يكتب الوحي ۔معاویہ  رضی اللہ عنہ کاتب وحی تھے۔

[دلائل النبوہ للبیھقی ج۶ص۲۴۳طبع دارالکتب العلمیہ وسندہ صحیح]

(۲)مشہورتبع تابعی  اور ثقہ امام معافٰی بن عمران (المتوفیٰ۱۸۵۔۱۸۶ھ) فرماتے ہیں:

معاوية صاحبه وصهره وكاتبه وأمينه على وحي الله عز وجل۔

معاویہ نبی اکرمﷺ کے صحابی،سسرالی رشتیدار(یعنی سالے)، آپﷺ کے کاتب  اور اللہ کی وحی  کے سلسلے میں آپﷺکے امین تھے۔

[تاريخ بغدادج۱ص۲۲۴ت ۴۸ط دار الكتب العلمية، تاريخ دمشق ج۵۹ص۲۰۸ت ط دار الفكر وسندہ صحیح]

(۳)امام اہل سنت ابوعبداللہ احمدبن حنبل الشیبانی رحمہ اللہ  (المتوفی۲۴۱ھ)

ابوالحارث احمدبن محمدالصائغ رحمہ اللہ  فرماتے ہیں کہ ہم نے امام احمد رحمہ اللہ  سے بذریعہ خط پوچھاکہ آپ اس شخص کے متعلق کیا  کہتے  ہیں جس کا یہ دعوی ہوکہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی اور خال المؤمنین نہیں مانتا  تو امام صاحب نے دوٹوک الفاظ میں فرمایا:

هذا قول سوء رديء، يجانبون هؤلاء القوم، ولا يجالسون، ونبين أمرهم للناس۔

یہ انتہائی بری اور ردی بات ہے،ایسے لوگوں سے کنارہ کشی کی جائے، ان کی مجلس اختیار کرنے سے باز رہاجائے اور انکی گمراہیوں سے لوگوں کو واقف کیا جائے۔

[السنة لابی بکر بن خلال ج۲ص۴۳۴ رقم۶۵۹ط دار الراية  الرياض وسندہ حسن]

(۴)امام ابوبکرمحمدبن حسین الآجری رحمہ اللہ  (المتوفی۳۶۰ھ) لکھتے ہیں:

معاوية رحمه الله كاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم على وحي الله عز وجل وهو القرآن بأمر الله عز وجل۔

یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کی طرف سے وحی قرآن کو لکھنے والے تھے۔[الشريعة ج۵ص۲۴۳۱ط دار الوطن الرياض]

(۵)امام ابومحمد علي بن احمد بن سعيد بن حزم الظاہری رحمہ اللہ  (المتوفیٰ۴۵۶ھ) سیدنامعاویہ اورزید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

فكانا ملازمين للكتابة بين يديه، صلى الله عليه وسلم، في الوحي وغير ذلك، لا عمل لهما غير ذلك۔

اللہ کے نبیﷺنے ان دونوں کو صرف وحی اور اس کے علاوہ(خطوط وغیرہ)لکھنےکے لیے رکھاہواتھا،اس(کتابت)کے علاوہ ان کے ذمہ کوئی اور کام نہیں تھا۔

[جوامع السيرة ج۱ص۲۷ط دار المعارف مصر]

(۶)امام ابومنصورمعمربن احمد اصبھانی رحمہ اللہ  (المتوفیٰ۴۲۸) اہل سنت کا اجماعی عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وأن معاوية بن أبي سفيان كاتب وحي الله وأمينه، ورديف رسول الله صلى الله عليه وسلم  وخال المؤمنين رضي الله عنه۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی کی وحی کا کاتب وامین،نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک ہی سواری پر سفر کرنے اورخال المؤمنین(مومنوں کے ماموں)ہونے کاشرف حاصل ہے۔

[الحجة في بيان المحجة للامام اسماعيل بن محمد بن الفضل الاصبھانی ج۱ص۲۴۸ط دار الراية وسندہ صحیح]

(۷)امام ابو عمر يوسف بن عبد الله  بن عبدالبرالاندلسی رحمہ اللہ  (المتوفیٰ۴۶۳ھ)فرماتے ہیں:

وهو أحد الذين كتبوا لرسول الله صلَّى اللَّهُ عليْه وسلَّم۔

آپ رضی اللہ عنہ ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں رسول اللہﷺ کےکاتب وحی ہونے کا شرف حاصل ہے۔

[الاستیعاب في معرفة الاصحاب ج۳ص۱۴۱۶ت۲۴۳۵ط دار الجيل بيروت]

(۸)امام ابوبکراحمدبن علی بن ثابت بن مھدی،خبیب بغدادی رحمہ اللہ  (المتوفیٰ۴۶۳ھ) فرماتے ہیں:

واستكتبه النبي صلى الله عليه وسلم۔

نبی اکرمﷺنے انہیں کتابت وحی کاکہا۔

[تاريخ بغداد ج۱ص۲۲۲ت۴۸ط دارالکتب العلمیہ]

(۹)ابو القاسم علي بن الحسن ،ابن عساکر رحمہ اللہ  (المتوفی۵۷۱ھ) فرماتے ہیں:

 خال المؤمنين وكاتب وحي رب العالمين۔

معاویہ خال المؤمنین(مومنوں کے ماموں) اور رب العالمین کی وحی کو لکھنے والے ہیں۔

[تاریخ دمشق ج۵۹ص۵۵ت۷۵۱۰ط دار الفكر]

مزیدفرماتے ہیں:

وأصح ما روي في فضل معاوية حديث أبي حمزة عن ابن عباس أنه كاتب النبي صلى الله عليه وسلم فقد أخرجه مسلم في صحيحه۔

سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں سب سے صحیح حدیث ابوحمزہ کی حدیث ہے کہ سیدناعبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں معاویہ کاتب رسولﷺتھے،اس روایت کوامام مسلم نے اپنی صحیح میں درج کیاہے۔[ج۵۹ص۱۰۶]

(۱۰)ابو الفرج عبد الرحمن بن علي ابن  الجوزي رحمہ اللہ  (المتوفی ٰ۵۹۷ھ) لکھتے ہیں :

كان معاوية كاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم۔

معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے کاتب تھے۔

[تلقيح فهوم أهل الأثر ج۱ص۳۳۳،ط بيروت]

ایک اورمقام پرامام ابن الجوزی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

واستكتبه النبي صلى الله عليه وسلم۔

نبی اکرمﷺنے انہیں کتابت وحی کاکہا۔[المنتظم في تاريخ الامم والملوك ج۵ص۱۸۵ط دارالکتب العلمیہ]

کاتبین وحی کاتذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وقد كتب الوحي اثنا عشر رجلا: ابو بكر وعمر وعثمان وعلي وأبي بن كعب وزيد ومعاوية وحنظلة بن الربيع وخالد بن سعيد بن العاص وأبان بن سعيد والعلاء بن الحضرمي۔

بارہ آدمی وحی لکھنے کا کام کرتے تھے۔ابو بكر ،عمر،عثمان ،علي ،ابي بن كعب ،زيد ،معاويہ ،حنظلہ بن ربيع ،خالد بن سعيد بن العاص ،ابان بن سعيد ،علاء بن حضرمي۔

[كشف المشكل من حديث الصحيحين ج۲ص۹۶،ط دار الوطن الرياض]

تنبیہ:امام ابن الجوزی رحمہ اللہ  کے متعلق بعض ناصبیوں کا یہ کہناکہ وہ معاویہکی فضیلت کے قائل نہیں تھے غلط ہے مندرجہ بالا تین عبارات سے ان کی اس بات کی تردید ہورہی ہے،باقی امام صاحب نے جو  امیرمعاویہکے بیٹے   یزید  پر جرح کی ہے اس کا یہ قطعامطلب نہیں کہ وہ معاویہ کے فضائل ومناقب کے منکر ہیں ناصبیوں کو ائمہ دین کے بارے میں اس طرح کی الزام تراشی سے اللہ کا خوف کرنا چاہیے۔

(۱۱)شیخ الاسلام،فاتح رافضیت امام ابو العباس احمد بن عبد الحليم بن عبد السلام،ابن تیمیہ الحرانی رحمہ اللہ  (المتوفیٰ۷۲۸ھ) امیرمعاویہکے فضائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وكان يكتب الوحي، فهو ممن ائتمنه النبي صلى الله عليه وسلم على كتابة الوحي۔

اور وہ(معاویہ)  وحی لکھاکرتے تھے پس وہ ان حضرات میں سے تھے جن کو نبی اکرمﷺنے کتابت وحی پر امین مقرر کیاتھا۔[منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية ج۷ص۴۰،ط جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامية]

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:وكان أمينا عنده يكتب له الوحي۔

یعنی امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺکے نزدیک امانتدار تھےاوران پرنازل ہونے والی وحی لکھا کرتے تھے۔

[مجموع الفتاوى ج۴ص۴۷۲،ط المدينة النبوية]

اور اسی طرح جب دشمنان صحابہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے کاانکارکیاتو شیخ الاسلام نے قلم کوجنبش دیتے ہوئے لکھا:

فهذا قول بلا حجة ولا علم فما الدليل على أنه لم يكتب له كلمة واحدة من الوحي وانما كان يكتب له رسائل؟۔

روافض کی یہ بات علم ودلیل سے کوری ہے،(جواب دو!کہ)اس بات پر کیادلیل ہے کہ سیدناامیرمعاویہ نے صرف خطوط لکھے ہیں،وحی کا ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔

[منهاج السنة النبوية ج۴ص۴۲۷،باب الرد على مزاعم الرافضي عن معاوية،ط جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامية]

(۱۲)مؤرخ اسلام ومفسرقرآن امام ابوالفداء اسماعيل بن عمر بن كثير دمشقی رحمہ اللہ  (المتوفیٰ۷۷۴ھ)فرماتے ہیں:

والمقصود منه أن معاوية كان من جملة الكتاب بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم الذين يكتبون الوحي۔

ہمارابتانے کا مقصد یہ ہے کہ امیرمعاویہان جملہ کاتبین وحی میں سے ہیں،جوکتابت وحی کافریضہ سرانجام دیاکرتےتھے۔

[البداية والنهاية ج۸ص۱۱۹،ط دار الفكر]

(۱۳)امام ابومحمدعبد الله بن احمد بن محمد بن قدامہ المقدسی رحمہ اللہ  (المتوفیٰ۶۲۰ھ) مسلمانوں کا عقیدہ بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

ومعاوية خال المؤمنين، وكاتب وحي الله، أحد خلفاء المسلمين رضي الله عنهم۔

سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ خال المؤمنین(مومنوں کے ماموں)،اللہ کی وحی کے کاتب اورمسلمانوں کے خلیفہ تھے۔[لمعۃ الاعتقاد ص۴۰]

(۱۴)ابو عبد الله حسین بن ابراہیم الھمذاني رحمہ اللہ  (المتوفٰی۵۴۳ ھ) فرماتے ہیں:

اعلم  أن معاوية خال المؤمنين، وكاتب الوحي المبين، المنزل من عند رب العالمين، على رسوله محمد۔

معلوم ہوناچاہیے کہ معاویہمومنوں کے ماموں اوراللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی وحی(قرآن) کو لکھنے والے تھے۔

[الاباطيل والمناكيرج۱ص۳۵۶،ط دار الصميعي]

(۱۵)ابو الحسن علي بن بسام الشنتريني رحمہ اللہ  (المتوفٰی۵۴۲ھ) فرماتےہیں:

معاوية بن ابي سفيان كاتب الوحي وصهره عليه السلام ورديفه۔

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کاتب وحی،نبی اکرمﷺ کےسسرالی رشتیدار(سالے)اور آپﷺکے ساتھ ایک ہی سواری پر سفر کرتے تھے۔

[الذخيرة في محاسن اهل الجزيرة ج۱ص۱۱۰،ط الدار العربية للكتاب]

(۱۶)ابو عبد الله محمد بن احمد بن عثمان الذھبی رحمہ اللہ  (المتوفیٰ۷۴۸ھ) فرماتے ہیں:

 وقد صح عن ابن عباس قال۔۔۔وكان يكتب الوحي۔

یعنی ابن عباس سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے  وہ فرماتےہیں۔۔۔معاویہ وحی لکھاکرتےتھے۔

[تاریخ اسلام ج۲ص۵۴۰ت۹۵،ط دار الغرب الاسلامي]

(۱۷)ابو عمرو خليفہ بن خياط رحمہ اللہ  (المتوفٰی۲۴۰ھ)کہتے ہیں:

 كتب له معاوية بْن ابي سفْيان۔معاویہ بن ابی سفیان آپﷺکے پاس کتابت کا کام کرتے تھے۔

[تاريخ خليفة بن خياط ص۹۹،ط مؤسسة الرسالة]

(۱۸)امام ابو زكريا يحيى بن شرف النووي رحمہ اللہ  (المتوفی۶۷۶ھ) فرماتے ہیں:

وكان احد الكتاب لرسول الله صلى الله عليه وسلم۔

آپ رضی اللہ عنہ ان خوشنصیبوں میں سے تھے جنہیں رسول اللہﷺ کےکاتب وحی ہونے کا شرف حاصل ہے۔

[تھذیب الاسماء واللغۃ ج۲ص۱۰۱،ط دار الكتب العلمية]

(۱۹)ابو الفضل احمد بن علي بن محمدبن حجر العسقلانی رحمہ اللہ  (المتوفیٰ۸۵۲ھ)فرماتے ہیں:

 صحابي أسلم قبل الفتح وكتب الوحي۔

[تقریب  التھذیب ص۹۵۴ت۶۸۰۶بتحقیق الشیخ ابی الاشبال ط دارالعاصمۃ]

دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:وهذا معاوية بن أبي سفيان يكتب الوحي۔

یہ معاویہوہ ہیں جو کاتب وحی تھے۔

[لسان الميزان ج۵ص۹۵ت۴۶۱۹،بتحقیق ابی غدہ]

(۲۰)ابواسحاق ابراہیم الشاطبی رحمہ اللہ  (المتوفٰی۷۹۰ھ) فرماتے ہیں:

وذكر أهل السير أنه كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم كتاب يكتبون له الوحي وغيره منهم عثمان وعلي ومعاوية والمغيرة بن شعبة وأبي بن كعب وزيد بن ثابت وغيرهم۔

سیرت نگاروں نے یہ بات بیان کی ہےکہ رسول اکرمﷺکے کئی کاتب تھے جو آپ کے لیے وحی وغیرہ لکھا کرتے تھے انہی میں سے عثمان،علی،معاویہ،مغیرہ بن شعبہ،ابی بن کعب اورزیدبن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں۔[الاعتصام ج۱ص۳۱۸،ط دار ابن الجوزي]

(۲۱)شارح بخاری ابو حفص عمر بن علي،ابن الملقن رحمہ اللہ  (المتوفی۸۰۴ھ)فرماتے ہیں:

اما معاوية فهو خال المؤمنين، ابو عبد الرحمن بن ابي سفيان صخر بن حرب الخليفة الاموي كاتب الوحي، أسلم عام الفتح۔

سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ مومنوں کے ماموں ابوعبدالرحمان بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ،اموی خلیفہ،کاتب وحی فتح مکہ والے سال مسلمان ہوئے۔[التوضيح ج۳ص۳۴۳،ط دار النوادر۔دمشق]

(۲۲)امام احمد بن محمد بن ابى بكر بن عبد الملك قسطلاني رحمہ اللہ  (المتوفٰی۹۲۳ھ)امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں:

وهو مشهور بكتابة الوحى۔

وہ کتابت وحی کے ساتھ مشہور تھے۔[المواهب اللدنية بالمنح المحمدية ج۱ص۵۳۳،ط المكتبة التوفيقية]

نیز لکھتے ہیں:كاتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه وسلم- ذا المناقب الجمة۔

آپ رضی اللہ عنہ رسول اکرمﷺکے کاتب اور بےشمارمناقب ومراتب کے مالک تھے۔

[ارشاد الساري لشرح صحيح البخاري ج۱ص۱۷۰،ط مصر]

(۲۳)عبد الرحمن بن ابي بكر السیوطی رحمہ اللہ  (المتوفٰی۹۱۱ھ)لکھتے ہیں:وكان أحد الكتاب لرسول الله صلى الله عليه وسلم۔آپ رضی اللہ عنہ رسول اکرمﷺکے کاتب تھے۔

[تاريخ الخلفاء ج۱۴۸،ط مكتبة نزار مصطفى الباز]

(۲۴)ابو الحسين محمد بن محمد، ابن ابي يعلى رحمہ اللہ  (المتوفٰی۵۲۶ھ) فرماتےہیں:

ومعاوية  خال المؤمنين، وكاتب وحي رب العالمين۔

معاویہ مومنوں کے ماموں اوراللہ تعالی کی وحی(قرآن) کو لکھنے والے تھے۔

[الاعتقاد لابن أبي يعلى ص۴۳،ط دار اطلس الخضرا]

(۲۵)امام احمد بن محمد بن علي بن حجر ہیثمی رحمہ اللہ  (المتوفٰی۹۷۴)امیرمعاویہ کادفاع کرتے ہوئےلکھتے ہیں:

خال المؤمنين أجمعين كاتب الوحي۔وہ تمام مومنوں کے ماموں اور کاتب وحی ہیں ۔

[الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة ج۲ص۷۰۸،ط مؤسسة الرسالة]

(۲۶)ابو عبد الله محمد بن عبد الملک الانصاری رحمہ اللہ  (المتوفٰی۷۰۳ھ)امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھتے ہیں:

وكاتب الوحْي عنه وخال المؤمنين رضي الله عنهم۔

وہ کاتب وحی اور مومنوں کے ماموں ہیں۔

[الذيل والتكملة لكتابي الموصول والصلة ج۱ص۶۰۵،ط دار الغرب الإسلام]

(۲۷)ابوعبداللہ محمدبن محمد،ابن عذاري المراكشي رحمہ اللہ  (المتوفٰی۶۹۵ھ)امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں:

فاتخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم كاتبا للوحي۔

رسول اکرمﷺنے امیر معاویہ کو کاتب مقرر کیا تھا۔

[البيان المغرب ج۱ص۹،ط دار الثقافة]

(۲۸) علامہ  ابن العماد الحنبلی رحمہ اللہ  (المتوفٰی۱۰۸۹) امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کےبارے میں لکھتے ہیں:

وهو أحد كتبة الوحي۔

وہ کاتبین وحی میں سے ایک تھے۔

[شذرات الذهب ج۱ص۲۷۰،ط دار ابن كثير]

(۲۹)علامہ محمود بن احمد  العینی رحمہ اللہ  (المتوفٰی۸۵۵ھ)لکھتے  ہیں:معاوية بن أبي سفيان صخر بن حرب الأموي كاتب الوحي أسلم عام الفتح۔

[عمدة القاري ج۲ص۴۹،ط دار إحياء التراث العربي،مغاني الأخيار ج۳ص۵۵۵،ت۶۰۱ط دار الكتب العلمية]

(۳۰)محمد بن اسعد الصديقي الدوانيؒ(۹۱۸ھ)لکھتے ہیں: وكان معاوية كاتب وحيه ۔

معاویہ کاتب وحی تھے۔

[الحجج الباهرة ص۱۳۲،ط مكتبة الامام البخاري]

ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ سیدنامعاویہ  رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی اور خال المؤنین ہونے پر اسلاف امت کا اتفاق ہے۔

کتب شیعہ سے ثبوت

مذہب شیعہ کی درج ذیل معتبر کتب میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی تسلیم کیا گیاہے۔

معاني الاخبار ص۳۴۶،طبع دارالمعرفہ

معانی الاخبار اردو مترجم ج۲ص۳۹۳۔۳۹۴،طبع کراچی

الإحتجاج للطبرسی ج۱ص۲۳۹،ط انتشارات الشریف الرضی

 شرح نهج البلاغة لابن ابي الحديد ج۱ص۲۳۸

اوراسی طرح دورحاضر کا بہت بڑا فتنہ اور نیم شیعہ انجنیئر محمدعلی مرزا نے بھی اپنے لیکچر میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی  کہاہے۔

مرزا کے کسی چاہنے والے نے  بھی امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کوکاتب وحی تسلیم کیاہے۔[خال المؤمنین  ایک صحابی اورکاتب وحی ص۲۷]

About محمدابراھیم ربانی

Check Also

الصلاۃ خیر من النوم کے الفاظ کس اذان میں  ؟

الصلاۃ خیر من النوم کے الفاظ کس اذان میں کہنے چاہئیں ؟ اس بارے میں …

جواب دیجئے