بکھرے موتی

سلف صالحین اور اصلاحِ نفس :

* امام ابومحمدعبداللہ بن وہب بن مسلم الفہری المتوفی (۱۹۷ھ) فرماتے ہیں :
نَذَرْتُ أَنِّيْ كُلَّمَا اغْتَبْتُ إِنْسَانًا أَنْ أَصُوْمَ يَوْماً فَأَجْهَدَنِيْ فَكُنْتُ أَغْتَابُ وَأَصُوْمُ فَنَوَيْتُ أَنِّيْ كُلَمَّا اغْتَبْتُ إِنْسَاناً أَنْ أَتَصَدَّقَ بِدِرْهَمٍ فَمِنْ حُبِّ الدَّرَاهِمِ تَرَكْتُ الْغِيْبَةَ .
’’ میں نے نذر مانی کہ میں جب بھی کسی انسان کی غیبت کروں گا تو ایک دن روزہ رکھوں گا پس (روزں کی کثرت)نے مجھے کمزور کردیا پھر بھی میں غیبت کرلیتا تھا اور روزے بھی رکھتا تھا پھر میں نے نیت کرلی کہ میں جب کسی کی غیبت کروں گا تو ایک درہم صدقہ کروں گا پس درہموں کی محبت کی وجہ سے میں نے غیبت کرنا چھوڑ دی ‘‘
(الارشاد فی معرفة علماءالحدیث للخلیلی ۱/۴۰۵ طبع مکتبہ الرشد الریاض ،وسندہ صحیح)
یہ اثر نقل کرنے کے بعد حافظ شمس الدین الذہبی (م ۷۴۸ھ)فرماتے ہیں :
هٰكَذَا وَاللهِ كَانَ الْعُلَمَاءُ وَهَذَا هُوَ ثَمَرَةُ الْعِلْمِ النَّافِعِ
’’ اللہ کی قسم ! علماء اس طرح کے ہوتے تھے اور یہ علم نافع کا پھل ہے ۔(سیر اعلام النبلاء ۹/۲۲۸ طبع الرسالہ بیروت )

استاد کا احترام :

* امام شعبہ بن حجاج بن ورد العتکی المتوفی(۱۶۰ھ) فرماتے ہیں:
«كُلُّ مَنْ سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيْثًا فَأَنَا لَهُ عَبْدٌ»
’’ ہر وہ شخص جس سے میں نے ایک حدیث سنی میں اس کا غلام ہوں ‘‘
(حلیة الاولیاء ۷/۱۴۸ طبع قاہرہ ،جامع بیان العلم ۱/۲۵۲ طبع بیروت وسندہ حسن)

باصلاحیت شاگرد:

* امام یحیی بن سعید بن فروخ القطان التمیمی المتوفی (۱۹۸ھ) اپنے شاگرد ابوالحسن مسدد بن مسرہد الاسدی المتوفی (۲۲۸ھ)کے بارے میں فرماتے ہیں:
لَوْ أَتَيْتُ مُسَدِّدًا فِيْ بَيْتِهِ فَحَدَّثْتُهُ لَكَانَ يَسْتَأْهِلُ.
’’ اگر میں مسدد کے گھر جاکر بھی انکو حدیثیں بیان کروں تو وہ اس کے اہل ہیں ‘‘
(الجرح والتعدیل ۸/۵۰۰ ،التاریخ الکبیر للبخاری ۷/۳۷۶ طبع دارالکتب العلمیہ بیروت وسندہ صحیح)

استاد کے تقوی سے استفادہ:

* امام ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد ابن الجوزی المتوفی (۵۹۷ھ) اپنے استاد ابوالبرکات الانماطی المتوفی (۵۳۸ھ) کے بارے میں فرماتے ہیں:
وَكُنْتُ أَقْرَأُ الْحَدِيثَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبْكِي، فَاسْتَفَدْتُ بِبُكَائِهِ أَكْثَرَ مِنِ اسْتِفَادَتِي بِرِوَايَتِهِ.
’’ میں انکے پاس حدیثیں پڑھتا تھا اور وہ رونا شروع کردیتے تھے میں نے ان سے انکی روایتوں سے زیادہ انکے رونے کی وجہ سے استفادہ کیا ‘‘
(مشیخة ابن الجوزی ص۸۶ طبع دارالغرب الاسلامی بیروت)

اہل بدعت کی موت پر خوشی کا اظہار:

* امام ابوعمرو عبادة بن نسی الکندی المتوفی (۱۱۸ھ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ:
إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي هِشَامًا قَدْ قَطَعَ يَدَيْ غَيْلَانَ وَرِجْلَيْهِ، وَصَلَبَهُ
’’بیشک امیرالمومنین ہشام (بن عبدالملک) نے غیلان کے دونوں ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور اسکو سولی پے لٹکا دیا ‘‘
یہ خبر سن کر وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا :
أَصَابَ وَاللَّهِ فِيْهِ الْقَضَاءَ وَالسُّنَّةَ لَأَكْتُبَنَّ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَأُحَسِّنَنَّ لَهُ رَأْيَهُ
’’ اللہ کی قسم انہوں نے درست فیصلہ کیا ہے میں ضرور امیرالمومنین کو خط لکھوں گا اور انکے اس کام پر تعریف کروں گا‘‘
(تاریخ ابی زرعة الدمشقی ص ۳۷۰ طبع دمشق ،کتاب الشریعة للآجری ص ۲۴۳ طبع کویت ،وسندہ صحیح)
* امام ابوالفداء اسماعيل بن عمر بن كثير القرشي المتوفی (۷۷۴ھ) رافضی بدعتی ’’ یزدن بن قماج الترکی ‘‘کے بارے میں فرماتے ہیں:
وَحِيْنَ مَاتَ فَرِحَ أَهْلُ السُّنَّةِ بِمَوْتِهِ فَرْحًا شِدِيْدًا وَأَظْهَرُوْا الشُّكْرَلله فِلَا تَجِدُ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا يَحْمَدُ اللهَ فَغَضِبَ الشِّيْعَةُ مِنْ ذَلِكَ وَنَشَأَتْ بَيْنَهُمْ فِتْنَة ٌبِسَبَبِ ذَلِكَ .
’’ جب وہ مرگیا تو اہل سنت اس کی موت کیوجہ سے بہت زیادہ خوش ہوئے اور اللہ تعالی کا شکر کیا ان میں سے ہر شخص اللہ کی حمد بیان کرنے لگا اسی بات پر شیعہ کو غصہ آیا اور انکے درمیان اسی وجہ سے فتنہ برپا ہوگیا ‘‘
(البدایہ والنہایہ ۱۴/۲۲۸ طبع دارابن کثیر بیروت)
تنبیہ: غیلان بن ابی غیلان متعصب قدری بدعتی تھا حافظ ذہبی (م۷۴۸ھ) فرماتے ہیں :
غَيْلَانُ بْنُ أَبِيْ غَيْلَانَ الْمَقْتُوْلُ فِي الْقَدْرِ ضَالٌّ
’’ غیلان بن ابی غیلان انکار تقدیر کیوجہ سے قتل کیا گیا تھا گمراہ تھا‘‘
(میزان الاعتدال ۵/۴۰۸ برقم ۵۶۶۴ طبع دارالکتب العلمیہ بیروت)
اور ’’ یزدن بن قماج الترکی ‘‘ متعصب رافضی بدعتی تھا حافظ ابن کثیر (م۷۷۴ھ) فرماتے ہیں:
كَانَ رَافِضِيًّا خَبِيْثًا مُتَعَصِّبًا لِلرَّوَافِضِ
’’ پلید رافضی تھا اور رافضیوں کے حق میں متعصب تھا ‘‘
(البدایہ والنہایہ ۱۴/۲۲۸ طبع دارابن کثیر بیروت)

علماء اور بڑوں کا احترام:

* امام عامر بن شراحیل الشعبی المتوفی (۱۰۷ھ) فرماتے ہیں کہ:
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس خچر لایا گیا وہ اس پر سوار ہونے لگے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے زین کے لٹکے ہوئے حصے (جس میں سوار اپنا پاؤں رکھتا ہے) کو پکڑا تاکہ زید رضی اللہ عنہ سوار ہوں تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی! آپ اس کو چھوڑ دیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
هَكَذَا يُفْعَلُ بِالْعُلَمَاءِ وَالْكُبَرَاءِ

’’علماء اور بڑوں کا اس طرح احترام کیا جاتا ہے‘‘
(طبقات ابن سعد ۲/۲۷۵ دارالکتب العلمیہ بیروت،الفقیہ والمتفقہ ۲/۱۹۷دارابن الجوزی بیروت ،جامع بیان العلم وفضلہ ۱/۲۵۳ دارابن حزم بیروت وسندہ صحیح)

About ابو انیس عبدالجباراظہر

جواب دیجئے