Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ جنوری » ایک پروقار تقریب

ایک پروقار تقریب

جمعیت اہلحدیث حیدرآباد کے تحت قائم مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث پکا قلعہ میں ششماہی امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام ربانی سے ہوا۔ اس کے بعد ناظم مدرسہ ھذا محمد اشرف میمن نے مدرسہ کے طلباء اور انکے والدین سے مختصر خطاب کیا۔ اور تمام طلبا کو سبق آموز نصیحتیں کیں۔ والدین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ایسے فتنے کے دور میں جہاں شرک و بدعت عام ہے ، آپ اپنے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم کے لیئے وقف کر دیتے ہیں۔ اگر بچوں نے قرآن کریم کی تعلیم پر مکمل عمل کیا تو نہ صرف یہ خود اپنے لئے بلکہ اپنے والدین کے لیئے بھی نجات کا ذریعہ بنیں گے۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو پڑھا جائے پھر سمجھا جائے پھر عمل کیاجائے۔ پھر اسکو دوسروں تک پہنچایا جائے۔ طلباء کو مزید نصیحتیں کرتے ہوئے کہا:
چھالیہ یااس سے ملتی جلتی چیزوں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیئے۔ موبائل فون کا استعمال صرف ضرورت تک محدود رکھیں ۔ سادہ موبائل کا استعمال کریں۔وقت پر مدرسہ میں حاضر ہوجائیں۔بلا ضرورت چھٹیوں سے پرہیز کریں۔اپنی بھرپور توجہ پڑھائی پر دیں۔ بے جا اور لغو بات سے پرہیز کریں۔اپنے کردار کوعمدہ بنائیںتاکہ دوسروں کے لئے اچھی مثال بن جائیں۔ والدین سے بھی گذارش ہے کہ اپنے بچوں پر تربیت کے حوالے سے نظر رکھیں۔
ناظم مدرسہ نے جماعت کے حوالے وضاحت کی کہ الحمداللہ مدرسہ تعلیم القرآن پکا قلعہ کے اخراجات سالانہ تقریباً 8 لاکھ روپیہ ہے۔ یہ تمام اخراجات جمعیت اہلحدیث حیدرآباد کے بیت المال سے پورے کئے جاتے ہیں۔ جماعت کے بیت المال کو مضبوط بنانااور تعاون کرنا جماعتی احباب کی ذمہ داری ہے تاکہ جماعت کے تمام شعبہ جات بھر پور انداز میں اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ جسکا اجر رب العالمین دنیا اور آخرت میں ضرور عطا فرمائے گا۔ آخر میں اشرف میمن نے کہا کہ میری اور آپکی نجات کا واحد ذریعہ قرآن کریم اور احادیث کی تعلیم پر مکمل عمل کرنے میں ہی ہے لہذا اپنے آپ کو ہمیشہ دین کی تعلیمات سے وابستہ رکھیئے ان شاء اللہ دنیا اور آخرت میں سر خرو ہونگے۔ اس تقریب میں نائب ناظم مدرسہ الیاس انصاری اساتذہ حافظ رضوان علی، حافظ عبدالکریم الحداد ، حافظ رضوان انصاری، حافظ غلام مصطفی، حافظ عمیر شر بلوچ اور خادمین میں امداد جمالی، کامران جمالی، غلام مصطفی، اور سراج قمبرانی بھی موجود تھے۔

About ارشد شیخ

جواب دیجئے