بدیع التفاسیر

قسط نمبر :211

اِمَّامکسورہ مشددہ: امام سیبویہ کےنزدیک یہ دراصل دوحروف اِن اور مَا سے مرکب ہے، پانچ معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے:(۱) بمعنی شک جیسے:جاءنی امازید واماعمرو،اس وقت کہتے ہیںکہ جب آنے ولے کے بارے میں پوری خبر(معلومات) نہ ہو۔(۲) ابہام کیلئے جیسے: [وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللہِ اِمَّا يُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا يَتُوْبُ عَلَيْہِمْ](التوبہ:۱۰۶) (۳)اختیار دینےکے معنی میں جیسے:[قُلْنَا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِيْہِمْ حُسْـنًا۝۸۶](الکھف:۸۶) (۴)اباحت کے معنی میں جیسے کہاجائے:تعلم اما نحوا واما فقہا.الجالس اما الحسن واما ابن سیرین.(۵)تفسیر کےلئے: [اِنَّا ہَدَيْنٰہُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا۝۳](الدھر:۳)

أو:حرف عطف ہے،متاخرین علماء نے اس کے بارہ معانی ذکر کیے ہیں:(۱)بمعنی شک جیسے:[لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ] (الکھف:۱۹) (۲)ابہام جیسے:[وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى ہُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۲۴](سبا:۲۴)(۳)اختیار دینے کےمعنی میں مگر یہ طلب کےمعنی کے بعد واقع ہوگاجیسے:تزوج ہندا او اختھا،اور بعض علماء نے کفارہ اور فدیہ والی آیات کو بھی اس کی مثال بنایا ہے کہ ان میں کئی اشیاء کا اختیار دیاگیا ہے حالانکہ ان سب کا ایک ساتھ جمع کرنا بھی ممکن ہے، امام ابن ہشام نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ(بطور کفارہ یافدیہ) کھاناکھلانا، لباس یاکپڑے دینا، اور غلام آزاد کرنا ان سب کو جمع نہیں کیا جاسکتا ، اسی طرح روزہ ،صدقہ اورقربانی سب کو ایک ساتھ شامل کرنا جائز نہیں ہے، ان میں سے کسی ایک چیز سے کفارہ یافدیہ اداہوسکتا ہے۔(۴)بمعنی اباحہ یہ بھی طلب کےبعد واقع ہوتی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب سب کا ایک ساتھ جمع کرنا جائز ہوجیسے:جالس العلماء والزھاد .لیکن اگر اس پر لانہی داخل ہوتوسب ممنوع قرارپائیں گے جیسے:[وَلَا تُطِعْ مِنْہُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا۝۲۴ۚ](الدھر:۲۴)(۵)واؤ کی طرح مطلق جمع کے لئے یہ مذہب اخفش ،جرمی اور کوفیوں کا ہے۔(۶)بل کی طرح اضراب اور گزشتہ جملہ کو ترک کےمعنی میں استعمال ہوتا ہے مگر اس کے لئے یہ شرط ہے کہ اس سے قبل نفی یا نہی ہو اورعامل کو مکررلایاجائے جیسے: ماقام زیداو ماقام عمرو(۷)تقسیم کےمعنی میں جیسے: الکلمۃ اسم او فعل او حرف ،اسے امام ابن مالک نے اپنے منظومہ صغریٰ میں ذکر کیا ہے۔(۸)بمعنی الَّا یعنی استثناء کےلئے اور اس کا مدخول مضارع منصوب ہوتا ہےکیونکہ اس سے قبل ان کو مقدر مانا جاتا ہے بعض محققین نے اس آیت کو اس کی مثال بتایاہے :[لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَۃً۝۰ۚۖ ](البقرہ:۲۳۶) مگر امام ابن ہشام اسے صحیح تسلیم نہیں کرتے اور اکثرمفسرین بھی اسی طرف گئے ہیں۔ (۹)بمعنی الی اس کا مدخول مضارع ان مقدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہوتا ہے جیسے:لالزمنک اوتقضینی حقی.(۱۰)بمعنی التقریب یعنی قریب کرنا جیسے: ماادری اسلم او دع ،اسی طرح علامہ ابوالقاسم الحریری نے ذکرکیا ہے۔(۱۱)بمعنی شرطیہ جیسے:لاضربنہ عاش او مات ای ان عاش بعد الضرب وان مات،ابن شجری سے اسی طرح منقول ہے۔(۱۲)بمعنی التبعیض جیسے:[اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى۝۰ۭ ](البقرہ:۱۱۱) ابن شجری نے بعض کوفیوں سے اسی طرح نقل کیا ہے مگر امام ابن ہشام کہتےہیں کہ میرے نزدیک ظاہرا یہاں سے مراد تفصیل ہے ۔

أَلَامفتوحہ مخففہ پانچ طرح مستعمل ہوتا ہے:(۱)تنبیہ اور اپنے مابعد کوثابت کرنے کےلئے آتا ہے اور پانچ جملوں پرداخل ہوتا ہے جیسے:[اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْہِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْہُمْ] (ھود:۸) (۲) تنبیہ،توبیخ اور انکار(۳)تمنی اور ترجی (۴)نفی سے استفہام

فائدہ: مذکورہ اقسام میں سے آخری تین خاص جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں۔

(۵)عرض وتحضیض دونوں میں طلب کا معنی ہوتا ہے مگر عرض میں طلب نرمی کے ساتھ ہوتی ہے اور تحضیض میں طلب شوق دلانے اور تیار کرنے (ترغیب) کے ساتھ ہوتی ہے، اس قسم کا ’’ألا‘‘خاص جملہ فعلیہ پرداخل ہوتاجیسے:[اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَكُمْ۝۰ۭ ] (النور:۲۲)[اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَہُمْ] (التوبۃ:۱۳)

اِلَّامکسورہ مشددہ: چاروجوہ سے مستعمل ہے۔(۱)استثناء جیسے : [فَشَرِبُوْا مِنْہُ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْہُمْ](البقرۃ:۲۴۹) صحیح قول کےمطابق قلیلاکامنصوب ہونااِلَّاکی وجہ سے ہے اور آیت:[اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ۝۰ۭ](النساء:۶۶)میںقلیل کے مرفوع کےبارے بصریوں کا کہنا ہے کہ یہ فعلوہ کی ضمیر سے بدل البعض ہے۔

(۲)صفت بمنزلہ غیر کے ہوتی ہے جیسے:[لَوْ كَانَ فِيْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا۝۰ۚ](الانبیاء:۲۲)اس جگہ الابمعنی استثناء نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں ترجمہ غلط ہوگا کہ :اگر زمین وآسمان کے علاوہ دوسرے الٰہ ہوتے توزمین وآسمان فسادکے ساتھ برباد ہوجاتےجس کا نعوذباللہ یہ مطلب نکلے گا کہ جب الٰہوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھی ہوتو پھرفساد برپانہیں ہوتا اور یہ بات صریحاکفر وشرک ہے اس لئے یہاں اِلّاصفت بمعنی غیر کے ہے اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ: اگر اللہ تعالیٰ کاغیر کوئی الٰہ ہوتاتوفساد برپاہوجاتا اور نظامِ کائنات برقرار نہ رہ سکتا۔

(۳)عاطفہ بمعنی واؤ لفظا ومعنا جیسے ائمہ نحواخفش ،فراءاور ابوعبیدہ نے ذکر کیا ہے بطور مثال وہ ان آیات کو پیش کرتےہیں:[لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــۃٌ۝۰ۤۙ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ۝۰ۤ](البقرہ:۱۵۰) یعنی بمنی والذین ظلموا:[اِنِّىْ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُوْنَ۝۱۰ۤۖ](النمل:۱۰) یعنی ومن ظلم،مگر جمہور کےنزدیک یہ مقامات مستثنی منقطع کے ہیں۔(۴)زائدہ جیسے اصمعی، ابن جنی اور ابن مالک نےبیان کیا ہے۔

اِیْ مکسورہ: یہ حرف جواب بمعنی نعم ہے، خبر کی تصدیق اور خبر معلوم کرنے والے کو بتانے کے لئے آتا ہے اور قسم سے پہلے واقع ہوتا ہے اور بقول ابن حاجب استفہام کے بعد آتا ہے جیسے:[وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ۝۰ۭؔ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّ۝۰ۭۚؔ ](یونس:۵۳)

اَیٌّ: ھمزہ کے فتحہ اور ی مشددہ کے ساتھ، یہ پانچ طرح سے استعمال ہوتا ہے:(۱)شرط،جیسے:[اَيَّمَا الْاَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ۝۰ۭ](القصص:۲۸) (۲)استفہام،جیسے:[اَيُّكُمْ زَادَتْہُ ہٰذِہٖٓ اِيْمَانًا](التوبہ:۱۲۴) (۳)موصول، جیسے:[ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَۃٍ اَيُّہُمْ اَشَدُّ عَلَي الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا۝۶۹ۚ] (مریم:۶۹) یعنی لننزعن الذی ھو اشد، اسی طرح سیبویہ کاکہنا ہے مگر کوفی اور کئی بصری اس کے خلاف ہیںا ورزجاج کہتےہیں کہ مجھے سیبویہ کی صرف دوغلطیاں نظر آتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے۔(۴)ای کمال کےمعنی پر دلالت کرتا ہے اس حالت میں نکرہ کے لئے صفت واقع ہوتا ہے جیسے:زید رجل ای رجل(۵)منادی معرف باللام کوملانے کےلئے جیسے: یٰاَیُّھَاالرسول .

اِذْ:یہ صرف چار طرح سے مستعمل ہوتا ہے:(۱)زمانہ ماضی کے لئے اسم ہوکرواقع ہواس کی چارحالتیں ہیں:1ظرف اکثر یہی ہوتا ہے جیسے:[فَقَدْ نَــصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا] (التوبہ:۴۰) 2مفعول بہ جیسے:[وَاذْكُرُوْٓا اِذْ كُنْتُمْ قَلِيْلًا فَكَثَّرَكُمْ](الاعراف:۸۶) 3مفعول سے بدل واقع ہو جیسے: [وَاذْكُرْ فِى الْكِتٰبِ مَرْيَمَ۝۰ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَہْلِہَا مَكَانًا شَرْقِيًّا۝۱۶ۙ ](مریم:۱۶) یہاں اذ لفظ سے بدل اشتمال ہے اور بعض اسے ظرف قرار دیتے ہیں، دوسری مثال جیسے:[ اذْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ](مائدہ:۲۰) 4اسم زمان کی طرف مضاف ہو اس صورت میںکہ اس کے سواء بھی آسکے یعنی اس کی ضرورت نہ ہوجیسے:یومئذ اور حینذ یا اسے اسم زمان کی ضرورت ہو اس سے مستغنی نہ ہو جیسے:[بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا] (آل عمران:۸)

فائدہ:جمہور کہتے ہیں کہ اذ صرف ظرف یامضاف الیہ کے لئے آتا ہے مذکورہ بالاآیات میں بھی ظرف واقع ہوا ہے، جس کی تقدیر اس طرح ہے:واذکروا اذ کنتم قلیلا فکثرکم  اور

واذکر فی الکتاب قصۃ مریم اذ انتبذت من اھلھا، دونوں مثالوں کےبارے میں کہتے ہیں کہ ان میں اذ مفعول محذوف کے لئے ظرف واقع ہوا ہے۔

(۲)دوسری صورت:زمانہ مستقبل کےلئے اسم واقع ہو جیسے: [يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا۝۴ۙ ](الزلزال:۴) (۳)تیسری صورت:تعلیل کے لئے جیسے: [وَلَنْ يَّنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ۝۳۹] (الزخرف:۳۹) (۴)چوتھی صورت:مناجات کےلئے جیسا کہ سیبویہ کہتےہیں اور بیننا اوربینما کےبعد واقع ہوتا ہے ۔حدیث میں ہے کہ :بینما نحن عند رسول اللہ ﷺ ذات یوم اذ طلع  علینا رجل شدید بیاض الثیاب….الحدیث ( عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، صحیح مسلم کتاب الایمان ،باب بیان الایمان والاسلام والاحسان…..ح:۸ صحیح بخاری:ح:۵۰،۴۷۷۷)

اِذَا:دومعانی کے لئے استعمال ہوتا ہے:(۱)مناجات جیسے: [فَاَلْقٰىہَا فَاِذَا ہِىَ حَيَّۃٌ تَسْعٰي۝۲۰ ](طہ:۲۰) جب مناجات کے لئے نہیں ہوتا تواکثر مستقبل کے لئے ظرف واقع ہوتا ہے اور شرط کے معنی کو متضمن ہوتا ہےاس وقت صرف جملہ فعلیہ پر داخل ہوگایعنی اذا فجائیہ کے برعکس جیسے:[ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَۃً۝۰ۤۖ مِّنَ الْاَرْضِ۝۰ۤۖ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ۝۲۵ ](الروم:۲۵) اس آیت میں پہلا اذا ظرفیہ اور دوسرا مناجاتیہ ہے، اور آیت [اِذَا السَّمَاۗءُ انْشَقَّتْ۝۱ۙ]میں اذا اسم پر اس لئے داخل ہوا ہے کہ یہاں فاعل کافعل محذوف ہے جس کی تفصیل بعد میں آنے والافعل کررہا ہے یعنی اضمار علی شریطۃ التفسیر کے باب سے ہے۔

فائدہ: اذا کبھی ظرفیہ کے معنی سے خارج ہوجاتا ہے بعض علماء نحو نے اس کے لئے یہ مثالیں پیش کی ہیں:[حَتّٰٓي اِذَا جَاءُوْہَا] (الزمر:۷۳) [اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ۝۱ۙ لَيْسَ لِوَقْعَتِہَا كَاذِبَۃٌ۝۲ۘ ](الواقعہ:۱،۲) مگر جمہور کے مذہب کے مطابق اذا ظرفی معنی سے خارج نہیں ہوتا مذکورہ آیات میں بھی ظرفی معنی کے لئے مستعمل ہے، اسی طرح کبھی اذا استقبال کے معنی سے خارج ہوجاتا ہے پھر کبھی ماضی کے معنی میں ہوتا ہے جیسے:[وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْہِ۝۰۠]

(التوبۃ:۹۲) اور کبھی حال کے لئے اس وقت قسم کے بعد واقع ہوتا ہے،جیسے:[وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى۝۱ۙ ] [وَالنَّجْمِ اِذَا ہَوٰى۝۱ۙ] اور کبھی شرط کے معنی سے بھی خارج ہوجاتا ہے جیسے:[وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ يَغْفِرُوْنَ۝۳۷ۚ ] (الشوریٰ:۳۷)

(جاری ہے)

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔ صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

مقدمہ بدیع التفاسیر

قسط نمبر : 210 اکیسویں فصل قرآن مجید میں بکثرت استعمال ہونے والے  حروف کابیان …

جواب دیجئے