Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ فروری » تکبروغرورایک مہلک مرض!

تکبروغرورایک مہلک مرض!

اسلام صرف چندرواج ورسومات کانام نہیں،نہ ہی چندعبادات ومعاملات تک محدود ہے، بلکہ یہ مکمل زندگی کے شب وروز گزارنے کا طریقہ کامل واکمل ہے،ایک مختصر سے جملہ میں ہم یوں تعبیر کرسکتے ہیں کہ یہ رب کائنات کی جانب سے نازل کردہ ایک عظیم اور مستقل ’’تہذیب‘‘ ہے، اسلام نے عقائد وعبادات کے بعد تیسرا درجہ اخلاقیات کوعطافرمایا ہے،بلکہ یہ کہاجائے تومناسب ہوگا کہ دین واخلاق کو کسی طرح الگ نہیں کیاجاسکتا، چونکہ آنحضرت ﷺ اخلاق کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز تھے:[وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۝۴]

(القلم:۴)

بے شک آپ حسن اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔

کان خلقہ القرآن.

ایک جگہ توخودآپﷺ نے ارشاد فرمایاکہ:

اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا.

(ابوداؤد:۴۶۸۲)

اور انما بعثت لاتمم صالح الاخلاق.

(الادب المفرد:۲۳۷)

یعنی میں اچھے اخلاق کی تکمیل کےلئے مبعوث کیاگیاہوں۔

دین اسلام نے اخلاق حسنہ کوپروان چڑھانے اوراخلاق رزیلہ سے اجتناب کی تلقین ہے،چونکہ یہ توازن بھی دین کے انسان مطلوب کا حسن ہےمثلا:زیرنظرموضوع سخن یعنی اسلام میں کبر، غرور، خودنمائی، تفاخر،بغض ،حسد ،کینہ،کدورت جیسے اخلاق رذیلہ کی باربار مذمت کی گئی ہے،مغرب کی مادہ پرستی نے تو انسان میں ’’شہرت کی خواہش‘‘ کوبام عروج پر پہنچادیا ہے،خود نمائی ،شہرت کی طلب بھی طلب جاہ کی طرح سیدھے سادے انسان کے دماغ کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیتی ہے،اس لئے ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ’’دوبھوکے بھیڑیئے بکریوں کے ریوڈ میں وہ تباہی نہیں مچاتے جیسی تباہی جاہ ومال کی محبت انسان کے دل میں مچاتی ہے۔‘‘غور فرمایئے کہ پاکباز،حق گو،حقیقی مسلمان کو طلب وجاہ اور خودنمائی جیسے اخلاق بد کیسے تباہ وبرباد کردیتےہیں ،طلب جاہ ،طلب مال سے بھی زیادہ خطرناک فتنہ ہے ،منصب سرکاری ہویا نجی غیر منفعت بخش اداروں کاہویا کامیاب دنیا کا ،سماجی ہو یاسیاسی ،دینی ہو یا سیکولر ایک خاص سوچ پروان چڑھاتا ہے، مگر جب خود ستائش کی تمنا دل میں گھر کرلیتی ہے تو پھر خودنمائی کا عنصر غالب آجاتا ہےپھر وہیں سے خوشامد پسندی کا معاملہ شروع ہوجاتا ہے،جس سے کبر،نمودو نمائش جیسے خصائل بدانسانی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں،پھر انسانوں کے مابین تعلقات کی بنیاد دین وانسانیت نہیں بلکہ خالص مادہ پرستی ہوتی ہے، دوستی،یاری،رشتہ داری تو ایک طرف مگر غم وخوشی کی محفلوں میں بھی شرکت کافیصلہ اسی’’اسٹیٹس‘‘ کےبنیاد پر ہوتا ہے تاآنکہ 21-20-19گریڈکی دوڑہو،یابڑے بڑےتمغوں کی طمع میں زور دار مقابلہ ہوتا ہے،پھر تجربہ شاہد ہےکہ جو شخص دوسروں کو حقیر جان کر ان کے مقابلہ میں برائی،غرور،گھمنڈ،خود پرستی کرتا ہے لوگوں کو حقیر جان کر اپنے نفس کو مقابلہ میں اچھا، اعلیٰ، اونچا، ارفع،بہتر اور برتر سمجھتا ہے اور ازراہ کبر وغرور لوگوں کو بے عزت وآبروکرتاپھرتاہے ایسے شخص کو بروز قیامت اللہ تعالیٰ چیونٹیوں کے ماند چھوٹا،حقیر اور ذلیل بنائے گا اور اہل محشرایسے متکبروں کوپاؤں میں روندیں گے اور پامال کریں گے ان گردن فرازوں، مغروروں ،سرکشوں کو میدان محشر میں سراسر ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا پھر ان ذلت کے پتلوں کو فرشتے پکڑ کر مخصوص قیدخانہ ’’بولُس‘‘ میں لے جائیں گے پھر ان پر آتشوں کی آتش یعنی جہنم کی آگ مسلط کی جائے گی ،اور پینے کےلئے ان کو ’’طینۃالخبال‘‘دیاجائے گامزید یہ کہ دوزخیوں کے بدن سے نکلا ہوا لہو اور پیپ بطورغذا دیاجائےگا۔(الامان والحفیظ)

(ترمذی:۲۴۹۲حسنہ الالبانی)

لہذا انسان کی آن ،مان اور شان اس میں ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کےسامنے خود کو عاجز بندہ تسلیم کرے وہ اللہ تعالیٰ کی رداء(چادر) پرقبضہ کرنے کی کسی بھی صورت بدبختی نہ کرے اور مالک یوم الدین کے سامنے خود کو کمزور محسوس کرے، اللہ کرے ہم توبہ اختیار کرکے اللہ کے عذاب سے ہمیشہ کے لئے بچ جائیں۔آمین

پھر اصل علم ودانش میں علمی تفاخر کی مسابقت ہو، یا اصحاب دستار ومرتبہ میں عزت وفضیلت کی کشمکش ،مگر جب ایک انسان دوسرے کو حقیر جاننا شروع کردیتا ہے تو سراسر گھاٹے کا سودا ہے، بلاشبہ اپنے مقام ومرتبہ کی مناسبت سے تعلقات قائم کرنا اتنا معیوب بھی نہیں مگر اپنے مقام ومرتبہ سے کم تردرجے والوں کو حقیر وبے وقعت جاننا ںیقینا معیوب ہے، جاہ وحشمت کی مادی مسابقت اور کم حیثیت والوں کو کمتر سمجھنا یقینا دنیاوآخرت میں گھاٹے کا سودا ہے،آپﷺ کاارشاد گرامی ہے کہ

لایدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر.(صحیح مسلم:۹۱،جامع ترمذی:۱۹۹۹)

یعنی جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔

واقعی وہ لوگ قابل نفرت ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے اور لوگوں کو حقیر جانتے ہوئے ان سے براسلوک کرتےہیں یہ خود پسندی ایک موذی مرض ہے،وہ شخص جولوگوں کے سامنے زمین پر اکڑ کرچلتا ہے اور غریبوں ،ناداروں،مزدوروں ،نوکروں ،فقراء ومساکین پر رعب جھاڑتے ہو ئے ان کو ذلیل وخوار کرتا پھرے وہ کسی صورت میں اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ بندہ نہیں بن سکتا ،رسول اللہ ﷺ جب مکۃ المکرمۃ میں ایک فاتح کی حیثیت سے سرخروہوکرپہنچے توسیدنا عبداللہ بن ابی بکر  رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق اللہ کے سچے پیغمبر جب وادی ذی طوی میں پہنچے تو آپ کی سواری ذرا دیررکی ،آپ نے سراور منہ پر سرخ کپڑا ڈال رکھا تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح عظیم سے سرفراز کیا جس کی شکر گزاری میں آپ کا سررب ذوالجلال کے حضور جھکاہواتھا،اور آپ کی گردن پالان کے اگلے حصے کو چھورہی تھی۔(السیرۃ النبویہ لابن ہشام ۴؍۴۷،۴۸)

سیدنا ابن مسعود  رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ایک آدمی حضورﷺ کی خدمت میں آیا اس نے کسی مسئلے پر آپ سے بات کی اس دوران آپ کی ہیبت سے اس پر کپکپی طاری ہوگئی جس پر اللہ تعالیٰ کے سچے رسولﷺ نےفرمایا: اطمینان خاطر رکھیئے، میں قریش کی ایک عام عورت کا بیٹا ہوں، جو سوکھا گوشت کھایاکرتی تھیں۔(المستدرک للحاکم ۲؍۴۶۶ودلائل النبوۃ للبیہقی۵؍۶۹)

تاریخ اسلام کے اوراق پارینہ دیکھئے!ایک بوڑھا باپ اور نوعمر بیٹا،وادی مکہ جیسی بابرکت اور اس وقت کی غیرذی ذرع،بے آب وگیاہ، سنسان وویران چٹیل میدان میں جب اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ گھر بیت اللہ کی تعمیر نو کرہے تھے،توسیدنا ابراھیم اور سیدنا اسماعیل علییم السلام  دیواریں اٹھاتے جاتے ہیں اور اپنی زبان سے یہ مخلصانہ کلمات ادا کرتے جاتے ہیں کہ:

[رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا۝۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝۱۲۷]

(البقرہ:۱۲۷)

یااللہ!ہمارے اس عمل کو تواپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرما بیشک توسننے والاجاننے والاہے۔

اگر نیت خالص ہو اور عمل صالح ہو، پھر بھی انسان اس حاجت سے بے نیاز نہیں کہ وہ اپنے قاضی الحاجات کے حضور ہاتھ نہ اٹھائے، اور اپنے اعمال صالحہ کی قبولیت کے لئے فکرمند نہ ہوچونکہ جو اللہ کے لئے تواضع وانکساری کرے اور نیچاہواللہ تعالیٰ اسے بلند کر دیتا ہے تواضع کے بدولت اللہ بندے کی عزت وتکریم میں اضافہ کرتا ہے دراصل تکبروغرور ،شہرت،نام ونمود کی طلب بہت بڑا دھوکا ہے ،یہ شیطان کا ایک خاص ہتھیار ہے،جو بڑے بڑے متقیوں کو بھی کبھی گھائل کردیتا ہے،جس میں انسان اپنی تعریف لوگوں سے سننے کا عادی بن کر خود پسندی کی جانب مائل ہوجاتا ہے اور ایسے لوگوں کے جھمگھٹ دیکھنے کا عادی ہوتا ہے جو اس کی محل بے محل،بے جاتعریفیں اور قصیدے پڑھتے رہیں،دراصل یہ خود پرست اور خو د پسند لوگ حقیقت پسندی اور سچی زندگی سے سراسرمحروم ہوجاتے ہیں،وہ ہمیشہ دھوکہ وفریب کا شکار بن کر حقائق سے آنکھیں بند رکھتے ہیں، بلاشبہ خواہشیں ومعصیتیں انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہیں چونکہ خودنمائی کا جذبہ بندہ کابچپن سے بڑھاپے تک پیچھا نہیں چھوڑتا ایسے لوگ خود تو اپنی تعریف ہمیشہ سننے کے شیدائی ہوتےہیں لیکن ان کے اپنے گناہوں پر اگر ایک نگاہ عبرت ڈالنے کی ہمت نصیب ہو تو خود ستائی کے خول سے خودبخود باہرنکل آئیں گے ، انسان کی کچھ ایسی عادت بن جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے عیبوں اور برائیوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتا ہے لیکن کبھی اپنے گریبان میں منہ ڈال کر جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتاوہ دوسرے بھائیوں کے دامن پر دھبہ تو بہت جلددیکھ لیتاہے مگر اپنی تنگ وتاریک زندگی کے لیل ونھار کے گھناؤنے مناظر سےیکسر آنکھیں موند لیتا ہے، افسوس کے خود زندگی کےمنجدھارمیں پاپوں بھری ناؤمیں بیٹھ کر دوسروں کے عیب اچھالتاہے مگر اپنے مرور زندگی کی سیاہ کاریوں کو بھول بیٹھتا ہے ایسے لوگوں کےلئے اخلاق محمدﷺ کی وہ نصیحت دل میں بٹھانے کی ضرورت ہے جس میں آپ جناب ابوذر رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہو ئے ارشاد فرماتے ہیں :’’اے ابوذر!چاہئے کہ روک رکھے لوگوں کے عیبوں کو (بیان کرنے )سےوہ چیز کہ جانتا ہے تو اپنے نفس سے‘‘_مطلب کے دوسروں کے عیب بیان کرنے کے بجائے اپنے ہی گریبان میں منہ ڈال کر دیکھ پھر اپنی بداعمالیاں،برائیاں،پہاڑوں کے مثل عظیم خود کو نظر آجائیں گی اور اپنے آلودہ دامن کو دیکھ کر) اپنے  اعمال دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرجا،چونکہ ایک یوم الحساب بھی آنے والاہےجس میں ذرہ ذرہ کاحساب دیناہوگا۔

قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کاخون کیونکر

جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہوپکارے گا آستین کا

یہ دنیاآنی جانی ہے، یہ ہنگامے فانی ہیں، یہ مستعار زندگی کوئی چند ایام کی باقی ہے اوراپنے پاس مہمان ہے،وہ وقت قریب ہے کہ فرشتہ اجل تمام عناصرکوپریشان کردے گا اعزہ، اقرباء،اپنے پرائے پاس کھڑے بے بسی و بے کسی کے آنسو بہائیں گے لیکن تو کچھ بھی نہ کرسکے گا بس اس جہاں رنگ وبوکوختم ہونا ہے۔

چیست دنیا از خدا غافل شدن

نہ قماش ونقرہ وفرزند وزن

اللہ تعالیٰ سے بغاوت،سرکشی،شرک،کفر، الحاد،عصیان،احداث فی الدین، شر، طغیان،مظالم ومفاسد ،تکبر غرور،اناپرستی، خودپسندی، حب جاہ ومال، بے ایمانی اور بدکاری کرتےوقت …اپنے آپ کو بے حس وحرکت لیٹے گورغریباں میں منوں بھرمٹی میں سوئے ہوئے محسوس کرو،وہ دیکھو !جنازہ اٹھایا جارہا ہے!قبرکھودی جارہی ہے کاش اس منظر کو دیکھ کر حقوق اللہ وحقوق العباد ادا کرنے کی فکر کرناسیکھیں

کل امری مصبح فی اھلہ

والموت ادنی من شراک نعلہ

اللہ تعالیٰ ہمیں جادہ حق پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین

About پروفیسر مولابخش محمدی

پروفیسر مولابخش محمدی،مٹھی تھرپارکر

Check Also

’’جھوٹ‘‘ معاشرےکا ایک مہلک مرض

دین اسلام نے انسان کوآداب زندگی سکھاکر تعظیم وتکریم عطا فرمائی ہے، جن کی علم …

جواب دیجئے