Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ فروری » ان شاء اللہ کے احکامات

ان شاء اللہ کے احکامات

خطبہ مسنونہ کے بعد

گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں قرآن وحدیث میں وارد چھوٹے چھوٹے کچھ جملوں کاتذکرہ ہواتھا جوبڑے ہی بامقصد اور بڑے ہی پیارے جملے تھے۔جیسے:جزاک اللہ خیرا،بارک اللہ، بسم اللہ، السلام علیکم، وغیرہ اس طرح کے جملے تھے ان کاتفصیل سےتذکرہ ہوگیا تھا،انہی میں سے ایک جملہ ’’ان شاءاللہ‘‘ہے یہ بھی بڑا عظیم جملہ ہے ان شاء اللہ کا معنی ہے اگر اللہ نےچاہا،مطلب اللہ تبارک تعالیٰ نے چاہا تو میں منزل مقصود تک پہنچ جاؤگا،میراکام ہوجائے گا وغیرہ وغیرہ

یعنی انسان لفظ ان شاءاللہ کہہ کے اللہ تبارک وتعالیٰ پر بھروسے، اعتماد اور توکل کااظہارکرتاہے،اور یہی ایک مومن مسلمان کی شان ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات اللہ تبارک وتعالیٰ کے سپرد کردے،اپنے تمام کاموں میں اللہ تبارک وتعالیٰ پر بھروسہ اور توکل رکھے باقی رہی بات کہ لفظ ان شاءاللہ کو کیسے لکھنا ہے؟ اس میں بہت سارے احباب غلطی کرتے ہیں اصل لکھنے کا طریقہ ہے کہ’’ ان‘‘ کو آپ الگ لکھیں اور’’ شاءاللہ‘‘ کو الگ لکھیں، یہ صحیح لکھنے کاطریقہ ہے،کچھ لوگ نون کوشین کے ساتھ ملاکرلکھتے ہیں یہ قطعاً غلط ہے اس میں معنی تبدیل ہوجاتا ہے الگ کرکے لکھیں گے توان شاءاللہ کا مطلب ہوگا اگر اللہ نے چاہا۔ اگر اکٹھے ہی(انشاءاللہ) لکھیں گے تو معنی ہوگا اللہ کاپیدا کرنا تو کہاں وہ معنی کہاں یہ معنی تو ان شاءاللہ کو الگ کرکے لکھنا ہے، ان کو الگ شاء اللہ کو الگ باقی قرآن وحدیث میں ان شاءاللہ کے حوالے سے بڑے واقعات موجود ہیں کچھ لوگوں نے اپنے امور کے حوالے سے ان شاءاللہ کہا اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو منزل مقصود تک پہنچادیا اور کچھ لوگوں نے ان شاءاللہ نہیں کہا تو ان کے جو امور ہیں ان کے جو معاملات ہیں لٹک کر رہ گئے، اللہ نے پورےنہیں کیے اس سے آپ لفظ ان شاءاللہ کی اہمیت کو سمجھ سکتےہیں تویہی درس ملتا ہے کہ اگر ہم اپنے تمام کاموں میں اپنے تمام امور میں منزل مقصود تک پہنچنا چاہتے ہیں،اپنے مستقبل کے کام کروانا چاہتے ہیں توجب بھی ان کاموں کا اظہار کریں تولفظ ان شاءاللہ ضرور کہیں چند مثالیںآپ کے سامنے اللہ تبارک وتعالیٰ کی توفیق سے رکھی جاتی ہیں! قرآن مجید میں بنی اسرائیل کاتذکرہ ہے ان کو کسی معاملے میں گائے ذبح کرنے کاحکم ملا جیسے ہی حکم ملا،اگر وہ گائے ذبح کرلیتے تو بات ہی ختم ہوجاتی لیکن انہوں نے سوال کرنے شروع کردیے ،بہانے وہ گائے کیسی ہو ؟اس کا رنگ کیسا ہووغیرہ وغیرہ توپابندیاں بڑھتی چلی گئیں سوالات کے بعد ان کوجس گائے کے ذبح کرنے کاحکم ملا وہ ان کو مل ہی نہیں رہی تھی بہت تلاش کیا،بہت تلاش کیاگائے نہیں مل رہی جن صفات کو انہوں نے طلب کیا سوالات کے ذریعہ اب ان صفات والی گائے نہیں مل رہی تھی ایک دن کہنےلگے :[اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَيْنَا۝۰ۭ وَاِنَّآ اِنْ شَاۗءَ اللہُ](البقرہ:۷۰)یہ جملہ کہا کہ یہ گائے توبڑی مشکل ہوگئی ہے ہم پر اس کا ملنا لیکن ان شاءاللہ ہم اس تک پہنچ جائیں گے۔ان شاءاللہ یہ گائے ہمیں مل جائے گی،اور پھر ان کو وہ گائے مل گئی، یہ ہے لفظ ان شاءاللہ کی برکت ،پیارے پیغمبر ﷺ نے فرمایا:لولا ان بنی اسرائیل ماقالوا ان شاءاللہ لمھتدون مااعطوا ولکن استثنوا مااعطوا ابدا.اگر بنی اسرائیل اس موقعے پر ان شاءاللہ نہ کہتے تو کبھی بھی ان کو یہ گائے نہ ملتی، یہ اللہ کے نبی ﷺ کی حدیث ہے، شاہ صاحب  رحمہ اللہ بدیع التفاسیر میں لائے ہیں، انہوںنے ان شاءاللہ کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو گائے تک پہنچادیا تو غور کریں ایک سرکش قوم ہے باغی قوم ہے لیکن انہوں نے مستقبل کے حوالے سے لفظ ان شاءاللہ کہا،اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی بغاوت اور سرکشی کے باوجود ان شاءاللہ کی برکت کی وجہ سے ان کو منزل مقصودتک پہنچادیا۔یہ ہے لفظ ان شاءاللہ کی تاثیر۔ جامع ترمذی میں حدیث ہےیاجوج اور ماجوج کے بارے میں کہ ذوالقرنین نے …. قرآن مجید میں تذکرہ موجود ہے،ایک بند باندھ دیا سورۂ کہف میں تفصیل سے موجود ہے اب وہ باہر نہیں نکل سکتے مضبوط بند باندھ دیا البتہ اس بندکووہ کمزور کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں یہاں تک کہ ہرروز وہ اس بند کو کھودتے ہیں اور اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:قریب ہے کہ وہ سورج کی دھوپ تک پہنچ جائیں اس حدتک وہ پہنچ جاتے ہیں ان کا بڑا اس موقعہ پر کہتا ہے :ارجعوا ۔۔۔۔غدا.جاؤ اب  چھوڑ اب تودھوپ نظرآرہی ہے اب کل سے پھر کھودیں گے اب وہ چلے جاتےہیں اگلے دن آتے ہیں تو’’یعیدہ اللہ اشد ماکان‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ اس بند کو مزید مضبوط کردیتا ہے جتنا وہ مضبوط تھااس سے بڑھ کر مضبوط کردیتا ہے لیکن ایک دن آئے گا وہ کھودرہے ہونگے سورج کی دھوپ اور روشنی تک پہنچ جائیں گے ان کابڑا کہے گا: ارجعوا سنحدرونہ ان شاء اللہ .اب واپس چلو ابھی یہ دھوپ نظر آرہی ہے ان شاءاللہ ہم اس کام کو ختم کردیں گے۔کل ہم اچھی طرح سدسکندری ذوالقرنین کا سد ہے، بند ہے اس کوگرادیں گے کل جب واپس آئیں گے تو اس کی کیا کیفیت ہوگی ؟کان کھیئۃ حین ترکوہ. اسی کیفیت میں جس میں کل چھوڑاتھا وہی کیفیت برقرار ہوگی ،فیحدرونہ فیخرجون علی الناس.اس کو کھود دیں گےاور لوگوں پر نکل آئیں گے کتنی سرکش قوم ہے اس قوم کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے الفاظ ہیں:[اِنَّ يَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ] (الکھف:۹۴) زمین میں فساد ی قوم یاجوج اور ماجوج اتنی فسادی قوم ،لیکن وہ لفظ ان شاءاللہ کہیں گے اللہ تبارک وتعالیٰ اس ان شاءاللہ کی برکت کی وجہ سے ان کومنزل مقصود تک پہنچائے گا اس سے درس ملا اس سے سبق ملا کہ خصوصی طور پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی موحد متبع سنت اور متقی لوگ لفظ ان شاءاللہ کا اہتمام زیادہ کریں گے اگر سرکش،باغی اور فسادی لوگ بھی لفظ ان شاءاللہ کی برکات سمیٹ سکتے ہیں تو ان شاءاللہ کی برکات سمیٹنے کا زیادہ حق اللہ تبارک وتعالیٰ کی موحد،متبع سنت اور متقی لوگوں کاہے،لہذا اس کا اہتمام کرناچاہئے اس لفظ کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے، جس نے اسے معمولی سمجھا چاہے جان بوجھ کر یا بھول کروہ منزل مقصود تک نہیں پہنچ پائے گا۔

قرآن مجید میں باغ والوں کاتذکرہ ہے سورہ قلم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو لہلہاتے کھیت عطا کیے باغات عطا کیے ایک دن پورے یقین کے ساتھ کیاکہتے ہیں:[اِذْ اَقْسَمُوْا لَيَصْرِمُنَّہَا مُصْبِحِيْنَ۝۱۷ۙ وَلَا يَسْتَثْنُوْنَ۝۱۸ ]ایک کہنے لگے کہ کل یہ لہلہاتے ہمارے جوکھیت ہیں ،یہ فصلیں ہیں یہ کل ہم کاٹیں گے لیکن ان شاءاللہ نہیں کہا،پھرکیاہوا رات ہی رات اس کھیت پر اللہ کی طرف سے آفت آگئی :[فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِ۝۲۰ۙ ]قرآن مجید کی آیت کے الفاظ ہیں کہ اس لہلہاتے کھیت اور فصل کی حالت اور کیفیت ایسے ہوگئی جیسے وہاں پر کچھ ہے ہی نہیں۔ صبح صبح پہنچے لہلہاتے کھیت تونہیں ہیں کہنے لگے:[اِنَّا لَضَاۗلُّوْنَ۝۲۶ۙ ]لگتا ہے ہم راستہ بھول گئے ہیں ،ہماری فصلیں تھیں، کھیت تھا، یہاں توکچھ بھی نہیں ہے لگتا ہے ہم راستہ بھول گئے ہیں پھر فورا بات سمجھ میں آگئی کہنے لگے :[بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ۝۲۷]بلکہ ہم تو محروم کردیے گئے اس موقع پر ان میں جو سب سے بہترین آدمی تھا :[قَالَ اَوْسَطُہُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْلَا تُـسَبِّحُوْنَ۝۲۸]وہ کہنے لگے میں نے تمہیں کہانہیں تھا کہ تم ان شاءاللہ کیوں نہیں کہہ رہے ،تفیسر ابن کثیر میں موجود ہے :[لَوْلَا تُـسَبِّحُوْنَ]کا معنی:انہوں نے ان شاءاللہ نہیں کہا تم ان شاءاللہ کیوں نہیںکہہ رہے،پتہ چلا کہ وہ کل یقین پر تھے کہ اب اس کھیت کوکیاہوگا اب اس فصل کو کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔کل ہم یہ کاٹ لیں گے ان شاءاللہ کو انہوںنے معمولی سمجھا پھرکیاہوا؟محروم کردیے گئے۔ تو اپنے کل کے حوالے سے ضروری ہے ایک مومن مسلمان پر کہ وہ اپنے کل کے کام میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی مشیت کوضرور شامل کرے، اگر اللہ نے چاہا تو ہوگا اورا للہ نے نہیں چاہا تو نہیں ہوگایہ ضروری ہے۔

جدہ میں ایک عرب عالم درس دے رہے تھے درس’’ شرح عمدۃ الاحکام‘‘ کادرس دیتے ہوئے انہوں نے ایک واقعہ بتایا کہ ایک قافلہ مدینہ منورہ کی طرف رواں دواں تھا بلکل وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گیا تو ایک شخص کہنے لگاان شاءاللہ اب ہم مدینہ پہنچ جائیں گے چونکہ وہ بالکل قریب پہنچ گئے تھے تودوسرے نے کہا اب ان شاءاللہ کی ضرورت نہیں اب تو مدینہ سامنے نظرآرہا ہے اب ان شاءاللہ کی ضرورت نہیںہم پہنچ جائیں گے، تھوڑا ساآگے گاڑی چلی ،گاڑی کو حادثہ پیش آیا سارے محفوظ رہے جس نے کہا تھا کہ اب ان شاءاللہ کی ضرورت نہیں وہ فوت ہوگیا،دیکھ لیں کہ جہاں یہ لفظ کہاجاتا ہے کہنے والااگراللہ تعالیٰ کا باغی ہے ،سرکش ہے لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ اس لفظ کی برکت کی وجہ سے اس کومنزل مقصود تک پہنچاتا ہے اس کے برعکس اگر یہ لفظ معمولی سمجھنے والاچاہے وہ کسی منصب اورمرتبے پرہواگر اس لفظ کو معمولی سمجھا کہ ان شاءاللہ کی اب کوئی ضرورت نہیں،اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتایہ انتہائی اہم ترین لفظ ہے اور اس سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ تعلق جوڑنے کا ایک عقیدہ معلوم ہورہا ہے کہ اپنے کل کے کام کے حوالے سے ضروری ہے کہ ہم ان شاءاللہ ضرور کہیں۔

انبیاء کرام oاللہ کے برگزیدہ بندے،نبوت ورسالت کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ کے منتخب کردہ بندے ،انبیاء ،پیغمبرoان کی یہ عادت اور خصلت تھی کہ وہ لفظ ان شاءاللہ ضرور بولاکرتے تھے چندمثالیں آپ کے سامنے قرآن مجید سے:

سیدابراھیمuنے خواب دیکھا اپنے بیٹے اسماعیل کوذبح کررہے ہیں،نبی کاخواب وہی ہوتا ہے تومعلوم کرلیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم دیا ہے اب اس کا تذکرہ اپنے بیٹے کے سامنے کرتے ہیں: [قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى۝۰ۭ قَالَ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ۝۰ۡسَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللہُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ۝۱۰۲ ](الصافات:۰۲)اےبیٹے !مجھے اللہ کی طرف سے حکم ملا ہے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کررہا ہوں ،اب آپ خود ہی بتائیں کہ کیاکرنا ہے بیٹے نے کیاجواب دیا؟اباجان! جوآپ کو حکم دیا گیا ہے آپ کرگزریں ان شاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

آپ سب جانتے ہیں کہ اس کے بعد کیاہوا۔

یہ لفظ ان شاءاللہ کی برکت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سیدنا اسماعیلuکومحفوظ رکھا ان کی جگہ جنت سے دنبہ آیاجوذبح ہوگیا یہ ان شاءاللہ کی برکت ہے تواتنی برکت، یہ برکات سمیٹیں پیغمبروں نے لہذا یہ ہم اپنی عادت بنالیں کہ اپنے کل کے حوالے سے جس کام کا بھی ارادہ کریں یہ الفاظ ضرور بولیں۔

سیدنایوسفuبچھڑگئے پورا واقعہ سورہ یوسف میں موجود ہے بالآخر ایک موقعہ آیا پوراخاندان مل گیا ،اللہ نے ملادیا جب ملاقات ہوئی:[فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْہِ اَبَوَيْہِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللہُ اٰمِنِيْنَ۝۹۹ۭ ](یوسف:۹۹)

جب ملاقات ہوئی تو اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھایا اور کہا اپنے پورے خاندان کوکہ یہ مصر ہے اس مصر میں داخل ہوجائیں ان شاءاللہ آپ کے لیے امن ہے،سکون ہے، راحت ہےاور چین ہے۔ پیغمبروں کی عادت یعنی مستقبل کے حوالے سے کہ اب ہم نے مصر میں داخل ہونا ہے لہذا یہاں پر اللہ کی مشیت کاتذکرہ ضروری ہےکہ ان شاءاللہ ہم مصر میں داخل ہونگے اور ہمارے لیے امن ہی امن ہے، ہمارے لیے کسی قسم کی بدامنی نہیں ہے، انبیاء کاتذکرہ ،پیغمبروں کاتذکرہ کتنی مبارک خصلت ہے جوانبیاء میں پائی گئی ۔

قرآن مجید میںسیدناموسیٰ uکے سسرکا تذکرہ ہے کچھ روایات میں ہے، سیدنا موسیٰuکےسسرسیدنا شعیبuتھے بہرحال ان کے سسر کاتذکرہ ہے وہ جب ان تک پہنچے تو ان سے ایک معاہدہ ہورہا ہے ان کے سسر انہیں کہتے ہیں کہ میری یہ دوبیٹیاں ہیں ان میں سے ایک کانکاح آپ سے کررہاہوں شرط یہ ہے کہ آپ آٹھ سال میری بکریاں چرائیں اور اگر آپ دس سال مکمل کریں گے تو اچھی بات ہے لیکن شرط میری آٹھ سال ہے،قرآن کے الفاظ ہیں:

[قَالَ اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَـتَيَّ ہٰتَيْنِ عَلٰٓي اَنْ تَاْجُرَنِيْ ثَمٰـنِيَ حِجَجٍ۝۰ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ۝۰ۚ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَيْكَ۝۰ۭ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللہُ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۝۲۷ ](القصص:۲۷)

میری آپ پر کوئی مشقت ڈالنے کی نیت نہیں ہے یہ جو معاملہ ہم کررہے ہیں ان شاءاللہ آپ مجھے اس معاہدے کے حوالے سے بڑا ہی صالح اور نیکوکارپائیں گے میں اپنا وعدہ پوراکرونگا میں اپنی ایک بیٹی کانکاح آپ سے کرنے کو تیار ہوںاس وعدے کو ان شاءاللہ میں پوراکرونگا۔تواندازہ کریں کہ یہ انبیاء کے واقعات ہیں ان سے ان کی یہ مبارک خصلت ہمیں معلوم ہورہی ہے کہ وہ کل کے حوالے سے جس کام کا بھی ارادہ کرتے توان شاءاللہ ضرور کہتے۔

سیدناموسیٰ uخضر سلام اللہ علیہ کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں علم حاصل کرنے کے لیے اور ساتھ میں یہ الفاظ استعمال کیے:[قَالَ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللہُ صَابِرًا وَّلَآ اَعْصِيْ لَكَ اَمْرًا۝۶۹ ](الکھف:۶۹)

 ان شاءاللہ میںصبراوربرداشت سے کام لوں گا ،ان شاءاللہ میں آپ کی کوئی نافرمانی نہیں کرونگا ۔

تو اس سے کیاپتہ چلا کہ انبیاء کی یہ خصلت تھی کہ وہ اپنی گفتگو میں ان شاءاللہ ضرور کہتے تھے ۔

دوواقعات انبیاء کے ایسے ملتےہیں کہ انبیاء بھی ان شاءاللہ کہنا بھول گئے تو اللہ تبارک وتعالی نے ان کو احساس دلایا ۔

بخاری ومسلم میں موجود ہے سیدنا سلیمانuکہتے ہیں کہ میں اپنی سو بیویوں کے پاس جاؤنگا اس میں کسی قسم کی حیرت کی بات نہیں ہے صحیح بخاری کی حدیث ہے اور انبیاء کے بہت سارے معاملات عام انسانوں سے جدا ہیں ان کی سوبیویاں تھیں ہم ایمان لاتےہیں ،ٹھیک ہے، حدیث میں تذکرہ موجود ہے کہ ایک نبی میں چالیس مردوں کے برابر قوت ہوتی ہےتو یہ ہم سوچیں گے ہی نہیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ سوبیویاں ہوںوہ نبی ہیں اللہ نے ان کو قوت دی ہے کہنے لگے کہ میں سو کی سوبیویوں کے پاس جاؤنگا وہ سو کی سوبچے جنیں گیں اور وہ سو بچے جوان ہوکر اللہ تبارک وتعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں گے ،لم یقل ان شاءاللہ ۔ان شاءاللہ کہنا بھول گئے ۔سیدنا سلیمان uاللہ کے نبی ﷺ کی حدیث:لم یحمل منھن الاامرأۃ واحدۃ جاءت بشق رجل.کوئی بھی ان میں سے امید سے نہیں ہوئی،سوائے ایک کے لیکن اس نے جب بچہ جنا وہ آدھا تھا۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتےہیں:والذی نفس محمد بیدہ لو قال ان شاءاللہ لجاھدون فی سبیل اللہ اجمعون.اگر اس موقع پر سیدنا سلیمانu ان شاءاللہ کہتے تو سو کے بچے جوان ہوکر اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ۔

دیکھیں نبی ہیں پیغمبر ہیں ان شاءاللہ نہیں کہابھول گئے اللہ نے احساس دلایا ۔

اسی طرح پیارے پیغمبر ﷺ انبیاء کے سردار سوال کیا گیا روح کیا ہے؟ اصحاب کہف کون ہیں،ذوالقرنین کا معاملہ کیا ہے؟ فرمایا:اخبرکم غدا عما سالتم ولم یستثنون .

کل بتاؤنگا ان شاءاللہ نہیںکہا،انبیاء کے سردار محمد رسول اللہ ﷺ بھول گئے،انسان ہیں ،کوئی مصروفیت ہوگئی ان شاءاللہ کی طرف ذہن نہیں گیا،نہیں کہا ،پندرہ دن تک بتانہیںسکے اللہ کی طرف سے وحی نہیں آئی ،یہودی مشرکین بغلیں بجارہے ہیں کہ دیکھو!اگر یہ پیغمبر ہوتے تو ہمارے سوالوں کا جواب دیتے۔

پندرہ دن کے بعد وحی آئی سب سے پہلے تو یہ:

[وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا۝۲۳ۙ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَاللہ](الکھف:۲۳،۲۴)

اےپیغمبرﷺ آپ سن لیں کہ آج کے بعد کل کے حوالے سے جس کام کے کرنے کا اظہار کریں ان شاءاللہ ضرور کہیں تودیکھیں انبیاء کےسردار ان شاءاللہ کہنا بھول گئے تواللہ تبارک وتعالیٰ نے احساس دلایا کہ ان شاءاللہ کہنا چاہئے تھا ۔

تومیرے بھائیو!گفتگوکاخلاصہ یہ ہےکہ یہ لفظ بڑا ہی بابرکت ہے لفظ ان شاءاللہ بڑا ہی بابرکت ہے لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی گفتگو میں یہ لفظ ضرور استعمال کیاکریں خصوصی طور پر اس کام کےا ظہار کرنےکے حوالے سے جو کام ابھی تک ہم نے نہیں کیا، اب ہم کرنا چاہتےہیں اس حوالے سے ضروری ہے کہ ہم ان شاءاللہ ضرور کہاکریں ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ قرآن وحدیث کی ان باتوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ،اپنانے کی توفیق عطافرمائے اور دوسرے لوگوں تک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے ،وآخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین.

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

پانی کی نعمت

خطبہ مسنونہ کے بعد: اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہم سب پر بڑے احسانات اور بڑے …

جواب دیجئے