Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ فروری » اپنی زبانوں سے نکلےا لفاظ کاجائزہ لیجئے کہ کہیں….؟

اپنی زبانوں سے نکلےا لفاظ کاجائزہ لیجئے کہ کہیں….؟

ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ اور مسند احمد میں صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولاتقوم الساعۃ حتی تلحق قبائل من أمتی بالمشرکین.(ابوداؤد، با ب ذکر الفتن ودلائلھا، رقم: ۴۲۵۲۔ترمذی، باب ماجاء لاتقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون، رقم: ۲۲۱۹۔ابن ماجہ، باب مایکون من الفتن ،رقم:۳۹۵۲۔مسند احمد، رقم:۲۲۴۴۸)

اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ میری امت کے بعض قبائل مشرکین سے نہ مل جائیں۔

اورصحیح بخاری ،موطاامام مالک، مسنداحمد اورصحیح ابن حبان میں حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:وان العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ لایلقی لھا بالا یھوی بھا فی جہنم.(صحیح بخاری:۶۴۴۸،موطاامام مالک:۱۸۱۹،مسنداحمد:۲۲۱۴،صحیح ابن حبان:۵۷۰۶)

کبھی بندہ ایسا لفظ بول دیتا ہے جواللہ کو ناراض کرنے والاہوتا ہے اور اس لفظ کوبولنے کاکوئی مقصد بھی نہیں ہوتا اس لفظ کی وجہ سے وہ جہنم میں جاگرتاہے۔

پہلی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ امت محمدیہ کے بعض قبائل مشرکین سے مل جائیں گے، اور دوسری حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ کبھی بندہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ کہہ دیتا ہے کہ جو الفاظ اسے جہنم میں لے جانے کا سبب بنتے ہیں ،توہمیں ان دونوں حدیثوں کو سامنے رکھ کر ایک تو ان کاموں سے بچناچاہئے جوشرکیہ کام ہیں اور دوسرا ان الفاظ کوزبان پر لانے سے بچنا چاہئے جو جہنم میں لے جانے کا سبب بن سکتے ہیں ، اب ہم بعض ان الفاظ کی نشاندہی کریں گے جو ہمارے ہاں زبان زدعام وخاص ہیں،لیکن وہ قرآن وحدیث کے خلاف ہیں:

(1)اللہ تعالیٰ ہرجگہ حاظروناظر ہے

میرے دینی بھائیواوربہنو!یہ الفاظ سراسرقرآن وحدیث کے خلاف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:[اَلرَّحْمٰنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى۝۵](طہ:۵) رحمٰن عرش پر مستوی ہے، اس آیت سےپتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ نہیں ہے،بلکہ عرش پر ہے۔

(2)نبیﷺ نور تھے

عزیزبھائیواوربہنو!یہ الفاظ بھی قرآن وحدیث کے صریح خلاف ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر محمدﷺ کومخاطب کرکے فرماتا ہے:[قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ](کہف:۱۱۰)آپ کہہ دیجئے کہ میں تو بشر ہوں ۔ اس آیت سے پتہ چلا کہ رسول اللہ ﷺ بشر تھے۔

(3)نبیﷺ غیب جانتے تھے

ان الفاظ کے غلط اور قرآن وحدیث کےخلاف ہونے میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ](انعام:۵۰) آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتاہوں۔

قرآن کے ان واضح الفاظ سے پتہ چلا کہ نبیﷺ غیب نہیں جانتے تھے۔

(4)مردے سنتے ہیں

یہ الفاظ بھی قرآن وحدیث کے خلاف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ۝۲۲](الفاطر:۲۲) اور آپ (ﷺ) نہیں سناسکتے ان کوجوقبروں میں ہیں۔

قرآن کی اس آیت سے واضح پتہ چلا کہ مردے نہیں سنتے اگر سنتے ہوتےتوامام الانبیاء محمدﷺ کی بھی سنتے جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول ﷺ کےبارے میں فرمارہا ہے کہ آپ نہیں سناسکتے جوقبروں میں ہیں۔

(5)اللہ تعالیٰ نے کائنات اپنے نبی محمدﷺ کے لئے بنائی ہے

یہ الفاظ بھی قرآن وحدیث کے خلاف ہیں ،کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:[وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۝۵۶ ] (الذریات:۵۶)اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صر ف اپنی عبادت کےلئے پیداکیاہے۔

قرآن کی اس آیت سے بھی واضح طور پر پتا چلتاہے کہ کائنات کواللہ تعالیٰ نےصرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے۔

(6)قبروں میں مدفون اللہ کےولی مدد کرتے ہیں

یہ الفاظ بھی قرآن وحدیث کے سراسرخلاف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ۝۱۰۷] (البقرہ:۱۰۷) اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی ولی اور نہ مدد کرنے والا۔

قرآن کی اس آیت سے صاف پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مددکرنے والانہیں۔

(7)اللہ اپنے پیاروں کی ٹالتا نہیں

یہ الفاظ بھی قرآن وحدیث کے واضح طور پر خلاف ہیںکیونکہ اللہ تعالیٰ نوحuکومخاطب کرکے فرماتا ہے:[فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۝۰ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِيْنَ۝۴۶] (ھود:۴۶)پس آپ مجھ سے اس کا سوال نہ کریں جس کاآپ کو علم نہیں،میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں یہ کہ تو جاہلوں میں سے نہ ہوجائے۔

جب نوحuنے اپنے بیٹے کے بچنے کی درخواست اللہ تعالیٰ سے کی تو اللہ تعالیٰ نے نوحuکو ان الفاظ سےجواب دیا جو اوپر آیت میں ہیں اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی درخواست ٹال دی اور ان کے بیٹے کو غرق کردیا اس آیت سے صاف پتاچلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی بھی ٹال دیتا ہے۔

(8)اللہ کے ولی جوچاہیں کریں

یہ الفاظ بھی قرآن وحدیث کے خلاف ہیں کیونکہ مکہ والوں نے جب رسول اللہ ﷺ سے یہ کہاتھا کہ:’’اس قرآن کے علاوہ کچھ اور لے کرآؤ،یا اسے ہی بدل ڈالو‘‘تواللہ تعالیٰ نے فرمایا:[قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَاۗيِ نَفْسِيْ۝۰ۚ اِنْ اَتَّبِـــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ۝۰ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۝۱۵ ] (یونس:۱۵)آپ کہہ دیجئےکہ میرے لئے نہیں ہے کہ میں اسے اپنی طرف سےبدل ڈالوں میں صرف اس کی پیروی کرتاہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے بیشک میں ڈرتاہوں کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کروں، بڑے دن کے عذاب سے۔

محمدرسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی ولی نہیں ،لیکن ان کے بارے میں بھی قرآن واضح ہے کہ وہ بھی اپنی مرضی سے ردوبدل نہیں کرسکتے ۔

(9)فلاں بابا سے بیٹامانگوگے توبیٹا دے گا اور بیٹی مانگو گے توبیٹی

یہ الفاظ بھی قرآن وحدیث کے خلاف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :[لِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ۝۰ۭ يَہَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَہَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ۝۴۹ۙ] (شوریٰ:۴۹)آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے،وہ جوچاہتاہے پیداکرتا ہے ،جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے، اور جسےچاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔

قرآن کی اس آیت سے صاف پتاچلتا ہے کہ بیٹیاں اور بیٹے صرف اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔

(10)ہمارے نبیﷺ اپنے کسی امتی کوجہنم میں نہیں جانے دیں گے

یہ الفاظ بھی قرآن وحدیث کے خلاف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ:[قُلْ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا۝۲۱ ](الجن:۲۱) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان ونفع کااختیار نہیں۔

قرآن کی اس آیت سےواضح پتاچلتا ہے کہ محمدﷺ اپنی امت کے نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔

(11)ہم تو فلاں مرشد کے مرید ہیں وہ ہی ہمیںجنت میں لے جائے گا

یہ الفاظ بھی قرآن وحدیث کے خلاف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَہٗ بِيَمِيْنِہٖ۝۷ۙ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا۝۸ۙ](الانشقاق:۷،۸)اور جودیاگیا اپنانامہ اعمال اپنے سیدھے (ہاتھ) میں پس عنقریب اس سے حساب (کتاب) آسان کیاجائے گا۔

ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[فَاَمَّا مَنْ ثَــقُلَتْ مَوَازِيْنُہٗ۝۶ۙ فَہُوَفِيْ عِيْشَۃٍ رَّاضِيَۃٍ۝۷ۭ وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُہٗ۝۸ۙ فَاُمُّہٗ ہَاوِيَۃٌ۝۹ۭ ](قارعۃ:۶،۹)پس جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا، اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے اس کاٹھکانہ ہاویہ ہے۔

قرآن مجید کی ان آیات سے صاف پتا چلتا ہے کہ جنت میں وہ جائے گا جس کانامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیاجائے گا اور اعمال حسنہ کا ترازو بھاری ہوگا۔

About ام طوبٰی بنت حافظ عبدالرحمٰن

جواب دیجئے