Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ فروری » عقیدہ سماع موتی کی حقیقت

عقیدہ سماع موتی کی حقیقت

ہمارے معاشرے میں بعض ایسے امور پائے جاتےہیں جو قرآن وحدیث سے ثابت نہیں بلکہ وہ ویسے ہی مشہور ہوجاتے ہیں اور ان کو آگے پھیلانے والے ان کی تحقیق کئے بغیر بیان کردیتے ہیں اس طرح چلتے چلتے وہ امور اصلیت کا رنگ دکھانے لگتے ہیں نتیجتاًان کے اور شرعی ثابت شدہ امور کے مابین فرق کرنا مشکل ہوتاہے، ان میں سے کچھ یہاں ذکرکئے جاتے ہیں۔

یادر ہےکہ

ان کی دوشکلیں ہیں:

1۔ضعیف احادیث کو بنیاد بنانا۔

2۔صحیح احادیث سے غلط استدلال کرنا۔

(1)ان میں سےبہت سے عقائد واعمال کی بناء ضعیف وغیر ثابت روایات پر ہے مثلاً:

پہلی روایت:

بڑی مشہور ،زبان زدعام وخاص ہے:

فنبی اللہ حی یرزق.

ترجمہ: کہ اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کورزق دیاجاتاہے۔

(اخرجہ ابن ماجہ ،رقم:۱۲۳۷)

یہ روایت ضعیف ہے،اس کی سند میں دوعلتیں ہیں:

پہلی علت: اس روایت میں انقطاع ہے زید بن ایمن راوی کا عبادۃ بن نسی سے سماع ثابت نہیں۔

دوسری علت:نیز اس سند میں سعید بن ابی ہلال ہے ان کو ابن حزم نے ضعیف کہا ہے، اور امام بخاری کہتے ہیں مرسل یعنی منقطع ہے۔

(میزان الاعتدال ۳؍۲۳۶مطبوعہ دار العلمیہ وتہذیب التھذیب ۳؍۳۴۴مطبوع دار الفکر)

اورحافظ زبیرعلی زئی  رحمہ اللہ نے بھی انقطاع کے شبہ کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔(ابن ماجہ :۱۲۳۷)

دوسری روایت:

عموما یہ روایت بکثرت پیش کی جاتی ہے۔

ان الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون.

بیشک انبیاء زندہ ہیں اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں۔

(حیاۃ الانبیاء للبیھقی ،ص:۳)

یہ روایت ناقابل اعتبار ہے اس کی سند میں راوی حسن بن قتیبہ الخزاعی المدائنی ہے جس کو امام ذھبی نے کہا ہے :ھو ہالک، دار قطنی نے کہا ہے:متروک الحدیث اور ابوحاتم الرازی کہتے ہیں ضعیف ۔

(میزان الاعتدال ۱؍۲۷۰مطبوع دار العلمیہ)

نیز اس کی ایک او ر مسند ابویعلی کی روایت:۳۴۲۶میں مروی ہے اس میں مستلم بن سعید حجاج بن الاسود سے روایت کرتے ہیں اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں تفصیل کے لئے دیکھئے:(میزان الاعتدال ۱؍۲۰۰مطبوع مکتبہ دار العلمیہ)

تیسری روایت:

ایک ناقابل اعتبار وایت بیان کی جاتی ہے کہ واقعہ الحرۃ کے زمانہ میں جو ذوالحجہ ۶۳ھ میں پیش آیا وہ روایت یہ ہے:

عن سعید بن عبدالعزیز قال لما کان ایام الحرۃ لم یؤذن فی مسجد النبی ﷺ ثلاثا ولم یقم ولم یبرح سعید بن المسیب المسجد وکان لایعرف وقت الصلاۃ الا بھمھمۃ یسمعھا من قبر النبیﷺ .

(یہ روایت دارمی میں باب مااکرم اللہ تعالیٰ نبیہ بعد موتہ کے تحت امام دارمی لائے ہیں اور مشکوٰۃ المصابیح باب الکرامات فصل ثانی میں موجود ہے۔)

خلاصہ: کہ تین رات ودن مسجد نبوی میں نہ تو اذان دی جاسکی نہ اقامت ہوئی،لیکن سعید بن مسیب نےمسجد نہیں چھوڑی وہ نماز کا وقت قبرنبوی سے آنے والی ایک دبی سی آواز سے معلوم کرلیتے تھے۔

اس کی سند کچھ یوں ہے:

اخبرنا مروان بن محمد عن سعید بن عبدالعزیز عن سعید بن المسیب .

پہلی بات کہ سعید بن عبدالعزیز کا سعید بن مسیب سے سماع ثابت نہیں سعیدبن مسیب کی وفات ۹۳یا۹۴ھ میں ہوئی ہے اور سعید بن عبدالعزیز کی پیدائش ۹۰ھ میں ہوئی ہے، معلوم ہوا کہ سعید بن عبدالعزیز کی عمر ۳تا۴سال تھی کہ سعید بن مسیب کی وفات ہوگئی،(تفصیل کے لئے تہذیب التھذیب ،ص:۶۶۸)

دوسری بات مروان بن محمد کو ابن حزم اور امام عقیلی نے کہا یہ مرجئہ گروہ سے تھا۔(دیکھئے:میزان الاعتدال۳؍۱۶۱مکتبہ ایضا)

درایت کے لحاظ سے بھی یہ روایت ناقابل اعتبار ہے کیونکہ نماز کا وقت معلوم کرنے کے لئے قبر کےا ندر سے آواز کی ضرورت نہ تھی، وقت یوں بھی معلوم کیاجاسکتا تھا۔

اورمحدث حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ نے بھی اسی علت کی وجہ سے ضعیف لکھاہے۔

(۴)ایک اور روایت جوعوام میں معروف ہے:من صلی علی عند قبری سمعتہ.

ترجمہ:جوشخص میری قبر کے پاس مجھ پر سلام پڑھے میں سلام کو سن لیتاہوں۔

یہ حدیث ضعیف ہے اس کی سند میں محمد بن مروان السدی جس کا کام ہی جھوٹی حدیثیں گھڑنا تھا ان میں سےایک یہ ہے،اسی طرح امام عقیلی روایت کرکے آخر میں کہتے ہیں:’’لااصل لہ‘‘

الغرض:محمد بن مروان کذاب اور وضاع راوی ہےجس بناء پر حدیث من گھڑت ہے۔

(2)صحیح احادیث سے غلط استدلال

پہلی حدیث:

صحیح مسلم کی اس روایت سے قبر کی زندگی پر استدلال کیا جاتا ہے جس میں نبیﷺ نے معراج کا واقعہ بیان فرمایاہے جس کے الفاظ یہ ہیں:آپﷺ نے فرمایا کہ

مررت علی موسی لیلۃ اسری بی عند الکثیب الاحمر وھو قائم یصلی فی قبرہ.

میں معراج کی رات موسیٰ علیہ السلام کی اس قبر کے پاس سے گزرا جو سرخ رنگ کے ٹیلے کے قریب ہے،وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔(کتاب الفضائل ،باب فضائل موسیٰ علیہ السلام )

یہ حدیث تو بلاشبہ صحیح ہے لیکن اس سے قبر میں مدفون لوگوں کا زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا چونکہ صحیح مسلم کی دوسری حدیث میں ہے کہ نبیﷺ موسیٰ علیہ السلام کی قبر کے پاس سے گزرکرجب بیت المقدس پہنچے تو وہاں ابراھیم،موسیٰ،عیسی علیہم السلام کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور بعد میں ان کی امامت کرکے انہیں نماز پڑھائی، تو جو لوگ موسیٰ علیہ السلام کی قبر میں نماز کی بنیاد پر انہیں قبرمیں زندہ مانتے ہیں پھر انہیں چاہئے کہ وہ ان انبیاء  علیہم السلام کو بیت المقدس میں بھی زندہ مانیں ہمیں موسیٰ علیہ السلام کو بیت المقدس میں دکھائیں کیونکہ دریں صورت حال انہیں اب بھی وہاں زندہ موجود ہونا چاہئے، کیونکہ ان کے بنائے استدلال کے مطابق زندگی کاثبوت تو بیت المقدس میں بھی ہے۔

حقیقت حال: دراصل یہ لوگ سمجھ نہیں پائے یاسمجھنا نہیں چاہتے وگرنہ بات واضح ہے کہ یہ معجزہ والی حدیث ہے اس سےعمومی عقیدہ اخذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے حالانکہ معجزہ خاص معاملہ ہوتا ہے۔

دوسری طرف موجود صحیح صریح حدیث جس میں موسیٰ علیہ السلام کی وفات کاذکر ہے چھوڑ گئے وہ روایت کچھ یوں ہے:

موسیٰ علیہ السلام کے پاس ملک الموت آیاروح قبض کرنے کےلئے ….موسیٰ  علیہ السلام نے اللہ سےد عا کی الفاظ یہ ہے:

فسال اللہ ان یدنیہ من الارض المقدسۃ رمیۃ بحجر فقال رسول اللہ ﷺ فلوکنت ثم لاریتکم قبرہ الی جانب الطریق تحت الکثیب الاحمر .

ترجمہ: موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے اتناقریب کردے جتنا ایک پتھر کے پھینکے جانے کافاصلہ ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اگر میں وہاں ہوتاتومیں تمہیں(بیت المقدس کے) راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھاتا۔

(صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فضائل موسیٰ علیہ السلام الرقم:۶۱۴۸)

معلوم یہ ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعااللہ نے قبول کی اور ارض مقدس کے راستے میں ہی تدفین ہوئی اور آپﷺ کا فرمانا جس سے بھی صاف واضح ہے کہ موسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔

اسی طرح قلیب بدرواقعہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نہر میں پھینکے ہوئے کفار کو مخاطب کرکے خطاب کیا،یہ واقعہ متعدد کتب حدیث میں موجود ہے اور بخاری میں بھی ہے۔ (ح:۲۴۰، ۵۲۰، ۲۹۳۴، ۳۱۸۵،۳۸۵۴وغیرہ)

یہاں شارحین دوباتیں بیان کرتے ہیں یہ کفار کو تنبیہ کررہے تھے نبوت کی صداقت سامنے رکھنا مقصد تھا۔

دوسرا قول راجح ہے،اب معجزہ خاص سے عام سماع موتی پر استدلال کرنا درست نہیں۔

دوسری حدیث:

یہ بھی کہاجاتاہے کہ نبیﷺ قبر میں زندہ ہیں، اس وجہ سے وراثت تقسیم نہیں ہوئی۔

حالانکہ اس کی وجہ قبر میں زندگی نہیں بلکہ آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے:

انا لانورث ما ترکناہ صدقۃ.

کہ ہمارے مال میں وراثت نہیں ہے ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔(صحیح بخاری، باب قول النبی لانورث ماترکناہ وصدقۃ، رقم الحدیث۶۷۳۰،۶۷۲۹،۶۷۲۸،۶۷۲۷،۶۷۲۶)

نیز اسی فرمان کےمطابق ابوبکر وعمرنے سیدناعلی ،فاطمہ ،عباسyکے معاملہ میں فیصلہ کیا۔

مفسرین کہتےہیں کہ یہ اس وجہ سے کہ نبیﷺ کی رسالت وتبلیغ دین کی سعی پر کسی قسم کے حصول اجرت کے شک کاشائبہ بھی باقی نہ رہے۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

bبعض لوگ کہتے ہیں کہ قبر میں نبیﷺ کی زندگی کی وجہ سے آپﷺ کی ازواج مطہرات سے نکاح حرام ہے، لیکن ازواج مطہرات اس وجہ سے حرام نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ امت کی مائیں ہیں فرمان باری تعالیٰ ہے:

[وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ۝۰ۭ ](الاحزاب:۶)

پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔

ایک اور مقام پر ہے:

[وَلَآ اَنْ تَنْكِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْۢ بَعْدِہٖٓ اَبَدًا۝۰ۭ]

(الاحزاب:۵۳)

اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔

تیسری حدیث:

اسی طرح قبر پرست یہ کہتے ہیں کہ ہرفوت شدہ مومن قبر میں زندہ ہوتا ہے کیونکہ نبیﷺ نے مردوں کےلئے یہ دعابتائی ہے:

السلام علیکم یا اھل القبور.

سلامتی ہو تم پر اے قبروالو۔

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خطاب ہے اور خطاب سننے والے سے کیاجاتاہے اور سننے والازندہ ہے۔

جواعتراض کرتے ہیں دراصل یہ سب عربی زبان سے ناواقفیت رکھتےہیں۔

جواب: یہاں’’یا‘‘ سے خطاب مراد نہیں بلکہ دعامراد ہے، جیسے ہم اپنے فوت شدہ باپ کوکہتے ہیں،اے میرے با پ تم پر اللہ کی رحمت ہو تم نے مجھے کیسی اچھی تعلیم دی ہے۔

چوتھی حدیث:

اسی طرح صحیح بخاری کتاب الجنائز ،باب المیت یسمع خفق النعال میں ہے:

المیت یسمع قرع نعالھم.

کہ مردہ جوتوں کی چاپ سنتا ہے۔

سے دلیل لی جاتی ہے کہ قبر میں مردہ زندہ ہوتا ہے ،ورنہ جوتوں کی چاپ کیسے سنتا ہے، اور صحیح بخاری ومسلم کی اس حدیث کے آگے والاحصہ چھوڑ دیاجاتاہے جس میںیہ آیا ہےکہ مؤمن سوال وجواب کےلئے اٹھا کر بٹھایاجاتاہے اور جب وہ جواب ٹھیک دیتا ہے تو اس سے کہا جاتا ہے کہ دیکھ جہنم میں تیری جگہ یہ ہوتی،مگرتوایمان لے آیا اس لئے ،اب اس کے بجائے جنت میں یہ جگہ ہوگی۔ اس کے برعکس معاملہ کافرومشرک کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

یہ سوال وجواب کا معاملہ ہر مردہ کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ معاملہ اس دنیا کانہیں بلکہ برزخ کا ہے اور برزخ قرآن وحدیث کے مطابق ایک آڑ ہے مرنے والے اور دنیاوالے کے درمیان۔(مؤمنون :۱۰۰)

یہ ایک استثنائی صور ت ہے جو اس وقت کے ساتھ مخصوص ہے اس خاص موقع سے علی الاطلاق سماع موتیٰ کیسے ثابت ہوسکتا ہے، اور پھر اس سے قبر میں دنیاجیسی زندگی کاثبوت ہرگز ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ۝۰ۚ](نحل:۲۱)

یہ مردہ ہیں زندہ نہیں۔

پانچویں حدیث:

ایک روایت بیان کی جاتی ہے:

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِيَ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي وَاضِعٌ ثَوْبِي وَأَقُولُ: إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَهُمْ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاء من عمر. رَوَاهُ أَحْمد.

عائشہ رضی اللہ عنہا سےر وایت ہے کہ میں اپنے گھر میں جس میں رسول اللہ ﷺ دفن ہیں دوپٹہ اتارکر داخل ہوجایاکرتی تھی کہ یہاں تومیرے شوہر ہیںاورمیرے باپ لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ  ان کے ساتھ دفن کردیے گئے تو میں پوری طرح سرڈھانپ کر داخل ہوتی تھی کیونکہ مجھے عمر رضی اللہ عنہ  سے حیاء آتی تھی۔

(رواہ احمد:۵۵۶۶۰بحوالہ مشکوۃ، باب زیارۃ القبور ،فصل ثالث،محدث دوراں حافظ زبیرعلی زئی  رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔)

یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اس طرح اہتمام کے ساتھ چادر اوڑھ کر وہاں تشریف لانا اس وجہ سے تو نہیں تھا کہ سیدناعمر رضی اللہ عنہ  دیکھ لیں گے چونکہ اگر وہ منوں مٹی کے نیچے سے دیکھ سکتے ہیں تو ایک چادر کے نیچے دیکھ لینا کیا مشکل تھا۔

معلوم ہوتا ہے کہ پردہ کا یہ اہتمام اس لئے تھا کہ سیدناعمر رضی اللہ عنہ  کے وہاں مدفون ہونے کے بعد ان کے بیٹے وغیرہ بھی آنے جانے لگے تھے۔

وگرنہ کون نہیں جانتا کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا سماع موتیٰ کو تسلیم نہیں کرتی تھیں جو موتیٰ کے سماع کی قائل نہیں وہ رؤیت کی کیسے قائل ہوسکتی ہیں؟؟؟

خلاصہ کلام: انسانی زندگی کے کچھ مراحل ہیں جن میں سےایک مرحلہ دنیوی ہے اور دنیوی زندگی ایک عارضی وفانی ہے جب آدمی فوت ہوجاتا ہے تواس کی برزخی زندگی شروع ہوجاتی ہے جو دنیوی زندگی سے بالکل الگ تھلگ ہے ۔برزخ ایک پردے اور آڑ کا نام ہےجس تک پہنچنا انسانی عقل کے لئے محال ہے جیسے فرمان باری تعالیٰ ہے :[ولا تقف مالیس لہ بہ علم]

ترجمہ:اس شیٔ کے پیچھے نہ پڑجس کا تجھے علم نہ ہو۔

جس کا ہم شعور نہیں رکھتے اس کے متعلق گفتگوکرنا بیکار ہے۔

جیسے شہیدوں کے بارے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شہیدوں کی زندگی کے بارے میں دنیا والے شعور نہیں رکھتے اسی طرح فرمان باری تعالیٰ ہے:

[فانک لاتسمع الموتی ولایسمع الصم الدعاء اذا ولو مدبرین]

یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ذریعے امت محمدیہ کو خبر دی ہے کہ تم مردوں کو سنانا تو دور کی بات بہروں کو بھی نہیں سنا سکتے، تو جو شخص اس طاقت سے خالی ہو اس کاغیبی امور میں بھلا کیادخل ہوسکتا ہے؟؟

اس لئے جو چیز فرمان باری تعالیٰ اور فرمان نبوی سے ثابت ہو اس پر ایمان لاناضروری ہے اوراس میں عقلی گھوڑے دوڑانے اور غلط   تاویلات سے گریز کرنالازمی اور وا جب ہے۔

یہ تھیں چند باتیں جوذکرکی گئیں اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن وحدیث کے عین مطابق اصلاح کرنے کی توفیق دے۔

About محمد راشد بن سکندر

جواب دیجئے