Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ فروری » نظم (اہمیت دین)

نظم (اہمیت دین)

اہمیت دین

موقوف دین پہ ہے بس، فلاح وکامرانی

دین سے ہے تمسک، ایمان کی نشانی

امن وسکون ہے پنہاں، اس راز میں یقیناً

گزرے جو دین کے تابع، مقصودِ زندگانی

دوجہاں کا خسارہ، مقدر ہے اس کا

دین سے جو کرے گا، بے ثمر روگردانی

نابود ہوچکی ہیں، بے دین تھیں جو قومیں

باقی بچی ہے ان کی،عبرت انگیز کہانی

مال ومتاع جہاں کا، مل جائے گر کسی کو

کہلا سکے گا نہ وہ، دین کے سوا، ربانی

رتبہ بلند وبالا، حاصل اسی کو ہوگا

کرتا ہے دل سے خالص،جو دین کی قدر دانی

دین کی اہمیت ہو، ہر مسلماں کو گر

برسے گی رب کی رحمت، رافت و مہربانی

دین کی راہ میں، نہ رکاوٹ ہو حائل

راہِ دین کے سفر کی چال میں ہو روانی

تعمیل جب ہے ہوتی، دین کے کسی حکم کی

ملتا ہے اس گھڑی اک، سرور سا روحانی

اس سے پہلے کہ تیری، اجل تجھ کو آلے

چھوڑ دے بے عقل تو، غفلت و ہیچ مدانی

دین سے تو تعلق، جوڑ لے اے غافل

تجھ کو ملے گی اعلیٰ، حیات جاودانی

کافی ہے اس قدر، تجھ کو نصیحت اثریؔ

مقصد نہیں ہے میرا، ہرگز نغز بیانی

About حافظ عبدالکریم اثری

Check Also

احساس

احساس کس قدر ابن آدم، تو ہے کرتا گناہ گامزن راہِ عصیان یہ، تو ہے …

جواب دیجئے