احکام ومسائل

کرسی پرنماز

محترم جناب مفتی صاحب

سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص جماعت کے دوران صف میں کرسی رکھے اور پھر اس کے آگے کھڑے ہوکر نمازپڑھے تو کیا یہ صحیح ہے؟

الجواب بعون الوہاب

صورت مسئولہ برصحت سؤال

سائل نے اپنے مسئلہ تحریر کیا ہے ، ہم بتوفیق اللہ تعالیٰ و عونہ اس کا جواب تحریر کرتے ہیں :

مذکورہ صورت میں اصل جواب سے قبل ہم یہ عرض کرینگے کہ کرسی پر نماز ادا کرنا انتہائی مجبوری کی صورت میں جائز ہے، کرسی پر نماز ادا کرنے والے شخص کے لیے اگر یہ ممکن ہے کہ وہ صف بندی میں تمام نمازیوں کے ساتھ شریک رہے اور صف بھی درست رہے تو اس کو یہ عمل اختیار کرنا چاہئے ، مثلاً وہ صف کے ایک کونے میں کرسی رکھتا ہے اور اس کے پیچھے کوئی شخص نماز نہیں پڑھ رہا ہے ایسی صورت میں یہ شخص صف میں تمام نمازیوں کے ساتھ صف بندی میں شریک ہے ، جوکہ ضروری ہے البتہ اگر مذکورہ صورت میں ممکن نہیں ہے تو کرسی پر نماز پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ صف بندی کے عمل کو ہر صورت میں برقرار رکھے اور کرسی رکھ کر کھڑے ہونے کی صورت میں ان تمام روایات پر عمل نہیں ہوسکے گا جن مین صف بندی کی تاکید آئی ہے ، مثلاً

سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلاَةِ» (صحیح بخاری : 723)

 یعنی :  صفیں برابر رکھو کیوں کہ صفوں کا برابر رکھنا نماز کے قائم کرنے میں داخل ہے۔

”رصوا صفو فکم‘‘سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنی صفوں کو ملاؤ۔(سنن ابوداؤد :۶۶۷ )

’’من وصل صفا وصلہ اللہ  ‘‘یعنی : جو شخص صف ملائے گا اللہ بھی (اپنی رحمت سے) اس کوملائے گا ۔ (سنن ابو داؤد : 666)

اب صف بندی کا تقاضا یہ ہے کہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھیے تاکہ بقیہ نمازیوں سے وہ آگے نہ ہوجائے اور صف بندی مکمل رہے ، جناب انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( سَوُّوا صُفُوفَكُمْ , فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلاةِ )(صحیح بخاری : 690) یعنی  :صفیں برابر رکھو کیوں کہ صفوں کا برابر رکھنا نماز کے مکمل کرنے میںسےہے۔

مسجد میں فیملی رہائش

محترم جناب مفتی صاحب

سوال یہ ہے کہ مسجد میں امام صاحب بمع فیملی کے رہائش پذیر ہیں اور ان کے بچے بھی جوان ہیں اورمیاں بیوی کے ازدواجی تعلقات کا مسجد میں ہونا جائز ہے۔

نوٹ:امام صاحب کاکمرہ نماز کی جگہ کے اوپر ہے اور رمضان میں خواتین جہاں اعتکاف بیٹھتی ہیں وہاں ان سب فیملی ممبران کا آنے جانے کا راستہ بھی وہی ہے،قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کریں کہ اس طرح رہائش کرناجائزہے۔

الجواب بعون الوہاب

صورت مسئولہ برصحت سؤال

  سائل محمد اسماعیل نے مسجد کے اوپر امام صاحب کی فیملی رہائش کے حوالے سے معلوم کیا ہے کہ شرعاً اس کا کیا حکم ہے، مسجد کے اوپر اگر امام صاحب کی فیملی رہائش بنائی گئی ہے تو اس میں امام صاحب کا بیوی بچوں سمیت رہنا بلا کراہت درست اور جائز ہے ،وہ جگہ مسجد سے مستثنی ہوگی ، مثلاً مسجد کی جگہ پر واش روم کا بنایا جانا ، وضوخانہ کی تعمیر مسجد کے باہر مسجد کے پلاٹ پر دکان بنانا اور کرایہ پر دینا ۔

یہ سب مسجد کی ملکیت تو ہیں لیکن مسجد اس سے خارج ہے ، مسجد ہونا اور مسجد کی ملکیت ہونا دو الگ چیزیں ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت جس کا کوئی ولی وارث نہیں اس کا خیمہ مسجد میں لگوادیا تھا (صحیح بخاری) جو اس کے لیے گھر کی حیثیت میں تھا ، اب یہ جگہ مسجد کی ملکیت تو ہے لیکن مسجد نہیں ہے۔

امید ہے کہ مسئلہ واضح ہوگیا ہوگا۔

ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب

ومسئلہ وراثت

محترم جناب مفتی صاحب

ایک شخص فوت ہوگیا اس نے اپنے پیچھے جووارث چھوڑے ہیں وہ ایک بیوی اور ایک بیٹی ہے،اس کی جوملکیت ہےوہ ڈھائی ایکڑ زمین اور ایک مکان ہے،توکیا اس زمین اور مکان میں سے اس شخص کے بھتیجوں کوکوئی حصہ ملے گا یانہیں؟قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا جواب فتویٰ کی صورت میں دیاجائے۔

نیز اس شخص کا بھائی بھی انتقال کرچکا ہے۔

الجواب بعون الوہاب

صورت مسئولہ برصحت سؤال

  سائل نے جس فوت شدہ شخص کے ترکہ کے تعلق سے سوال کیا ہے اس کے ترکہ کے آٹھ حصے کرکے ، اس کی بیوہ کو ایک اور چار حصے بیٹی کو بقیہ حصے اس کے بھائی بہنوں میں تقسیم ہوں گےاور اگر ان میں سے کوئی بھی اس کی وفات کے وقت زندہ نہیں تھا نیز اس کے چچا میں سے بھی کوئی حیات نہیں تھا تو پھر اس کے بھتیجوں میں باقی ماندہ ترکہ برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوگا جیساکہ حدیث میں ہے : [الحقوا الفرائض باھلھا فما بقی فلأولی رجل ذکر]  (صحیح مسلم) یعنی فرض حصے کو ادا کرنے کے بعد جو بچے گا وہ میت کے سب سے قریبی مرد کو ملے گا اگر وہ اکیلا ہوگا تو سارا بقیہ ماندہ اس کو ملے گا اور اگر وہ زیادہ ہوں گے تو برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوگا۔

ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

About حافظ محمد سلیم

مفتی جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

احکام ومسائل

مقامی زبان میں خطبہ G.171 محترم جناب مفتی صاحب (۱)بعض خطباء حضرات خطبہ دوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے